تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
کالممذہبی

’تفسیر ابن کثیر‘ کے تفسیر ی اصول — محمد زوہیب حنیف

by دانش ڈیسک 14/06/2020
written by دانش ڈیسک 14/06/2020
287

تفاسیر کا مطالعہ کرنے کے شوقین حضرات کو کسی بھی تفسیر کو پڑھنے کے لیے سب سے پہلے صاحبِ تفسیر کے اصولوں کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اگر کسی بھی تفسیر کو ایسے ہی اٹھا کر پڑھنا شروع کردیا جائے تو پڑھنے والے کے ذہن میں پے درپے سوالات آتے رہتے ہیں، جن کاجواب فوراً نہیں ملتا اور دل میں ایک تشنگی رہ جاتی ہے۔ اسی لیے احقر کا خیال ہے کسی بھی تفسیر کا مطالعہ کرنے سے قبل اُس مفسر کے بارے میں جاننا نہایت ضروری ہے۔ خاص کر اس کے وضع کردہ تفسیری اصول۔

معروف مفسر ’ابن کثیر‘ اولین مفسرین میں سے ہیں۔ اُن کی تفسیر ’تفسیر ابن کثیر‘ کا مطالعہ کرنے سے قبل اُن کے تفسیری اصول جاننا نہایت ضروری ہے۔ یہاں اُن کے تفسیر ی اصولوں کا مطالعہ کرنےسے قبل ان کا مختصر سا تعار ف سپردِ قرطاس کیا جاتاہے۔

نام:اسمٰعیل، کنیت ابوالفداء، لقب عماد الدین عرف ابنِ کثیر، آپ کا سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے، اسمٰعیل بن عمر بن کثیر بن ضبوء بن ذرع القیس البصروی ثم الدمشقی۔ آپ ایک معزز اور علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ آپ کے والد شیخ ابو حفص شہاب الدین عمر اپنی بستی کے خطیب تھے اور آپ کے بڑے بھائی شیخ عبدالوہاب ایک ممتاز عالم اور فقیہ تھے۔ ۷۰۰ھ یا ۷۰۱ھ میں بمقام شام کے شہر بصریٰ کے نواحی گاؤں ”مجدل“ میں ہوئی (عماد الدین،ابن کثیر، حافظ،، تاریخِ ابنِ کثیر،مترجم، نور محمد، ص ۱، مقدمہ،نفیس اکیڈمی، کراچی،جون ۱۹۸۷ء)

علمی مقام :یہ ایک حقیقت ہے کہ علامہ ابنِ کثیر ایک ہمہ جہت شخصیت تھے، علم کی دنیا میں کون سا ایسا شعبہ تھا جس میں ان کو کمال حاصل نہ ہو۔ فقہ، حدیث، تفسیر، تاریخ، اصول، غرض یہ کہ ہر میدان میں اپنے جھنڈے گاڑے۔ صاحب شذ رات الذھب رقمطراز ہیں: ”تاریخ، حدیث اور تفسیر کی ریاست علمی کی انتہاء ان پر ہوتی ہے۔ (ابوالفدا اسمٰعیل بن عمر بن کثیر، حافظ،البدایہ والنہایہ،اردو تاریخ ابن کثیر، جلد اول مترجم، نور محمد مقدمہ، ص۱،مقدمہ،نفیس اکیڈمی, جون ۱۹۸۷ء)

تصانیف: امام ابن کثیر کی معروف تصانیف کچھ اس طرح سے ہیں :
۱۔ تفسیر القرآن الکریم۔ یہ کتاب”تفسیر ابنِ کثیر“ کے نام سے مشہور ہے۔
۲۔ البدایہ والنھایہ، یہ تاریخ پر مشتمل ہے۔ انسان کی ابتداء کیسے ہوئی،وغیرہ وغیرہ۔
۳۔ التکمیل فی الجرح والتعدیل ومعرفۃ الثقات والضعفاء والمجاہیل۔
۴۔ السیرۃ النبویۃ۔
۵۔ مناقب الشافعی۔
۶۔ الاحکم الکبیر۔
۷۔ کتاب المقدمات۔
۸۔ شرح صحیح بخاری۔
۹۔ اختصارِ علوم الحدیث۔
۱۰۔ رسالہ فضائل القرآن۔
۱۱۔ مسندِ امام احمد بن حنبل۔
۱۲۔ الاجہاد فی طلب الجھاد۔
۱۳۔ مختصر کتاب المدخل للبیھقی۔
۱۴۔ تخریخ احادیث اولۃ البینہ۔
۱۴۔ تخریج احادیث مختصر ابن الحاجب۔
۱۵۔ الفصول فی اختصار سیرۃ الرسول۔
۱۶۔ الھدی والسنن فی احادیث المسانید والسنن۔

وفات: تاریخ کے اس عظیم مفسر کی عمر کے آخری حصے میں بینائی جاتی رہی، بالآخر شعبان کی چھبیس تاریخ ۷۷۴ھ؁ میں وفات پائی اور صوفیہ میں اپنے محبوب استاد شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ کے پہلو میں دفن کئے گئے۔ ( عماد الدین،ابن کثیر، حافظ،، تاریخِ ابنِ کثیر،مترجم، نور محمد، ص ۸، مقدمہ،نفیس اکیڈمی، کراچی،جون ۱۹۸۷ء)

تفسیر ابن کثیر کا اسلوب :
روایات کی نقد و جرح کے حوالےسے عام طور پر تفسیر ابن کثیر کو سب سے بہتر سے تفسیر کہا جاتاہے۔ آثار کو سامنے رکھتے ہوئے کتب تفسیر جریر طبری کے بعد تفسیر ابنِ کثیر کا درجہ ہے۔ جریر طبری نے اگرچہ تمام روایات کو یکجا کیا لیکن ابنِ کثیر چونکہ محدث بھی تھے۔ لہٰذا انہوں نے اپنی تفسیر میں حدیث کی صحت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی تفسیر میں حدیث کی صحت کا خاص خیال رکھا، اسرائیلی روایات کی نوک پلک کرکے اپنی تفسیر میں شامل کیا، اس کے برعکس دیگر مفسرین نے اس چیز کا خیال نہیں رکھا۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں جن اصولوں کو ملحوظ رکھا وہ کچھ اس طرح سے ہیں :

۱۔ تفسیر القرآن بالقرآن۔ (قرآنی آیات کی تفسیر قرآن ہی سے )
۲۔ تفسیر القرآن بالسنہ۔ (قرآنی آیات کی تفسیر احادیث ِ مبارکہ سے )
۳۔ تفسیر القرآن با الاقوال الصحابہ۔ (قرآنی آیات کی تفسیر صحابہ کرام ؓ کے اقوال سے )
۴۔ تفسیر القرآن باقوال التابعین۔ (قرآنی آیات کی تفسیر تابعین ؒکے اقوال سے )

اسرائیلیات اور ابن کثیر :

اسرائیلیات پر ابنِ کثیر نے سب سے زیادہ کام کیا ہے اس سے پہلے تفاسیر میں جابجا اسرائیلی روایات سچ اور جھوٹ سے قطع نظر شامل کرلی جاتیں۔ لیکن ابنِ کثیر نے اسرائیلیات سے متعلق تین قسمیں بیان کی ہیں۔

۱۔ وہ روایات جن کی سچائی قرآن وسنت کے دوسرے دلائل سے ثابت ہو مثلاً فرعون کا غرق ہونا اور حضرت موسیٰ ؑ کا کوہِ طور پر تشریف لے جانا۔
۲۔ وہ روایات جن کا جھوٹ ہونا قرآن وسنت کے دوسرے دلائل سے ثابت ہے، مثلاً اسرائیلی روایات میں مذکور ہے کہ حضرت سلیمان ؑ اپنی آخر عمر میں (معاذ اللہ) مرتد ہوگئے تھے، اس کی تردید قرآن سے ثابت ہے۔
۳۔ وہ روایات جن کے بارے میں قرآن وسنت اور دوسرے شرعی دلائل خاموش ہیں جیسے کہ توراۃ کے احکام وغیرہ ایسی روایات کے بارے میں حضور ﷺؐ کی تعلیم یہ ہے کہ ان کے بارے میں سکوت اختیار کیا جائے۔ ( شفیع،مفتی،معارف القرآن،جلد اول، ص۲۵،مکتبہ معارف القرآن،س ن)

صحیح احادیث کا انتخاب :
تفسیر ابنِ کثیر سے پہلے ’آثار‘ پر مشتمل جتنی تفاسیر بھی لکھی گئیں ان میں محدثانہ احتیاط اور احادیث کے صحیح انتخاب کی بڑی کمی تھی، نیز ان میں ضعیف اور موضوع احادیث اور اسرئیلی روایات کی بھرمار تھی۔ حافظ ابنِ کثیر جو کہ محدث بھی تھے، فنونِ حدیث اور احوالِ رجال کے سلسلے میں وہ نہایت گہری بصیرت رکھتے تھے، روایات کے فقدان اور ان کے منشاء اور ان کے مقصد کی نشاندہی کرنے میں نہیں خاصا ملکہ حاصل تھا، انہوں نے سابقہ نقلی تفاسیر کی خامیوں کو دیکھتے ہوئے ایک ایسی تفسیر لکھنے کا ارادہ کیا جو ضعیف اور موضوع احادیث اور اسرائیلی روایات سے پاک صاف ہو، چنانچہ انہوں نے محدثانہ طریق پر یہ تفسیر مرتب کی۔ ( عماد الدین،ابن کثیر، تفسیر ابنِ کثیراردو،مترجم نور الرحمٰن ہزاروی،ص،۱۱ تا ۲۱،وفا ق المدارس،۱۴۲۶ھ)

تفسیر ابن کثیر کے بارے میں ڈاکٹر صبحی صالح کا کہنا ہے کہ ’ ابنِ کثیر ابنِ جریر طبری کے لگ بھگ بلکہ بعض وجوہ سے اس سے بڑھ کر ہے، اسی کی خصوصیت سند میں دقتِ نظر عبارت کی سادگی اور وضاحت وصراحت ہے‘ (صالح،صبحی،ڈاکٹرعلوم القرآن،، مترجم غلام احمد حریری،ص،۴۱۶، ملک سنز ناشران وتاجران کتب، کارخانہ بازار، فیصل آباد،س۔ ن)

Facebook Comments Box
تفسیر ابن کثیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کراچی ہاٹ اور ثقافت کی دکانیں —- فرحان کامرانی
next post
گدھا منڈی — توفیق الحکیم کے عربی ڈرامے سے ماخوذ — اردو روپ: آصف فرّخی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.