حرف سپاس: تحریر ’بچوں کی تعلیم کا جبر: آزادی کا ایک ماڈل‘ کی پذیرائی کا شکریہ ۔۔۔ ہمایوں مجاہد

0
  • 1
    Share

ملک پاکستان ہو یا امریکہ، ترقی یافتہ ممالک ہوں یا تیسری دنیا،  رائج الوقت تعلیمی نظام لیبر چائلڈ ہی کی ایک  مہذّبانہ شکل ہے۔ اس کا  بہیمانہ چہرہ بے نقاب کرتی ناچیز کی تحریر پر جو پذیرائی موصول ہوئی، اس کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے۔ یہ  بھی کہنا ہے کہ یہ گردو غبار بہت زیادہ ہے۔  خاطر جمع رکھیں کہ اس  تحریر کی دو چار مزید اقساط   ‘زیر تعمیر’ ہیں۔ اب اس  موضوع کی جزئیات پر بات ہونی چاہیئے۔  تاکہ تعلیمی نظام کے ایک نئے ماڈل کی راہ ہموار ہوسکے.  اوّلین قسط پر  منسٹری آف ایجوکیشن سے  ایک دوست سہیل عزیز صاحب کا فون آیا۔ وہ ایک حد درجہ ذہین، روشن خیال ، کہنہ مشق،  مخلص و تجربہ کار ایجوکیشنسٹ ہیں۔  کہنے لگے آپ کا آرٹیکل آئندہ کی منصوبہ بندی میں ایک ریفرنس کا کام دے گا۔اُدھر آزاد کشمیر میں جمیل حسین  صاحب، ایک جوشیلے اور مخلص ماہر تعلیم، اپنا پہلا ادارہ اسی فارمیٹ پر کھڑا کرنے کے لیے پرعزم ہو گئے ہیں۔ کہنے لگے آپکا آرٹیکل پڑھ کر رو دیا۔ اور شکر ہے سکول کا آغاز کرنے سے قبل یہ آرٹیکل دیکھ لیا ۔ عنقریب اسلام آباد تشریف لائیں گے، اور جزئیات پر بات کرنا چاہیں گے۔ اِدھر پاک ترک سکول کے ہیڈ آفس سے ایک  ڈائریکٹر دوست شکیل احمد صاحب نے قدر افزائی کی۔  مضبوط لب و لہجہ کے مالک  اسد خاں صاحب کے کومنٹس نے، عثمان  بھائی اور عابدہ بہن و دیگر ان کے کومنٹس نے میرا حوصلہ کئی گنا بڑھا دیا ہے۔مالک کا جتنا شکر ادا کروں، کم ہے کہ اس نے بات کہنے کی ہمّت و توفیق  ارزاں کی۔

یہ کہنا غلط ہو گا کہ اس تحریر کی پہلی قسط پر موصول ہونے والا رسپانس مصنّف کے گمان میں  نہ تھا۔یہ بات اب  ایک تجربہ  بن کر حق الیقین کا درجہ پا چکی کہ ‘دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے’۔ نا انصافی اورجبر  پر مبنی فضاء  اور اس کے ذمّہ داروں  کو کوئی ایک آواز بھی  للکارنے  پر آ جائے، دوسری آواز یں  از خود ابھرنے لگتی  اور ہمرکاب ہو جاتی ہیں۔ یوں شب سیاہ کی  دبیز چادر  کا سینہ چاک ہونے لگتا ہے۔  پہلی آواز ، پہلی للکار، روشنی  کی پہلی کرن، نغمے کا پہلا بول  البتہ ناگزیر ہے۔  پہلا بول ، اوّلین سطر ہی ذرا سُر میں کہہ  دیں۔ گوشِ مشتاق  آس پاس میں، یہیں کہیں موجود ہے جو باقی کا نغمہ از  خود  سن لے گی۔

گوش مشتاق کی کیا بات ہے اللہ اللہ

سن رہا ہوں میں وہ نغمہ جو ابھی ساز میں ہے

چلتے چلتے  امجد اسلام امجد  کی وہ مشہور آزاد نظم سنا دوں تو ساری کیفیت  sum up ہو جائے گی.

کرو، جو بات کرنی ہے
اگر اس آس پہ بیٹھے، کہ دنیا
بس تمہیں سننے کی خاطر
گوش بر آواز ہو کر بیٹھ جائے گی
تو ایسا ہو نہیں سکتا
زمانہ، ایک لوگوں سے بھرا فٹ پاتھ ہے جس پر
کسی کو ایک لمحے کے لئے رُکنا نہیں ملتا
بٹھاؤ لاکھ تُم پہرے
تماشا گاہِ عالم سے گزرتی جائے گی خلقت
بِنا دیکھے، بِنا ٹھہرے
جِسے تُم وقت کہتے ہو
دھندلکا سا کوئی جیسے زمیں سے آسماں تک ہے
یہ کوئی خواب ہے جیسے
نہیں معلوم کچھ اس خواب کی مہلت کہاں تک ہے

کرو، جو بات کرنی ہے

امجد اسلام امجد

(Visited 28 times, 1 visits today)

About Author

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں بھی اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ادارے کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر خاصے ایکٹو رہے ہیں۔تاہم، کسی قلبی واردات کا شکار ہو کر نئے سال 2017 کے طلوع سے ٹھیک ایک روز قبل یہ غروب ہو گئے تھے۔ پردہ نشینی کی وجوہات میں ایک خاص وجہ ان کا ایک نئے تعلیمی ماڈل کا قیام پر کام کرنا تھا، جو خاصی مقدار میں ہو بھی چکا۔اِن دنوں اس انقلاب آفریں نئے ماڈل کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس موضوع پر ان کی تحریر 'بچوں کی تعلیم کا جبر: آزادی کا ایک ماڈل' دانش ویب سائٹ پر ہی ظاہر ہو کر اچھا رسپانس وصول کر چکی۔اندرون اور بیرون ملک مقیم کچھ احباب نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا، اور ان کےہمرکاب ہو جانے کا دم بھر ا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply