تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

کھلا ہے جھوٹ کا بازار —– سعدیہ بشیر

by دانش ڈیسک 08/07/2019
written by دانش ڈیسک 08/07/2019
78

جھوٹ اور سچ دو متضاد حقیقتیں ہیں ۔ دنیا کے ہر قانون میں سچ کو اخلاقی قوت اور جھوٹ کو دھوکا اور فریب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کہانیوں فلموں اور روایات کے ذریعے سچ کو ایسی قوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو حق کی علامت اور بہادری کا نشان ہے۔ یہ بھی سمجھا جاتا ہے.کہ سچائی فاتح اور جھوٹ ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔ اس بات کی تردید ممکن ہی نہیں کہ جھوٹ ایک برائی اور سچ اخالاقی معیار کی بلندی۔ دنیا کے تیزی سے بدلتے منظر نامے میں جھوٹ اور سچ کے لبادے ااتنی صفائی سے تبدیل ہوئے ہیں کہ بے ساختہ دل سے نکلتا ہے۔

دوست دوست نہ رہا پیار نہ رہا
زندگی ہمیں ترا اعتبار نہ رہا

اایک چینی کہاوت ہے کہ جھوٹ ساری دنیا کا سفر کر لیتا ہے جب کہ سچ ابھی تسمے باندھ رہا ہوتا ہے ۔ یہ بات زمانہ حال کی منافقت پر بھی صادق آتی ہے.

جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے
اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا
(وسیم بریلوی )

جھوٹ کے ذریات میں فریب، دھوکا، وعدہ خلافی، استحصال سب شامل ہیں۔ نہ تم آئے نہ شب انتظار گزری ہے سے
اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے جھوٹ کا محبت سے گہرا تعلق ہے۔ غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا۔ ۔

فی زمانہ روایات اتنی تیزی سے بدل رہی ہیں کہ وعدہ نباہنا آسان نہیں رہا۔ خاندانی مسائل، مذہبی تعصب، دوسروں کے تنکوں کو شہتیر بنانے میں مصروف عمل ایک بے ترتیب ہجوم کو دیکھیں تو ہیر رانجھا سسی پنوں اور اردو شاعری کے عاشق و محبوب کے مسائل اپنے اپنے معلوم ہوتے ہیں۔ وفا کے دعوی جھوٹ کے پل پر تعمیر کیے جاتے ہیں ا گری ہوئی اخلاقیات سے زیادہ نظر گرے ہوئے سکوں پر ہوتی ہے۔ اپنے معاشرہ پر نظر ڈالیں تو ایسے لگتا ہے کہ ہم لوگ شطرنج کے کھلاڑی ہیں اور کوئی بھی مہرہ اٹھانا ۔ گرانا ہمارے لیے کی بورڈ کے بٹن پریس کرنے جتنی مہارت کا متقاضی ہے۔ ٹائیپنگ کی اغلاط کی کوئی اہمیت نہیں۔ ادب کی محبوب اور عاشق کی یہ بے وفائی سیاست کا شیوہ بن چکا ہے اور یہی بے پروائی عوام کا چلن۔ جھوٹ تقریر تحریر سے لے کر تصاویر اور ویڈہوز تک پہنچ چکا ہے ۔ جس کو جی چاہے جہاں مرضی بٹھا دو۔ اور جیسا مرضی دکھا دو۔ ہر قسم کی پلاسٹک سرجری تصاویر کے ذریعے ممکن ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وقت کا دیو اپنے نرم ہاتھوں سے تھپکی کے ساتھ یہ بھی پکار رہا ہے

کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا
کہیں وعدے بھی نبھانے کے لیے ہوتے ہیں
(عبرت مچھلی شہری )

وقت کے معیار ہی نہیں صورتیں بھی بدل چکی ہیں۔ اور کئی بار یہ صورتیں بدلنا مجبوری بن جاتی ہے۔ جھوٹ کو سچ کا لبادہ پہنانا ہی پڑتا ہے شاید اس لمحے جھوٹ کی طمانیت کا حساب ہی نہ ہو سکے۔ جھوٹ اپنی عالی ظرفی پہ ناز کرتا ہو کہ وہ کسی کے آنکھوں کے خواب ڈھانے میں مددگار نہ بن بیٹھا۔ سچ اور جھوٹ کا تعلق ازل سے قائم ہے۔ ایک کی ہار دوسرے کی جیت بن جاتی ہے۔ سچ کے گلے کے ہار جھوٹ کی قبر پر چادر بن جاتے ہیں۔ اور کہیں سچ کی حسین صورت پہ دھول اور جھوٹ کی دل ربائی عروج پر نظر آتی ہے۔ جھوٹ فن کار بنتا ہے تو سچ کا ماتم مناتا ہے۔ اور سچ اگر دار پر ہو تو جھوٹ کی فن کاری پر مسکراتا ہے ۔ یہ چلن صدیوں سے رائج ہے۔ جھوٹ اور سچ کا یہ رشتہ محبت سے بندھا رہے تو وقار قائم رہتا ہے جس طرح محبوب کی بے وفائی پر بھی اسے خوش رہنے کی دعا دی جاتی ہے ۔ جھوٹ یہی حقیقت ہے کہ

مری زباں کے موسم بدلتے رہتے ہیں
میں آدمی ہوں مرا اعتبار کم کرنا
(عاصم واسطی )

ایک تحقیق کے مطابق اگر لوگ اکسی ٹاؤسن نامی ہارمون سونگھ لیں تو وہ جھوٹ بولنے میں طاق ہو جاتے ہیں۔ ہمارے تو پورے معاشرے کی فضا میں لگتا ہے یہ ہارمون رچ بس گیا ہے جو ہم دیدہ دلیری سے صرف جھوٹ کی پرورش ہی نہیں کرتے اس کا دفاع بھی کرتے ہیں

جھوٹ کتنے بھی راستوں سے آئے اسے سچ کے سمندر میں اپنا وجود کھونا ہی پڑتا ہے۔ ۔ یہی دائمی سچ ہے ۔ تو پہلے ہی سچ کے راستے پر سفر کیوں نہ شروع کر دیں آسانی رہے گی۔

Facebook Comments Box
LieSadia Bashirبدلتا وقتجھوٹڈاکٹر سعدیہ بشیرسعدیہ بشیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
لمحہ حیرت: پاکستان کے موجودہ حالات کا تاریخی تجزیہ (۳) —– محمد خان قلندر
next post
ڈاکٹر ملک راج آنند: اقبال کا ایک ترقی پسند عاشق —- اعجازالحق اعجاز

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.