Connect with us

انٹرویوز

کہیں تعلیم ملے تو ھم سے بھی ملوایئے: فرحین شیخ

Published

on

تعلیم اہم معاشرتی موضوع تو ہے ہی لیکن ساتھ ساتھ یہ تقریباً ہر گھر کا رونا بھی بن گیا ہے۔ جو والدین اپنے بچوں کے تعلیمی مستقبل کے لیے زیادہ فکر مند ہیں وہ اس نظام میں سب سے زیادہ پس رہے ہیں۔ پہلے تعلیم کی فکر صرف مخصوص طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو لاحق تھی لیکن اب مزدور ہو یا مستری، درزی ہو یا ڈرائیور، دکان دار ہو یا سبزی فروش ہر کوئی اپنے بچوں کے تعلیمی مراحل خوش اسلوبی سے طے کرنے کے لیے رات دن کا سکون کھو رہا ہے۔ والدین اپنی زندگیاں بچوں کی تعلیم کے لیے وقف کر رہے ہیں، دوستوں کو الوداع، پارٹیوں کو خیرباد، سگے رشتے داروں کے گھر آنے جانے سے معذرت، اور اگر مجبوراً کوئی شادی بھگتانی پڑجائے یا جنازے میں شامل ہونے کا فرض انجام دینا لازمی ٹھہرے تو بھی انہیں اگلے دن بچوں کے اسکول کی فکر ہی کھائے جاتی ہے۔

مصنفہ

حصول علم کی اس بھاگ دوڑ میں سب سے زیادہ برا تو خود بچوں کے ساتھ ہی ہوا، ان سے بچپن چھن گیا، کھیل کے میدان ویران ہو گئے، پارکوں میں جھولوں کے انتظار میں بچوں کی لمبی قطاریں تو قصہ پارینہ ہو گئیں، نانی، دادی، پھپھو اور ماموں کے گھروں کو جانے والی سڑکیں اب بچوں کو نہیں پکارتیں، ان کی زندگی کا واحد مقصد بنا دیا گیا ہے پڑھائی، پڑھائی اور بس پڑھائی۔
آج ہر گھر میں تعلیم کے نام پر ہونے والے خرچے، جھگڑے، بحثیں اور افراتفری دیکھ کر لگتا ہے کہ آنے والے سال ہم پاک وطن میں خواندگی کی شرح 58 فی صد سے بڑھاکر 100 فی صد تک تو ضرور لے آئیں گے۔ لیکن برا ہو اس سچ کا جو سنائے بغیر رہا نہیں جاتا، اس حقیقت کا جو انتہائی تلخ ہے، اتنی تلخ کہ لمحوں میں خوش گوار سوچوں کو ملیا میٹ کر کے والدین کے ارمانوں کا خون کردیتی ہے۔ اور وہ حقیقت ہے کیا! فقط اتنی کہ پاکستان میں بچوں کو زیورِتعلیم سے آراستہ کرنے کی والدین کی ساری کاوشیں بے نتیجہ ہیں۔

ایسے تعلیمی نظام سے ثمرات مل کیسے سکتے ہیں، جہاں ریاست کی شعبہ تعلیم میں دل چسپی باتوں اور دعووں کی حد تک بھی نہ رہی ہو، جی ڈی پی کا محض دو فی صد اس شعبے کے لیے مختص کرکے، کافی سے بھی بہت زیادہ تصور کیا جاتا ہو، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سرکاری اسکول ملیا میٹ کردیے گئے ہوں، تعلیم کی نج کاری ہوچکی ہو، جس کے نتیجے میں ایسا نظام وجود میں آیا ہو، جہاں جماعت میں اول آنے والے بچے ہی کو قابل سمجھا جائے، انگریزی میں بات کرنے والے کو تعلیم یافتہ گردانا جائے، اعلیٰ تعلیم کو ڈگریوں سے تعبیر کیا جائے، اساتذہ کے انتخاب کا معیار ان کی علمیت کے بجائے ظاہری شخصیت کو بنا دیا جائے، اچھی تعلیم کو مہنگے اسکول سے مشروط کردیا جائے، ایسے معاشرے میں تعلیمی پودے کی نمو کی امید رکھنا دیوانے کی بڑ کے سوا اور کیا ہے؟

میں اس تعلیمی نظام کو مسترد کرتی ہوں جہاں والدین اپنی ساری ذمہ داری تعلیمی اداروں پر ڈال دیتے ہیں، اداروں کی انتظامیہ یہ سارا بوجھ اساتذہ تک منتقل کر دیتی ہے، اساتذہ کلاسوں میں جا کر بچوں کو اس بوجھ تلے دبا دیتے ہیں اور مزے کی بات تو یہ کہ بچہ گھر آکر سارا کا سارا بوجھ واپس والدین تک منتقل کردیتا ہے، جس کو بانٹنے کے لیے اب والدین کوچنگ اور ٹیوشن سینٹرز کے چکروں میں جوتیاں گھستے ہیں، جیب مزید خالی کرتے ہیں اور بچے کو نئے قصائیوں کے حوالے کرکے لوٹ آتے ہیں۔

موٹی موٹی کتابوں میں لکھے مشکل الفاظ بچوں کی پُرسکون نیند اور بھرپور غذا کھا چکے ہیں۔ نظر کی کمزوری اور خراب صحت کا شکار ان بچوں کو اپنی جھنجھلاہٹ اتارنے کے لیے جب کچھ نہیں ملتا تو وہ ہم جماعتوں سے لڑتے ہیں، بہن بھائیوں کا ناک میں دم کرتے ہیں، والدین کو آٹھ آٹھ آنسو رلاتے ہیں۔ لیکن اس رویے کی وجوہات میں جانے کا کسی کے پاس وقت کہاں! سارا ملبہ نئے زمانے پر ڈال کر آرام سے کہہ دیا جاتا ہے آج کل کے بچے بہت ہائیپر اور بدتمیز ہیں۔

بچے کی پہلی باقاعدہ درس گاہ اسکول ہے۔ سویرے سویرے معصوم بچوں کی میٹھی نیند خراب کرنے میں ایک ماں ذرا تامل نہیں کرتی۔ اس کی سوچ بس یہ ہوتی ہے کہ بچہ ابھی سے محنت کا عادی بنے گا تو مستقبل میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگا۔ جس پڑھائی کے لیے ماں اپنا دل سخت کرتی ہے اور باپ بے جان اے ٹی ایم مشین میں بدل جاتا ہے اس کا حال تو بہت ہی درد ناک ہے۔ بچوں کو سبزیوں، پھلوں، ر نگوں اور موسموں کے ناموں سے آشنا کروانے کے لیے ان کی مناسبت سے رنگا رنگ دن منانا ہی یہاں تعلیم سے عبارت ہے۔ اور ان دنوں کو منعقد کروانے کا سارا سہرا بھی والدین کے سر جاتا ہے۔ آئے دن وہ بے چارے اسکول کی طرف سے نوٹ وصول کرتے رہ جاتے ہیں، محترم والدین! فروٹ ڈے منانے کے لیے کل بچوں کے ساتھ ایک کلو اسٹرابری روانہ کیجیے، اب یلو ڈے آگیا والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کو سر سے پاﺅں تک پیلے رنگ سے سجاکر اسکول بھیجیں۔ سردیوں کے موسم کو اسکول میں نہیں منایا گیا تو بھلا بچے کو کیسے پتا چلے گا کہ اس موسم کے لباس اور غذائی ضروریات کیا ہیں، لہذا والدین اب سردیوں کا دن منانے کے لیے بچے کے لنچ باکس میں ڈرائی فروٹ بھر کے بھیجیں۔ فلاں دن شیئرنگ پارٹی ہے، بچے کے ساتھ اتنے عدد پزا اور جوس کے ڈبے لازمی ہوں۔ عقل دنگ ہے!!

جتنا زور معاشرے کے سارے ادارے مل کر بچے کی تعلیم پر صرف کرتے ہیں اتنا زور تربیت پر لگایا جائے گا تو ہی معاشرے میں تعلیمی انقلاب برپا ہو گا۔ ورنہ والدین ان بچوں کے پیچھے اپنا مالی سرمایہ کھوتے کھوتے ایک دن بچوں کو ہی کھو دیں گے۔

جن فطری چیزوں سے واقفیت کا سلسلہ بچے کے ساتھ شکم مادر میں ہی شروع ہو جاتا ہے اور دنیا میں آنے کے بعد ماحول جو الفاظ اور تصورات بچے پر خود ہی کھول رہا ہوتا ہے، ان کو سکھانے کا نام تعلیم کب سے پڑ گیا؟ لیکن پھر بھی ہم اپنے چاند چہرہ بچوں کو گرہن لگانے کے لیے ان اسکولوں کی طرف ضرور روانہ کرتے ہیں، جن کی عمارتیں دیدہ زیب اور نصاب بیرونِ ملک کا ہوتا ہے۔ فر فر انگریزی بولنے والے اساتذہ کے سامنے والدین کی ہر دلیل بے وقعت ٹھہرتی ہے۔

مہنگے تعلیمی اداروں میں موٹی موٹی کتابیں پڑھ کر بھی بچے عملی زندگی میں صحیح اور غلط کی تمیز نہ کر پائیں، مخالفین کو برداشت کرنے اور ان کا نقطہ نظر سننے کا حوصلے سے محروم ہوں، دلیل سے ناواقف اور اخلاقیات سے بے زاری کا اظہار کریں، آگے جا کر انھی درس گاہوں میں قتل، خودکشی، منشیات کے استعمال دیگر جرائم کا دھڑلے سے ارتکاب کریں، تو ہم اور کس چیز کے انتظار میں ہیں؟ لمحہ فکریہ تو آن کھڑا ہوا ہے۔ جتنا زور معاشرے کے سارے ادارے مل کر بچے کی تعلیم پر صرف کرتے ہیں اتنا زور تربیت پر لگایا جائے گا تو ہی معاشرے میں تعلیمی انقلاب برپا ہو گا۔ ورنہ والدین ان بچوں کے پیچھے اپنا مالی سرمایہ کھوتے کھوتے ایک دن بچوں کو ہی کھو دیں گے۔

Advertisement

Trending