نیر مسعود کی یاد میں: ڈاکٹر سرور الہدیٰ

0
  • 30
    Shares

ممتاز ادیب نیر مسعود کے انتقال پر، ہمسایہ ملک سے  شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے محترم استاد ڈاکٹر سرور الہدیٰ کی دانش کے قارئین کے لیے خصوصی تحریر پیش خدمت ہے۔ ہم ڈاکٹر صاحب کو خوش آمدید کہتے ہیں۔


نیرمسعود کے انتقال سے اردو افسانے کی ایک منفرد روایت اپنے اختتام کو پہنچ گئی، اسی کے ساتھ شعر و ادب کی ایک روشن تحقیقی اور تنقیدی روایت بھی رخصت ہوگئی۔

اردو افسانہ نیر مسعود کے عہد میں جن اسالیب سے پہچانا گیا ان میں ایک اہم اسلوب نیر مسعود کے افسانے کا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نیر مسعود کے افسانوں کو کم پڑھا گیا اور ان پر لکھا بھی کم گیا، نیر مسعود کبھی مقبول لکھنے والوںمیں نہیں رہے، ان کے قا رئین کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ ایسے قارئین بھی ہوسکتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں، اور ممکن ہے جن کی نگاہ نیر مسعود کے افسانوں پر بہت گہری ہو، لیکن مجموعی طور جو صورت حال رہی ہے اس کے پیش نظر یہی کہا جاسکتا ہے کہ نیر مسعود کے افسانے چند باشعور اور ذہین قاری کا مسئلہ رہے ہیں۔ عام طور پر یہ شکایت کی جاتی رہی کہ ان کے افسانے مشکل اور پیچیدہ ہیں، ان میں جو معنی کا عمل ہے وہ بھی ہماری دسترس سے باہر ہے۔ نیر مسعود نے سرسوتی سمان کو قبول کرتے ہوئے اس موقع پر جو تقریر کی تھی اس سے بھی واضح ہے کہ انہیں کبھی یہ فکر نہیں رہی کہ ان کے افسانوں کے قارئین کی تعداد کتنی ہے اور انہوں نے اس طرح کے افسانے کیوں اور کن لوگوں کے لیے تخلیق کئے۔ نیر مسعود کی اس تقریر کو اسلم پرویز نے اردو ادب میں (اپریل مئی جون ۲۰۰۸) شائع کردیا تھا۔ اسلم پرویز نے اس موقع پر اردو ادب میں گوشۂ نیر مسعود قائم کرکے ادب کے سنجیدہ حلقے کو یہ پیغام بھی دیا کہ نیر مسعود ہمارے عہد کے کتنے اہم قلم کار ہیں۔ پہلے صفحے پر نیر مسعود کی تصویر بھی ہے، تصویر کے ساتھ جو عبارت درج ہے اسے ملاحظہ کیجیے۔ ’’ اردو اور فارسی ادبیات کے ماہراور اردو ادب کے انتہائی اہم افسانہ نگار پروفیسر نیر مسعود جو حال ہی میں سرسوتی سمان سے سرفراز ہوئے ہیں، اردو ادب انہیں اس موقع پر دلی مبار کباد پیش کرتا ہے۔ ‘‘ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ نیر مسعود کی علمیت اور تخلیقیت سے جیسی شناسائی اردو معاشرے کو ہونی چاہیے وہ نہیں ہوسکی اس کی وجہ اور کچھ نہیں کہ ان کی تحریروں کے مسائل عام لکھنے والوں کے مسائل سے بہت مختلف رہے ہیں۔ جدیدیت کے عروج کے زمانے میں جن تجریدی کہانیوں کو فروغ حاصل ہوا، اس سیاق میں بھی نیر مسعود کے افسانے یوں بھی منفرد معلوم ہوتے ہیں۔ نیر مسعود کے افسانوں پر پروفیسر قاضی افضال حسین، پروفیسر عتیق اللہ، پروفیسر لطف الرحمن اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے مضامین لکھے۔ نیر مسعود کی کتاب ’’ میر انیس‘‘ پر شمیم حنفی نے لکھا۔ چند سال قبل جب غالب انسٹی ٹیوٹ نے ان کے اعزاز میں ایک کتاب شائع کرنے کا منصوبہ بنایا تو یہ فکر پریشان کررہی تھی کہ نیر مسعود پر کن لوگوں سے لکھنے کے لیے کہا جائے۔

میں نے اوپر جو نام لیے ہیں وہ اردو ادب کے نمائندہ تنقید نگار ہیں لیکن چار پانچ دہائیوں میں کسی اہم ادیب پر اتنا کم لکھا جانا ایک معنی میںاعزاز کی بات بھی ہے۔ جیسی تنقید لکھی جارہی ہے اس کو دیکھ کر کوئی بھی اچھا ادیب یہی تمنا کرے گا کہ کاش اس پر نہ لکھا جاتا یا آئندہ نہ لکھا جائے۔ میں نے نیر مسعود پر غالب انسٹی ٹیوٹ سے شائع ہونے والی کتاب میں اپنے تین عزیزوں سے مضامین لکھوائے۔ پروفیسر لطف الرضمن نے میری درخواست پر مضمون قلم بند کیا تھا اور انہوں نے فون پر نیر مسعود کے تعلق سے بہت لمبی گفتگو کی تھی۔ اس کتاب کے لیے میں نے ایک مضمون ’’ نیر مسعود اور یگانہ احوال و آثار‘‘ کے عنوان سے لکھا تھا۔ عبد السمیع نے’’ سیمیا‘‘ کا تجزیہ کیا، محضر رضا نے ’’ خطوط مشاہیر بنام سید مسعود حسن رضوی ادیب‘‘ کا مطالعہ پیش کیا اور نوشاد منظر نے نیر مسعود کا سوانحی خاکہ تیار کیا۔ اس طرح نیر مسعود پر ایک مختصر سی کتاب ان کی زندگی میں غالب انسٹی ٹیوٹ سے شائع ہوگئی۔

ادب کے سنجیدہ قارئین کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ نیر مسعود کے افسانوں کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے مطالعہ کی عام روش سے ہٹنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات کسی بھی اہم لکھنے والے کے تعلق سے تو کہی جاسکتی ہے مگر جس سیاق میں یہ بات کہہ رہا ہوں وہ سیاق ایک خاص تہذیبی سیاق ہے، جسے اودھ کا تہذیبی اور لسانی علاقہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ نیر مسعود کو گمشدہ عمارتوں، شخصیتوں اور کتبوں سے جیسی دلچسپی رہی ہے وہ عصر حاضر میں کہیں اور مشکل سے ہی ملے گی۔ اپنی روایت کو وہ فیشن کے طور پر نئی روشنی میں دیکھنا نہیں چاہتے، میرا خیال ہے کہ سیاق کو سمجھنے اور دیکھنے کا جتنا گہرا شعور نیر مسعود کے یہاں رہا ہے وہ نایاب ہے۔ انہوں نے مٹتی ہوئی تہذیب اور روایت کو اگر نئے سیاق میں دیکھا ہی تو کوئی ایسا نتیجہ اخذ نہیں کیا جس سے فوری طور پر یہ گمان ہو کہ وہ عصری تناظر فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں خوابوں سے جیسی انسیت رہی اسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ خواب، خواب نہ ہوں بلکہ حقیقت کا ایک دوسرا روپ ہو۔ نیر مسعود نے خوابوں کو پرچھائیوں کی شکل میں پیش نہیں کیا اور اسی لیے ان کے یہاں کردار پرچھائیں کی صورت اختیار نہیں کرسکے۔ ٹھوس اشیا کی اہمیت ہمیشہ رہتی ہے مگر نیر مسعود ٹھوس اور تجرید کو کسی فیشن کے طور پر قبول نہیں کیا اور یہ سب کچھ فطری طور پر ان کے یہاںنمو کرتا ہے۔ میں نے اوپر جس کتاب کا ذکر کیا تھا اس کے چند جملے ملاحظہ کیجیے:

’’ اپنی ایک کمزوری کا بھی اعتراف کرلوں کہ میرے سب افسانے میرے شہر لکھنو میں اور میرے مکان ادبستان میں ہی لکھے گئے ہیں باہر کسی جگہ نہ میں افسانہ لکھ سکا ہوں اور نہ کوئی مضمون اور نہ کوئی کتاب۔ کبھی کبھی مجھ سے میرے کسی افسانے کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں اور کبھی یہ کہ افسانے کو کوئی مطلب سمجھ نہیں آتا اس لیے یہ مہمل ہے، میں اس موضوع پر نہ نقادوں سے الجھتا ہوں اور نہ عام پڑھنے والوں سے… میرے کچھ افسانے ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کا تعلق کس زمانے اور کس جگہ سے ہے، ایسے افسانوں کے لکھنے کا جواز مجھے سمجھ نہیں آتا، سوا اس کے کہ ان کا لکھنا مجھے اچھا معلوم ہوتا ہے۔ ‘‘

نیر مسعود کے چار افسانوی مجموعے ’’ سیمیا(پانچ افسانے)، طاؤس چمن کی مینا (دس افسانے)، عطر کافور (ساتھ افسانے) اور گنجفہ شائع ہوئے۔ نیر مسعود کی اس تقریر کو ادب کے ہر سنجیدہ قاری کو ایک مرتبہ ضرور پڑھنا چاہیے۔

نیر مسعود نے جو تحقیقی اور تنقیدی کام کیا ہے اس کی بھی ایک خاص اہمیت ہے۔ ان کاموں کی ایک لمبی فہرست ہے اور ان سب پر یہاں گفتگو ممکن نہیں۔ ’’ یگانہ احوال و آثار‘‘ نہ صرف یگانہ بلکہ لکھنو کی ادبی تاریخ کا بھی ایک اہم حوالہ ہے، اگر یہ کتاب نہ لکھی جاتی تو یگانہ کے تعلق سے کئی اہم باتیں ضبط تحریر میں نہ آتی۔ مسعود حسن رضوی ادیب سے یگانہ کی جیسی دوستی تھی اگر نیر مسعود نے یہ کتاب نہ لکھی ہوتی تو اس دوستی کے کئی حوالے نگاہ سے اوجھل رہ جاتے۔ نیر مسعود نے یگانہ کو ان کی آخری زندگی میںبہت قریب سے دیکھا تھا اور جب وہ ادبستان کے ایک حصے میں قیام پذیر تھے تو وہ زمانہ بھی نیر مسعود کے علاوہ کسی اور نے اس طرح دیکھا نہیں ہوگا۔ نیر مسعود کی جرأت اور دیانت دار کی اہمیت اب اور بڑھ گئی ہے کہ انہوں نے لکھنو بعض تنگ دل ادیبوں کی پرواہ کیے بغیر یگانہ پر قلم اٹھایا اور یہ بتایا کہ مسعود حسن رضوی ادیب جیساعالم اور نقاد یگانہ کے فن کا رازداں اور قدر شناس ہے۔ لوگ اس بات سے بھی ناراض تھے کہ ادیب صاحب نے ہماری شاعری کے ہر نئے ایڈیشن میں یگانہ کے اشعار کا اضافہ کیوں کیا۔ نیر مسعود کو اردو کی ادبی اور تہذیبی روایت کا مکمل نمائندہ کہا جانا چاہیے، انہوں نے اپنی تاریخ سے ویسی ہی دلچسپی دکھائی جیسی دلچسپی ہمیں انتظار حسین اور پھر شمس الرحمن فاروقی کے یہاں دکھائی دیتی ہے۔ ان حضرات نے روایت کو کل کی حیثیت سے دیکھا۔ نیر مسعود کی ایک کتاب ’’ رجب علی بیگ سرور: حیات اور کارنامے‘‘، کی ایک خاص اہمیت ہے۔ سرور میں دلچسپی رکھنا ہی ایک ایسا واقعہ ہے جو سیمیا اور طاؤس چمن کی مینا کے افسانہ نگار کو منفرد بناتا ہے اور یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ان کے یہاں تخلیق اور تنقید داخلی سطح پر ایک دوسرے سے گریزاں نہیں ہے۔ مرثیہ خوانی کا فن اور میر انیس ان دو کتابوں کے بغیر مرثیے کی تنقید مکمل نہیں ہوسکتی، انہوں نے ’تعبیر غالب‘ جیسی کتاب بھی لکھی جس میں ایک اہم مضمون’’ غالب اور رجب علی بیگ سرور‘‘ بھی ہے۔ ’’ ادبستان‘‘ شخصی خاکوں کا مجموعہ ہے جس میں ادبستان کی ظاہری شکل و صورت بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ ادبستان مسعود حسن رضوی ادیب کی مناسبت سے ادبستان بنا اس درمیان بہت سے ادبستان قائم ہوگئے مگر ادیب اور نیرمسعود کا ادبستان ہر اعتبار سے فائق رہا۔ کیسی نایاب اور اہم کتابیں ادبستان میں موجود تھیں اور ہیں، اور نہ جانے کیسی کیسی اہم شخصیات ادبستان آتی جاتی رہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ عہد حاضر میں ادبستان کے علاوہ کوئی ایسا گھر تھا جس سے علمی ادبی اور تہذیبی طور پر کوئی اعلیٰ تصور قائم کیا جاسکے۔ نیر مسعود کے دم سے اس کا نام بھی نہ صرف یاد تھا بلکہ یہ احساس ہوتا تھا کہ ایک شخص بیمار ہی سہی مگر وہ اس تاریخی گھر میں موجود تو ہے۔ نیر مسعود نے اپنے والد کے نامکمل اور بکھرے ہوئے کاموں کو تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے دیوان میر(فارسی) بھی مرتب کیا، سودا کے فارسی غزلوں کا ترجمہ بھی کیا، ان کا ایک اہم کام پندرہ فارسی کہانیوں کا اردو میں ترجمہ ہے۔ کافکا کے بیس افسانوں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا جو ’’ کافکا کے افسانے‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔

نیر مسعود کی ادبی کاوشوں کو دیکھا جائے تو انہیں اردو کی ادبی تاریخ کا مکمل نمائندہ کہا جانا چاہیے۔


ڈاکٹر سرور الہدیٰ،  شعبۂ اردو،
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی۔ ۲۵

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: