پروفیسر جمال نقوی: حق کا راہی ۔۔۔ عزیز ابن الحسن

0
  • 35
    Shares

جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہےـــــــــ
پروفیسر جمال نقوی لیفٹ کو چھوڑ حق کے راستے پر ہولیے.

سال بھر پہلے میں نے جب ایک کتاب کا عنوان دیکھا تو اسکے مفہوم سے زیادہ اسکے صوتی آہنگ نے مجھے جکڑ لیا تھا: Leaving   the   Left   Behind آپ ہی کہیے اتنا پُر تأثر اور بولتا ہوا عنوان کسی کتاب کا دیکھا ہے؟

میں تب پروفیسر جمال الدین نقوی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا. انکے بارے میں جو کچھ معلوم ہوا اسی کتاب سے ہوا. پاکستان میں بائیں بازو کی کیمونسٹ آئیڈیالوجی، اس سیاست کے نشیب و فراز اور کسی فرد کے باطن میں خوابوں اور حقیقتوں کے تصادم سے پیدا ہونے والے آئیڈیلز کی ٹوٹ پھوٹ کی کہانی ایک اندر کے آدمی کی زبانی ایک نہایت دلچسپ اسلوب اور صوتی تجنیس والی نثر میں پڑھنی ہو تو اس کتاب سے بہتر کتابیں کم ہی ملیں گی.

کتاب کا ذیلی عنوان بھی معنیاتی ثروت مندی کو لفظی کھیل کے ساتھ بیان کرنے کا شہکار ہے:

An    autobiographical    tale    of    political    disillusionment    that    took    life’s    momentum    away    from    the    myopic    politics   of Right   and    Left    to    the    enlightened    concept    of    Right    and    Wong.

میں نے چاہا تھا کہ اس ذیلی عبارت کا ترجمہ کردوں مگر لفظوں کا خون کیے بنا یہ ممکن نظر نہ آیا.

پروفیسر نقوی کی زندگی دیگر ترقی پسند ادبا کی طرح قہوہ خانوں میں دھواں اڑانے اور ڈرائینگ رومز میں انقلاب کے نعروں میں نہیں گزری بلکہ وہ نظری اور عملی طور پر بھی اپنے یساری آدرشوں کو روبہ عمل لانے کی جدو جہد میں سرگرم رہے. اس مقصد کے حصول کی خاطر انہوں نے حکومتی قید و بند کے مصائب بھی جھیلے اور بغاوت و غداری کے مقدموں بھی ملوث کیے گئے مگر یہ صعوبتیں انکے نظریات کو متزلزل نہ کر سکیں.

لیکن سویت یونین کے چند روزہ سفر و قیام کے دوران انہوں نے اس جنتِ ارضی میں اشتراکی معیشت و سماج کے اپنے سنہری سپنوں کو جب بری طرح ٹوٹتے دیکھا تو کیمونسٹ نظریات، ان تصوارات سے وابستہ مفادات کے حامل کچھ افراد اور اپنی چار دہائیوں کی زندگی کو از سرِ نو چھاننا شروع کردیا. اسی کشمکش نے انہیں بائیں بازو کی کوتاہ اندیش سیاست سے دور کردیا اور وہ لیفٹ و رائٹ تصورات کے بجائے رائٹ (حق) اور رانگ (باطل) کی اصلطلاحات میں سوچنے لگ گئے.

پروفیسر نقوی انگریزی ادبیات کے استاد تھے مگر حیرت ہے کہ پاکستان کیمونسٹ پارٹی کے اتنے فعال متحرک کارکن و رہنما کی زندگی اور کام کا اردو کی نظریاتی و ادبی سیاست میں کبھی کوئ خاص ذکر سننے میں نہیں آیا حالانکہ انکے ادبی ذوق اور نظریاتی وابستگی کا یہ حق تھا کہ اردو کے ترقی پسند نصاب و ادب میں انکی ان تھک وابستگی اور جہدِ مسلسل کا کماحقہُ اعتراف کیا جاتا.

پروفیسر نقوی کی اس خود نوشت کے علاوہ راقم کے علم میں کبھی انکی کوئ کتاب نہیں آئ لیکن حقیقت یہ ہمارے بائیں بازو کے نظریاتی ادیبوں نے بھی انکا کوئ خاص ذکر کرنا پسند نہیں کیا.

ایک مکتبِ فکر کا خیال ہے کہ ۲۰ ویں صدی کے نٍصف دوم میں مابعد جدیدیت کے بینر کے نیچے جو تصورات ابھرے یہ چند ایسے ہی سابقہ ترقی پسند و لیفٹسٹ دانشوروں کے آدرشوں کی شکست سے پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی جوانیاں انسانی آزادی مسرت مساوات اور غیر طبقاتی سماج کی تعمیر کے لیے تاریخ معیشت اور سیاست کے نئے خوابوں میں رنگ بھرنے میں لٹادی تھی مگر انسانی تاریخ کے عظیم ترین مادی تجربے نے سویت یونین کی تباہی(جو کچھ آنکھوں نے بہت پہلے سے بھانپ لی تھی) کی صورت میں ان کے خوابوں کو التباس و فریب بنادیا. تب انمیں سے کچھ تو گوشہ گیر ہوگئے اور کچھ نے اس جہانِ کاف و نون کے بڑے بڑے بیانیوں بشمول (مذہب و مارکسیت) کے فرسودہ و ناقابلِ ناقابلِ عمل ہونے کی نوحے پڑھنے شروع کردیے تھے. ایسے میں ہمارے ہاں کے سابقہ ترقی پسندوں میں سے بھی اکثر نے اپنی امیدوں کا آخری سہارا مارکسیت چھوڑ مغربی لبرلزم کو بنالیا..

یہ نہیں کہ یہ سب کچھ جمال نقوی کے ہاں بھی ہے. کہنا صرف یہ ہے کہ ختمِ درد عشق کے لمحات بڑے کربناک ہوتے ہیں. اس کرب کو اور اسکے تجزیے کو ہمیں پروفیسر جمال نقوی کی داستان میں بڑی توجہ سے پڑھنا چاہیے.

پروفیسر نقوی الہ آباد میں پیدا ہوئے اور نوجوانی ہی میں کراچی آگئے. اسلامیہ کالج میں بی اے میں داخلہ لیا جہاں انہیں کچھ پرانے شناسا چہرے نظر آئے تھے. اس زمانے میں ہمارے عہد کے دو معروف اساتذۂ ادب و تنقید پروفیسر کرار حسین اور محمد حسن عسکری بھی اسی کالج کے شعبۂ انگریزی سے وابستہ تھے. ذرا دیکھیے پروفیسر نقوی نے اسلامیہ کالج کراچی کو یاد کرتے ہوئے اپنی محولہ آپ بیتی میں چند جملوں میں ان اساتذہ کی کیسی سچی اور پُرلطف تصویر کھینچ دی ہے:

Then    there    was    M. H.   Askari,    the    ‘scholar    gypsy’    who    was    considered    an    effective    ‘labor-saving    device’    because    during    his    lectures    he    used    to    tell    every    thing    said    by    every    body    about    every    thing.    His    lectures    all    but    eliminated    the    need    to    consult    any    other    book.    The    best    of    the    lot,    without    much    of    a    contest,    was    Karrar    Hussain.    He    never    had    a    book    in    hand,    but    his    extempore    lectures    used    to    cast    spell    on    the    class.    (P. 023)

پروفیسر جمال الدین نقوی کا گزشتہ روز کراچی میں بعمر ۸۵ برس انتقال ہوگیا. دعا ہے اللہ اس متلاشئ حق کے درجات بلند کرے.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: