میں کون ہوں اے ہم نفسو؟ پنڈی کہ ایک شہر تھا: آپ بیتی احمد اقبال 6

1
  • 142
    Shares

ممتاز کہانی کار، لکھاری اور دانشور جناب احمد اقبال صاحب دانش کے قارئین کے لئے خاص طور پہ اپنی داستان حیات لکھ رہے ہیں، اس سلسلہ کی چھٹی قسط ملاحظہ فرمائیے۔


پنڈی کہ ایک شہر تھا
اپنے میرصاحب جب دہلی سے لکھنؤ پہنچے توکسی مشاعرے میں ان کی فقیرانہ وضع کا تمسخر اڑانے والوں نے سوال کیا کہ میاں کہاں کے ہو؟ باری آنے پر انہوں نے جو قطعہ پڑھا وہ اپنی مثال آپ ہے

کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے برباد کر دیا

ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کےاگرچہ مہماں نوازی کےرویوں میں فرق نہ تھا مگر لاہور سے صرف 171 میل کی دوری پر واقع شمالی حصے کے اس شہر کی زبان اور ثقافت مختلف تھی۔ 67 سال پہلے یہاں جو زبان بولی جاتی تھی وہ پوٹھوہاری تھی۔ اس پنجابی سے یکسر مختلف، جو لاہور والی زرینہ کی زبان تھی اور میں نے سیکھ لی تھی۔ مثال کے طور پر ’’اٹھا لے‘‘ کہنا مقصود ہو تو لاہور والے کہیں گے ’’چک لے‘‘ اور پنڈی میں کہا گیا ’’چائی کھڑ‘‘ لاہور میں ’’کہاں جاکے بیٹھ گیا تھا‘‘ اس طرح ہو گا ’’کتھے جا کے بے گیا سیں‘‘۔ پوٹھوہاری میں ’’کر گشی کے بیئی ریا سیں‘‘ ہو جائے گا۔ پنجابی کا ’’تھلے جا کے کھانالے آ‘‘ پنڈی کی پوٹو ہاری میں ’’بن گچھی کے ٹکر کنہی آ‘‘ ہوگا۔ اب یہ زبان شہری علاقے میں کم سنی جاتی ہے سب سے جدا اس زبان کی وہ گالیاں تھی جو چھوٹے بڑے یکساں روانی سے دینے اور سننے کے عادی تھے اور اپنی ایک واضح انفرادیت رکھتی تھیں لیکن اب کہیں سنائی نہیں دیتیں۔ مجھے ابتداء میں خاصی مشکل پیش آئی لیکن راجہ بنارس خان ٹال والا اور ارد گرد کے سب لوگ فراخدل اور مہرباں تھے۔

کسی پسماندہ گاؤں جیسے ماحول میں دو نیم پختہ کمروں والا آبادی کا آخری مکان شاید دو مرلے یا 60 گز پر محیط تھا۔ اس میں کچن نہیں تھا گرمی میں اس صحن کے بعد جس میں مونجھ سے بنے تین پلنگ ڈال دئیے جاتے تھے۔ ایک اماں کا، دوسرا ابا کا اور تیسرا ہم دو بھائیوں کے لئے۔

ایک اور کمرا تھا جو بیٹھک کا کام دیتا تھا۔ ایک چارپائی، دو بید کی بنی کرسیاں اور ایک میز اس کی کل کائنات تھی سفیدی کی تہمت رکھنے والی نیم پختہ دیواریں کسی دریچے یا روشندان سے محروم تھیں۔ اماں کا مٹی سے بنا چولھا صحن کے ایک درخت کے نیچے رہتا تھا لیکن سردیوں میں اور بارش کے موسم میں کمرے کے اندر چلا جاتا تھا، روٹیاں بیلتی اماں چولھے میں جلائی جانے والی لکڑیوں کو روشن رکھنے کے لئے ’’پھونکنی‘‘ سے ہوا دے دے کر ہانپنے لگتی تھیں۔ چمٹے سے انگارے کریدتی جاتی تھیں۔ اکثر کمرے میں دھواں بھر جاتا تھا۔ موسم سرما میں جلتی لکڑیوں کی حرارت اچھی لگتی تھی، لیکن دھویں سے دم گھٹنے لگتا تھا اور آنکھوں میں جلن سے آنسو آنے لگتے تھے تو دروازہ کھولنا پڑتا تھا اور برفیلی ہوا یا بارش کی پھوار اندر آتی تھی۔ بعد میں یہ ہوگیا تھا کہ آسمان پر بادل دیکھ کر اماں ہمیں دوڑاتی تھیں کہ ’’بنارس سے لکڑیاں لے آؤ‘‘، اس سے کہنا پتلی سوکھی دے نیچے سے نکال کے‘‘۔ میں اور بھائی ایک فرلانگ سے زیادہ لمبی گلی طے کرکے بنارس کی ٹال پر جاتے تھے۔ وہاں چیری ہوئی لکڑیاں کسی دیوار کی طرح چنی ہوتی تھیں۔ راجہ بنارس خان پانچ پانچ سیر لکڑیاں تول کر میرے اور بھائی کے ہاتھوں پر رکھ دیتا تھا، اس سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی ہم میں سکت کہاں تھی۔ ہم اسی گلی میں فرلانگ بھر سے زیادہ واپسی کا سفر طے کرتے تھے تو ہمارے بازو شل ہو جاتے تھے۔ گیس کا اسوقت نام کوئی نہیں جانتا تھا۔

کھانے کے وقت ابا کو پہلے ٹرے میں سالن کی پلیٹ اور گرم روٹی دے دی جاتی تھی جو وہ چارپائی پر بیٹھ کے کھاتے تھے۔ ہم دو بھائی فرش پر آلتی پالتی مارے اماں کے قریب بیٹھے رہتے تھے۔ گھر میں ڈھائی آنے پائو والا بکری کا آدھا پائو گوشت آتا تھا تو ا س میں عموما ’’گنتی کی پانچ بوٹیاں ہوتی تھیں۔ دو ابا کی ایک ایک میری بھائی کی اور اماں کی۔ (گائے کا گوشت ہم نے 1967 میں شروع کیا)۔ سالن میں آلو یا مولی شلجم کے ساتھ شوربہ پتلا رکھا جاتا تھا کہ کم نہ ہو۔ سردی گرمی چولھا اماں ابا کے بیڈ روم میں جلتا تھا کیونکہ وہ صبح دم ابا کو دفتر جانے سے پہلے ناشتا بنا کے دیتی تھیں۔ ابا نے ناشتے میں انڈے کو یوں لازمی کیا تھا کہ آج تک میں اور میرے بچے انڈا پراٹھا فرض سمجھ کے کھاتے ہیں یہاں تک کہ عید والے دن بھی نماز کے لئے جانے سے پہلے شیر خورمہ اپنی جگہ۔ واپسی پر مطالبہ وہی انڈا پراٹھے کاہوتا۔ پراٹھے کی جگہ اب ڈبل روٹی نے ضرور لے لی ہے مگر انڈا ناگزیر ہے۔ تیسری چوتھی نسل تو نہ جانے کیا کچھ کھانے لگی ہے کروساں، ساسیج، اسٹیک وغیرہ۔

لکڑیاں لانے کے علاوہ بھی ہفتہ دس دن میں ایک اور مشقت ناگزیر تھی، ابا بازار سے گندم لاتے تھے۔ اماں دھونے سے پہلے کنکر چنتی تھیں پھر چارپائی پر چادر پھیلا کے گندم دھو کر ڈالتی تھیں۔ خشک ہونے کے بعد میں اور بھائی دو تھیلوں میں ڈال کے سڑک تک اٹھا کر لے جاتے تھے۔ بنارس خاں کی ٹال کے سامنے ہی چکی تھی۔ اس کا ایک ہی بہت بڑا شاید دس بارہ فٹ قطر کا پہیہ تھا۔ ڈیزل مشین چلتی تھی تو یہ پہیہ گھومتا تھا اور آٹا پیستے والے پتھر کے پاٹوں کو گھماتا تھا۔ اس سے ’’پخ پخ‘‘ کی تیز آواز پیدا ہوتی تھی، جو چھت کی چمنی سے خارج ہوتی تھی اور دور دور تک سنائی دیتی تھی۔ اندر ڈیزل کی تیز بو اور اس کی کالی چکناہٹ بھری رہتی تھی۔ ایک قیف میں ڈالی جانے والی گندم نیچے سفید آٹے کی صورت میں نکلتی تھی اور اڑتے آٹے سے بھوت بنا ایک شخص اسے دونوں تھیلوں میں ڈال کے ہمارے حوالے کرتا تھا تو تازہ پسا آٹا بہت گرم ہوتا تھا۔ پسائی کا معاوضہ شاید ایک پیسہ فی سیر لیا جاتا تھا۔

اس چکی سے جڑا ایک حادثہ بھی مجھے یاد ہے۔ ایک بار نہ جانے کیسے یہ دیو ہیکل فولادی سا پہیہ نکل گیا تو دیوار توڑتا سڑک پر آیا جو اتفاق سے خالی تھی۔ سڑک عبور کر کے وہ ایک کھیت میں گھسا اور بالآخر ایک مکان سے ٹکرا کے رکا۔ تب تک اس کی قوت میں کمی آچکی تھی چنانچہ ایک دیوار منہدم ہوئی اور ایک بڑھیا کو فوراً دنیا سے جانا پڑا۔ اس حادثے نے بہت سنسنی پھیلائی تھی۔

آبادی اور عام رہن سہن کے اعتبار سے یہ پسماندہ محلہ کسی گائوں سے بدتر تھا۔ پرچون کی دو دکانیں راجہ کرم داد اور اس کے بھائی فیروز کی تھیں۔ نیم پختہ سڑک پر ایک چھوٹا سا چائے خانہ ’’اقبال ہوٹل‘‘ تھا۔ سبزی گوشت کی ایک دکان تھی، نہ ٹرانسپورٹ نہ اسکول نہ ڈاکٹر تھا۔ گوالے بہت تھے یا شوقین مزاج تانگے والے جو اپنے تانگوں کو سجا بنا کے رکھتے تھے اور بٹیر بازی کرتے تھے۔ مغرب کے بعد وہ تانگہ سڑک کے کنارے کھڑا کر کے گھوڑے کو آزاد چھوڑ دیتے تھے اور وہ گلیوں سے گزرتا اپنے گھر پہنچ جاتا تھا۔ وہ خود اقبال ہوٹل پر چائے پیتے فلمی گانے سنتےاور بٹیر لڑاتے۔ ہمارے گھر سے آگے جو کھیتوں کا سلسلہ تھا وہ تقریباً آدھا میل دور ایک قدرتی پانی کے دھارے تک پھیلا ہوا تھا۔ اسے ’’کسسی‘‘ کہتے تھے کناروں تک نشیب تھا اور ناہموار گہرائی تھی۔ پہاڑوں کی طرف سےآنے والے اس چشمے کا صاف پا نی دھیرے دھیرے بہتا کہیں چھوٹی سی جھیل بناتا تھا تو کہیں آبشار۔ محلے کی سب عورتیں چھوٹے بچوں کے ساتھ یہاں منگل کو کپڑے دھونے اور نہانے آتی تھیں۔ چونکہ یہ بات سب کو معلوم تھی تو منگل کومرد ادھر کوئی نہیں آتا تھا۔ عورتیں بے فکری سے تمام کپڑے اُتار کے صبح سےشام تک نہاتی دھوتی تھیں اور اس ہفتہ وار میٹنگ میں دل کا بوجھ بھی ہلکا کرتی تھیں۔ شوہر کے ’’حرامی پن‘‘ اور ساس نند کی کمینگی کا رونا رو دھو کر ادھر ادھرکی سنسنی خیز خبریں سنا کے اور و ہ باتیں کر کے جن پر کھی کھی ہنسنے۔ ایک دوسری کو ’’چل بے شرم‘‘ ہی کہا جاسکتا تھا۔ وہ بدن کا میل تو خیر اتارتی تھیں اندر کا غبار بھی نکال دیتی تھیں۔ لیکن یہ میں آج تصور کر سکتا ہوں۔ اس وقت کیسے سمجھ سکتا تھا۔

غیر ارادی طور پر منگل کوادھرجا نکلا۔ در اصل میرے ایک بچپن سے اب تک کے ہم عمردوست طارق رفیع نے (جو بعد میں کمانڈو، بریگیڈئیر اور ڈائیریکٹر جنرل اے ایس ایف بنے) ایک دن زبر دست سائنسی انکشاف کیا کہ مینڈک کو خشک کر کے اس کا پائوڈر بنا لیا جائے تو اس کے ہر ذرے کو پانی میں ڈالنے سے مینڈک بن جاتا ہے۔ ہم نے بڑے اہتمام سے ایک برساتی پانی کے کیچڑ والے گڑھے میں سے مینڈک پکڑا۔ ڈرپوک اور کم ہمت ہونے کی وجہ سے سارے کپڑے اتار کے کیچڑ میں اترنے اور زندہ مینڈک پکڑنے کی ہمت تو خیر آج بھی مجھ میں نہیں۔ طارق نے یہ کارنامہ سر انجام دیا اور ہم نے ایک صحت مند مینڈک کو جھاڑ پونچھ کے چوڑے منہ والی ایک شیشی میں ڈالا اور شیشی کو گڑھا کھود کے دبا دیا کہ مہینہ دو مہینہ بعدخشک مینڈک کا پائوڈر بناکے سینکڑوں مینڈک بنانے کا عظیم سائنسی تجربہ کریں گے۔

اس روز یعنی منگل کو میں یہی دیکھنے گیا تھا کہ مینڈک پائوڈر بنانے کی حد تک سوکھا یا نہیں۔ نشانی دیکھ کے میں نے شیشی نکالی تو اس میں کچھ ملغوبہ سا متحرک دکھائی دیا۔ ڈھکن کھولا تو بدبو کا ایسا بھبکا آیا کہ میں نے بے اختیار شیشی کو پھینکا اور ابکائیاں لیتا بھاگا اور بھاگتا ہوا علاقہ ممنوعہ میں جا پہنچا۔ چکر مجھے پہلے ہی آرہے تھے۔ پیش نظرہر عمر کی نہاتی دھوتی دس بارہ بے لباس خواتین کو پا کے بد حواسی میں پل بھر کے لیے میرے قدم زمین میں گڑ گئے۔ میں نے دو چار چیخوں میں ایک آواز سنی اور یہ تو اپنے کرایہ داروں کا پتر اقبال ہے۔ کا کا تو یہاں کیا کر رہا ہے؟‘‘ ایک بھاری بھر کم ہاتھ میرے کندھے پر جم گیا۔ یہ ریشم تھی۔ مالک مکان بنارس خان کی 25سالہ لمبی چوڑی طلاق یافتہ بہن۔ میری عمرتو تھی تو تیرہ برس لیکن صحت وہیں کھیلتے سات آٹھ سالہ بچوں جیسی تھی جن کو خواتین گھر پر نہیں چھوڑ سکتی تھیں اور وہ بے ضرر تسلیم کر لئے جاتے تھے۔

احساس جرم کی شرمندگی نے مجھے مزید کمزور کر دیا تھا۔ میں نے گھگیا کے کہا۔ ’’وہ جی، مجھے معلوم نہیں تھا، ’’اس نے ہنس کے دیگر خواتین سے کہا‘‘، نی کڑیو! بچہ ہے یہ تو‘‘۔ جو پہلے ہی میری موجودگی کو نظر انداز کر کے اپنے شغل میں مصروف ہو چکی تھیں۔

کروں تیرے ابے سے۔ ؟ ’’ریشم نے میرا کان پکڑ لیا، میری حالت غیر ہوگئی‘‘ وہ بہت ماریں گے مجھے معاف کر دیں مجھے اب جانے دیں۔ ’’اچھا نہیں بتائوں گی، لیکن تیری سزا یہ ہے کہ سوکھے کپڑے اتار کے تہہ کر‘‘ ریشم نے کہا، اور میں نے یہ کام پورا کیا۔ اس وقت کی سنسنی خیز منظر کشی میں جب تک چاہوں جاری رکھ سکتا ہوں لیکن میرے نزدیک یہ محض ایک حادثہ تھا جس کے سنسنی خیز مناظر کو پڑھنے والے اپنی، اپنی قوت متخیلہ سے جیسے چاہیں، دیکھ لیں۔ اور غسل کے سین میں اپنی من پسند ہیروئین کی جلوہ نمائی سے بھی محظوظ ہو لیں۔

1950 تک میں نے اسکول کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ سابق ہیڈ ماسٹر ابا نے مجھے ضروری اور غیر ضروری بہت کچھ پڑھادیا تھا۔ مجھے شکوہ جواب شکوہ اور مسدس حالی ازبر تھیں مگرمیں انگریزی، اردو، تاریخ، جغرافیہ بھی اپنی عمر کے طلبا سے زیادہ ہی جانتا تھا، البتہ حساب کا معاملہ اور رہا اس کا تو مت پوچھئے۔ ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔
شعروادب، فنون لطیفہ اور صحافت میں نام بنانے والوں نے اپنے والدین کو بہت مایوس کیا جو انکو ڈاکٹر انجنیئر دیکھنے کے آرزومند تھے۔ جب مجھے براہ راست نویں جماعت میں داخل کرانے کی کوشش کی گئی، تو کہا گیا کہ بچہ ابھی بہت چھوٹا ہے اس سے اگلے سال داخلہ مل گیا۔ یہ میرے گھر سے شارٹ کٹ کے ذریعے بھی 3 میل دور لال کڑتی میں تھا۔ گھر سے نکل کے میں کچا راستہ پکڑتا تھا۔ اسی’’کسی‘‘ یا قدرتی پانی کے دھارے سے گزرتا تھا جو برسات میں چھوٹی موٹی ندی بن جاتا تھا، میں جوتے اتار کے ہاتھ میں پکڑتا اور پائوں نیچے گھٹنوں تک چڑھا لیتا۔ اس کی تہہ میں گول چکنے پتھر تھے، جن پر سنبھل کے چلنا ضروری تھا۔ ندی کے بعد کھیتوں کا طویل سلسلہ شروع ہوتا تھا۔ منڈیروں اور درمیانی کچے راستوں پر میرا وجود کھڑی فصلوں میں گم ہوجاتا تھا۔ بارہا مجھے لومڑی اور گیدڑ نظر آئے اور ایک دو بار سانپ بھی سرسراتے ہوئے راستہ کاٹ گئے۔
یہ وہ جگہ تھی جو اب ہارلے اسٹریٹ کہلاتی ہے اور جہاں کروڑوں روپے مالیت کی کوٹھیاں اور ایلیٹ کلاس کے ٹاپ کلاس او لیول یا اے لیول کرانے والے اسکول ہیں اور زیادہ تر ٹریفک جام رہتا ہے۔ کھڑی فصلوں یا ہل چلے کھیتوں کے بعد ایک نالہ آتا تھا۔ اس کے کنارے پر چلتا میں اسکول کی عقبی دیوار تک پہنچتا تھا اور دیوار پھاند کے فٹ بال گرائونڈ عبور کرتا تھا۔

سی بی اسکول 1928 میں قائم ہوا تھا۔ 1950 میں یہ ہائی اسکول بنا۔ میں نے دو سال بعد میٹرک کیا، لیکن اس وقت تک یہاں بجلی نہ تھی۔ چند سال قبل اسکول کے ہیڈ ماسٹر مشہور شاعر منشی ترلوک چند محروم تھے۔ ان کی ادبی حیثیت کے بارے میں آپ وکی پیڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔ ان کی ایک نظم’’مزار نورجہاں‘‘ غالباً 1970 تک میٹرک کے اردو نصاب کا حصہ رہی۔ اس کا ایک شعر، دیکھئے کہ؛

دن میں بھی یہاں شب کی سیاہی کا سماں ہے
کہتے ہیں یہ آرام گہ نورجہاں ہے۔ !

1943 میں ان کو راولپنڈی کے تاریخی گارڈن کالج میں اردو فارسی کا لیکچرر مقرر کیا گیا فسادات میں وہ انڈیا چلے گئے لیکن 1953 میں گارڈن کالج کے 75 سال پورے ہوئے تو یادگار ’’ڈائمنڈ جوبلی‘‘ ہال کا افتتاح کرنے کے لئے ان کو مدعو کیا گی۔ وہ اپنے پرانے اسکول آئے تو میں نے ان کی ایک جھلک دیکھی۔ سفید دھوتی کرتا اور ٹوپی ان کا لباس تھا۔ اس وقت کے ہیڈ ماسٹر انصاری صاحب کے ساتھ بر آمدے میں چلتے ہوئے ان کو ایک سگریٹ کا ٹکڑا ملا۔ وہ اٹھا کر انہوں نے پوچھا کہ، ’’انصاری صاحب یہ کیا ہے؟‘‘ وہ کیا جواب دیتے۔ منشی صاحب نے افسوس سے سر ہلا کے کہا ’’اگر یہ کسی طالب علم کا ہے تو بہت افسوس کی بات ہے، لیکن کسی استاد کا ہے تو کہیں زیادہ افسوس کی بات ہے‘‘۔ ان کی رہائش گاہ دو کمروں کے چھوٹے سے گھر میں تھی جو اسکول کے قریب لال کڑتی میں آج بھی موجود ہے۔ میں اس گھر کو قومی یادگار تو خیر نہیں بنوا سکتا تھا لیکن اس پر ان کے نام کی تختی لگوانے میں بھی ناکام رہا۔ ایک وجہ تو وہی کہ ہم کسی دانشوری کے قائل نہیں۔ دوسری وجہ ان کا ہندو اور بھارتی ہونا رہی۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد تا حیات انجمن ترقی اردو ہند کے صدر رہے۔ باپ بیٹا دونوں نعت گو شاعر تھے، 1956 تک رائج، پاکستان کا قومی ترانہ سب سے پہلے انہوں نے قائد اعظم کے کہنے پر لکھا تھا۔ یہ بات بہت مقبول عام ہے۔

1953 تک اسکول میں بجلی نہیں تھی تو پنکھے کہاں سے آتے، فیس 3 روپے ماہانہ تھی۔ میٹرک کے سالانہ امتحانات میں انگریزی کے فرشتہ صفت استاد صدیقی صاحب رات کو ایکسٹرا کلاس لیتے تھے تو گیس والا ہنڈا منگواتے تھے اور کرایہ اپنی جیب سے دیتے تھے۔ وہ خود بھی 10 کلومیٹر دور سے سائیکل پر آتے تھے لیکن ٹیوشن فیس کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔

1962 میں اسکول کا نام ’’سی بی ٹیکنیکل اسکول قرار دیا اور 2015 میں ’’ایف جی پبلک اسکول نمبر 2۔ میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ اس 90 سال پرانی تاریخی درسگاہ کو چھوڑنے کے 64 سال بعد مجھے ’’اولڈ بوائز ایسو سی ایشن‘‘ کا تا حیات صدر نامزد کیا گیا۔ اس تقریب میں جہاں سابق طالب علموں میں عدالت عالیہ کے جج، پروفیسر اورجنرل بھی تھے اگر میں نے کہا کہ میرے لئے یہ اعزاز نوبل پرائز سے بھی بڑا ہے۔۔۔۔ تو کیا میں نے کچھ غلط کہا؟

مضمون کا پچھلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: