نیوڈائیمییم عہد اور اربوں ڈالرز کی چوری: ابنِ فاضل

0
  • 101
    Shares

انسانی تمدن کے ارتقاءکے اولین دور کو سٹون ایج یا (stone age) عہدِ سنگ کہتے ہیں۔ گذرتے وقت کے ساتھ علم و آگہی میں اضافہ ہوتا گیا اور انسان برونز ایج (bronze age) عہدِ کانسی اور پھر آئرن ایج (Iron age) دورِفولاد سے ہوتے ہوئے آجکل (information technology-age) میں جی رہا ہے۔ لیکن میرے خیال میں اس وقت ہم ایک نئے عہد کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں اور وہ ہے نیوڈائیمییم ایج (Neodymium age)۔ نیوڈائیمییم بنیادی طور پر ایک دھات ہے جو کمیاب دھاتوں (Rare earth metals) کے گروپ سے ہے۔ اس کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ یہ لوہے اور کچھ دیگر عناصر کے ساتھ مل کر انتہائی طاقتور مقناطیس بناتی ہے۔ دراصل ایک انتہائی طاقتور مقناطیس کی ضرورت دہائیوں سے محسوس کی جارہی تھی۔

نیوڈائیمییم کی اس دریافت کے ساتھ بہت سے میدانوں میں جیسے انقلاب آگیا۔ بہت زیادہ یاداشت والی کمپیوٹر ہارڈ ڈرائیو سے کواڈ کاپٹر (عرف عام میں جسے ڈرون کہتے ہیں) ایمبولنس تک اور ہائیبرڈ کاروں سے لیکر مکمل بجلی سے چلنے والی کاروں تک سب اسی کی بدولت ممکن ہوا۔ یہ جو ہم سن رہے ہیں کہ اگلے دس سال تک ڈیزل اور بیس سال تک پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی جگہ بجلی سے چلنے والے گاڑیاں لے لیں گی. یہ بالکل قرین حقیقت ہے اور اس کی بنیادی وجہ نیوڈائیمییم ہی ہے۔ یاد رہے کہ پچھلےسال ٹیسلا موٹر کمپنی بجلی سے چلنے والے کار متعارف کروا چکی ہے۔ جو ایک بار بیٹری چارج کرنے پر پانچ سو کلومیٹر سے زیادہ چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد گاڑیاں بک چکی ہیں۔ اور مزید کئی کمپنیاں ایسی گاڑیوں پر تیزی سے کام کررہی ہیں۔ اسی طرح ہوائی سفر میں بھی ایک انقلاب متوقع ہے۔ اس سے پہلے عام مقناطیس جو لوہے، نکل کوبالٹ اور گندھک وغیرہ سے بنائے جاتے تھے ان سے بنی موٹروں کی طاقت (thrust to weight ratio) اتنی نہیں تھی کہ محض خود کو ہی ہوا میں اڑا سکیں۔ چہ جائیکہ وہ اپنے ساتھ دوسرا سامان لیجا سکیں۔ لیکن نیوڈائیمییم سے بنے مقناطیس کی موٹر کی طاقت (thrust to weight ratio) اتنی ہے کہ نہ صرف خود کو اڑا سکتی ہے بلکہ اپنے وزن کے برابر کوئی دوسری شے بھی ساتھ لیجا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب آپ دیکھتے ہیں ہر طرف کھلونا ڈرونز کی بھرمار ہے اور ٹی وی کیمروں سے لیکر پیزا ڈیلیوری تک ان کے ذریعہ سے ہو رہی ہے۔

کسی دن آپ دیکھیں گے کہ اس سے انسانی نقل و حمل کا کام بھی لیا جانے لگا ہے۔ یہاں ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہے موٹر کی طاقت کے ساتھ بیٹری کی طاقت بھی بہت اہم ہے اگر بیٹری کم وزن میں زیادہ توانائی مہیا نہ کرپائے تو ہوا میں اڑنا ناممکن ہے۔ اس سلسلہ میں لیتھیم آئن پولیمر LiPo بیٹریوں کی ایجاد نے مدد کی۔ جو کہ کم وزن میں زیادہ توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اور ان زیادہ توانائی والی لیپو بیٹریوں اورطاقتور نیوڈائیمییم مقناطیس والی موٹروں کے مجموعہ سے یہ سب ممکن ہوا۔ اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر اگلی کچھ دہائیوں میں پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں معدوم ہو جائیں گی تو پھر پٹرولیم مصنوعات کی وہ قدر اور کشش بھی ختم ہو جائیگی کہ جس کی خاطر اب تک کئی جنگیں ہو چکی ہیں اور کئی ملکوں کے نقشے تبدیل ہوچکے ہیں۔ تو اس کا جواب ہے جی ہاں۔ اور اس کا ثبوت پچھلے کئی سال سے عالمی منڈی میں چل رہی پیٹرولیم مصنوعات کی کم قیمتیں ہیں۔

گوکہ اس کم قیمت کی ایک وجہ شیل آئل کی دریافت اور ہائیڈروکریکنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ لیکن یہ تو طے ہے کہ اب مستقبل کا گوہر مقصود تیل نہیں بلکہ لیتھیم اور نیوڈائیمییم ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ ان دونوں دھاتوں کے اب تک سب سے بڑے ذخائر افغانستان میں دریافت ہو چکے ہیں۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر ہے۔ جبکہ حقیقت میں یہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ ہیں۔ اورافغانستان کو اس بناء پر لیتھیم کا سعودی عرب کہا جانے لگا ہے۔ لیکن خطرے کی بات یہ ہے کہ اس بیش قیمت خزانے کی اطلاع کئی سال پیشتر پینٹاگان کے جیالوجسٹوں نے دی ہے۔ عالمی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ امریکہ کا افغانستان پر حملہ اور اس کا وہاں پر قیام فی الحقیقت ان قیمتی ذخائر پر قبضہ کرنے کی غرض سے ہے۔ بلکہ کچھ لوگوں کا تو یہاں تک قیاس ہے کہ امریکہ بہادربہت بڑی مقدار میں یہ قیمتی اجناس یہاں سے اپنے ملک منتقل بھی کرچکا ہے۔ گو کہ اس بات کے واضح ثبوت دستیاب نہیں تاہم امریکہ کے ماضی اور پچھلے سالوں میں پاکستان میں دس ہزار کنٹینروں کے غائب ہونے والے سکینڈل کو ملا کر دیکھا جائے تو بات کچھ کچھ سمجھ میں آتی ہے۔


ابنِ فاضل سوشل میڈیا کا انتہائی معتبر نام ہیں تدریسی اعتبار سے انجینئر اور پیشہ ورانہ طور پر ایک صنعتکار ہیں۔ قوانینِ فطرت اور انسانی روّیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں جس نے انکی شخصیت کو حِسّاسیت اور وقار بخشا ہے۔ اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے عملی طور پر کوشاں رہتے ہیں اور اپنی عوام کو اقوام عالم میں برتر حیثیت میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: