عورت کو عزت، مرد کے ساتھ زیادتی: زینی سحر

1
  • 80
    Shares

نانی اماں بتاتی تھیں کسی گاؤں میں دو عورتیں رہتی تھیں جن کے درمیان بہت دوستی تھی۔ ان میں سے ایک عورت ہندو تھی تو ایک مسلمان۔۔ ایک دن دونوں میں لڑائی ہو گئ۔۔۔ جیسے کہ عام گاؤں دیہاتوں میں خواتین کی لڑائی ہوتی ہے ویسی ہی۔۔۔ جیسے جیسے لڑائی بڑھتی گئی گاؤں والوں کا مجمع تماشہ دیکھنے جمح ہوتا گیا۔۔۔ اس امید کے ساتھ کہ دونوں ایک دوسرے کے خوب راز کھولیں گئیں۔۔ جب لڑائی بہت زیادہ بڑھ گئ تو مسلمان عورت ڈر کے مارے گھر کے اندر آ گئی کہ اب یہ سب کے سامنے میرے راز نہ کھول دے۔۔ یہ دیکھ کر ہندو عورت نے مسلمان عورت کو آواز دی اور کہا کہ باہر نکل ہم (پیڑ) لڑائی لڑائيں گے (کپیڑ) گالی گلوچ ایک دوسرے کے راز نہیں کھولیں گۓ۔۔

سوشل میڈیا ہو یا پرسنل لائف ۔۔۔۔ جب بھی دو لوگوں کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ ہم اپنا ظرف کھو دیتے ہیں۔۔۔ آیے سے باہر ہو جاتے ہیں کل تک جو شخص ہمیں بہت محبوب ہوتا ہے ۔۔۔ اسے ہم دنیا کا سب سے کرپٹ ادمی ثابت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔

اج کل میڈیا پر ایک ایشو بہت زور و شور سے ہٹ ہے۔۔۔ اور وہ ہے کسی خاتون کی جانب سے عمران خان پر یہ الزام لگایا جانا کہ وہ انہیں نازیبہ میسیجز بھیجتے رہے ہیں۔۔میرا سیاست سے دور دور تک تعلق نہیں۔۔۔ان دنوں تو اتنا بھی نہیں کہ نیوز ہی دیکھ لوں۔۔۔جو بھی خبر ملتی ہے۔۔۔ وہ سوشل میڈیا کی طرف سے ہی ملتی ہے۔۔۔ یہ جو واقعہ ہے یا اس جیسے کسی بھی واقعے کو دو تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔۔۔

پہلا تو یہ کہ ہمارے یہاں خواتین کے ساتھ عمومی رویہ کیسا ہے۔۔۔ اور مردوں کے ساتھ کیسا۔۔۔


ہمارے معاشرے کا یہ پلس پوائنٹ ہے کہ یہاں خواتین کو عزت دی جاتی ہے۔۔۔ لیکن یہ پلس پوائنٹ وہاں مائینس بن جاتا ہے جب ہم ایک عورت کو عزت دینے کے چکر میں کسی مرد کے ساتھ زیادتی کر جاتے ہیں۔


پچھلے دنوں ایک لمبے سفر کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔۔۔گاڑی میں مرد و خواتین دونوں بیٹھے تھے۔۔ گرمی بہت شدید تھی۔۔۔ جوں جوں گاڑی میں خواتین کی تعداد بڑھتی گئ۔۔ ڈرائیور مرد حضرات کو گاڑی کی پچھلی سیٹس کی طرف دھکیلتا گیا۔۔۔ میرے ساتھ بھائی تھے۔۔۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ میں اگۓ بیٹھی تھی اور بھائی پیچھے۔۔۔ اصول تو یہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ بعد میں ائیں انہیں بعد کی سیٹیں دی جائیں۔۔۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔۔ جب میں نے ڈرائیور سے اس بابت بات کرنا چاہی تو اس نے یہ جواب دیا کہ خواتین ہیں اس لیے وہ ایسا کر رہا ہے۔۔۔ گویا مرد انسان نہیں ہوتے اور انہیں گرمی نہیں لگتی۔۔۔

ہمارے یہاں خواتین کو ہمیشہ سے زیادہ سپورٹ ملتی ہے۔۔۔ ہم انہیں جائیداد میں حصہ تو نہیں دیتے۔۔۔ لیکن عزت ضرور دیتے ہیں۔۔۔ ہمارے معاشرے کا یہ پلس پوائنٹ ہے کہ یہاں خواتین کو عزت دی جاتی ہے۔۔۔ لیکن یہ پلس پوائنٹ وہاں مائینس ہو جاتا ہے جب ہم ایک عورت کو عزت دینے کے چکر میں کسی مرد کے ساتھ زیادتی کر جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ضروری نہیں عورت ہر بار سچی ہو۔۔۔جیسے کوئی مرد جھوٹا ہو سکتا ہے۔۔۔ ویسے ہی عورت بھی۔۔۔ ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔ ہم عورت کو عِزت تو دیتے ہیں لیکن انصاف نہیں۔۔۔ جب انصاف کیا جاتا ہے تو دونوں فریق برابر ہوتے ہیں ۔۔۔کسی کو یہ استثناء حاصل نہیں ہوتا کہ وہ مرد ہے یا عورت۔۔۔ پھر جب ہم مرد اور عورت کی برابری کی بات کرتے ہیں دوستی کی بات کرتے ہیں تو یہ بات کیوں نہیں مانتے کہ دوستوں کے درمیان تو بہت ساری باتیں ہوتی ہیں۔۔ِ۔۔۔ مرد کو اسکی لمٹ میں رکھنے کی زمہ داریعورت کی ہوتی ہے۔۔۔جب کوئی مرد کوئی نازیبہ بات کرے تو عورت کو چاہیے کے فورا اسکی لمٹ یاد کرواۓ۔۔۔اسے باور کرواۓ کہ بس یہاں تک ہی رہے۔۔۔اس سے اگے نہ جاۓ۔۔لیکن جب ہم دوستی دوستی میں ہر طرح کی بات کر لیں۔۔۔اور پھر ہمارے درمیان کسی وجہ سے اختلافات ہو جائیں تو پھر ہم ان باتوں کا ڈھنڈورا پیٹیں۔۔۔مرد ہو چاہیے عورت اختلافات کی صورت جو بھی درمیان کی باتیں پبلک کرتا ہے۔۔۔ وہ اپنی پارسائی نہیں ثابت کرتا بلکہ سیدھا سیدھا بیلک میل کرتا ہے۔۔

سڑک پہ چلتے ہوۓ اجنبی ادمی میں اور اپ کے جاننے والے ادمی میں فرق ہوتا ہے۔۔۔ میں یہ نہیں کہتی کہ جاننے والے شخص کو یہ حق ہوتا ہے کہ اپ سے کسی بھی طرح کی بات کر سکتا ہے۔۔۔ نہیں بلکہ یہ کہہ رہی ہوں اپکو اسے فورا وان کرنا چاہئے۔۔۔اگر وہ پھر بھی اپنی بات سے باز نہ آۓ تو فورا قطعی تعلق کرکے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے۔۔ نہ کہ پبلک کے سامنے یہ باتیں کر کے اگلے بندے کو بیلک میل کیا جاۓ۔۔ایسی صورت میں اپ اپنے اپکو بلیک میلر ہی ثابت کرتے ہو۔۔۔۔۔ اور دوسری طرف معاشرے میں انتشار ہی پھیلتا ہے۔۔لوگ ایک دوسرے پر اعتبار کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔۔ ہمیں سوچنا ہو گا ہم کیا چاہتے ہیں انصاف یا انتشار۔۔انصاف عدالتوں میں ملتا پبلک میں نہیں پبلک میں صرف انتشار بڑھتا ہے۔۔۔ مٹی میں جتنا پانی ڈالو گۓ اتنا ہی کیچڑ بنے گا کیچڑ سے صرف لباس خراب ہوتا ہے برتن نہیں بنتے برتن صرف کمہار بناتا ہے۔۔۔ اور وہی جانتا ہے مٹی میں کتنا پانی ڈالنا ہے۔۔۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اظہار احمد باچہ on

    بیشک کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ لیکن عورت اپنا مقام خود متعین کرتی ہے۔ عورت اگر پاک دامن ہو اور مظلوم ہو تو مرد کبھی بھی اسکی عزت نہیں خراب کر سکتا۔ عین کہ اگر پوری دنیا بھی اسکے خلاف ہو جائے تو اللہ تعالیٰ راستہ نکالتا ہے اور حتی کہ خود گواہ بنتا ہے جیسا کہ سورہ نور کی چودہ آیتوں میں اماں عائشہ کی پاکدامنی کی گواہی اللہ تعالیٰ نے دی یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی پیدائش کے فوراً بعد بنی اسرائیل سے بول اٹھنا اور اپنی ماں کی پاکدامنی بیان کرنا۔ تو اللہ تعالیٰ نے عورت کو عزت کے اعتبار سے مرد سے اونچا درجہ دیا ہے لیکن اب یہ عورت پر منحصر ہے۔
    معاشرتی رویوں اور جو کچھ پچھلے دنوں سے ہوتا آرہا ہے جب ایک عورت خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے اور شاید کچھ حقیر دنیاوی فائدے کی خاطر سر بازار اپنی عزت کی نیلامی کا ڈھنڈھورا پیٹ رہی ہے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپکا بیان کردہ معاشرے میں عورت کو اضافی عزت بہت جلد دم توڑ دے گی جسطرح مغربی معاشروں میں ہورہا ہے۔ ایسی برابری کا بھی کیا کرنا جو نہ دین میں ہو نہ ایک اعتدال پسند معاشرے میں۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: