پٹھان ہی کیوں؟ معلمہ ریاضی

0
  • 139
    Shares

ایک پختون صاحب نے سوال اٹھایا ہے کہ ’آخر پختون خواتین ہی آسان ہدف کیوں ہیں‘ محترم کے الفاظ یہ ہیں:
’مجھے تکلیف یہ نہیں کہ کس پارٹی کی ہے، تکلیف اس بات کی ہے کہ پختون ہی آسان ہدف کیوں ہے۔۔۔؟؟ ملالہ یوسفزئی کیوں۔۔؟ کوڑوں کی جعلی ویڈیو میں سوات کی پختون لڑکی کیوں۔۔۔۔؟ آج پھر فاٹا کی پختون عائشہ گلالئی کیوں۔۔۔؟؟ پختونولی ہی کیوں بیچی جارہی ہے۔۔۔۔؟‘
ــــــــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔
اس معصومانہ سوال پہ قربان جانے کو دل چاہ رہا ہے۔ جناب ذرا اپنے گھر میں جھانکیں ایک ’غیرت مند‘ نے فتویٰ جاری کیا کہ ’پٹھان بے غیرت نہیں ہوتا جو بے غیرت بن جائے وہ پٹھان نہیں رہتا‘
معلمہ کو زرا اس ’پٹھانی غیرت‘ کی تعریف درکار ہے۔ فیس بک پہ اس غیرت کے وہ وہ تماشے دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ الاماں!
ــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑ دیجئے سیاست اور سیاستدانوں کی باتیں۔ یہ جو جلسوں کی تصاویر ’توبہ استغفار‘ کی سرخی کے ساتھ سوشل میڈیا پہ پھیلانے والے ہیں، جو خواتین کے لئے ’فحش الفاظ‘ استعمال کرنے والے ہیں۔ اکثریت پختون ہیں۔ اور حدف پہ انکی ہم قوم بہن بیٹیاں ہی ہیں
عائشہ کی ہمشیرہ کی ’مخصوص ذاویہ ‘ سے لی گئی تصاویر کو اپنے پروفائل پہ ’عمران کی بے گناہی ‘ کے لئے استعمال کرنے والے بھی پختون ہیں۔
ــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔
ایک پختون صاحب کو کسی ’ہم قوم‘ خاتون کے بیانیے سے اختلاف ہوا تو گالیوں، طعنوں تشنوں سے مزین بیانیہ کمال بے شرمی سے اپنی ’دیوارِ رخِ کتاب‘ کی زینت بنا دیا۔ اس بیانیے کو پڑھ کر لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ کسی ’مرد‘ اور وہ بھی لکھاری کا قلم کا نتیجہ ہے۔ ایسا ’سینہ کوبی کرتے کوسنے‘ تو ان پڑھ خواتین بھی نہیں دیتیں۔
اور اس پہ پسندیدگی اور واہ واہ کے تبصروں کی بوچھار کرنے والے بھی پختون تھے۔
ـــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔
ہمشیرہ عائشہ گلالئی کی معیوب تصویر پہ جب بغرضِ اعتراض ہم نے سوال کیا کہ ’کیا آپ بیٹی کے والد ہیں؟‘
سینہ ٹھوک کر پُر غرور جواب ملا، ’جی مگر ایسا بیغیرت باپ ہر گز نہیں ہوں۔ معلمہ صاحبہ‘
ہم نے سلسلہء اعتراض جاری رکھا، ’شوبز، کھیل اور مختلف ملٹی نیشنل کمپنیز میں آپ کے نقطہء نظر کے حساب سے قابلِ اعتراض لباس میں بے شمارپختون خواتین سرگرم ہیں، آپ سب کی تصاویر لگائیں گے؟‘
تصویر نمائی کرنے والے ’غیرتمند پٹھان‘ نے کمال بے اعتناعی سے فرمایا، ’بالکل کیونکہ وہ پشتون ولی کا کارڈ نہیں کھیلتی۔ جس دن کھیلنا شروع کیا اس دن تصویر تو کیا گھر تک چھوڑ آؤنگا‘
ساتھ ہی ہمیں تنبیہ بھی کر دی کہ،’اپ کو معلوم نہیں ہو شاید مجھے ناصح زہر لگتے ہیں‘ مگر یہ نہیں بتایا کہ اب تک وہ کتنی پختون کارڈ کھیلنے والی خواتین کو گھر تک پہنچا چکے ہیں
ـــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔
جناب! آپ لوگوں نے اپنی روایات کے نام پہ اپنی خواتین کو اسلام کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ فخر سے کہا جاتا ہے کہ ہم اپنی خواتین کو ووٹ ڈالنے بھی نہیں دیتے۔ ایسے معاشرے میں اگر کوئی خاتون اپنی کسی علمی، ادبی یا فنی صلاحیت کا ’شرعی حدود‘ میں رہ کر بھی اظہار کرے تو آپ کی غیرت کو مرچیں لگ جاتی ہیں اور آپ لوگ انکو حلقہء پختونیت سے نکال دیتے ہیں۔ باقی سیاست و کھیل کی تو بات ہی رہنے دیں۔
ــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم سے ایسے معصومانہ سوالات کرنے کے بجائے بہتر ہوگا اپنے اندر کے ’نام نہاد غیرت کے جراثیم‘ کا علاج فرمائیں۔ آپ غیرت مند بعد میں بنیے گا پہلے ’مرد‘ تو بنیں۔
عائشہ کے بیان پہ اسکی ہمشیرہ کو گھسیٹنے والے اس گھٹیا پنچایت کے اراکین سے کم نہیں جنہوں نے بدکاری کرنے والے کی سزا اسکی معصوم بہن کو دیکر اپنی جاہلانہ دانست میں ’انصاف‘ کیا تھا
خواتین کیا مرد بھی خواہ کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں انکی عزت، آبرو، جان و مال دوسرے مسلمان پہ حرام ہے۔ کسی حافظ۔، مفتی، مولانا، یوسف زئی، اورکزئی، خٹک یا گلالئی کو اپنے لقب و ذات کے زعم میں یا نسوانیت کی بیچارگی کی آڑ میں کسی مخالف پہ کیچڑ اچھالنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
ہم مانتے ہیں کہ فیس بک پہ کیا جانے والا کسی کا کوئی غلط عمل اسکی پوری قوم پہ لاگو نہیں کیا جاسکتا مگر اس عمل کو روکنا بھی اسی برادری کا کام ہے جن میں سے یہ ناسور نکل رہا ہے۔
ہمارے لئے تو ہمارے ملک میں بسنے والی ہر ایک قوم کے سب مرد و زن یکساں قابلِ احترام ہیں۔ کسی کو کسی سے تکلیف پہنچتی ہے تو متعلقہ ادارے سے رابطہ کرے نا کہ ٹی وی چینل پہ بیٹھ کر ’ٹوٹی ہوئی خبر‘ بنائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: