عمران کو نااہل کرانے کے قانونی و سیاسی ہتھکنڈے: مظہر چودھری

0

غیر ملکی فنڈنگ کیس میں عمران خان کو نااہل کرانے میں ممکنہ ناکامی کے بعد حکمران جماعت نے عائشہ گلالئ جیسا سیاسی ہتھکنڈا استعمال کرنے کی پوری کوشش کی ہے لیکن یہاں بھی ثبوتوں کی بجائے صرف اور صرف الزامات کا سہارا لیا گیا ہے۔

عائشہ گلالئ کے الزامات پر بات کرنے سے پہلے سپریم کورٹ میں غیر ملکی فنڈنگ کیس میں ہونے والی سماعت کے دوران ججز کے ریمارکس کا جائزہ لیتے ہیں۔دو دن پہلے جسٹس فیصل عرب نے اکرم شیخ سے سوال کیا کہ وہ ممنوعہ فنڈنگ کو جواز بناتے ہوئے عدالت سے نہ جماعت پر پابندی مانگ رہے ہیں اور نہ ہی فنڈز کی ضابطگی؟ جس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ وہ عدالت کے سامنے مختصر کیس لائے ہیں اور صرف عمران خان کی نااہلی چاہتے ہیں۔چیف جسٹس بار بار کہہ رہے ہیں کہ پولیٹیکل پارٹیز اور عوامی نمائندگی ایکٹ میں غلط سرٹیفکیٹ پر نااہلی کی سزا کا ذکر نہیں لیکن اکرم شیخ گھما پھرا کے پھر نااہل کرنے کی اپیل کرنے لگتے ہیں۔
بچپن میں ملکہ کی کہانی سنتے تھے جو بادشاہ سے سول پیٹ مروں، سول پیٹ مروں کا شکوہ کرتی رہتی تھی۔بادشاہ پوچھتا ہے، تیرا سول پیٹ کیسے جائے، ملکہ کہتی ہے کہ آپ کے بچے میرے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں، میرا سول پیٹ (شدید پیٹ درد) اسی صورت ختم ہو سکتا ہے کہ آپ انہیں دیس نکالا (ملک بدر) دے دیں۔نواز شریف کی نااہلی کے بعد یہی حال ن لیگیوں کا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر عمران خان کو نااہل قرار دلوانے کے لیے سول پیٹ میں مبتلا ہیں۔

جہاں تک عائشہ گلالئ کے عمران خان پر الزامات کا تعلق ہے تو میرے خیال میں اس کے پیچھے ن لیگ کا فرسٹریشن کا شکار وہ ٹولہ ہے جن سے وزیر اعظم کی نااہلی کا غم برداشت نہیں ہو رہا۔عجیب بات ہے کہ محترمہ غیر اخلاقی پیغامات کے الزامات لگا رہی ہیں اور خود کوئی ثبوت دینے کی بجائے عمران کے بلیک بیری کی چیکنگ کا کہہ رہی ہیں۔کوئی ان سے پوچھنے والا ہو کہ اگر آپ ایک عرصے سے عمران کے غیر اخلاقی میسجز وصول کر رہی تھیں تو آپکو تو بطور خاص انہیں سنبھال کر رکھنا چاہیے تھا اور اگر یہ آپ کے موبائل میں محفوظ ہیں تو آپ دکھاتی کیوں نہیں۔سیاست کے کارزار میں قدم رکھنے کے بعد عورت کو اپنی مظلومیت کا رونا نہیں رونا چاہیے لیکن ہمارے ہاں ایسے مواقع پر عورت صنفی بنیادوں پر ہمدردی سمیٹنے اور مظلوم بننے کی کوشش کرتی ہیں۔جے آئی ٹی میں مریم نواز کی پیشی کے موقع پر ایسا ہی رونا رویا گیا اور اب ثبوت دکھانے کے سوال پر عائشہ کی مظلومیت کا رونا رویا جا رہا ہے کہ وہ عورت ہوتے ہوئے اس سے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے سے پہلے میں نے ایک تجزیے میں کہا تھا کہ نواز شریف کی نااہلی کی صورت میں ن لیگ عمران خان کو نااہل کرانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے اور عائشہ گلالئ کے الزامات کے بعد ن لیگ کی جانب سے عمران کو سپریم کورٹ سے اخلاقی بنیادوں پر نااہل کرانے کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔جمائما سے علیحدگی کے بعد عمران کی زندگی سب کے سامنے ہے۔ریحام خان سے اس کا افئیر چلا لیکن وہ بہت جلد شادی پر منتج ہوگیا۔خواتین کے ساتھ عمران کے ادب و احترام کے رویے کی تصدیق پی ٹی آئی چھوڑنے والی ناز بلوچ بھی کر چکی ہے اور بقول عائشہ گلالئ وہ خود بھی عمران سے کبھی تنہا نہیں ملیں، پھر آخر ایسی کیا بات رہ جاتی ہے جس پر عمران کی عزت اچھالی گئی۔عائشہ گلالئ کے الزامات کا ایک مقصد عمران خان کے جلسوں میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ شکنی بھی ہے۔ن لیگ کو پی ٹی آئی کے جلسوں میں جوک در جوک آنے والی خواتین ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔کچھ عرصہ پہلے وزیر اعظم نے بھی پی ٹی آئی کے جلسوں میں خواتین کے جوش و خروش بارے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔ انہیں غم اس بات کا ہے کہ عمران نوجوانوں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد کو سیاسی عمل کا حصہ بنا رہا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو انکی خاندانی بادشاہت کے زوال کو کوئی نہیں روک سکے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: