کیا نواز شریف لبرل اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں؟

0
  • 34
    Shares

سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاناما پیپرز کیس میں پانچ ججز کے متفقہ فیصلہ آجانے سے پہلے اور آنے کے بعد پاکستان میں ایسے سیاسی تجزیہ کاروں، سیاسی مدبروں اور سول سوسائٹی کے دانشور ایکٹوسٹ نیز بائیں بازو کے بعض معروف ناموں کی جانب سے بار بار یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم کے خلاف جوڈیشل ایکٹیوازم سویلین بالادستی کے خلاف ہے اور سپریم کورٹ میں اس کیس کو بدنیتی کی بنیاد پہ چلایا جارہا ہے۔

اس قسم کی رائے حکمران جماعت کی جانب سے ایک باقاعدہ منظم اور بہت زیادہ پیسہ خرچ کرکے بنائی جانے والی مہم کا نتیجہ لگتی رہی ہے۔ جیسے پاکستان کا ایک معروف میڈیا گروپ اور اس کے کئی نامور رپورٹر، تجزیہ کار، اینکرز اس مہم میں پیش پیش رہے اس سے یہ تاثر اور مضبوط ہوگیا کہ یہ حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کی ایک سوچی سمجھی مہم تھی جسے زور و شور سے چلایا گیا۔

پاکستان کی سول سوسائٹی کے کئی ایک معروف لبرل ایکٹوسٹ جن میں سرفہرست نام عاصمہ جہانگیر کا لیا جاسکتا ہے، بہت ہی سرگرمی اور باقاعدہ مشنری جذبے کے ساتھ ’نواز شریف خاندان‘ کے خلاف بدعنوانی، ناجائز اثاثے، منی ٹریل، انتخابی گوشواروں میں حقائق چھپانے اور دیگر الزامات کے تحت چلنے والے کیس کو سویلین بالاستی کی جانب سفر کے لئے دھچکا قرار دیتے رہے اور اب تک وہ یہی کہنے میں مصروف ہیں۔

ان لبرل ایکٹوسٹوں کے ساتھ پاکستان کے بلکہ خاص طور پہ لاہور بیسڈ بائیں بازو کے چند ایک معروف رہنما بھی عاصمہ جہانگیر، نجم سیٹھی، سیرل المیڈا اور ان کے مریدوں کی لائن کے پیچھے چلتے دکھائی دیے۔پاکستان کا یہ نیو لبرل اور پوسٹ ماڈرنسٹ انٹلیکچوئل طبقہ اور ان کے ساتھ اپنے ’لیفٹ‘ ہونے پہ اصرار کرنے والا ایک حلقہ نواز شریف کی پشت پہ کھڑا ہونے کے لیے ایک مقدمہ گھڑ بیٹھا اور مقدمہ ہے نواز شریف کا ’لبرل اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘ ہونا۔وہ نواز شریف کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چلنے والی ’جمہوریت بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ‘ جدوجہد میں امید کی ایک علامت قرار دیتے ہیں۔ پاکستان میں یہ پوسٹ ماڈرنسٹ انٹلیکچوئل جو اپنے آپ پہ یا تو ’لبرل‘ کا لیبل چپکاتے ہیں یا پھر ’لیفٹسٹ‘ کا فیتہ لگا کر بیٹھے ہیں، نواز شریف کی امیج بلڈنگ خیالی باتوں سے کرتے رہے ہیں۔

ان کے سامنے نواز شریف کا پوسٹ مشرف سیاسی دور بھی ہے جب مرکز میں نواز شریف اپوزیشن میں تھے۔ ان کی سیاست پوری طرح سے کم و بیش ویسی ہی تھی جیسی آج کل پاکستان تحریک انصاف کررہی ہے۔نواز شریف نے نے ’افتخار چوہدری‘ کے جوڈیشل ایکٹوازم، پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پیپلز پارٹی کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کے خلاف سازشوں اور پی پی پی کی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا ریکارڈ قائم کیا اور ایک لانگ مارچ کیا۔نواز شریف کے ساتھ آج جو معروف میڈیا گروپ کھڑا ہے اس نے بھی منتخب حکومت کا میڈیا ٹرائل کرنے اور منتخب وزیراعظم کو عدالتی طور پہ نااہل قرار دلوانے کی عوام میں فضا ’سازگار‘ بنا نے میں پورا پورا کردار ادا کیا۔ نواز شریف کا اکتوبر99ء سے پہلے جو کردار تھا وہ بھی سب کے سامنے تھا اور انھوں نے 99ء سے 2008ء تک وقفوں وقفوں سے بہت سی وعدہ خلافیاں کیں۔ اے آرڈی کو توڑنے اور اسے بے اثر بنانے میں ان کا کردار کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ نواز شریف سویلین ڈیموکریسی کی سپریمیسی (بالادستی) میں کس حد تک سنجیدہ تھے اس کا اندازہ 2012ء کے بعد ان کی حکومت کی تشکیل اور چار سال دو ماہ میں ان کی ورکنگ سے بخوبی ہوگیا۔ نواز شریف نے ان چار سال اور دو ماہ میں قانون سازی کے میدان میں کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا جسے دیکھ کر یہ کہا جاسکے کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کی بالادستی کے کام میں سنجیدہ تھے۔پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرح انھوں نے بھی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پہ فوجی عدالتوں کے قیام، سندھ میں رینجرز کی تعنیاتی کے دوران رینجرز کے سیاسی ایڈوینچرز، بلوچستان کو مسلسل فوجی کنٹرول میں دیے جانے، ایجنسیوں، سویلین و ملٹری و پیرا ملٹری فورسز کی شہری علاقوں میں زیادہ سے زیادہ مداخلت کو قانونی بنانے اور شہری آزادیوں کو سلب کرنے والے قوانین کی منظوری اور آڑدیننس جاری کرنے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی۔ پاکستان پروٹیکشن ایکٹ، اینٹی سائبرکرائمز بل، ضابطہ فوجداری میں ترمیم اور اس جیسے کئی اور قوانین سامنے لائے گئے۔ان کی حکومت نے فیس بک سے ان سوشل میڈیا ایکٹوازم کرنے والوں کے کھاتوں تک کی رسائی مانگی جو پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی کی شکایات کر رہے تھے۔حکومت کی جانب سے شہریوں، صحافیوں، ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کو ڈرائے دھمکائے جانے کا مسلسل سلسلہ جاری رہا۔جبری گمشدگیاں ہوں یا فاٹا، بلوچستان میں جاری آپریشن، رینجرز، سی ٹی ڈی کے مبینہ پولیس ان کاونٹرز ہوں یا اقلیتوں کے خلاف سوشل میڈیا ، مخصوص مقدمات کا اندراج، یا پھر بلاگرز کو غائب کرنے کا معاملہ ہو اور حکومت کے متعلقہ اداروں کی مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، ان سب پہ نواز حکومت کا کوئی ایسا سٹینڈ نظر نہیں آیا جسے بنیاد بناکر ہم یہ کہہ سکتے کہ نواز حکومت اس ملک میں سکیورٹی اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مقابلے میں شہریوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتی ہے۔اس حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیموں اور جہادی اور فرقہ پرست تنظیموں کو ’ سپیس‘ فراہم کرنے، کالعدم رہنماوں سے بڑے اور اہم حکومتی زعما کی ملاقاتوں اور ان کی سرپرستی کی روش میں کوئی بدلاو دیکھنے کو نہیں ملا۔مذہبی انتہا پسندی کو روکے جانے کی نیم کوششیں سب کے سامنے ہیں۔بلکہ نواز شریف نے اپنے سیاسی اتحادی کے طور پہ ایسی جماعتوں کو چنا جو یا تو دہشت گردی پہ گول مول موقف کی حامل تھیں یا پھر وہ جنونی دہشت گردوں کی نظریہ ساز تھیں۔آج بھی نواز شریف کا ایک اہم ترین اتحادی وہ ہے جو افغان طالبان، تحریک طالبان پاکستان اور کشمیری جہادی تنظیموں کا محافظ اور مخصوص کمیونٹیوں کے خلاف دہشت گردی و نفرت پھیلانے والوں کا ساتھی خیال کیا جاتا ہے۔نواز شریف نے برسراقتدار آتے ہی سعودی عرب اور گلف کی دیگر آمریتوں کے ساتھ اس انداز میں روابط بڑھائے کہ مڈل ایسٹ میں چل رہے تنازعات میں پاکستان کے غیر جانب دار رہنے کا جو عمومی تاثر تھا وہ ختم ہوگیا۔یمن کے تنازعے میں نواز شریف، ان کے وزرا اور ان کے اتحادی مذہبی رہنما، سعودی عرب کے پلڑے میں وزن رکھتے رہے جس سے پاکستان میں ’فرقہ وارانہ تناو‘ میں اور اضافہ دیکھنے کو ملا۔ اس رحجان سے سعودیہ و ایران کو لے کر پاکستانی سماج کے اندر پہلے سے موجود تقسیم اور گہری ہوگئی۔میاں نواز شریف کی حکومت نے اس دوران سماجی معاملات پہ بھی جو قانون سازی متعارف کرائی وہ بھی ’ضیاءالحقی‘ سوچ کی آئینہ دار تھی۔نون لیگی حلقوں کی جانب سے رمضان آرڈیننس پر زیادہ سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ سامنے آیا۔ سینیٹ کی مذہبی امور کی کمیٹی نے احترام رمضان پر ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کاجرمانہ پانچ ہزار سے بڑھا کر25 ہزار روپے کر دیا۔دفاع پاکستان کونسل کے نام پہ پہلے کالعدم تنظیموں کو کھلی چھٹی دی گئی اور پھر مذہبی دہشت گردوں کی ’مین سٹریمنگ‘ کا پروجیکٹ سامنے لایا گیا۔ وزرات مذہبی امور، اوقاف، محکمہ تعلیم، ایچ ای سی، یونیورسٹیز کی وی سی شپ ایسے افراد کے ہاتھ دی گئی جنھوں نے جامعات میں طالبنائزیشن کے پروسس کو آگے بڑھایا۔نواز شریف کی وفاقی حکومت ہو یا پنجاب اور بلوچستان میں ان کی صوبائی حکومتیں، ہرجگہ پہ ان کے اتحادی مذہبی انتہا پسندی کے علمبردار نظر آئے۔اسلامی نظریاتی کونسل ان کے دور میں اور رجعت پرستانہ ڈسکورس کی طرف گئی اور کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت، جماعت دعوہ، جیش محمد، سپریم جہاد کونسل، دفاع پاکستان کونسل اور جے یو آئی ایف جیسی تنظیموں کے ساتھ ان کے گہرے روابط نظر آئے اور ان کو نواز شریف کا حامی میڈیا گروپ زیادہ پروجیکشن دیتا نظر آیا۔نواز شریف نے ’ہندوستان، افغانستان اور ایران‘ کے ساتھ تعلقات کے سوال پہ کوئی بھی ایسا بڑا قدم نہیں اٹھایا جس کی بنیاد پہ ہم یہ کہہ سکیں کہ انھوں نے واقعی اس معاملے پر ’اسٹبلشمنٹ‘ کے مخالف رخ پہ چلنے کی کوشش کی ہو۔سابق وزیر اعظم کے پاس قومی اسمبلی میں واضح اکثریت موجود رہی۔ ان کی جماعت کو پیپلز پارٹی کی طرح عددی کمزوری کا سامنا نہیں تھا لیکن ان کی جانب سے اتنا کچھ بھی نہ ہوا جتنا پی پی نے اپنے دور میں پاک۔ افغان، پاک۔ بھارت، پاک۔ ایران اور پاک۔ امریکا تعلقات کے حوالے سے کرنے کی کوشش کی تھی۔اس حوالے سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ اگر ان کا راستہ روکا تو اس پہ ان کا ردعمل بھی کبھی سامنے نہیں آیا۔ بلکہ داخلہ و خارجہ پالسیوں کے معاملے میں ریاست کا دائیں جانب سفر بنا کسی ر±کاوٹ کے جاری رہا۔پھر یہ کون سے ’لبرل‘ ہیں؟نواز شریف سے کچھ علامتی کام ’ سرزرد‘ ہو گئے تھے۔ جیسے وہ ہولی اور دیوالی کی تقریبات میں گئے، امتیاز عالم اور عرفان صدیقی کی لکھی تقریریں پڑھیں، ایک معاشی فورم پہ پاکستان کو ’لبرل‘ بنانے کی بات کہہ بیٹھے لیکن اس کے بعد مسلسل فضل الرحمان اور لدھیانوی کو راضی کرنے کے بیانات دیتے رہے۔فضل الرحمان کے دباو¿ پہ ’مدرسہ ریفارمز‘ کو سردخانے میں ڈالا اور ہم نے دیکھا کہ اس باب میں ان کی بزدلی اور موقعہ پرستی کو پوسٹ ماڈرنسٹ نام نہاد لبرل ’عذر خواہی‘ کے ساتھ پیش کرتے رہے۔نواز شریف نے کبھی ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ یا مہران ائربیس حملہ انکوائری رپورٹ کو پبلک کرنے کا کام نہیں کیا اور جسٹس قاضی عیسیٰ رپورٹ کو بھی سانحہ ماڈل ٹاو¿ن پہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کی طرح سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔نواز حکومت نے ملازمین کی چھانٹی، ریلوے ٹرینوں کی نجکاری، پی آئی اے کی راہداری کی فروخت اور اس جیسے اور کئی اقدامات دھڑلے سے کیے، تعلیم و صحت کے اداروں کو این جی اوز، نجی کارپوریشنوں کو سونپے جانے اور نجی شعبے کو بجلی بنانے کے بیشتر پروجیکٹ دیے جانے کا کام بھی جاری رکھا۔تاہم اس دوران کارپوریٹ سرمایہ داروں کو مفت ہزاروں ایکٹر زمین کی فراہمی، ٹیکسز میں مراعات اور مالیاتی سرمائے پہ ان کی گرفت مضبوط بنانے جیسے اقدامات جاری رہے۔پاکستان کا اگری کلچر، لائیو سٹاک، شکار گاہیں، معدنی وسائل، تیل، گیس ان سب پہ بیرونی سرمائے کی مقامی سرمائے کے اشتراک سے اجارہ داری کا سفر بھی خوفناک طریقے سے جاری و ساری ہے۔اس دوران میگا ڈویلپمنٹ پروجیکٹس کے نام پہ بڑے پیمانے پہ لوگوں کی بے دخلی اور ان کو ان کی زمینوں سے محروم کیا جارہا ہے۔یہ وہ معاملات ہیں جن پر نواز شریف حکومت کے اسٹبلشمنٹ سے کوئی اختلاف نظر نہیں آئے۔ان سارے اقدامات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ نواز حکومت کا چار سال دو ماہ کا دورانیہ نہ تو ’لبرل ازم‘ کے لیے ’امید‘ کی علامت تھا اور نہ ہی اسے پاکستان میں ’ اسٹبلشمنٹ‘ کے خلاف سویلین بالادستی کی امید قرار دیا جا سکتا ہے۔آخر نواز شریف کے پیچھے کھڑے ہونے والے لبرل اور لیفٹ کے لوگ کس بنیاد پہ نواز شریف کو امید کی کرن قرار دیتے رہے ہیں؟کہیں اس لیے تو نہیں کہ نواز شریف کی حکومت ان کے چہروں کو ’فیس سیونگ‘ کے لیے اور ’اینٹی اسٹبلشمنٹ، عوام دوست‘ امیج بنانے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے؟ ایسے لبرلز اور لیفٹ کے لوگوں کو ذاتی فوائد تو شاید ملے ہوں لیکن اس سے لبرل ازم اور لیفٹ ازم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔جیسے پاکستان میں قوم پرستی کے مدار المہام محمودخان اچکزئی، حاصل بزنجو اور اسلامی نظام و انقلاب لانے کے داعی مولانا فضل الرحمان آخری تجزیے میں موقعہ پرست ثابت ہوئے۔ ایسے ہی نواز شریف کی حمایت کرنے والے لبرل اور لیفٹ کے لوگ بھی موقعہ پرست ہی ثابت ہوئے ہیں۔پاکستان میں بائیں جانب کا سفر ہو یا لبرل آدرش، ان کی سربلندی کے لیے حکمران طبقات اور ریاستی اداروں کی روش کے خلاف آزاد انٹلیکچوئل روایت کا ہونا اشد ضروری ہے۔ ایسے لوگ جو پاکستان میں فیوڈلز، سرمایہ داروں، ججوں، جرنیلوں، قلم فروشوں اور بے وردی افسر شاہی کے خلاف غیر مصالحانہ علمی روایت کے امین ہوںوہ جعلی لبرل بت نہ بنائیں اور اسٹیبلشمنٹ سے نورا کشتی کرنے والوں کی لڑائی کو حقیقی لڑائی بناکر مت پیش کریں۔ پاکستان کی کاسمیٹک جمہوریت کو نواز شریف کی نااہلی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی پاکستان کے موجودہ کھوکھلے سسٹم میں کوئی انقلابی بدلاو¿ آئے گا۔ لیکن جس روش پہ، پاکستان کے ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مجاہدانہ کردار ادا کرنے والے، کئی ایک لبرل اور لیفٹ کے لوگ اس وقت رواں دواں ہیں، اس نے ان کے فکری بانجھ ہونے کی قلعی کھول دی ہے۔

ادارہ دانش کا مضمون نگار سے متفق ہونا لازم نہیں ہے ، اگر کوی صاحب باییں بازو کے دفاع میں کچھ کہنا چاہیں تو دانش بخوشی اسے بھی شایع کرے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: