حکیم نطشے کی بیمار اخلاقیات اور ہمارا سماج: خالد بلغاری

0
  • 220
    Shares

عجیب زمانہ آگیا ہے۔۔۔۔۔
تفصیل میں جانے سے پہلے ایک وضاحت کی ضرورت ہے۔

تحریر و تقریر کے وہ جملہ اسالیب جو زمانے کی خرابی بیان کرنے سے شروع ہوکر مکمل خرابیاں بیان نہ کرسکنے کی معذوری کے اظہار اور پھر کسی اچھے وقت میں تازہ دم ہوکر باقی ماندہ خرابیوں کی نشاندہی کی نیت پر ختم ہوتے ہوں، مصنف کو قطعاً پسند نہیں۔ لیکن! زمانہ یہ بھی آگیا کہ اسی ناپسندیدہ جملے سے تحریر کا آغاز کرنا پڑگیا ہے۔
ایک غیر متعلقہ بات کے طور پر یہ بھی پڑھ لیں کہ یہ جملہ نیم بزرگی کی ایک ناقابل فخر نشانی بھی ہے۔ عام مشاہدہ اور تجربہ ہے اور یقیناً آپ نے بھی سنا دیکھا ہوگا کہ نیم بزرگ قسم کی شخصیات اپنے ارد گرد کے لوگوں کی علمی و اخلاقی حالت سے مستقل نالاں و غیر مطمئن رہتے اور اسکا جا و بے جا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ایسی نیم بزرگی نیم تر ہوجاتی ہے جب ایسی حرکت کرتے وقت وہ بزرگ اپنے آپ کو اِس علمی اور اخلاقی گراوٹ سے بالکل ماورا اور محفوظ بھی سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ منہ سے بولتے تو نہیں لیکن گفتگو کے انداز اور سیاق و سباق سے یہ بات گویا طے شدہ اور پیش قیاسی ہوکر پس منظر میں جھولتی رہتی ہے کہ زمانے کی ان جملہ خرابیوں سے جہاں ہر نفس آلودہ ہے، انکا اپنا دامن یکسر پاک اور بے داغ ہے۔

ایک بے ضرر سا نفسیاتی نکتہ دفاع میں بھی بیان کرکے بزرگوں کی جان سر دست چھوڑ دیتے ہیں، کہ ہر آدمی عمر کیساتھ کچھ نہ کچھ ماضی پرست یا یوسفی صاحب کے بقول ماضی گزیدہ ضرور ہوجاتا ہے۔ اس خداداد صلاحیت کو وقت کا جبر سمجھ کے قبول کرلینا چاہئے۔حضرت یوسفی نے ‘آبِ گم’ میں اس ماضی گزیدگی کو ناسٹلجیا کہہ کر اسکی ایک بہت جامع تعریف بیان فرمائی ہے۔


مگر پھر نٹشے کی تعلیمات کا کچھ مطالعہ کرنے کی توفیق ہوئی تو یہ کھلا کہ اس بیمار حکیم کے غیر متوازن خیالات صرف مغربی تہذیب تک ہی محدود نہیں رہے۔ وہاں سے ہوکر ہمارے سماج میں بھی نفوذ کرگئے ہیں۔


زمانہ عجیب آج یوں ہوا کہ تربیت اولاد پر گفتگو کے دوران ایک ایسی محفل میں جہاں کوئی بزرگ موجود نہیں تھے یہ بات چل نکلی کہ اولاد کو بہت اچھا بنانے پر محنت نہ کی جائے، اس کا بچے کو نقصان ہوتا ہے۔ یہ ایک بڑی اُلٹی بات تھی مگر وہ کہنے لگے کہ ایسا ہی ہے۔ وہ تمام اخلاقی اصول جن کو ہمارے والدین اٹل نیکیاں بنا کر بیان کرتے تھے آج کےاس جدید دور میں عملی طور پر کمزوری اور بزدلی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔مروّت جیسی قدر کو ہی فرض کرلیں۔آپ اپنے بچے کو پڑھائیں کہ دوسرے آدمی کا لحاظ کرنا، راستہ چھوڑ دینا، اس سے بڑھ کر یہ کہ ایثار کرنا، خود کو پیچھے رکھ لینا بہت اچھی بات ہے۔ لیکن غور کیجئے کہ اس طرح کے دقیانوسی اخلاق سے متصف بچے کو اگر آجکی جدید گردن کاٹ معاشرت میں چھوڑ دیا جائے تو ایسا بچہ تو سالم نگل لیا جائے گا۔ وہ کہہ رہے تھے، کہ بھائی ! اب یہ دور مقابلے اور مسابقے کا ہے۔دوسرے کی گردن پر پاؤں رکھ کر اگلی منزل پر چڑھ جانا اور آنکھ نہ جھپکنا اصل نیکی ہے۔ جدید اخلاقیات کا پہلا سبق یہی ہے۔

اخلاقیات کے معیار کو روایت سے ایک سو اسّی درجے پر یوں ایڑھیوں کے بل گھومتا دیکھ کر، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ خود کو اس جدید معیار کو قابل غور جانتے ہوئے پا کر یہ کہنا ہی پڑا کہ عجیب زمانہ آگیا ہے۔

احمد جاوید صاحب ایک جگہ فرماتے ہیں کہ “جدید مغربی تہذیب نے نٹشے کے غیر متوازن دماغ سے جنم لیا ہے”
کوئی دو سال قبل جب یہ قول نظر سے گذرا تو پڑھتے ہی عش عش کر اٹھنے کی ایک وجہ تو بالکل سامنے تھی کہ پوری جدید مغربی تہذیب کو قلم کے ایک ہی وار سے ایک غیر متوازن ذہن کی پیداوار کہہ دے کوئی مستند آدمی، تو ہم کو اور کیا چاہئے۔

مگر پھر نٹشے کی تعلیمات کا کچھ مطالعہ کرنے کی توفیق ہوئی تو یہ کھلا کہ اس بیمار حکیم کے غیر متوازن خیالات صرف مغربی تہذیب تک ہی محدود نہیں رہے۔ وہاں سے ہوکر ہمارے سماج میں بھی نفوذ کرگئے ہیں۔

اس بات پر بحث ہوسکتی ہے کہ ہم لوگوں نے اس طرح کی منفی اخلاقیات کو حکیم نٹشے کے علاوہ کسی اور منبع سے اخذ کیا ہو مگر اسکے امکانات کم ہیں۔ امکان بہرحال اسی بات کا زیادہ ہے کہ کئی صدیوں سے دنیا پر غالب اس مغربی تہذیب سے متاثر ہوکر ہی ہم اس مقام پر پہنچے ہونگے جہاں ایثار اور درگذر کو بزدلی اور شر سمجھنے کے بارے میں سنجیدہ محفلوں میں سنجیدگی سے غور کرنے لگ گئے ہیں۔

تہذیبی وحدت اور ہم آہنگی وغیرہ کے باب میں “دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے” مارکہ بیانیوں سے مصنف کو چونکہ ایک خالص بلا جواز قسم کی چڑ ہے اسلئے اس طرف نہیں جاتے۔ سر دست حکیم نٹشے کے فلسفہِ اخلاق کا کچھ تذکرہ کرلیتے ہیں۔

روشن خیال دوست ممکن ہے برا مانیں مگر مصنف کے محدود مطالعے کے مطابق حکیم نٹشے ہی وہ فلسفی ہیں جنہوں نے اخلاقیات کی ایسی منفی قلبِ ماہیت کو ایک باقاعدہ فلسفیانہ نظام کی شکل میں بیان کیا۔

اپنی مشہور کتاب “اخلاقیات کا نسب نامہ” کے دیباچے میں اُسی “ناممکن کی حد کو پہنچے ہوئے خطیبانہ شکوہ” اور بلند بانگ انانیت کے ساتھ جس سے نٹشے مخاطب کو اپنی گرفت میں جکڑ لیتا ہے، لکھتے ہیں۔

وہ کیا حالات تھے جن میں آدمی نے “خیر” اور “شر” کی قدریں ایجاد کیں؟ اور ان اقدار کی اپنی حیثیت اصل میں ہے کیا؟ اب تک یہ اقدار انسانی بہبود کی راہ میں رکاوٹ بنی ہیں یا مددگار ثابت ہوئی ہیں؟ یہ قدریں بے چینی، افلاس اور حیاتِ انسانی کی گراوٹ کی علامات ہیں یا اس کے برعکس یہی وہ قدریں ہیں جن میں زندگی اپنے ارادے، حوصلہ، توانائی اور خوداعتمادی کیساتھ ظاہر ہوتی ہے؟

یہاں پہنچ کر میرا ذہن متنوع جوابات کی رزم گاہ بن گیا۔میں نے اس مسئلے پر لوگوں، نسلوں اور انکے عہد کے فرق کو ملحوظ رکھ کر غور کیا اور میں اپنے مسئلے کا ماہر بن گیا۔ میرے جوابات سے نئے سوالات پیدا ہوئے، نئی تحقیق کی راہ کھلی، نئی امید اور نئے امکانات نے جنم لیا، یہاں تک کے آخر کار میرے پاس اپنی الگ زمین تھی اور اپنی جدا مٹی۔میرے ہاتھ ایک پوری دنیا آگئی جو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل تھی۔ پھلتی پھولتی، نمو پاتی ایک دنیا جیسے کہ پوشیدہ باغات ! جن کے وجود کے بارے میں کسی کو وہم و گمان تک نہ ہو۔

آہ! کیسے خوش نصیب ہیں ہم، ہم علم کے جویا۔بس یہ ہے کہ ہم کافی مدت تک کیلئے خاموش رہنا (اور غور و فکر کرنا) اگر سیکھ جائیں۔”

زیرِ بحث موضوع پر اس طرح کے جاندار اور خوبصورت جملے لکھ کر نٹشے خود اپنے آپ کو وہ اختیار گویا دان کرتے ہیں جسکے ہوتے ہوئے قاری کے پاس انکے بیان کردہ اخلاقی فلسفے کو درست نہ ماننے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہنی چاہئے۔انانیت پسندی نٹشے کے مزاج کا ایک مضبوط عنصر ہے۔ایک جگہ پر اپنے قدرتِ کلام سے متعلق فرماتے ہیں۔ “ میں ایک جملے میں وہ بیان کردیتا ہوں جس کیلئے لوگ پوری کتاب لکھ دیتے ہیں۔ نہیں! جسکو لوگ ایک کتاب لکھ کر بھی بیان نہیں کرپاتے”۔


احمد جاوید صاحب ایک جگہ فرماتے ہیں کہ “جدید مغربی تہذیب نے نٹشے کے غیر متوازن دماغ سے جنم لیا ہے”


نٹشے اس کتاب میں اخلاق کی دو بڑی اقسام بیان کرتے ہیں: آقائی اخلاق اور غلام اخلاق۔
آقائی اخلاق زیادہ بنیادی ہے۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب یہودی/اسرائیلی مذاھب پیدا نہیں ہوئے تھے۔اخلاقیات کی اس قدیم کہانی کا آغاز انکے ہاں آقا کے اخلاق سے ہوتا ہے۔آقائی اخلاق جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس اخلاق کو کہتے ہیں جن سے آقا متصف ہوتے ہیں۔ آقا ہر وہ کام کرتے ہیں جن کو کرنے کا انکا دل کرتا ہے۔کسی قسم کی حدود کو یا پابندی کو نہیں مانتے۔ حدود انکے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ جو کھانا چاہتے ہیں کھاتے ہیں، جو پینا چاہتے ہیں پیتے ہیں۔ جہاں جانا چاہتے ہیں جاتے ہیں۔اس من مانی کے دوران اگر کوئی انکی راہ میں رکاوٹ بنے تو اسکو بے دریغ مٹا دیتے ہیں۔ صحت مند ہوتے ہیں۔ہنستے گاتے، ناچتے کھیلتے کودتے ہیں۔ مخالفوں اور دشمنوں کو کاٹتے مٹاتے چلے جاتے ہیں اور اس عمل کے دوران انکے دل میں کوئی کھٹکا نہیں پیدا ہوتا۔ انکی طاقت اور زورآوری ہی انکے برتاؤ اور عمل کا تعین کرتی ہے اور یہی طاقت انکی اخلاقیات کا بنیادی اصول ہے۔نٹشے کے نزدیک یہ آقائی اخلاق اصل اور خالص خیر ہے جس میں کوئی آمیزش یا ملاوٹ نہیں۔”خیر” اسی کو کہا گیا ہے۔

غلام اخلاق اس کے برعکس ہے۔یہ کمزوری اور بزدلی سے جنم لینے والے برتاؤ ہیں۔ کچھ کھانے کو دل چاہے کچھ پینے کو دل چاہے تو غلام کو نہ وہ چیز میسر ہوتی ہے اور نہ اس کے حصول کا حوصلہ۔ہر عمل سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ آقا کیا کہین گے۔ فلاں نے برا مان لیا تو مجھے یوں اور ایسے نقصان پہنچائے گا۔مجھ سے یہ بھی چھین لے گا اور اسکی خواھش اور آرزو اسی ڈر اور خوف کے نیچے دب جاتی ہے۔نٹشے کے نزدیک یہ شر کی اخلاقیات ہے۔شر اسی کو کہا گیا ہے۔ جو طاقت اور اصل خیر کی عدم موجودگی کے باعث وجود میں آیا ہے۔ یہ اصل اور خالص شر ہے۔

خلاصہ یہ کہ آقا کی اخلاقیات خیر ہے، اور غلام کی اخلاقیات شر۔ گویا علم کی سچی لگن اور غوروفکر سے ان کو جو “مہارت” حاصل ہوگئی تھی اسکا نچوڑ یہ ہے کہ طاقت خیر ہے اور کمزوری شر۔

آقائی اخلاق اور غلام اخلاق کی اس بنیادی تقسیم کے بعد نٹشے مذھبی اخلاقیات کی خبر لیتے ہیں۔ وہ مذھبی (مسیحی، اسرائیلی، بدھ، ہندو) اخلاقیات کو غلام اخلاقیات ہی کی ایک بگڑی ہوئی شکل قرار دیتے ہیں اور یہودی مذھبی پیشواؤں کو اس اخلاقی “انقلاب” کا پیشرو ٹھہراتے ہیں۔ ان کے مطابق غلام اخلاقیات نے کئی ہزار سال کے عرصے میں آقائی اخلاق جو کہ اصل خیر ہے، سے اپنی محرومیوں کا انتقام لینے کا عمل مکمل کرکے آقائی اخلاق پر فتح پالی تھی۔ اس فتح کو نٹشے اصل خیر کی بدترین فیصلہ کن شکست گردانتے اور انسانیت کے خون کو زہر آلود کر دینے کے مشابہ قرار دیتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ
تاریخ انسانی بہت پھیکی اور بے رنگ رہ جاتی اگر اس میں کمزور کی عیّاری کا رنگ شامل نہ ہوتا۔ اس کی سب سے اہم مثال یہ ہے:
صاحبان اقتدار، طاقت وروں، آقاؤں اور اہل ثروت کے خلاف تمام دنیا کی مجموعی کوشش اُس کامیابی کے مقابلے میں بالکل ہیچ ہے جو یہودی مذھبی پیشواؤں نے اِس طبقے کے خلاف حاصل کی ہے۔یہودی، مذھبی پیشواؤں کی یہ قوم! جس نے انجام کار یہ جان لیا تھا کہ اپنے دشمنوں اور غاصبوں کے مقابلے میں موثر فتح کا واحد راستہ مروجہ اقدار کی قلبِ ماہیت سے ہی ممکن ہے، بیک وقت ایک عیار ترین انتقامی کارروائی بھی تھی۔تاہم یہ طریقہ کار صرف مذھبی پیشواؤں کی اس قوم ہی کےلئے ممکن تھا۔ایک ایسی قوم جسکی پرورش پیشوائی انتقام کی حاسدانہ آگ میں ہوئی ہو۔

یہ یہودی پیشوا ہی تھے جنہوں نے صاحبان اقتدار کی طرف سے رائج مساوات ( خیر= حاکمیت= خوبصورت= مسرور= خداؤں کا پسندیدہ) کو ایک خوفناک منطق کے ذریعے اس کے الٹ مساوات سے بدل دینے کی جسارت کی۔یہ مساوات جسکو وہ ایک گہری نفرت (کمزور کی نفرت) کیساتھ برقرار رکھتے رہے تھے یہ تھی، کہ “صرف نیچ لوگ ہی نیک ہیں؛ غریب، کمزور، کمین ہی نیک ہیں۔ تکلیف میں مبتلا، ضرورتمند، بیمار، قابل نفرت، ہی ہیں کہ جو نیک ہیں، با برکت ہیں، نجات صرف ان کیلئے ہے۔۔اور تم؟ دوسری طرف تم حاکم لوگ، تم ارباب اقتدار، تم ابدی طور پر شر ہو، خوفناک، لالچی، ہوسناک، بے خدا۔اور ابد تک رہوگے تم لوگ ملعون، لعنتی اور مردود !!”۔
ایفورزم ۱۹۵۔۔۔

یہ کہ اصل میں یہ یہودی ہی تھے جن کے ذریعے غلاموں کی بغاوت اخلاقیات کے دائرے میں برسر عمل ہوئی۔وہ بغاوت جس کے پیچھے دو ہزار سال کی تاریخ ہے، اور جو آج کے دن ہماری نظروں سے اسلئے اوجھل ہوگئی ہے کیونکہ اس بغاوت نے فتح پالی ہے۔”


سیاسی اقتدار کی بھاگ دوڑ میں ہمارے اکثر مصلحین تزکیہ نفوس کی بنیادی اور اصل زمہ داری سے کما حقہ عہدہ برآ نہیں ہو رہے۔ ایسے میں ایک عام آدمی جدید دنیا کے سیلاب بلا کے اندر بہہ کر اگلی نسل کی تربیت جدید بیمار اخلاقیات پر کرتا رہے تو سماج میں بگاڑ کا زمہ دار وہ مربّی اور مصلح بھی ہوگا جسکا اصل کام عوام کی درست اور صحت مند اخلاق پر تربیت وتزکیہ ہے۔


ان اقتباسات میں اور باقی کتاب میں بھی جہاں تک مصنف نے دیکھا ہےاسلام کے اوپر اخلاقیات کے حوالے سےکوئی براہ راست تنقید موجود نہیں ہے۔ تاہم اس کو عام طور پر مذھبی اخلاقیات پر تنقید کی بنیاد پر عموماً اور یہودیت اور مسیحیت کی اسلام کے ساتھ گہری نسبت کی بنیاد پر خصوصاً اسلام کے دامن تک بھی وسیع سمجھا جا سکتا ہے۔
اخلاقیات کے حوالے سے دیکھیں تو مسیحیت (حضرت مسیح بھی یہودی/اسرائیلی تھے) جس پر براہ راست تنقید ہے، سے اسلامی اخلاقیات ایک بہت بنیادی جہت میں مختلف ہیں۔ یہ تو معروف بات ہے کہ مسیحی اخلاقیات کی تھپڑ کھا کر دوسرا گال سامنے کردینے والی تعلیم سے اسلامی تعلیمات یکسر مختلف ہیں۔اسلام قصاص کو سماجی زندگی کو متوازن رکھنے کی بنیاد بتاتا ہے۔ اسلامی شریعت میں رہنمائی کے درخشاں ستارے جن کو صحابہ کہا گیا ان میں ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔ حکمران بھی تھے اور غلام بھی مگر یکساں اخلاقی کمال کے ساتھ۔ اسلام کے پیغمبر نے خود ایک حکمران کے روپ میں اپنی قائم کی ہوئی ریاست پر حکومت کی۔ اپنے ساتھیوں کو علاقوں پر حکومت کے حوالے سے جو سیاسی ھدایات دیں انکے سب مستند حوالے موجود ہیں۔دوسری طرف اسی حکمران اور آقا کی فقیری کا یہ عالم بھی تھا کہ کھردرے بچھونے پر لیٹنے کی وجہ سے ان کی پشت پر نشان لوگوں نے دیکھے۔ دو متضاد اور برعکس طبقاتی رویوں کا یہ تخلیقی جوڑ اسلامی اخلاقیات کا وہ عملی اعجاز ہے جس کی تشریح و تعبیر عقیدہ اور ایمانیات کا پس منظر سمجھے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اخلاقیات کا وہ معیار جو بادشاہی میں فقیری کرنے پر پابند کردے اس یقین کی بنیاد پر بنتا ہے جس سے ہمارے مجذوب حکیم آشنا معلوم نہیں ہوتے۔

اسی طرح انجیل میں بھی موسی ع کے آخری نبی کی شریعت کے آتشیں ہونے کی خبر دینے پر حوالے ملتے ہیں۔ 1 اسلام غلام یا آقائی اخلاق کی بجائے اپنے مجموعی مزاج کی مناسبت سے اخلاقیات کے میدان میں بھی توازن پر مستوی ہے۔ طاقتور مومن کو کمزور مومن پر فضیلت کی احادیث اسلام کو نٹشے کی انتہائی تنقید کی زد سے باہر لے جاتی ہیں۔ممکن ہے حکیم نٹشے کو اسلام کا طاقت کو ضروری طور پر شر نہ قرار دینے کے اصول سے آگاہی ہو اور اسی بنیاد پر جہاں بدھ مت، ہندو، اور مسیحی مذاھب پر نام لیکر تنقید کی، انہوں نے اسلام کا نام نہیں لیا۔ دین اسلام میں چند غالی صوفیوں کے عمل کے علاوہ اصولی طور پر رہبانیت اور ترک دنیا کی ممانعت ہے۔دنیا میں رہتے ہوئے، رشتے نباہ کر، لوگوں میں گذر کرکے ایک متوازن اور معتدل طرزِ زندگی اسلامی فلسفہ اخلاق کی پہچان ہے۔ طاقتور اور انتقام کی طاقت رکھنے کے باوجود بدلہ نہ لینے والے آدمی کوجب اسلام بلند درجہ کا پروانہ جاری کرتا ہے 2 تو وہ نٹشے کی مجوزہ بزدلی اور کم ہمتی کے ردعمل میں انتقام پالنے والی بگڑی ہوئی مذھبی اخلاقیات سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔
یہاں نہ کمزوری شر ہے نہ خیر۔اسی طور سے طاقت بھی نہ بذات خود خیر ہے اور نہ شر۔اسلامی فلسفہ نے شر اور خیر کو آدمی کی نیت کیساتھ جوڑ کر رکھا ہے۔ عقیدہ آخرت کے بنیادی پتھر نے اسلام کے فلسفہ حیات کو وہ محور فراہم کر رکھا ہے جو ہر رویے اور ہر عمل کے رخ کو ایک سمت اور ارتکاز مہیا کئے رکھتا ہے۔اسلامی اخلاقیات میں موجود تصور خیر و شر بھی نیت کے راستے اور تعلق سے عقیدہ آخرت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

ہمارے ہاں کی موجودہ اخلاقی گراوٹ کا وہ دائرہ جو تربیت اولاد کے حوالے سے آج موضوع بحث بنا ہے اس میں جدید دنیا کی دانستہ یا نا دانستہ پیروی میں درگذر کرنے اور ایثار و قربانی کو کمزوری سمجھنے کی مجموعی نفسیات اس وجہ سے در آئی ہے کہ ہم پر اثر تناسب کے لحاظ سے جدید دنیا کا زیادہ ہے اور اپنی روایت کا کم۔یہ تناسب ہر گذرتے ہوئے دن کیساتھ جدید دنیا کے حق میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جدید دنیا مغرب کی طرف سے آئی ہے، یہ ایک کونیاتی حقیقت ہے۔ زمانی جبر ہے اور ہم زمانے کو برا نہیں کہتے۔ اخلاقیات کی یہ قلب ماہیت حکیم نٹشے کی تعلیمات کی وجہ سے براہ راست رونما نہیں ہوئی یہ سبھی جانتے ہیں۔ یہ مغربی تہذیبی اداروں کے اندر اس مجذوب فلسفہ کے خیالات کے نفوذ اور ایک ثانوی درجے پر ان تہذیبی اداروں کے ہماری دنیا پر اثرات کی وجہ سے ہمارے اندر داخل ہوئی ہیں۔ چاہے ان اداروں کی نوعیت تجارتی ہو، چاہے سیاسی ہو، تعلیمی ہو یا کوئی اور۔ یہ تہذیبی اثرات اپنی جڑوں میں اس فلسفی کے خیالات کے جرثومے لیکر ہماری زمین میں داخل ہوئے ہیں اور اب ہماری ہی زمین سے اُگ کر ہماری فصلوں کی شکل میں لہلہاتے ہیں۔ ہم انکو کاٹتے ہیں اور پھل کھاتے ہیں۔

ایسے میں ہمارے سماجی فلسفی پر لازم ہے کہ اپنے ذہن کو مغربی فلاسفہ کی تعلیم کو سمجھنے کیساتھ ساتھ ان افکار کو اسلامی تعلیمات کے مقابل رکھ کر تجزیہ کرنے کیلئے بھی استعمال کرتا رہے۔

اسکے لئے ضروری ہے کہ فلسفہ علم سے محبت کے جس رویے کا نام ہے اس میں نہ مرعوبیت کو داخل ہونے دے نہ عصبیت کو۔فلسفہ کی خالص دنیا میں اپنی روایت کے حق میں بلا جواز عصبیت اور باہر کی چکا چوند سے بے جا مرعوبیت دونوں رویے مہلک ہیں۔نگاہ کا خلوص چنانچہ فلسفی کا سب سے گراں قیمت سرمایہ ہوتا ہے۔

دین اسلام کی اخلاقی تعلیمات سے دوری اگر اسی رفتار سے ہوتی رہی اور اسکی جگہ سماج میں جدید دنیا کے اقدار لیتے چلے گئے تو اس دن سے خوف آتا ہے جب زمام اختیار اُن بچوں کے ہاتھ میں ہوگا جنکو یہ سکھایا گیا تھا کہ ایثار اور درگذر بزدلی ہے جبکہ چھین کر، کاٹ کر کھانا نیکی ہے۔ایسی معاشرت، ہم ابھی سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ حیوانی معاشرت سے بھی بدتر ہوجائیگی۔

ہمارے علماء اور فلاسفہ جن کے نازک کندھوں پر اصلاح عوام کا بھاری بوجھ ہے انکو عوام کی اخلاقی صحت پر اپنی قیمتی توجہ مبذول کرنی چاہئے۔ سیاسی اقتدار کی بھاگ دوڑ میں ہمارے اکثر مصلحین تزکیہ نفوس کی بنیادی اور اصل زمہ داری سے کما حقہ عہدہ برآ نہیں ہو رہے۔ ایسے میں ایک عام آدمی جدید دنیا کے سیلاب بلا کے اندر بہہ کر اگلی نسل کی تربیت جدید بیمار اخلاقیات پر کرتا رہے تو سماج میں بگاڑ کا زمہ دار اس عام آدمی کیساتھ وہ مربّی اور مصلح بھی ہوگا جسکا اصل کام عوام کی درست اور صحت مند اخلاق پر تربیت وتزکیہ ہے۔

حوالے:
1۔بائیبل میں یہ بات واضح طور پر بیان کر دی گئی کہ آنیوالے آخری نبی موسی علیہ السلام کی طرح صاحب شریعت ہوں گے اور انہی کے بھائیوں میں سے یعنی بنی اسماعیل میں سے ہوں گے مزید موسی علیہ السلام اپنی آخری وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ خداوند سنا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑ سے جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشیں شریعت ان کے لیے تھی ۔‘‘ ( استثناء 1-3:33 )
2۔صحيح مسلم حديث نمبر ( 2664 )۔
3۔ایفورزم ۱۹۵ beyond good and evil سے لیا گیا ہے، باقی اقتباسات geneology of morals سے لئے گئے ہیں۔تراجم مصنف کے ہیں۔

About Author

خالد ولی اللہ بلغاری. بلغار، گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیشہ ورانہ میدان طب ہے. فلسفہ کے علاوہ شعر و ادب اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں.۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: