تیسری جنس: احترام دیجئے: عافیہ شاکر

0
  • 96
    Shares

میں ایک خلیہ ہوں۔۔۔ میں جاندار کی سب سے چھوٹی اکائی ہوں۔ہر جاندار کی شروعات مجھ ہی سے تو ہوتی ہے۔۔۔۔ مجھ سے دماغ اور دل کے نظام تشکیل پاتے ہیں۔

دیکھو! دل نے دھڑکنا شروع کر دیا ہے۔ زندگی جنم لے رہی ہے۔ ہاتھ پاؤں اور آنکھوں کے عدسے وجود میں آ رہے ہیں۔ میں رفتہ رفتہ اپنے وجود کی تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہوں مجھے کوئی ذہنی بیماری نہیں ہے۔ آج مجھے میری جنس معلوم ہو جائی گا۔ مگر نہ جانے کیوں اب میرا خیال پہلے جیسا نہیں رکھا جا رہا۔۔۔۔

آج میں نے دنیا میں آنکھ کھولی ہے لیکن مجھے اپنے ارد گرد شناسائی اور اپنائیت محسوس نہیں ہو رہی۔ مجھے میرے والدیں سے الگ کیوں کیا گیا ہے؟

مجھے ‘ہائے بدنصیب ہائے بدنصیب’ کیوں کہا جا رہا ہے؟

یہ لوگ مجھے ہیجڑہ کیوں کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ کوئی بیماری ہے؟ کیا میں عام انسانوں جیسا وجود تشکیل نہیں دے سکا۔ یہ لوگ ناچ گانا کیوں کر رہے ہیں؟ یہ لوگ کیوں کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنی ساری زندگی ماتم اور بین یا ناچ اور گانے کے لبادے میں اوڑھ کر گزارنی ہے۔۔۔۔۔

ہیجڑہ ہمارے معاشرے کے ان “انسانوں” کو کہا جاتا ہے جو نامکمل جنسی شناخت کے حامل ہوتے ہیں۔انگریزی میں ان کے لیے transgenders کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے یعنی یہ افراد مردانہ اور زنانہ دونوں خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ DNA کی سطح پہ Chromosomes کی علیحدگی کا ایک غیر دانستہ عمل ہے۔ اسے chromosome non-disjunction کہتے ہیں۔

Klinefelter syndrome کے حامل افراد میں مرد ہوتے ہوئے بھی زنانہ خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ ان میں نارمل XY chromosome کی بجائے XXY پایا جاتا ہے۔

جبکہ Turner Syndrome کی حامل خواتین مردانہ خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں۔ان میں نارمل XX کی بجائے X0 chromosome ہوتا ہے۔یعنی ان افراد میں نارمل 46 chromosomes کی بجائے 47 یا 45 تعداد ہوتی ہے اور اس کمی یا زیادتی کے عوض اپنی ساری زندگی خود کو ‘انسان’ کہلوانے میں گزر جاتی ہے اور افسوس کہ ناکام ہی مر جاتے ہیں۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں ہیجڑوں کی آبادی تقریباً 80،000 سے 350،000 یا 500،000 ہے جن میں سے تقریباً 60-70،000 صرف کراچی میں ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر 50 میں سے ایک بچہ ‘نامکمل شناخت’ لیکر پیدا ہوتا ہے جو کہ کل آبادی کا 2% ہے۔

حال ہی میں پاکستانی حکام نے خواجہ سراؤں کو ایسے شناختی کارڈ جاری کرنے کا اعلان کیا جس میں ان کی جنس “مخنث” تحریر کی جائے گی۔اس سلسلے میں NADRA نے اپنے software میں تبدیلی کر لی ہے۔اس طرح اب خواجہ سرا ٹیکس وصولی کی فہرست میں بھی شامل ہو گئے ہیں۔

لیکن ہیجڑوں کے مطابق اس بنیادی انسانی حق کے ملنے کے بعد بھی ان کے مسائل حل نہیں ہوئے کیونکہ ولدیت کے خانے میں اس شخص کا نام لکھنے کا مطالبہ ہے جو ان کے وجود سے ہی انکاری ہوتے ہیں۔ نیز اس سے وراثت کے مسائل کھڑے ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ہیجڑوں کے ہاں ایک باقاعدہ نظام کے تحت ہیجڑوں ہی میں وراثت کی تقسیم کی جاتی ہے۔ ہیجڑوں کے ایک نمائندے کے مطابق ان کی زندگی جو پہلے تماشا تھی اب اور تماشا بن رہی ہے۔

اگر تاریخ کے اوراق الٹائے جائیں تو معلوم ہو گا کہ مغلوں اور اس سے پہلے کے ہندو سماج میں ہیجڑوں کو معاشرے میں ایک مقام حاصل تھا لیکن انگریز سامراج جو کہ خود کو انسانی حقوق کا علم بردار سمجھتے تھے، نے ہیجڑوں کے حقوق کی سب سے زیادہ پامالی کی اور criminal tribes act 1871 کے تحت انہیں پیدائشی طور پہ مجرم قرار دے دیا۔

اب صورت حال بہت سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ایک طرف انسانی حقوق کا شعور بلندیوں کو چھو رہا ہے تو دوسری طرف ہیجڑے سماج میں اپنی شناخت کے بحران سے نکل نہیں پا رہے۔ حال ہی میں، سیالکوٹ میں ایک خواجہ سرا کو بے دردی سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جس نے پوری انسانیت کو دہلا کے رکھ دیا۔ یہ محض معمولی قسم کا تشدد نہیں تھا بلکہ اسی شناخت کی عدم قبولیت تھی جس سے ہیجڑی جنس صدیوں سے گزر رہی ہے۔

امید کی جاتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس آبادی کے حقوق کے متعلق صرف بات ہی نہیں کی جائے گی بلکہ عملی قدم بھی اٹھایا جائے گا۔ اگرچہ اس کا نفاذ تاخیر کا شکار ہے۔

انسانی حقوق کے پرچار کے اس دور میں تیسری دنیا کے لوگوں کو سر اٹھا کے جینے کا حق ملے گا یا ہمیشہ کی طرح ساری زندگی ماتم اور بین کو ناچ اور گانے کے لبادے میں اوڑھ کر گزارنا پڑے گی۔

ہمیں اس ضمن میں قانون سازی کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کر نصاب میں ہیجڑوں کو معاشرے کا ایک فرد سکھانے کا اہتمام کیا جانا چاہئیے-

سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ فطری عمل ہے اور گھر گھر میں ہو رہا ہے۔ مذاق اڑانے اور انھیں ناچ گانے تک محدود کر دینے سے ہم انسان کی توہین اور فطرت کا انکار کر رہے ہیں۔ ہماری نئی نسل اب بڑی حد تک پرانی اقدار سے باغی ہے اب بھی انہیں اس طرف مائل کیا جا سکتا ہے۔

عورت، معذور اور ہیجڑے ہمارے سماج کے پسے ہوئے طبقات ہیں۔ ہمیں صحت مند معاشرے کے لئے ان کو معاشرے کا کارآمد حصہ بنانا ہے ورنہ مکمل معاشرے کا خواب ادھورا ہی رہ جائے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: