نون لیگ، کرپٹ اشرافیہ اور متوسط طبقہ: مجاہد حسین

0
  • 132
    Shares

اپنی موجودہ شکل میں نون لیگ کرپٹ اشرافیہ کی نمائندہ جماعت بن چکی ہے۔ یہ طاقتور گروہ نہ صرف ذرائع ابلاغ کے بڑے حصے پر قابض ہے بلکہ اس نے پورے معاشرے میں ایک ایسا لالچی طبقہ بھی پیدا کر دیا ہے جو معمولی مفادات کے لئے غلاموں کی طرح خدمات بجا لاتا ہے۔ آپ اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو ایسے بہت سے خاندان نظر آئیں گے جنہوں نے نون لیگ میں شامل ہونے کے بعد تیزی سے معاشی ترقی کی ہے۔ ان کے کسی فرد کو سرکاری ملازمت مل جاتی ہے، کوئی ٹھیکے دار بن جاتا ہے، اگر کوئی وکیل ہے تو اسے کسی سرکاری محکمے کا قانونی مشیر بنا دیا جاتا ہے۔ اگر یہ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوں تو انہیں پولیس تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس کے بدلے میں یہ اشرافیہ کو حکومت دلانے کے لئے زمین ہموار کرتے ہیں۔ کہیں ووٹ خریدتے ہیں تو کہیں ڈرا دھمکا کر ووٹ ڈلواتے ہیں۔ ان کی سب سے زیادہ ضرورت الیکشن کے دن پڑتی ہے جب ہر طرح کی غنڈہ گردی اور دھاندلی کی جاتی ہے۔

اس کرپٹ ایلیٹ کے لئے اخلاقیات کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی یہ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہے۔ ان کی جائیدادیں اور کاروبار دیگر ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ پاکستان ان کے لئے ایک ایسی چراگاہ بن چکا ہے جس میں عام آدمی ایک کمزور شکار کی طرح ہر طرف گھوم پھر رہا ہے۔ اشرافیہ کا یہ گروہ ایک پیراسائیٹ کی طرح پاکستان کے وسائل پر پل رہا ہے۔ اچھے جمہوری معاشروں میں امیر طبقہ بھاری ٹیکس ادا کرتا ہے جس کے ذریعے حکومتیں نہ صرف غریب آدمی کو زندگی کی سہولتیں فراہم کرتی ہیں بلکہ انہیں غربت سے نکالنے کے لئے مواقع بھی پیدا کرتی ہیں۔ پاکستان میں معاملہ اس کے یکسر برعکس ہے۔ یہاں کا امیر ترین طبقہ غریبوں کا خون چوس کر اپنی دولت میں اضافہ کئے جا رہا ہے۔

لوٹ مار کے پہلے مرحلے پر پاکستان میں امیروں سے براہ راست ٹیکس وصول کرنے کی بجائے اس کا دائرہ پوری قوم پر پھیلا دیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں چند لاکھ امرا ایک معمولی رقم ادا کرتے ہیں جبکہ کئی کروڑ عام لوگوں کی جیبوں سے  بہت بڑی رقم نکال لی جاتی ہے۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ عوام سے حاصل کی گئی یہ ساری رقوم حکومتی خزانے میں جمع ہو جاتی ہیں تو اشرافیہ ایک بار پھر اپنے لالچی دانت نکوستے ہوئے اس پر پل پڑتی ہے۔ کبھی شوگر ملوں کے لئے سبسڈی کی شکل میں تو کہیں قرضوں کی معافی کی صورت میں لوٹ مار ہوتی ہے۔  بجلی بنانے والی کمپنیاں امرا کی ملکیت ہیں۔ حکومت ان سے مہنگی بجلی خرید کر عام آدمی کو بیچ دیتی ہے۔ اور پھر عوام سے پیسے وصول کرنے کے بعد اسے کمپنیوں کے مالکان کی جیبوں میں منتقل کر دیتی ہے۔  اسی لئے امیر کی جیب پھولتی جارہی ہے اور غریب کے گھر میں تاریکیاں پھیل رہی ہیں۔ بڑے بڑے ٹھیکے اس خزانے کو لوٹنے کا ایک اور ذریعہ ہیں۔ غرضیکہ جونکوں کی طرح ہمارے پیسوں پر پلنے والا یہ طبقہ بے شمار طریقوں سے قوم کو لوٹ رہا ہے۔ چونکہ نون لیگ کی قیادت اسی طبقے کو تحفظ فراہم کرتی ہے اس لئے یہ لوگ مل کر اس جماعت کے اردگرد ایک مضبوط قلعہ تعمیر کر دیتے ہیں۔

پاکستان میں متوسط طبقہ موجود تو تھا لیکن اسے کوئی پلیٹ فارم میسر نہیں تھا جس کے ذریعے وہ اشرافیہ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر سکتا۔ یہ موقع اسے سوشل میڈیا کی بدولت حاصل ہوا۔ اس وقت اشرافیہ کی طاقتور پراپیگنڈہ مشینری کا مقابلہ سوشل میڈیا کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں متوسط طبقہ اشرافیہ کے گریبان میں ہاتھ ڈال چکا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً حکومتی ایوانوں میں اس پر پابندی لگانے کی آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔

میاں نواز شریف کے خلاف پانامہ لیکس کا مقدمہ اشرافیہ اور متوسط طبقے کے درمیان ایک طرح سے میدان جنگ تھا۔ یہ لڑائی مڈل کلاس نے جیت لی ہے لیکن اسے مکمل فتح نصیب نہیں ہوئی۔ اس لڑائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے اپنا دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ابھی تو شریف خاندان کے کیس نیب میں چلنے ہیں جس سے بچنے کے لئے عدلیہ کے خلاف بہت ہی زوردار قسم کی مہم جاری ہے۔ ابھی تو بہت سے غیر سیاسی لیکن کرپٹ لوگ احتساب کی زد میں آنے ہیں۔ اگر یہ جنگ جیت لی گئی تو پاکستان میں حقیقی تبدیلی کا ایک روشن دور آئے گا۔ جمہوریت اپنی تمام تر خوبصورتیوں کے ساتھ ہمیں اپنی دید سے سرفراز کرے گی اور معاشرہ اخلاقی طور پر بہتری کی جانب گامزن ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی مڈل کلاس کی نمائندگی بڑھنے لگے گی۔

آئیے مل کر تبدیلی کی اس آواز میں آواز ملائیں اور کسی قسم کے شکوک میں مبتلا ہوئے بغیر عدلیہ کا ساتھ دیں تاکہ اشرافیہ کے منہ زور گھوڑے پر لگام ڈالی جا سکے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے جبڑوں سے آزاد ہو کر نون لیگ بھی متوسط طبقے کی ترجمان کر اس جمہوری عمل کا ایک اہم حصہ بن جائے۔

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: