چامکا ——— اسٹیج کی دنیا کا خفیہ کردار بے نقاب: قسط 10

0
  • 3
    Shares

قانونی اور مجرم چامکے:
پروڈیوسروں سے ایڈوانس رقم حاصل کرنے، من پسند تھیٹر میں ڈرامہ لگانے اور ڈراموں میں کام نہ کرنے پر پروڈیوسروں کی جانب سے اداکارائوں کو ڈرانے کیلئے گھروں پر فائرنگ جیسے واقعات معمول بن چکے ہیں جس میں دبئی میں رہنے والے جرائم پیشہ افراد کی خدمات لینے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ ان جیسے ہی لوگوں سے متاثرہ ندا چودھری، خوشبو، ماہ نور اور گلوکارہ سائرہ نسیم کے گھروں پر فائرنگ کے واقعات ہوچکے ہیں۔
تھیٹر کی دنیا میں جرائم پیشہ افراد اور پولیس کی مداخلت اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب گھروں پر فائرنگ کے ساتھ بہت سی اداکارائوں کو اغوا کرنے کا سلسلہ بھی چلتا رہتاہے۔ لیکن تھیٹر سے وابستہ پروڈیوسروں اور فنکاروں کی ملی بھگت سے ایسے واقعات کو جان بوجھ کر منظر عام پر نہیں لایا جاتا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ فلم اور تھیٹر کی خوبرو اداکارائوں کے پولیس کے افسران سے ذاتی مراسم ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی افراد سے وابستگی بھی بلیک میلنگ اور نجی محفلوں میں مجرے کے پروگرام زیادہ ملنے پر حسد نے بھی جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں قتل یا تشدد جیسے واقعات کو پروان چڑھایا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے پولیس افسران خود اِن اداکارائوں کو جرائم پیشہ افراد سے مراسم بڑھانے پر زور دیتے ہیں اور ایسے لوگوں کی گرفتاری کے سلسلے میں ان حسینائوں کا سہارا لیا جاتا ہے جیسا کہ ماضی میں عاطف چودھری، طاہر پرنس، نوید لمبی والا سمیت جعلی مقابلوں میں پار ہونے والے ٹاپ ٹین جرائم پیشہ ہیں۔
٭٭
رنگین دینا کے سنگین چامکے:
فن کی دنیا میں جلوہ گر ہونے والی اداکارائیں اپنی پرفارمنس اور حسن و جمال کی بدولت لاکھوں دلوں پر راج کرتی ہیں تاہم بسا اوقات ان کی شہرت اور دولت ان کیلئے وبال جان بن جاتی ہے۔ ماضی میں کئی اداکارائیں تشدد کاشکار ہوئیں اور بعض فنکاراں کی زندگی کے چراغ گل ہو گئے لیکن آج تک انہیں خون کا حساب نہ مل سکا۔ اگر شوبز کی رنگین دنیا کی ورق گردانی کی جائے تو اداکارہ نادرہ، نگو، یاسمین خان، نیناں، نگینہ خانم، ماروی، کرشمہ شاہ، سنگم رانا اور بعض دیگر اداکارئواں کے نام سامنے آتے ہیں جنہیں بندوق کی گولی نے لقمہ اجل بنا دیا۔ اداکارائوں میں پہلا خونی واقعہ 1972ء کو بازار حسن میں پیش آیا جب اس زمانے کی مشہور رقاصہ و اداکارہ نگو کو ان کے حقیقی ماموں اور دو سازندوں سمیت بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ اداکارہ نیناں المعروف ٹیوب لائٹ کا فیصل ٹائون میں بہیمانہ قتل ہوا جس کا الزام آشنا (چامکے) پر آیا۔ اداکارہ نادرہ لبرٹی میں اس وقت گولی کا نشانہ بنیں جب وہ اپنے شوہر ملک اعجاز کے ساتھ گھر جا رہی تھیں۔ الزام ملک اعجاز پر بھی آیا لیکن ثابت نہ ہو سکا اور پھر یہ کیس قصہ پارینہ بن گیا۔ پشتو فلموں کی معروف اداکارہ یاسمین خان کی لاش پشاور میں ان کے گھر سے برآمد ہوئی جس کا الزام ان کے شوہر پر عائد ہوا لیکن کوئی شواہد نہ مل سکے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والی اداکارہ ماروی کی زندگی کا چراغ بھی گل کر دیا گیا۔ قتل کا الزام ان سے محبت کرنے والے پر آیا۔ قتل کا سب سے المناک واقعہ اداکارہ نگینہ خانم کا تھا۔ ان کے ہمراہ 7مزید افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے تاہم آج تک ان کے قتل کا سراغ نہ مل سکا۔ کرشمہ شاہ والدہ کی قبر پر فاتحہ خوانی کیلئے گئیں لیکن بندوق کی گولیوں نے انہیں واپس نہ آنے دیا۔ قاتل آج تک منظرعام پر نہ آ سکا۔ اسٹیج اداکارہ سنگم رانا گھر میں پراسرار طور پر ہلاک ہوگئیں جن کے قتل کے شبہ میں ان کے قریبی عزیزوں کو شامل تفتیش کر کے گرفتار کیا گیا تھا۔ چند ماہ قبل ریلیز ہونے والی فلم بیسٹ آف لک کی ہیروئن نشا ملک کی بھی اپنے گھر پر پراسرار طور پر مُردہ پائی گئی۔ اداکارہ عندلیب پر تیزاب پھینک کر ان کے دلکش چہرے کو بے رنگ کر دیا گیا، اس کا الزام ان کے ایک جاننے والے پر آیا۔ اسٹیج کی بدنام رقاصہ صائمہ خان پر بھی دو مرتبہ قاتلانہ حملہ ہوا مگر قسمت اچھی تھی جو اَب تک اپنے گرم رقص سے نئے چامکوں پر جال ڈال رہی ہے۔

نویں قسط یہاں ملاحظہ کریں  

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: