وزیر اعظم کی نااہلی پر فکری مباحثہ: سلمان عابد

0
  • 17
    Shares

اگرچہ نواز شریف سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے متفقہ فیصلہ کے تحت نااہل ہوگئے ہیں، لیکن بہت سے لوگ اس عدالتی فیصلہ کو متنازعہ بنا کر اس میں سازشی کھیل کو تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جو بیانیہ اس نااہلی پر نواز شریف او ران کی جماعت یا حکومت کا ہے وہی نقطہ نظر ہمیں سیاسی اور قانونی محاذ پر بھی بحث کی صورت میں نظر آتا ہے۔جو لوگ اس فیصلہ کو سازش سے جوڑتے ہیں ان کے بقول نواز شریف کی نااہلی کے پیچھے ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ کا کھیل ہے۔ اس کھیل میں طاقت ور اسٹیبلشمنٹ نے عدلیہ اور عمران خان کو بطو رہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ان کے خیال میں پس پردہ طاقتوں کا عدلیہ پر بڑا دباو تھا کہ وہ نواز شریف کو نااہل قرار دیں، کیونکہ نواز شریف اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے داخلی اور خارجی کھیل میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا تھا۔

یہ ہی وجہ ہے کہ اب عدالتی فیصلہ کے نتیجہ میں وزیر اعظم کی نااہلی کے بعد فکری محاذ پر مباحث کا سلسلہ نظر آتا ہے کہ عملی طور پر اسٹیبلشمنٹ نے جمہوری عمل کو کمزور کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف واقعی اتنے معصوم ہیں کہ ہمارے خیال میں ان کے خلاف جو تفتیشی رپورٹ جے آئی ٹی نے تیا ر کی وہ سب جھوٹ او رمفروضوں پر مبنی تھی یا اس رپورٹ کو بھی اسٹیبلشمنٹ نے چھ ارکان پر دباو ڈال کر اپنی مرضی سے لکھوائی ہے۔ بہتر ہوگا کہ اب اس کھیل کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں جے آئی ٹی کی تفتیش میں ہونے والی ویڈیو ریکارڈنگ سمیت والیم دس بھی عام پبلک کے لیے کھول دینا چاہیے، تاکہ لوگوں کو بہتر طور پر اندازہ ہوسکے کہ نواز شریف او ران کے خاندان نے دوران تفتیش کیا بات کی او ران سے کیا سوالات ہوئے۔اسی طرح والیم دس جس پر اب شریف خاندان خاموش ہے اور نہ اب مطالبہ کرتا ہے کہ اسے پبلک کیا جائے، مناسب ہوگا کہ وہ بھی سامنے لائی جائے۔

جو ہمارے دوست اس عدالتی فیصلہ کو نواز شریف اور ان کے خاندان کے لیے سازش سمجھتے ہیں وہ زرا ٹھنڈے مزاج سے عدالتی عمل کا جائزہ لیں کہ عدالت نے اس شریف خاندان کو صفائی کے لیے کیا کچھ مواقع نہیں دیے۔ بار بار عدالت یہ ہی کہتی نظر آئی کہ اگر آپ منی ٹریل سمیت کچھ بنیادی دستاویزات دے دیں تو ہم یہ مقدمہ ختم کردیں گے، لیکن شواہد ہوتے تو پیش کیے جاتے، نہ عدالت کو او رنہ ہی جے آئی ٹی ک وپیش کیے گئے اور نہ اب نیب کی عدالتوںمیں پیش کیے جاسکیں گے۔اصولی طور پر جے آئی ٹی کی رپورٹ کی بھی زیادہ بہتر طور پر تشہیر ہونی چاہیے کہ شریف خاندان کیا کچھ کرتا رہا ہے او ران کی شفافیت کہاں کھڑی ہے۔ جے آئی ٹی کی اس رپورٹ کو بھی پبلک ہونا چاہیے جو انہوں نے حکومت اور مختلف لوگوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں پر مبنی عدالت کو جمع کروائی تھی، تاکہ حکومتی چہرہ سب کے سامنے آسکے کہ کیا مافیا پر مبنی حکمرانی کیا ہوتی ہے۔

دلیل یہ دی جارہی ہے کہ وہ ایک منتخب وزیر اعظم ہے او ریہ حق صرف عوام کو ہے کہ وہ ان کو مسترد کرے۔ کیا مینڈیٹ ان کو حکومت کا ملاتھا یا کرپشن اور بدعنوانی کا بھی۔ کیا اگر آپ کے پاس پانچ برس کا مینڈیٹ ہو تو آپ کو قانون کی گرفت میں لانا جرم ہے۔ کیا اقتدار کے دوران آپ کا احتساب نہیں ہوسکتا۔ دنیا میں کئی وزیر اعظم اور صدر جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آتے ہیں کیا ان کو دوران اقتدار عدالتی فیصلوں پر گھر نہیں جانا پڑتا۔ یہ عجیب منطق ہے جو یہاں اہل دانش دیتے ہیں، اصل بات ایک سیاسی تقسیم کی ہے اور جو لوگ اب دلیلیں دے رہے ہیں کہ نواز شریف کو باہر نکال کر جمہوری بساط کو لپیٹا گیا ہے، حالانکہ جمہوری نظام چل رہا ہے، نواز شریف کی جگہ نئے وزیر اعظم آگئے ہیں اور یہ نظام اسی طور آگے بڑھے گا۔اگر مقصد سیاسی نظام کی بساط کو لپیٹنا ہی تھا تو صرف نواز شریف کی نااہلی کیوں،یہ کام تو مکمل طور پر طاقت ور طبقات کی جانب سے حکومت کا خاتمہ بھی ہوسکتا تھا۔

کہا یہ جاتا ہے کہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے میں رکاوٹ تھے، حالانکہ نواز شریف کی مجموعی سیاست اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہی چلتی ہے، 2013 کے انتخابات میں ان کی کامیابی کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا بھی ہاتھ تھا، نواز شریف اسی اسٹیبلشمنٹ سے ساز باز کے لیے اپنے بھائی شہباز شریف اور چوہدری نثار کی مدد سے اس سارے کھیل میں شامل رہے ہیں۔یہ ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ہی تھی کہ ان کو 2008 کے انتخابات سے قبل ملک میں سیاست کرنے کا موقع دیا گیا۔نواز شریف کا المیہ یہ ہے کہ وہ آتے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اور آکر سب سے سے پہلے اسی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراو کرتے ہیں۔یہ پہلی بار نہیں بلکہ ہر بار اقتدار میں آنے کے بعد ان کی ٹکراو کی پالیسی جاری رہتی ہے۔

ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ نواز شریف سویلین بالادستی کے حامی ہیں، حالانکہ ان کا جمہوری مقدمہ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں بہت کمزور ہے اور ان کی جمہوری روایات، عمل او راقدامات پر سب سے زیادہ آمرانہ اقدامات کی جھلک نظر آتی ہے۔اس لیے جو لوگ عدالتی فیصلہ میں اسٹیبلشمنٹ کے کھیل کو دیکھ رہے ہیں وہ زرا صبر کریں کچھ ہفتوں بعد جب نیب کے مقدمات مختلف عدالتوں میں چلیں گے اور یہ ہی قومی ادارے ان کے خلاف مقدمات پیش کریں گے تو لوگوں کو اندازہ ہوگا کہ آپ کی جمہوری وزیر اعظم اور سویلین بالادستی کا حکمران طبقہ یا خاندان کرپشن او ربدعنوانی کے کیا گل کھلاتا رہا ہے۔ جہاں تک لوگوں کو فکری معاملات میں گمراہ کرنے کا تعلق ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مضبوط وزیر اعظم کی نااہلی پر پورے ملک تو کیا محض ان کے تخت لاہور میں بھی لوگ باہر نہیں نکل سکے، اس سے زیادہ ایک مضبوط حکمران کا زوال کیا ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: