سوشل میڈیا پر گروہ بند دانشوری: محمود فیاض

0

فیس بک پر بہت سے برے اچھے رویے چل رہے ہیں، اور دنیا بدلتی رہتی ہے، اخلاقی اقدار بھی وقت کے ساتھ زمانے سے ہم آہنگ ہو جاتی ہیں۔ کبھی محبت فحاشی ہو جاتی ہے تو کبھی فحاشی محبت۔ زمانہ دریا کی طرح بہتا ہے، اور اسکی قسم خدا نے کھائی ہے۔

مگر ہمارا اردو طبقہ فیس بک پر بھی اپنے رویوں کا وہ رخ پیش کر رہا ہے جو صرف ہم برصغیر کے باسیوں کے لیے مخصوص ہے۔ ہم میں سے جو کسی وجہ سے لوگوں میں پذیرائی حاصل کر جاتے ہیں (اور یہ خدا کی عطا ہے) تو وہ اس پذیرائی کے ہیضے کا شکار ہو کر ایسے ایسے نمونے پیش کرتے ہیں کہ سر پھوڑنے کو پتھر کم پڑ جاتے ہیں۔ 

جمعہ جمعہ آٹھ دن کے “دانشور” شائد اس وہم کا شکار ہیں کہ چند ہزار لائیکس کی یہ فیس بکی دنیا میں جن رویوں کے امام وہ بن بیٹھے ہیں ، وہ انہی کی زرخیز زہن کی پیدا وارہیں۔ حالانکہ اردو ادب و دانشوری کے نام پر جو جو حلقہ بندی، اقربا پروری، اور ہنرکشی کی داستانیں انکے روحانی بزرگ رقم کر چکے ہیں، اسکے بعد اردو ادب اور لکھاری کی موت کو ہمارے ہاں روکا ہی نہ جا سکتا تھا۔ 

اب ان بزرگوں کی بجائے آپ حضرات (اور خواتین ) کو جو موقع ملا ہے، تو امید لگی تھی کہ آپ عالمی رویوں کے حامل ماحول کو اردو کے توسط سے ہمارے اس گدلے تالاب کو شفاف بنانے کی کوشش کریں گے۔ آپ چونکہ شاہ عالمی کی پرانی عمارتوں کے مخدوش کمروں میں سگریٹ پھونکنے کو دانشوری نہیں سمجھتے ہونگے، اور عالمی ائیرپورٹوں کے چکروں نے آپ کو سفر ناموں سے آگے دیکھنے کا موقع بھی فراہم کر دیا ہوگا، تو آپ اردو قاری کو ان عالمی اقدار سے بھی روشناس کروائیں گے جنکی وجہ سے انکی درسگاہیں اپنے دانشوروں کو سجدہ کرتی ہیں۔

۔مگر آپ کیا کر رہے ہیں ؟ 

پہلے حلقے ہوتے تھے، اور اپنے حلقے کی بات حرف آخر سمجھی جاتی تھی، سرخے اور سبزے کے لیبل لگائے جاتے تھے۔ اب فیس بک گروپ ہیں، یا جس کسی کو ایک ویب سائٹ بنانے والا بندہ میسر آ گیا ہے، اس کی ویب سائیٹ ہے۔ 

پہلے ایک حلقے کا افسانہ دوسرے حلقے کے لیے حرام ہوتا تھا، اب ہر ویب سائیٹ والے نے اپنے پسندیدہ لکھاری چن لیے ہیں۔ پہلے رسالے نکالے جاتے تھے، اور وہ ایک خاض ادارتی زہن کے تعصب کا شکار ہوتے تھے، اب پیج بنائے جاتے ہیں، اور واہ واہ کرنے والوں کا ہجوم اکٹھا کر لیا جاتا ہے۔ جو زرا علمی ادبی اختلاف بھی کرے تو اسکو بلاک کر کے شادیانے بجائے جاتے ہیں۔ 

فیس بک ایک عالمی پلیٹ فارم ہے، یہ فاصلوں اور وقت سے بے نیاز ایک ایسا ماحول مہیا کرتا ہے جہاں ہم لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں اکٹھے ہو کر عالمی مکالمے کا حصہ بن سکتے ہیں، مگر ہم اس میں بھی زات برادری، حلقہ بندی، گروہ بندی، یار باشی کی دیواریں کھڑی کرتے جا رہے ہیں۔ 

ایک گاؤں میں نئی نئی بجلی لگی، اور پہلا پہلا بل آیا تو بجلی کمپنی والے حیران رہ گئے کہ سب گاؤں والوں کا ایک یونٹ بجلی کا خرچ نہیں ہوا تھا۔ کمپنی نے تحقیقات کے لیے ایک نمائندہ بھیجا، جس نے گاؤں جا کر لوگوں سے سوال کیا کہ کیا وہ بجلی استعمال نہیں کرتے۔ گاؤں والے ہنسے، کہ کیا نامعقول سوال ہے، جب بجلی لگی ہے تو استعمال تو کریں گے، ہم سب ہی بجلی استعمال کرتے ہیں۔ تب نمائندے نے درخواست کی کہ اس بتایا جائے کہ گاؤں والے بجلی کیسے استعمال کرتے ہیں۔ گاؤں کا مکھیا آگے بڑھا اور بولا، “بابو، پہلے جیسے ہی رات ہوتی تھی، ہم ماچس ڈھونڈنے لگ جاتے تھے، لالٹین جلانے کے لیے۔ مگر اندھیرے کی وجہ سے ماچس ملتی ہی نہیں تھی۔ اب خیر سے ہر گھر میں بجلی ہے، جیسے ہی شام کا اندھیرا پھیلتا ہے، ہم فٹ سے بجلی کا بلب جلاتے ہیں، اور جھٹ سے ماچس ڈھونڈ لیتے ہیں۔ پھر بلب کو بجھا کے لالٹین کو جلا لیتے ہیں۔ ۔ ۔ بس ! اتی سی تو بات ہے”

تو ہم بھی کہیں ان گاؤں والوں جیسے ہی ہیں، ہم نے انٹر نیٹ اور فیس بک کا استعمال تو سیکھ لیا ہے، مگر اس سے ممکنات کے کیسے کیسے جہان روشن ہوتے ہیں، اس کو کھوجنے کی بجائے ہم اپنے تعصبات کی لالٹین جلا لیتے ہیں۔

دوستیاں ضرور کیجیے، کہ سوشل میڈیا ہے ہی اسی کا نام۔ مگر تعصبات کو مت پالیے۔ اپنی دوستی کی بنیاد پر تنگ نظری کا شکار مت ہو جائیے۔ یا اپنی تنگ نظری کی بنا پر گروہ بندی مت کیجیے۔  علاقہ، نسل، زات پات، برادری، حتیٰ کہ محکماتی، اور طبقاتی تعصب سے بلند رویوں کا مظاہر ہ اور اپنے اردگرد ایسے اچھے لوگوں کو جمع کر لیجیے جو آپ کو اچھائی کی طرف راغب کریں اور برائی سے روکیں۔ میرا اس سے ہرگز مطلب یہ نہیں کہ آپ تبلیغی جماعت والوں سے ہی اپنی فرینڈ لسٹ بھر لیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ایسے لوگ جو کسی تعصب کی وجہ سے آپکے غلط کو صحیح کہہ رہے ہوں، وہ آپ کے دوست نہیں ہو سکتے۔ اس سے آپ کی سوچ اور شخصیت چھوٹی رہ جاتی ہے۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی، واپس فیس بک کی دانشوری پر آتے ہیں۔ یہ ایک اچھا زریعہ ہے اپنے قریبی دوستوں سے زرا باہر نکل کر دنیا کو جاننے کا۔ اور اگر پذیرائی ملے تو اپنے نظریات و خیالات سے دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کا۔ اسکو اچھا ہی رہنے دیں۔ پرانے اور فرسودہ طریقے جو گروہ بندی کے لیے استعمال کیے جاتے تھے ان سے بچ کر ہی رہیے۔ اور اگر آپ کے حلقہ احباب میں کوئی ایسا کرتا پایا جائے تو بہتر ہے کہ کوئی بہتر گروپ تلاش کیا جائے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: