نااہلی اور قانونی نکات : فیصلہ خود کیجئے ۔۔ قاسم یعقوب

0

حال ہی میں سپریم کورٹ کی طرف سے ایک تاریخی فیصلہ سنایا گیا جس نے ایک دفعہ پھر ایوانِ اقتدار اور محلِ سیاست کے ستونوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اصل واقعہ کیا تھا اور کیا ہُوا ہے۔ ہمارے صحافی دانش ور جو رپورٹنگ اور کالم نما ’ذاتی‘ تبصرے کرتے کرتے اس وقت ’مکمل دانش‘ کے وارث بن چکے ہیں اس پوری صورتِ حال کو ’’ذاتی‘‘ تشریحات سے لبریز حقائق کی شکل میں پیش کر رہے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ سمجھایا جائے کہ اصل نکتہ کیا تھا اور کیا پیش کیا گیا ۔ کیا ہم پاکستان کو ایک قدم آگے لائے ہیں یا دو قدم پیچھے لے گئے ہیں؟ کیا یہ ’’فیصلہ‘‘ کسی اور کے ساتھ بھی ہو گیا تو کیا دانش وری کے دریا اسی رُخ پہ بہتے رہیں گے؟

ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وزیر اعظم کی نااہلی سراسر قانونی معاملہ تھا۔ یہ ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت میں پیش ہُوا۔ اس میں کسی بھی قسم کی ذاتی رائے، شَک و شبہ اور ذو معنویت نہیں ہونی چاہیے۔ ورنہ متنازعہ ہو جائے گا۔ آپ دیکھتے ہوں گے کہ مقامی عدالتوں کا کوئی متنازعہ، ادھورا، غیر متوازن اور تعصب زدہ فیصلہ کسی طرح بھی قابلِ قبول نہیں ہوتا بلکہ اُسے عدالتِ عالیہ میں اپیل کیا جاتا ہے اور اُسے منسوخ کروا لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات غلط در غلط فیصلوں پر ججوں کی ترقی کی بجائے تنزلی بھی ہوتی ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شریف فیملی کے خلاف احباب اس فیصلے پہ ہنسی خوشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جب کہ شریف فیملی کے حق والے اسے انصاف کا جنازہ قرار دے رہے ہیں۔ اصولی طور پر اسے خالصتاً قانونی نگاہ سے دیکھنا چاہئے اور ہم یہی کوشش کرتے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ پناما لیکس کے بعد عمران خان کی طرف سے وزیر اعظم کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک رٹ دائر کی گئی کہ پناما لیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں جو انہوں نے قبول بھی کر لی ہیں۔ ان کمپنیوں کے لندن میں دو فلیٹ ہیں۔ اس پر دو سوال کھڑے کئے گئے:
۱۔ یہ کمپنیاں وزیر اعظم کی ہی ہو سکتی ہیں۔ کیوں کہ یہ فلیٹ نوے کی دہائی میں خریدے گئے۔ اس وقت وزیر اعظم کے بچے نابالغ تھے۔
۲۔ ان کمپنیوں کی معاوضاتی مالک مریم نواز بھی ہیں جو وزیر اعظم کیdependent ہیں۔
پٹیشن میں یہ اپیل کی گئی کہ اگر یہ فلیٹ (کمپنیاں) نواز شریف کی نکل آتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انھوں نے اپنے Assets میں misdeclaration کی جس کی سزا ناہلی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر مریم نواز اس کی بینیفیشل اونر نکل آتی ہیں تو وہ نواز شریف کی Dependent ہونے کی وجہ سے خود بزنس ہولڈر نکل آئیں گی جس پر نواز شریف misdeclaration پر نااہل ہو جائیں گے۔
دوسری پٹیشن یہ تھی کہ اگرفلیٹ نوے کی دہائی میں لیے گئے ہیں تو ان کا مالک یقیناً نواز شریف ہی نکلے گا تو اس زمرے میں بھی وہ misdeclaration کا مرتکب قرار پائے گا یوں وہ نااہل ہو جائے گا
پٹیشن یہ نہیں تھی اور نہ یہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں ہے کہ وزیر اعظم کے بچوں کے پاس منی ٹریل نہیں یا وہ جعلی کاغذات رکھتے ہیں۔یہ سب کچھ احتساب عدالت میں پیش کیا جاتا ہے جس پر ٹرائل ہوتا ہے۔ (اور سپریم کورٹ نے پھر ریفر بھی کر دیا)
ہمارے ہاں بہت سے صحافی’’ دانش وروں‘‘ کو اصل پٹیشن کا نہیں پتا۔ اس لیے مجھے تفصیل سے بات کرنا ہوگی ۔
کیا پٹیشن یہ تھی کہ وزیر اعظم کے بچوں نے کرپشن کی، انھیں پکڑا جائے؟ ظاہری بات ہے اس کے لیے نیب میں ریفرنس ہوتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی کرپشن کو پکڑنے کے لیے پہلے ٹرائل ہوتا ہے۔ ٹرائل (قانون کی زبان میں) ایک پورا پراسس مانگتا ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے دانش وروں کو یہ بھی نہیں پتا کہ سپریم کورٹ صرف اپیلٹ کورٹ ہے جہاں پہلے سے آئے کئے ہوئے فیصلوں کو سنا جاتا ہے اور ہونے والے ٹرائلز کو جانچا جاتا ہے۔ مثلاً ہائی کورٹ سے ریفر ہونے والے کیسسز یا کسی بھی قسم کی محکمانہ کارروائیاں، ایف ایس ٹی کی حتمی کاروائیاں، سیشنز کورٹ کے فیصلوں کی ہائی کورٹ کی اپیلوں کے بعد سپریم کورٹ میں اپیلوں کے مقدمے وغیرہ۔ یہاں ٹرائل نہیں ہوتا۔ آپ حیران ہوں گے کہ پھر کرپشن کا کیس اور اس پر سزا کا حکم کیسے سپریم کورٹ دے سکتی ہے؟ تو جناب یہاں کیس کرپشن کا نہیں تھا یہاں پٹیشن ہی یہ تھی کہ نواز شریف کو نااہل کیا جائے۔کن بنیادوں پہ؟_____اس کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا کہ مریم نواز کا ایک لنک اور دوسرا نوے کی دہائی میں فلیٹوں کانواز شریف سے لنک۔
ظاہری بات ہے کہ پٹیشنر کو ثبوت لانے ہوں گے۔ جو ثبوت لائے گئے وہ مکمل طور پر ان دونوں الزامات کو لنک نہیں کر پا رہے تھے۔ مگر بچوں کا معاملہ کھل گیا۔ بچے منی ٹریل نہیں دے پارہے۔ بچے وضاحت نہیں کر پارہے۔ آہستہ آہستہ یہ سارا معاملہ سیاسی طور پر باپ (نواز شریف) سے جڑنا شروع ہو گیا۔ بچوں کے بیانات میں تضادات، منی ٹریل کی گم شدگی، قطری خط وغیرہ یہ سارا معاملہ بچوں کا تھا، بچے اگر وضاحت نہیں کر پا رہے تو انھیں ٹرائل کورٹ یعنی احتساب عدالت بھیجا جانا چاہیے کہ اصل معاملہ کیا ہے کھوج لگائی جائے اور احتساب عدالت کوئی فیصلہ کرے۔ سپریم کورٹ صرف اپیل کورٹ ہے، یہاں ٹرائل نہیں صرف اپیلیں سنی جاتی ہیں۔معاملات سیاسی بیانات میں الجھ گئے اور فیصلہ یہ آیا کہ وزیر اعظم نے جو اسمبلی میں سپیچ کی ہے کہ اس میں تضادات ہیں لہٰذا ہم دو جج انھیں نااہل کرتے ہیں۔ پٹیشن کیا تھی؟ پٹیشن تو یہ نہیں تھی کہ ان کے بیانات میں تضادات ہیں۔ یہاں بھی قانونی طور پر معاملہ دیکھا جانا چاہیے۔ کیا وہ اپنے Assets پرmisdeclaration کر رہے ہیں؟ میں اگر اپنے بچے کے بارے میں بتاؤں کہ میرا بیٹا فلاں رقم کا اکاؤنٹ رکھتا ہے اور اُتنی رقم اس کے اکاؤنٹ میں نہ ہو تو کیا میں جھوٹ کے زمرے میں آؤں گا؟ ظاہری بات ہے یہ میرا معاملہ نہیں،میرا ایک اندازہ ہی ہو سکتا ہے جس کا میں جواب دہ نہیں۔(میں قانونی بات کر رہا ہوں، بھلا یہ اخلاقی طور پر بہت بری ہی کیوں نہ ہو)نواز شریف نے سپیچ میں قطرمیں سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا تھا ،کی سزا انھیں نااہل ہونے سے اٹھانی پڑی۔البتہ اگر میں اپنے کسی Assetپر کسی قسم کی misdeclarationکروں تو اُس کی سزا واقعی مجھے نااہلی تو کیا جیل بھی ہونی چاہیے۔ کیوں کہ میں اپنے کسی سرمایے کو اسمبلی کے فلور پر درست نہیں بتا رہا۔ یہ اخلاقی اور سیاسی طور پر درست ہو سکتا ہے کہ اپنے بچوں کے بارے میں درست اور مکمل بات کرو مگر قانونی طور پر اس پر کیسے پکڑ ہو سکتی ہے اس کا جواب قانون کے لفظوں میں دینا چاہیے نہ کہ سیاسی اور اخلاقی بنیادوں پر۔
ان دو ججوں کے فیصلوں کے بعد ایک جے آئی ٹی بنائی گئی۔ جے آئی ٹی کا قیام کسی طرح بھی قانونی نہیں۔سپریم کورٹ ٹرائل نہیں کروا سکتی۔ جرح نہیں کروا سکتی۔قانونِ شہادت کے قوانین یہاں پورے نہیں ہو سکتے۔جی آئی ٹی سے خود کوئی فیصلہ لے کے اُسے اپیل نہیں سمجھ سکتی اور اس پر خود ہی کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی۔میں باربار قانون کی زبان میں بات کرنے کا کہ رہا ہوں سیاسی اور اخلاقی زبان میں نہیں۔
جی آئی ٹی نے تمام ریکارڈ پھر بچوں کے خلاف پیش کیا جب کہ پٹیشن یہ تھی یہ دوکمپنیاں بچوں کی نہیں والد کی ہیں جس پر misdeclaration کی بنیاد پر انھیں نااہل کیا جائے۔مزے والی بات سپریم کورٹ اس پٹیشن کو اپنے فیصلے کے وقت نظر انداز کر گئی۔ یعنی بچوں کا تمام معاملہ احتساب عدالت میں شفٹ کر دیا گیا اور مریم نواز کا dependent ہونے والا دعویٰ نہایت خاموشی سے گول کر دیا گیا۔ اس کا نام بھی دوبارہ نہیں لیا گیا جب کہ دوسرا دعویٰ لندن والے فلیٹ نوے کی دہائی میں نواز شریف کے تھے، بھی گول کر دیا گیا۔ ان کا دوبارہ نام بھی نہیں لیا گیا۔ اچھا تو پھر نواز شریف سے لنک کیسے پیدا ہو؟معاملہ تو وزیر اعظم کی نااہلی کا تھا۔ باقی معاملہ جو بھی تھا وہ سارا کا سارا سپریم کورٹ کا تھا ہی نہیں ۔ لنک کوئی نہیں ہے تواب یہ کیس تو ختم ہو گیا مگر اتنا ’رولا‘ جو ڈل چکا ہے وہ کیسے ختم کیا جائے؟
تو اس کا اختتام ایک اقامہ ہاتھ لگنے پہ ہو گیا۔ عربی لفظ ’اقامہ‘ اقامت سے نکلا ہے جس کا مطلب رہائش، مسکن، قیام کے ہیں___ اقامہ ہولڈر کو’ اقامت گزیں‘ بھی کہتے ہیں۔عرب ممالک میں نیشنلٹی نہیں دی جاتی۔ مگر اقامہ ہولڈرز کو آنے جانے میں سفری سہولیات کے علاوہ شہری سہولیات بھی دی جاتی ہیں۔ اقامے پر بھی قانونی بات کی جانی چاہیے محض ذاتی خواہشات کا تو کوئی علاج نہیں نہ وہ روکی جا سکتی ہیں۔ اقامہ ملتا ہی صرف انھیں ہیں جو ورک پرمٹ حاصل کریں۔ اور ورک پرمٹ کے لیے تنخواہ ملنا بھی ضروری ہے۔ یہ قانونی نکات ہیں جو پورے کرنے پڑتے ہیں۔ورنہ اقامہ نہیں ملے گا۔ آپ کو تنخواہ، کمپنی، اقامت اور بینک اکاؤنٹ تک دکھانے ہوں گے۔ یہ ہرگز Asset نہیں۔ اس کی نوعیت بالکل دوسری قسم کی ہے۔
عدالتِ عالیہ کے باقی ماندہ ججز نے اپیل کورٹ نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کاسارا معاملہ احتساب کورٹ بھجوا دیا اور ایک اقامہ پر وزیر اعظم کی نااہلی کا فیصلہ سنا دیا کہ اسے misdeclare کیا گیا۔
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر بچوں کا تمام معاملہ احتساب عدالت ہی جانا تھا تو سپریم کورٹ اس کی تفتیش کیوں کررہی تھی۔ ظاہری بات کہ نواز شریف سے لنک ڈھونڈنے کے لیے۔مگر لنک تو اقامہ کا ملا۔پھرکیوں اتنا ’’پینڈا‘‘ کاٹا گیا۔
دوسرا سوال یہ کہ پٹیشنر کہاں گئے؟مجھے تو خود لکھتے لکھتے بھول گیا تھا کہ یہ تو پٹیشن تھی اور قانونی طور پر پٹیشنر نے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے اگربارِ ثبوت بچوں پر آ گیا اور بچے بقول آپ کے ثبوت نہیں دے پارہے تو معاملہ خود بخود احتساب عدالت کی طرف ریفر ہو جاتا ہے اور آپ نے دیکھا کہ ایسا ہی کیا گیا۔مگر پٹیشن تو لنک ڈھونڈنے کی تھی وہ کہاں گئی؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ آپ نے ٹرین کو دھکا لگا دیا اور وہ خود بخود چلتے چلتے لاہور سے لالہ موسی پہنچ جائے۔ پٹیشنر خاموش اور مزے میں کونے میں جا بیٹھے اور کام خود بہ خود چلتا رہا۔
اس فیصلے کو اگر جانچا جائے تو قانونی حوالے سے کچھ مسائل نظر آ رہے ہیں:

۱۔ سپیچ پرکسی اور کی وضاحت پر نااہل نہیں کیا جا سکتا۔ 
۲۔ دو ججز نے پہلے ہی فیصلہ سنا کے پٹیشن کلوز کر دی تھی ان کو دوبارہ شامل کیسے کر لیا گیا
۳۔ جی آئی ٹی ٹرائل کورٹ بنائی گئی جو سپریم کورٹ کا قانونی اختیار نہیں۔ سپریم کورٹ صرف اپلیٹ کورٹ ہے۔
ٍٍٍ ۴۔ فریقین کے اعتراضات کے بعد تفتیشی افسران بدلے نہیں گئے۔ یہ قانونی حق کو سلب کیا گیا۔
۵۔ ایک محکمے کا نمائندہ ان کا نمائندہ ہی نہیں تھا وہ ریٹائرڈ آفیسر تھا۔
۶۔ جی آئی ٹی رپورٹ کو ہی احتساب عدالت میں ریفر کیا گیا جب کہ اس کے لیے الگ سے پٹیشن کا ہونا ضروری ہے۔
۷۔ کبھی عدالتِ عالیہ ٹرائل کو مانٹیر نہیں کر سکتی۔ جب کہ فیصلہ میں احتساب عدالت کو مانیٹر کرنے کا کہا گیا ہے۔
۷۔ دو ججز نے سپیچ پر نااہلی کی جب کہ باقی ماندہ ججز وزیر اعظم کی نااہلی اقامہ کی concealment پر کی۔ جب کہ فیصلہ متفقہ سنایا گیا۔اس میں پہلے فیصلے کو الگ سے مینشن نہیں کیا گیا۔

وزیر اعظم کی نااہلی سراسر قانونی معاملہ ہے۔عدالت عالیہ سیاسی نکات پر فیصلہ نہیں سنا سکتی۔ اس لیے احباب سے گذارش ہے کہ ذاتی آرا اور خواہشات ایک طرف رکھ کے تاریخ کے اس موڑ پر اپنا حصہ ڈالیے۔ تاریخ بڑی بے رحم اور سفاک ہوتی ہے۔ کسی کو نہیں چھوڑتی۔ اور جسے چھوڑتی ہے اُسے تادیر زندہ بھی رکھتی ہے اور اُس کی توقیر کی حفاظت بھی خود کرتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: