تشدد کی سائنس اور ضمیر برائے فروخت: احمد اقبال

0
  • 17
    Shares

  راقم الحروف کا موقف پاکستانی سیاست کےمعاملے میں بڑا واضح رہا ہے۔۔۔ کہ جس دن میرے کرنے کو کوئی کام نہ رہا ۔۔ نالیاں اور گٹر صاف کرنا تو اس اصول کی روشنی میں کہ”صفائی نصف ایمان ہے” بے حد قابل تعظیم پیشہ ہے۔ بہت سوچنے پر مثال ملی کہ خون کرنا۔۔ انسان کا یا انصاف کا۔۔ ایسا کام ہے جس کے مقابلے پر میں سیاست کرنے کو ترجیح دے سکتا ہوں۔۔۔۔ شاید تھانیدار بھی میں نہ بنوں۔۔ اس پیشے میں ہن تو برستا ہے لیکن دو کام ایسے ہیں جو میرے لئے ضرور ناممکن ہیں۔۔ ایک ہے ان افسروں، فرعونوں اورحکمرانوں کی حاشیہ برداری جن کی عنایت خسروانہ کے بغیر تھانیداری نہیں۔۔ اور دوسرا تشدد کے حربے آزما کر ہاتھی سے اعتراف کرانا کہ وہ چوہا ہے۔۔ ان حربوں کا شکار ہونے والے شہیدوں کے ورثا آئے دن ان کے لہو آلود خستہ تن لاشے کسی شاہراہ پر یا تھانے کے سامنے رکھے فریاد و فغان میں وقت ضائع کرتے نظر آتے ہیں۔۔ معلوم نہیں جن ماؤں کو کسی بے گناہ لخت جگر کے تڑپتے وجود سے جان کشید کرنے کے مناظر “لائیو” دکھاےؑ جاتے ہیں وہ راتوں کوکیسے سوتی ہیں۔۔ سوتی ہیں تو کیا خواب دیکھتی ہیں اورکتنے دن پاگل رہ کے مرتی ہیں۔

جبر و تشدد بھی وقت کے ساتھ سائنس بن گیا ہے۔ اعتراف جرم کی نامور درسگاہوں میں اول اول شاہی قلعے کی عقوبت گاہوں کا بہت چرچا رہا ۔اس میں حسن ناصر کو اولین “شہید” ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔۔ اس کے بعد  ہمارے سب ترقی پسندوں نے بشمول فیض احمد فیض کے شاہی قلعے کی زیرزمین عقوبت گاہوں میں مہمانی کا اعزاز حاصل کیا۔ اب کچھ عرصہ سے اٹک فورٹ کے نام کی شہر ہے جہاں تشدد کے جدید سائنسی حربے کسی کے “غائب” ہو جانے کے بعد آزمائے جاتے ہیں۔ اور وہ ایسے ہوتے ہیں کہ بازیافت ہو جانے والے کبھی لب نہیں کھول پاتے۔ حال ہی میں “بھینسا” بلاگر چلانے والے پانچ افراد غائب ہوئے تھے۔ ان میں “میں بھی کافر تو بھی کافر” لکھ کر نام کمانے والا شاعر اور غیرملکی شہریت رکھنے والا بھی تھا۔ کسی نے ایک لفظ نہیں کہا یا لکھا کہ آخر ان پر کیا بیتی۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ خاموشی ہی دراصل ان کے اہل و عیال کی جان و مال و آبرو کی ضمانت ہوتی ہے۔

بھٹو کیس میں اختلافی نوٹ لکھنے والے ایک جج صفدرنے راتوں رات راہ فرار اختیار کی تھی اور سنا ہے وہ بھیس بدل کے اور گدھے پر بیٹھ کے افغانستان کے راستے گئے تھے۔ شاید اس سے پہلے انہوں نے فیملی کو خاموشی سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہوگا۔۔ شنیدہ کہ بود مانند دیدہ۔۔۔۔ آسان اردو ترجمہ۔۔ دروغ بر گردن راوی ۔۔

جسٹس خلیل رمدے سے میں نے خود ٹی وی پر سنا کہ ان کو دو کروڑ کی آفر تھی لیکن انہوں نے کہا کہ میں میں نے سوچا دو کروڑ کتنے دن چلیں گے۔۔ زندگی تو گذر گئی اپنا نام اس فہرست میں کیوں لکھواؤں جس میں نظریہ ضرورت کے بانی جسٹس منیر کا نام سب سے اوپر ہے کہ میرے بچے اور ان کے بچے میری بے ضمیری پر شرمندہ ہوں۔۔ جیسے آج ضیا پر اس کی آنے والی نسلیں وہ سب برداشت کر رہی ہیں جو ان کے جد امجد کے بارے میں کہا اور لکھا جارہا ہے۔ رمدے نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ لندن کے ہسپتال میں کسی بیمار عزیز کی عیادت کو گئے تو منکر نکیر نے ان کا تعاقب کیا اور بعد میں اس بیمار عزیز سے بھی “پوچھ گچھ” کی۔۔ جب افتخار چوہدری اینڈ کمپنی زیر عتاب تھی تو یہ بھی سننے میں آیا کہ کسی جج پر دباؤ ڈالنے کیلئے اس کی صاحبزادی کی وڈیو فلم بنائی گئی۔ واللہ اعلم با لصواب۔۔

لیکن طے شدہ طور پر ہر شخص کی سب سے بڑی کمزوری اس کی فیملی ہوتی ہے اور سب سے بڑی طاقت پیسہ رکھتا ہے۔ کیا صحافی کیا ادیب کیا وکیل اور کیا جج۔۔ کس کو کٹھ پتلی نہیں بنایا جا سکتا ۔۔آج ہر شخص قول و فعل سے اشتہار بنا پھرتا ہے کہ میرا اپنا ضمیراب براےؑ فروخت ہے حضرات۔۔ لیکن حقائق بالاخر سامنے آتے ہیں۔۔ تاریخ نے ایک غیر مسلم چیف جسٹس کارنیلیس کو امر کیا جوتمام عمر لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں جیا اور وہیں مرگیا لیکن ان دو کمروں کو قومی یادگار کی حیثیت مل چکی ہے۔ میں نے دیکھی تو نہیں۔۔ سنا ہے اس کی پرانی کارآج بھی سپریم کورٹ کے احاطے میں یادگار کے طور پر موجود ہے۔ ایک بار اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ بنچ میں ارشاد کیا تھا (جب وہ نیازمندی میں چوہدری افتخار کے شوفر تھے) کہ ان میں سے کچھ نام مستقبل کے کارنیلیس ہوں گے۔۔۔۔۔ یعنی کارنیلیس استعارہ بن گیا ہے عدل و اںصاف کا ۔۔۔۔ لاہور میں مال کی طرف جانے والے ایک انڈرپاس پر لکھا ہے ” کارنیلیس انڈر پاس”۔۔ یہ تو کچھ نہیں۔۔۔ کیونکہ اسے مٹا کے ضیا انڈر پاس لکھا جاسکتا ہے ۔۔ لیکن نام جو تاریخ کے صفحات میں لکھا گیا باقی رہے گا۔۔۔ ثبت است بر جریدہؑ عالم دوام ما۔۔

ایک اور غیر مسلم چیف جسٹس بھگوان داس تھا۔ وہ تیرتھ یاترا (مقامات مقدسہ کی زیارت) کیلےؑ بھارت گیا تو اسے تمام سرکاری مراعات پیش کی گییؑں لیکن اس نے انکار کر دیا۔ وہ تصویر کہیں ضرور موجود ہوگی جس میں اس کی معمولی سوتی ساری میں ملبوس  ماسی نظر آنے والی بیوی ایک چھوٹے سے غریبانہ گھر میں کپڑے دھوکر سکھا رہی ہے۔ اس پر دباؤ ڈالا گیا کہ واپس نہ آےؑ۔۔ دباؤ کا مطلب بتانے کی ضرورت نہیں۔۔ مگر وہ آیا اور جب ائر پورٹ پر صحافیوں نے اسے گھیرا کہ سر 3 نومبر والے کیس کا کیا ہوگا؟ تو اس نے خاموش متانت سے کہا” سب ٹھیک ہو جاےؑ گا”۔۔ اور سب ٹھیک ہو گیا۔ آج ایک کمانڈو جنرل مفرور مجرم ہے اور غدار قرار دیا جا چکا ہے۔۔۔ مگر بھگوان داس کہاں ہے؟ وہ تاریخ میں زندہ ہے۔۔ کارنیلیس کی طرح ۔۔ جسٹس اے آر کیانی کی طرح ۔۔۔۔۔۔ جسٹس منیر کی طرح نہیں۔۔ جسٹس مولوی مشتاق  کی طرح نہیں۔۔ کیا عجب اتفاق ہے کہ دو تاریخ ساز باضمیر چیف جسٹس غیر مسلم ہونے کے باوجود اسلامی  قانون پر عبور رکھتے تھے۔۔

جو احباب اس پوسٹ کا رشتہ زبردستی عدالت عالیہ کے حالیہ فیصلے سے جوڑیں گے میں ان کو بلا تامل اغیار میں شامل کردوں گا۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: