آئی کیوز کی داستان (آخری حصہ) : لالہ صحرائی

0
  • 132
    Shares

دنیا کی 68.2 فیصد آبادی کا آئیکیو ایک جیسا ہے جو 100 پوائنٹس کے پندرہ اوپر یا پندرہ نیچے تک رہتا ہے، اس ±15 پوائینٹ کے فرق کو اسٹینڈرڈ ڈیوی ایشن SD-15 کہتے ھیں، یہ ایک طرح کی grace space ہے یعنی سو پوائینٹ کا ٹیسٹ دے کر اگر آپ 85 نمبر لیتے ہیں تو اسے بھی 100 جتنا ہی صحتمند سمجھا جائے گا، یعنی دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں، یہ گریس اس لئے دی جاتی ہے کہ ٹیسٹ کے دوران بعض اوقات بندہ بلاوجہ نروس ہوجاتا ہے، دوسروں کو دیکھ کر مرعوب ہوجاتا ہے یا کسی سوال میں زیادہ وقت صرف ہوگیا تو باقی سوال کرنے کا وقت نہیں بچتا۔

سائیکالوجی اس ہیومن ویک۔نیس کو اچھی طرح سمجھتی ہے اس لئے گریس دیتی ہے جیسا کہ بلڈپریشر لیتے وقت ڈاکٹر مریض کی نفسیاتی پوزیشن کو بھی کاؤنٹ کرتا ہے، مریض اگر خوفزدہ ہے، پیدل چل کر یا سیڑھیاں چڑھ کے آیا ہے تو اس کا بلڈ پریشر اصل مریضانہ لیول سے دو چار پوائنٹ زیادہ ہوتا ہے یعنی مرض کے طو پر اگر لیول 130 رہتا ہے تو سیڑھیاں چڑھنے کی وجہ سے 135 ہوجاتا ہے جو سانس نارمل ہونے کے بعد پھر 130 پر جا ٹھہرے گا۔

اسی طرح اگر آپ 115 پوائینٹ لے لیتے ہیں تو بھی اکڑنے کی ضرورت نہیں، سائیکالوجی یہ بھی جانتی ہے کہ آپ اس ٹیسٹ کیلئے ٹیکسٹ بک سے خاص طور پر تیاری کرکے آئے ہیں جو آپ کی اصل پوزیسیوو یا کونسٹینٹ انٹیلیجنس میں ایک عارضی ترقی ہے لہذا 115 بھی لگ بھگ 100 ہی سمجھا جاتا ہے۔

دنیا کی اڑسٹھ فیصد آبادی کا کم سے کم آئیکیو 85 پوائینٹ اور زیادہ سے زیادہ 115 پوائینٹ ہے جسے ڈیوی ایشن گریس کے ساتھ 100 جیسا صحتمند ہی سمجھا جاتا ہے، اسی بیل کروو پر 70 پوائینٹ سے کم اسکور لو۔آئیکیو اور 140 پوائینٹ کا اسکور ہائی آئیکیو گردانا جاتا ہے، اگر اس کمپاس کو تھوڑا سا اور کھول لیا جائے تو دنیا کی 95 فیصد آبادی 70 پوائینٹ سے 130 پوائنٹ کے درمیان رہتی ہے۔

001 to 070 – Low  IQ  or  mental  disorder
071 to 084 –  Borderline  mental  disorder
085 to 114 – Average  intelligence
115 to 129 – Above  average;  bright
130 to 144 – Moderately  gifted
145 to 159 – Highly  gifted
160 to 179 – Exceptionally  gifted
180 and up – Profoundly  gifted

گنیز بک آف ریکارڈ کے مطابق دنیا کا سب سے ہائیسٹ اسکور 228 پوائینٹس کا ہے جو دنیا کی سمارٹ ترین بچی Marlyn voz sawant نے دس سال کی عمر میں اسکور کیا ہے، یہ اسکور چونکہ دس سال کے ایج گروپ میں ہے اس لئے اس کا پروپورشنیٹ بڑوں کے حساب سے 185 پوائینٹس بنتا ہے یعنی چیس کے عالمی چیمپئین بوبی فشر کے قریب قریب جس کا اپنا آئیکیو 187 پوائینٹس ہے۔

اس ٹیبل میں جو لوگ 130 پوائنٹ رکھتے ہیں وہ آفیسر کلاس ہے جس میں بیوروکریسی، بزنس ایگزیکٹیوز اور ان کے ہم پلہ دیگر شعبوں کے آفیسرز اور مینیجرز وغیرہ شامل ہیں، اس سے دس پندرہ پوائینٹ اوپر تک ریسرچرز، اسکالرز اور پی۔ایچ۔ڈیز یا ان کے دیگر شعبوں میں ہم پلہ افراد شامل ہیں، آخری دو طبقات وہ ہیں جو دنیا کو کچھ ایسا کرکے دکھاتے ہیں کہ ان کا نام باقی رہ جاتا ہے، یہ لوگ دنیا کے movers & shakers ہوتے ہیں جو زندگی کو کوئی نیا رخ، نیا زاویہ، نیا عزم یا کوئی نیا موڑ دیتے ہیں، دنیا کی کل آبادی میں مختلف طبقات کا آئیکیو کیا ہے اس کا ایوریج چارٹ کچھ یوں ہے۔

Farmers,   Labours,  Drivers, Cooks, 85- 90
Operators,   Shopkeepers,   Policemen 91-109
Paramedical,   Clerks,   Skilled   Labours,   Salesman, 110-120
Teachers,   Business   &   Education   Executives 121-123
Engineers,   IT,   Mech. Elect   &   Other 124-127
CharteredAcctt.   GMs,   Finance,   Consultants 119-128
Beaurecrates,   Physicians,   Surgeons,   Lawyers 128-130
Professors,   Researchers,   Scholars,   Generals 131-134,
Pioneers,   Inventors,   Theorists 135-160
161 &   above   all   are   Philosophers   of   any   subject

Special   class:
Holders   of   any   IQ   alongwith 98+ percentile   can   be   assumed   as   Founders   of   ideologies  , Liberators,   Revolutionist   etc. They   are also   meant   to   be   High-IQ   Society.

یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ ماڈرن سائیکالوجی میں جو پچھلے چالیس سال میں وضع ہوئی ہے اس کے تحت اگر آپ کا آئیکیو ہائی ہے خواہ 160-200 پوائینٹ ہی کیوں نہ ہو تو بھی آپ ہائی آئیکیو سوسائٹی میں شمار نہیں ہوتے، ہائی آئیکیو سوسائٹی اسے کہتے ہیں جو آئیکیو ٹیسٹ میں 98+ پرسینٹائل حاصل کرتی ہے، پرسینٹائل فیصد سے کچھ مختلف چیز ہے، یعنی اگر آپ نے سو میں سے 98 سوال حل کر دئے تو یہ آپ کا پرسینٹ ہوگا جبکہ پرسینٹائل یہ ہے کہ آپ نے سو لوگوں میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہو، 97 لوگ آپ سے کم اسکور کریں تو آپ کا پرسینٹائل 98 ہوگا اور جو دو بندے آپ سے زیادہ اسکور کر رہے ہیں ان کا پرسینٹائل بالترتیب 99 اور 100 ہوگا، یہ صرف سمجھانے کیلئے کہا ہے جبکہ حقیقت اس طرح سے ہے کہ ایک سال میں لاکھوں لوگ آئیکیو ٹیسٹ دیتے ہیں، ان سب کا رزلٹ پھر اسی بیل شیپ ڈیوی ایشن چارٹ پر پرسینٹائل کے فریم میں رکھا جاتا ہے، جو لوگ ٹاپرز ہوں ان کا پرسینٹائل 98 سے اوپر جاتا ہے، ایسے لوگوں کی تعداد دنیا کی کل آبادی کا ایک فیصد ہوتی ہے، یعنی موجودہ آبادی میں تقریباً چھ کروڑ لوگ، یہ وہ لوگ ہیں جو اعلٰی سطح سے نظام چلاتے ہیں، ان میں دو ڈھائی لاکھ لوگ وہ ہیں جو نظام ترتیب دیتے ہیں اور چند ہزار وہ ہیں جو نظریہ، نظام یا اشیاء ایجادات کرتے ہیں۔

ہائی آئیکیو سوسائیٹیز میں آٹھ دس رجسٹرڈ سوسائیٹیز ہیں لیکن ان سب کے ممبرز درجن، دو درجن کے درمیان ہیں، ان میں بعض سوسائٹیز کا پرسینٹائل 99 سے بھی اوپر ہے، پاپولیریٹی کے حساب سے صرف دو سوسائیٹیز قابل ذکر ہیں، پہلے نمبر پر 999 ٹرپل نائین سوسائیٹی ہے اور دوسری مینسا انٹرنیشنل ہے۔

مینسا انٹرنیشنل mensa international کے پچاس ملکوں میں کل ممبرز ڈھائی لاکھ کے قریب ہیں، ہر وہ فرد جو کسی آئیکیو ٹیسٹ میں 98 پرسینٹائل سیکیور کرتا ہے وہ اس سوسائٹی کا ممبر بن سکتا ہے خواہ اس کی عمر اور آئیکیو کچھ بھی ہو۔

مینسا انٹرنیشنل کی ایک لڑکی سے سوال کیا گیا کہ اس ڈبل زیرو کی جگہ پر کیا آئے گا 1,2,4,7,11,00,22 اس سوال کا جواب اس لڑکی نے صرف ایک سیکنڈ میں دیا تھا، جواب ھے 16 اور لڑکی کا پرسینٹائل 98 ہے، عقلمند بندہ اس جواب کی وجہ خود تلاش کر سکتا ہے۔

اوور دی ٹاپ، ٹرپل نائین سوسائٹی Tripple Nine Society ھے جن کا آئیکیو 146 سے اوپر اور پرسینٹائل 99.9 ہوتا ہے، اسے TNS بھی کہتے ہیں، یہ سوسائٹی 1978 میں بنائی گئی تھی، اس کے اب تک کے کل ممبرز کی تعداد 1700 کے قریب ہے، ٹرپل نائین سوسائٹی کا منشور ہے۔

The   Triple   Nine   Society   is   committed   to   friendship,   communication,   the   adventure   of   intellectual   exploration,   and   a   greater   realization   of   individual   potentials.   It   neither   sanctions  the   imposition   of   one   person’s   philosophy   on   another   nor   subscribes   to   any   particular   philosophy   for   its   members.   It   will   strive   to   avoid   the   insularity   of mere   exclusiveness.   The   guiding   principle   of   the Society   is   democratic   and   collegial   rather   than   hierarchical.   The Society   will   remain   open   to   innovation   and   evolution.

یہ ایک فرینڈلی آرگنائزیشن ہے جو بڑے چھوٹے کی تخصیص کی بجائے جمہوری اور برابری کے اصول سے چلتی ہے، یہاں کسی فرد کو دوسروں پر اپنے نظریات ٹھونسنے کی اجازت نہیں، نہ ہی ہم اپنے ممبرز پر کوئی مخصوص نظریہ مسلط کرتے ہیں”

اگر آپ کی دلچسپی ابھی تک برقرار ہے تو اسی سبجیکٹ کے آئینے میں ہم ایک نظر اپنے معاشرے کی حالت کو بھی دیکھتے ہوئے چلتے ہیں۔

ہم ایک کاغذ پر ایک نقطہ لگاتے ہیں اور اس کی ویلیو 100 پوائینٹ مقرر کرتے ہیں، یہ ان لوگوں کا مقام ہے جو صحتمند ذہن رکھتے ہیں اور دنیا کی اڑسٹھ فیصد آبادی پر مشتمل ہیں، اس کے نیچے دو نقطے اور لگاتے ہیں جن کی ویلیو بالترتیب 85 اور 70 ہوگی، پھر ہم سو کے اوپر دو نقطے لگاتے ہیں جن کی ویلیو 160 اور 180 ہوگی، ان سب نقطوں کو ملا دیا جائے تو الف جیسا ایک عمودی خط بن جاتا ہے جس پر پانچ طبقات رہتے ہیں۔

اس خط پر جب ھم سو سے نیچے کی طرف سفر کریں گے تو سائیکالوجی کہتی ہے یہ زون ان لوگوں کا ہے جو ذہنی انتشار کا شکار ہیں، یہاں آپ کو وہ لوگ ملیں گے جو صرف شور کرتے ہیں، ان کا عمومی رویہ صرف لوگوں کو ڈسکس کرنا ہوتا ہے، فلاں ایسا ہے فلاں ویسا ہے، فلاں آوے ہی آوے، فلاں جاوے ہی جاوے، جب ہم واپس اوپر سو پر آئیں تو یہاں وہ لوگ ملیں گے جن کا کام واقعات کو ڈسکس کرنا ہوتا ہے۔

جب آپ سو سے اوپر کے طبقے کی طرف جائیں گے تو شور مزید کم ہو جائے گا کیونکہ یہ لوگ صرف آئیڈیاز کو ڈسکس کرتے ہیں، یہی لوگ ایجادات کرتے ہیں جن کا آئیکیو 160 کے آس پاس ہے، اس کے اوپر جائیں تو آپ کو 180 پوائنٹ والے لوگ ملیں گے جو آئیڈیاز ڈسکس نہیں کرتے بلکہ آئیڈیاز تخلیق کرتے ہیں، یہاں آپ کو کافی سکون ملے گا، اور ھر تاریخ ساز بندہ بھی یہیں ملے گا، رومیؒ ہوں، غزالیؒ ہوں، رازیؒ یا اقبالؒ اور یہیں آپ کو ارسطو صاحب بھی ملیں گے۔

ارسطو کو بابائے سائیکالوجی کہتے ہیں، ان کی کتاب De Anima سائیکالوجی پر پہلی کتاب مانی جاتی ہے، سائیکالوجی اور فزیالوجی کے باہمی ربط پر ارسطو کہتے ہیں کہ باڈی اور مائنڈ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں یعنی مائنڈ جسم کا ہی ایک حصہ ہے جس میں ذہانت دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک حصہ مادے پر مبنی ہے جسے passive intellect کہہ سکتے ہیں اور دوسرا حصہ کونسٹیٹوشن کی طرح ہے جسے active intellect کہہ سکتے ہیں۔

ارسطو کا کہنا ہے کہ ایکٹیو انٹیلیجنس، پیسیوو انٹیلیجنس سے علیحدہ نہیں ہو سکتی، یہ مکس بھی نہیں ہوتی، اسے زک نہیں پہنچائی جا سکتی، اور یہ اس کی نیچرل ایکٹیویٹی ہے، یہ غیرفانی ہے اور اس کے بغیر کچھ نہیں سوچا جاسکتا، نفسیات کا مادہ علم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، حصول علم کیلئے اگرچہ پانچوں حسوں کا ایکٹیو ہونا ضروری ہے لیکن نفسیاتی کیپیسٹی کے بغیر علم حاصل کرنا ممکن نہیں، ذہنی میکینزم بنیادی طور پر بیالوجیکل ہے اور نفسیات اس کا کونٹیٹیوشنل پارٹ ہے لہذا جسم اور نفسیات مل کر ایک یونٹ بنتے ہیں، اس نظریئے کو hylomorphic کا نام دیا گیا ہے۔

ارسطو کی بات کا یہ مطلب بھی لے سکتے ہیں کہ انسان کی عقل انسان کے مادی جسم میں بلکل اس طرح سے ہے جیسے گلاب میں خوشبو، گلاب مادہ matter ہے اور خوشبو ایبسٹریکٹ یا form ہے، گلاب ایک جسم ہے اور خوشبو اس کی روح یا اس کا کانسٹیٹیوشن ہے، اسی طرح انسانی جسم مادہ ہے اور عقل اس کی روح یا اس کا کانسٹیٹیوشن ہے۔
ارسطو کا مزید کہنا ہے کہ سوچنے کا عمل تصویر کا محتاج ہے، جانور کسی چیز کا صرف تصور کر سکتے ہیں لیکن انسان واحد مخلوق ہے جو سوچتا ہے، جاننا سوچنے سے مختلف عمل ہے، یہ ایک متحرک پروسیس ہے جو کائناتی حقیقتوں کا ادراک کراتا ہے، اس بات کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ ذہانت خداداد صلاحیت ہے جو انسانی ذہن کا ایکٹیو پارٹ ہے، یہ وہی خداداد صلاحیت ہے جس کی بنیاد پر انسان فرشتوں سے افضل قرار دیا گیا تھا، پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ایک بہتر سماج نہیں بنا سکتے۔

دوسری قسط میں ہم نے یہ بات پڑھی تھی کہ آئیکیو کے دو حصے ہیں پہلا جنرل آئیکیو یا فلوئیڈ انٹیلیجنس جس کے تحت زندگی کے عام معاملات کی طرف ہر بندے کا رویہ سمجھنے اور عمل کرنے میں ایک جیسا ہے، اور دوسرا حصہ کرسٹیلائزڈ انٹیلیجنس کا ہے جس کے تحت ہر بندہ صرف اپنے ٹریڈ کا ماسٹر ہے، فلوئیڈ انٹیلیجنس میں ہر بندہ ایک جیسا رویہ رکھتا ہے کیونکہ یہ حصہ انسانی جبلت پر مبنی ہے لیکن کرسٹیلائزڈ انٹیلیجنس میں ہر ایک کا رویہ اپنے سیکھے گئے ہنر کے اعتبار سے مختلف ہے، اس کی مثال یوں ہے کہ ایک کارپینٹر اور اسکالر اگر ایک سڑک پر جارہے ہوں اور سامنے سے مشتعل افراد کا ہجوم آرہا ہو تو یہ دونوں اپنے فلوئیڈ انٹیلیجنس آئیکیو کی بنیاد پر ایک جیسا سوچیں گے اور ایک جیسا ردعمل دیں گے یعنی مشتعل افراد سے بچنے کیلئے وہیں سے واپس ہو جائیں گے، لیکن اگر راستے میں دونوں کے سامنے کوئی پیشہ وارانہ ٹاسک آجائے تو دونوں اپنے فیلڈ یا کرسٹلائزڈ آئیکیو کے مطابق بیحیوو کریں گے۔

مثال کے طور پر گدھا گاڑی کا کچھ ٹوٹ گیا ہے تو کارپنٹر اسے مرمت کرکے دے سکتا ہے جبکہ اسکالر گدھا گاڑی کا مسئلہ سمجھنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا، اسی طرح اگر ایک طالبعلم گائیڈینس کیلئے رو رہا ہے تو اسکالر اس کا مسئلہ حل کر سکتا ہے جبکہ کارپینٹر اس کا مسئلہ سمجھنے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔

اگر ہم یہ بات فرض کرلیں کہ ہر انسان بنیادی طور پر عقلمند ہے تو پھر جھگڑوں کا سبب کیا ہے؟ یہ سارے جھگڑے صرف دو باتوں کی وجہ سے ہیں، پہلی بات یہ کہ جب انسان کرسٹل انٹیلیجنس سے متعلق معاملات کا فیصلہ اپنی فلوئیڈ انٹیلیجنس سے کرنا چاہتا ہے، دوسری وجہ یہ کہ جب انسان اپنے کرسٹلائزڈ انٹیلیکچؤل کردار سے انحراف کرتا ہے۔
اس کی مثال یوں ہے کہ کارپینٹر کہتا ہے کہ اسکالر کو پڑھانا نہیں آتا یہ جاہل بندہ ہے اس کی وجہ سے میرا بچہ فیل ہوگیا اور اسکالر کہتا ہے کہ کارپینٹر جاہل بندہ ہے اسے فرنیچر بنانا نہیں آتا اس نے جو فرنیچر مجھے دیا وہ چند ماہ میں خراب ہوگیا۔

یہ دونوں جھوٹ نہیں بول رہے بلکہ دونوں کے ساتھ یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے، اپنی شکائیت میں دونوں سچے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دونوں اپنی فلوئیڈ انٹیلیجنس کے ساتھ فیصلہ کر رہے ہیں اور اپنے اپنے نقصان کے غم میں دوسرے کا آرگومنٹ بھی اپنی فلوئیڈ انٹیلیجنس کی بنیا پر رد کر رہے ہیں جبکہ عام سمجھ یا فلوئیڈ انٹیلیجنس کی بنیاد پر صرف اعتراض، شکائیت یا سوال اٹھایا جا سکتا اور اس کا فیصلہ صرف کرسٹیلائزڈ انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔

اسکالر کہتا ہے کہ میں تو بیس بچوں کو لیکچر دیتا ہوں، انیس پاس ہوگئے لیکن اس کا بچہ فیل ہوگیا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ توجہ سے لیکچر نہیں سنتا تھا، اسی طرح کارپینٹر کہتا ہے کہ میں نے تو ہزاروں لوگوں کو فرنیچر بنا کے دیا ان کا تو خراب نہیں ہوا اس کا مطلب ہے کہ اسکالر نے فرنیچر کو مس ہینڈل کیا ہے، یہ دونوں اپنے اپنے آرگومنٹ کو صحیح قرار دیں گے اور دوسرے کے آرگومنٹ کو نہیں مانیں گے۔

اس جھگڑے میں دو پروفیشنلز ہی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں، ایک دوسرا پروفیسر سب بچوں کے پیپرز دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ انیس بچوں نے وہ سوال حل کئے ہیں جو نصاب میں پڑھائے گئے اس لئے کارپینٹر کا بچہ غلطی پر ہے، اسی طرح دوسرا کارپینٹر فرنیچر کو دیکھ کر فیصلہ کر سکتا ہے کہ لکڑی خراب تھی یا بارش کے پانی سے خرابی واقع ہوئی ہے، ایک سو پروفیسر مل کر بھی فرنیچر کا فیصلہ نہیں کر سکتے اور ایک سو کارپینٹر مل کر بھی تعلیمی معیار کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔

لیکن اگر صورتحال یوں بن جائے کہ اسکالر واقعی کام چور نکلے اس کی ساری کلاس نالائق ثابت ہو لیکن ہر پروفیسر اپنے ساتھی کی عزت بچانے کیلئے جھوٹ بولے اسی طرح کارپینٹر واقعی بددیانت نکلے لیکن سارے کارپینٹر اپنے شعبے کی عزت بچانے کیلئے جھوٹ بولیں تو یہ ان طبقات کا اپنے کرسٹلائزڈ انٹیلیکچؤل کردار سے انحراف ہوگا۔

ہمارے معاشرے کی طبقاتی کشمکش انہی دو باتوں کی آئینہ دار ہے، ایک طرف ہم اپنے کرسٹیلائزڈ انٹیلیکچؤل کردار سے انحراف کرتے ہیں تو دوسری طرف ہم کرسٹیلائزڈ سطح کا فیصلہ فلوئیڈ انٹیلیجنس کے حساب سے کرنا چاہتے ہیں، شائد اگلی نسل آئیکیو کی بجائے EQ اور Empathy پر عمل کرنے والی نکلے تو ہمارے معاشرتی مسائل بھی حل ہو جائیں۔

یقین کر کہ یہ کہنہ نظام بدلے گا
مرا شعور، مزاجِ عوام بدلے گا
نفس نفس میں شرارے سے کروٹیں لیں گے
دلوں میں جذبہء محشر خرام بدلے گا
دل و نظر کو عطا ھوں گی مستیاں ساغر
یہ بزمِ ساقی، یہ بادہ، یہ جام بدلے گا


پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: