مرد یا عورت: اکیاون فیصد کا مفروضہ

0
  • 12
    Shares

جرمنی کے نازی وزیر اطلاعات گوئبلز سے منسوب مشہور بات اکثر سننے میں آتی ہے کہ “جھوٹ کو اتنی بار دہراؤ کہ لوگ  اسے سچ سمجھنے لگیں”۔  ہر قوم و ملک کے اپنے تراشے ہوۓ ایسے سچ اور جھوٹ ہوتے ہیں جو کہ اس مقولہ پر صادق آتے ہیں۔ ہمارے ملک و معاشرے میں بھی ایسے بے شمار واقعات مل جاتے ہیں، خاص طور پر نصاب میں شامل تاریخی واقعات جو کہ ایک مخصوص زاویہ کے مطابق تراشے گۓ ہیں۔

ایسے واقعات سے قطع نظر ہر معاشرے میں چند مفروضے اتنی دفعہ دہراۓ جاتے ہیں کہ وہ حقائق کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔  ایسا ہی ایک مشہور مفروضہ پاکستان میں صنفی تناسب کا ہے۔  عمومی خیال یہ ہے کہ پاکستان میں خواتین کا تناسب مردوں سے زیادہ ہے۔ 

گو کہ صحیح تعداد تو کوئی نہیں بتاۓ گا مگر عام خیال جو کہ اکثر کے دلوں میں راسخ ہو چکا ہے اس کے مطابق پاکستان میں خواتین کی تعداد کل آبادی کا اکیاون یا باون فیصد ہے۔

حیران کن طور پر معاشرے میں سرگرم (کسی حد تک متحارب) متضاد فکری حلقے بھی اس مفروضہ پر کسی حد تک متفق نظر آتے ہیں۔ چاہے حقوق نسواں کے علمبردار ہوں یا رجعت پسند حلقے عمومی طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں صنفی تناسب خواتین کے حق میں ہے۔ دونوں حلقے اس مفروضہ کو اپنے نظریہ یا تعلیمات کے حق میں تاویل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

 حقوق نسواں کے علمبردار اکثر اس بات کا پرچار کرتے پاۓ جاتے ہیں کہ ملک کی اکثریتی آبادی  (یعنی اکیاون فی صد خواتین) کو گھر بٹھا کر معاشی خود کفالت کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس رجعت پسند حلقے اس مفروضہ کو کثرت الازدواج  کے حق میں دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ایک مقبول عام دلیل جو اس سلسلے میں پیش کی جاتی ہے کہ “کیونکہ صنفی توازن خواتین کے حق میں ہے لہذا ہر مرد کو ایک سے زیادہ خواتین سے نکاح کی عام اجازت ہونی چآہیے”

سو مجموعی طور پر یہ مفروضہ بار بار دہرانے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ایک حقیقت جیسا درجہ رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ چند برس قبل ایک بڑے میڈیا گروپ کے خبری (نیوز) چینل پر بڑے دھوم دھڑکے سے ففٹی ون پرسنٹ (51٪) کے نام سے آدھ گھنٹے کا ہفتہ وار پروگرام پیش کیا جاتا رہا۔ اس پروگرام کی خاتون میزبان ہر پروگرام میں متعدد بار اس بات کو دہراتی کہ پاکستان میں صنفی توازن اکیاون فیصد کے حساب سے خواتین کے حق میں ہے۔ یہ تو نہیں پتا کہ اس چینل کے بزرجمہروں کے پاس وہ کونسے اعدادوشمار تھے جس کی بنیاد پر وہ یہ غلط دعویٰ کرتے رہے مگر اصل اعداد و شمار اس مقبول عام مفروضہ کی نفی کرتے ہیں۔یقینی طور پر اس طرح کے غلط مفروضوں پر مبنی پروگرام ہمارے برقی میڈیا کی اہلیت اور ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔

حقیقت میں ہمارے ملک میں خواتین کی آبادی کا تناسب کتنا ہے اس کے لیے سرکاری طور پر جاری کردہ مردم شماری کے اعدادوشمار سے باسانی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

قیام پاکستان (1947) سے اب تک پانچ بار مردم شماری ہو چکی ہے جس کے نتائج بآسانی دستیاب ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد پہلی مردم شماری 1951 میں ہوئی۔ دوسری مردم شماری 1961 میں مکمل ہوئی۔ تیسری مردم شماری مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجہ سے اپنے مقررہ وقت 1971 کی بجاۓ ایک سال تاخیر سے 1972 میں مکمل ہوئی۔ چوتھی مردم شماری 1981 میں انجام پائی۔ 1981 کی مردم شماری پر چھوٹے صوبوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا گيا اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ 1991 کی پانچویں مردم شماری ابتدائی خانہ شماری کے بعد منسوخ کر دی گئی۔  قدرے تاخیر کے بعد پانچویں مردم شماری 1998 میں انجام پذیر ہوئی۔ 1998 کے بعد چھٹی مردم شماری اس وقت 2017 میں زیر تکمیل ہے جس کے نتائج ابھی میسر نہیں۔

درج ذیل جدول میں پاکستان کی تمام مردم شماری کے نتائج  بمعہ صنفی تناسب دیکھے جا سکتے ہیں

٭صنفی تناسب: مرد فی سو خواتین

ان اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ سے صنفی تناسب خواتین کی بجاۓ مردوں کے حق میں ہے۔ 1998 کی آخری مردم شماری کے مطابق خواتین کی تعداد کل آبادی کا 47.97 فی صد حصہ تھی جبکہ صنفی توازن 108.5 کے حساب سے مردوں کے حق میں تھا۔ یعنی کہ ہر 100 خواتین کے مقابلے میں 108.5 مرد موجود تھے۔

مردم شماری کے اعداد وشمار ایک اور رجحان کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین کا تناسب بتدریج بڑھ رہا ہے جبکہ مردوں کا تناسب کم ہورہا ہے۔ مگر کسی بھی مرحلہ پر خواتین کا تناسب مردوں سے زیادہ نہیں رہا۔ سو ایسے میں جب کہ تمام دستیاب اعدادوشمار اس مفروضہ کی نفی کرتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین کا تناسب اکیاون یا باون فیصد ہے، یہ سوال یقینی طور پر اٹھتا ہے کہ اس غلط مفروضہ کو کیونکر قبولیت حاصل ہوئی؟

گو اسکا کوئی حتمی جواب تو نہیں دیا جا سکتا، مگر کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تحقیق کارجحان خاصا کم ہے اور سنی سنائی بات کو آگے دہرا دینے کا چلن ہے۔ سو ایسے میں متعدد بار دہرائی گئی کسی بات کے قبول عام حاصل کرنے کا خاصا امکان ہوتا ہے۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: