اقبال کی نجی زندگی پر رکیک حملوں کا جواب: اعجاز الحق اعجاز

1
  • 330
    Shares

حال ہی میں ایک معاصر ویب سائٹ پر ڈاکٹر خالدسہیل کا ایک مضمون بعنوان ’’علامہ اقبال : ایک محبوبہ، تین بیویاں اورچار شادیاں‘‘ شائع ہوا۔

مضمون کے آغاز میں علامہ اقبال اور موہن داس کرم چند گاندھی کا موازنہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ’’ موہن داس گاندھی تو لندن آکر بھی گوشت، شراب اور عورت سے مجتنب رہے لیکن اقبال نے مغرب کی نعمتوں سے پوری طرح استفادہ کیا اور نئی دوستیاں بنانے اور نبھانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی۔ ‘‘ یوں علامہ صاحب کے حوالے سے غلط تاثر پیدا کرنے کی ایک دانستہ کوشش کی گئی ہے۔ لگتا ہے ڈاکٹر خالد سہیل نے موہن داس گاندھی کی زندگی کا بنظرِ غائر مطالعہ نہیں کیا۔ اگر وہ ایسا کر سکتے تو یہ ضرور ملاحظہ کرتے کہ اکثر دوگوپیاں گاندھی جی کی بغلوں میں رہتیں البتہ وہ پارسائی کا ڈھونگ رچانے میں بڑے تاک تھے۔ اقبال نے کبھی اپنے آپ کو پوتر ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کی زندگی جو کچھ بھی ہے ہمارے سامنے ہے۔ علامہ اقبال پر بھی ایک رومانی دور آیا تھا اور وہ بھی مجازی عشق کی منازل سے گزرے تھے مگر انھوں نے خود کو بہکنے سے بچائے ہی رکھا۔ گاندھی نے لندن میں کس حد تک اپنے آپ کو بہتی گنگا سے بچائے رکھا اس کا احوال خداہی جانتا ہے یا گاندھی اور تیسرے شخص جو اس پورے قضیے کی ہر تفصیل سے آگاہ ہیں وہ ہیں ڈاکٹر خالد سہیل کہ وہ لندن میں گاندھی جی کے اتنا ہی نزدیک تھے جتنا کہ گاندھی جی کا اپنا سایہ۔ مگر ہم اقبال کے متعلق اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ان سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی نہ چھوٹے۔ گاندھی کا اقبال سے موازنہ نہیں بنتا کہ اقبال نے کبھی ان منافقتوں کا مظاہرہ نہیں فرمایا جن کا مظاہرہ گاندھی جی تمام عمر کرتے رہے۔ اقبال اپنے آپ کو تمام عمر اپنی تمام تر پارسائی کے باوجود رند ہی کہتے رہے۔ مگران کے عشق ِ مجازی میں ہمیں فراق ہی فراق نظر آتا ہے اور وصل کی کوئی واقعاتی شہادت ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ ہم یہاں علامہ اقبال کی شادیوں کے متعلق بات نہیں کریں گے کہ ڈاکٹر خالد سہیل کے مضمون ہی میں ان کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب مضمر ہے۔ اس تذکرے میں اقبال بہت سے ازدواجی مسائل میں پھنسے ہوئے نظر آتے ہیں اور تما م شادیوں کی ناگزیر وجوہات مصنف خود ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں یوں میں اقبال سے تنفر پیدا نہیں ہوتا البتہ ان سے ہمدردی ضرور ہونے لگتی ہے۔ اقبال شادی کا ایک مخصوص تصور رکھتے تھے، انھوں نے خود ایک جگہ لکھا ہے کہ وہ شادی کو ذریعہ عیش و عشرت نہیں بلکہ صالح اولاد کی افزائش کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

 ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنے مضمون میں عطیہ فیضی کے حوالے سے جان بوجھ کر حقائق کو توڑ نے مروڑنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:

’’عین ممکن ہے کہ وہ دل کے نہاں خانوں میں عطیہ فیضی کو اپنانا چاہتے ہوں لیکن اتنی جرات رندانہ نہ رکھتے ہوں کہ اپنی محبت کا کھل کر اظہار کر پائے ہوں۔ انھوں نے اشارتاً تو لکھا کہ وہ اپنی بیوی سے ناخوش ہیں لیکن عطیہ فیضی بھی ایک تجربہ کار اور جہاندیدہ عورت تھیں۔ وہ ایک دکھی شاعر، رنجیدہ فلاسفر اور پریشان حال شوہر سے ہمدردی تو کر سکتی تھیں انھیں اپنا شریک حیات نہیں بنانا چاہتی تھیں۔ انھیں اندازہ تھا کہ انھیں دوسری بیوی سے زیادہ ایک نفسیاتی معالج کی ضرورت تھی۔ عطیہ فیضی اقبال کی مداح ضرور تھیں لیکن جذباتی اور سادہ لوح نہیں تھیں۔ ‘‘

موصوف کا مضمون اسی قسم کی بے سروپا قیاس آرائیوں سے مزین ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ عطیہ بیگم علامہ صاحب کی طرف زیادہ ملتفت تھیں اور ان سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علامہ صاحب کی طرف ہی سے پیش قدمی میں کمی رہ گئی وگرنہ یہ شادی آسانی سے پایہ تکمیل تک پہنچ سکتی تھی۔ چناں چہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ عطیہ بیگم نے متعدد مرتبہ علامہ اقبال کو جنجیرہ آنے کی دعوت دی مگر علامہ اقبال نہیں جا سکے۔ اگر علامہ اقبال عطیہ سے شادی کے لیے اتنے ہی بے تاب ہوتے تو وہ ضرور جنجیرہ جاتے۔ وہ عطیہ کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں :

’’جنجیرہ آنے کی کی دعوت کے لیے آپ، نواب صاحب اور بیگم صاحبہ کا ممنون احسان ہوں۔ یہ دعوت میرے لیے مسرت و منفعت کی سرمایہ تھی لیکن آپ جانتی ہیں میں نے حال ہی میں اپنا کاروبار شروع کیا ہے اور اسی لیے میری یہاں موجودگی اشد ضروری ہے۔ ‘‘

اسی خط میں اقبال لکھتے ہیں کہ ستمبر میں جب چیف کورٹ میں تعطیلات ہوں گی تو ان کے لیے جنجیرہ آنا ممکن ہو گا۔ وہ اگلے سال کے یعنی مارچ 1910 میں حیدر آباد تشریف لے گئے اور ان کو جنجیرہ آنے کی دعوت دی گئی تو وہ تب بھی وہاں نہ جا سکے۔ اس خط کے جواب میں عطیہ اقبال سے یہ شکوہ کرتی ہیں کہ وہ انھیں بار بار فراموش کررہے ہیں۔ جس کے جواب میں اقبال لکھتے ہیں ’’مجھے اندیشہ ہے کہ آپ میری نیت اور میرے عمل کے متعلق ایک افسوس ناک غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ ‘‘

ایک اور خط میں وہ لکھتے ہیں ’’نواب صاحب اور بیگم صاحبہ تک میرا پیغام پہنچا دیجیے اور ان سے کہیے کہ میری فروگذاشت کو لاپرواہی پر محمول نہ کریں۔ ‘‘

ان خطوط سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عطیہ بیگم ہی نہیں ان کے والدین بھی اقبال کے لیے چشم ِ براہ تھے۔ اگر عطیہ ایک’’ دکھی شاعر، رنجیدہ فلاسفر اور پریشان حال شوہر ‘‘ کو شریک حیات نہ بنانا چاہتی تھیں تو ان کے پورے خاندان کی طرف سے اقبال کو اپنے ہاں آنے کی بار بار دعوت کیوں دی جا رہی تھی ؟

اقبال عشق مجازی کی ان کیفیات سے ضرور گزرے مگر جلد ہی باہر بھی آگئے۔ ان کے پیش نظر ان کی ذاتی زندگی اور اس کے دکھ نہ تھے بلکہ ایک قوم تھی جس کے دکھوں کا انھوں نے مداوا کرنا تھا۔ چناں چہ انھوں نے اپنی ذاتی زندگی کو پس پشت ڈال دیا اور اس دور کی تمام رومانی کیفیات کو دل کے نہاں خانوں میں کہیں دفن کر کے خود کو ملت کے لیے وقف کر دیا۔ عطیہ نے ان کی نجی زندگی کو ایک المیہ قرار دیا ہے لیکن اقبال کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ایک مضبوط شخصیت کے مالک تھے۔ وہ جلد ہی اس المیے سے اپنی مضبوط قوت ارادی کے بل بوتے پر نکل آئے۔ پروفیسر محمد عثمان اپنے ایک مضمون ’’حیات اقبال کا ایک جذباتی دور ‘‘ میں لکھتے ہیں :

’’اقبال کے مزاج اور شخصیت میں خود اعتمادی اور توازن پسندی کی جو شان تھی اس نے ان کو یاس اور احساس نامرادی کی تلخیوں اور تاریکیوں سے بچا لیا۔ اس کی بجائے ان میں ایک خاص نوع کی دل سوزی اور دردمندی ابھر آئی جو اپنے سوز و گداز اور درد و داغ کے باوجود صحت مند اور رجائیت پسند تھی۔ یہ صحت مند گداز جو اقبال کی شخصیت اور شاعری کا مایہ امتیاز ہے اور جس کی بدولت ان کے فکر کو جذبہ کا رنگ و آہنگ نصیب ہوا، اگرچہ اور سر چشموں سے بھی فیض یاب ہوتا رہا وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے عشق رسول، عشق ملت، عشق انسانیت اور عشق باری تعالیٰ کی تمام ضروری اور حیات بخش منزلیں طے کیں اور ان کا قلب ان تمام اعلیٰ لطیف اور نازک کیفیات سے آشنا ہوا جنھیں بجا طور پر انسانیت کی ایک معراج قرار دیا جا سکتا ہے۔ ‘‘

وہ مزید لکھتے ہیں :

’’لیکن جس طرح اظہار ِ محبت اور انداز محبت میں ان کی انفرادیت مسلم ہے، اسی طرح اس میں ناکامی یا تشنہ کامی کو برداشت کرنے اور انسانی نفسیات پر اس عمیق اور صحت مند اثرات کو جاننے پہچاننے میں وہ منفرد ہیں۔ اس حادثہ عشق کا آغاز اگر جذبات انگیز تھا تو اس کا انجام بصیرت افزا اور نظر افروز ثابت ہوا اور اس کی بدولت اردو شاعری کو فکر وجذبہ کی وہ ندرت اور ثروت نصیب ہوئی جو اسے میرو غالب کے ہاتھوں میسر نہ آتی۔ ــ‘‘

ڈاکٹر خالد سہیل کی ذہنی گراوٹ کا اس بات سے اندازہ کیجیے کہ انھوں نے مسز ڈورس احمد جوعلامہ صاحب کی بیوی سردار بیگم کے انتقال کے بعد ان کے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے جاوید منزل میں مقیم رہیں ان کو بھی اسی زمرے میں دیکھنے کی جسارت کی ہے۔ 

ا قبال نے جاوید اقبال اور منیرہ کی نگہداشت کے لیے پروفیسر رشید احمد صدیقی اور چند دوسرے دوستوں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے علی گڑھ سے ایک جرمن خاتون مسز ڈورس احمد کو بلوانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اقبال نے جرمن خاتون اس لیے اپنے بچوں کی نگہداشت کے لیے منتخب کیا کیوں کہ ان کے خیال میں جرمن خواتین بہت سلیقہ شعاراور نظم وضبط کی پابند ہوتی ہیں اور بچوں کی بہتر تربیت کی اہلیت رکھتی ہیں۔ ڈورس احمد بھی ایک نہایت مہذب اور سلیقہ شعار خاتون تھیں۔ وہ اردو بول سکتی تھیں اور اسلامی معاشرت سے بھی ان کو اچھی خاصی واقفیت تھی۔ وہ علی گڑھ یونی ورسٹی کے ایک پروفیسر کی بیوی کی بہن تھیں اور کچھ عرصے سے علی گڑھ ہی میں رہ رہی تھیں۔ چناں چہ ڈورس احمد جولائی 1937 میں جاوید منزل تشریف لائیں۔ یہ وہ ایام تھے جب اقبال بہت علیل تھے۔ انھی دنوں وہ عبداللہ چغتائی کے نام اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں : ’’بحیثیت مجموعی ایک دائم المریض کی زندگی بسر کر رہا ہوں۔ تاہم صابر اور شاکر ہوں۔ انشاء اللہ جب موت آئے گی تو مجھے متبسم پائے گی۔ قصد تو یہ تھا کہ زندگی کے باقی دن جرمنی اور اٹلی میں گزار وں، مگر بچوں کی تربیت کس پر چھوڑوں، خصوصاًجب کہ میں ان کی مرحوم ماں سے یہ عہد کر چکا ہوں کہ جب تک یہ بالغ نہ ہو جائیں ان کو اپنی نظر سے اوجھل نہ کروں۔ ان حالات میں یورپ کا سفر اور وہاں کی اقامت ناممکن نہیں تو محال ضرور ہے۔ اگر توفیق الٰہی شامل حال رہی تو زیادہ سے زیادہ مکہ ہوتا ہوا ممکن ہے مدینہ تک پہنچ سکوں۔ اب مجھ سے گنہگار کے لیے آستان رسالت ﷺ کے سوا اور کہاں جائے پناہ ہے۔ ــ‘‘

ڈاکٹر جاوید اقبال زندہ رود میں لکھتے ہیں :’’مسز ڈورس احمد کے گھر میں آنے سے جاوید منزل کے سب مکینوں کی گھریلو زندگی میں ایک ترتیب سی آگئی۔ ان کے اصرار پر کچھ مدت کے لیے اقبال بھی بچوں کے ساتھ کم از کم دوپہر کا کھانا کھانے والے کمرے میں کھانے لگے۔ راقم اور منیرہ کو احساس ہوا کہ سب ایک خاندان کے رکن ہیں۔ منیرہ چند ہی دنوں میں مسز ڈورس احمد سے مانوس ہوگئی۔ ان کی خواہش کے مطابق ہر کوئی انھیں ’’آپا جان‘‘کہتا تھا۔ ۔ ۔ کبھی کبھی (اقبال ) آپا جان سے جرمن میں میں گفتگو کرتے اور منیرہ سے بھی کہتے کہ جرمن زبان سیکھو، جرمن عورتیں بڑی دلیر ہوتی ہیں منیرہ ان دنوں جرمن زبان کے چند فقرے سیکھ گئی تھی اس لیے وہ بھی ان سے جرمن میں بات چیت کرنے کی کوشش کرتی۔ ‘‘

ڈورس احمد لکھتی ہیں کہ اقبال نے ان سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان کی وفات کے بعد اتنی مدت منیرہ اور جاوید کے پاس ضرور رہیں جب تک وہ بڑے نہیں ہو جاتے، کیوں کہ ان کے آنے سے بچوں کو ایک بار پھر صحیح معنوں میں گھر کا سکون نصیب ہوا تھا۔ لہذا اقبال کی وفات کے بعد ڈورس احمد نے اپنے وعدے کو نہایت احسن طریقے سے نبھایا۔ وہ بچوں کے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتیں اور بچے بھی ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ وہ علامہ صاحب کی وفات کے بعد تقریبا پچیس سال تک جاوید منزل میں مقیم رہیں اور پھر واپس برلن تشریف لے گئیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر خالد سہیل نے کچھ ایسی خواتین کا ذکر کیا ہے جو اقبال سے اظہار عشق کرتی رہیں مگر اقبال نے ان کو گھاس نہ ڈالی۔ اس سے علامہ اقبال کے مزاج کا بخوبی اظہار ہوتا ہے۔ علامہ اقبال اپنی تمام تر رومانیت اور شاعرانہ مزاج کے باوجود ایک عیاش طبع شخص نہ تھے۔ ان کی کسی بھی تحریر سے ہمیں ابتذال یا اخلاقی گراوٹ کا ہلکا سا شائبہ بھی نہیں ملتا۔ علامہ کی شاعری میں بھی عورت کے خدوخال اور جسمانی حسن کو نہ ہونے کے برابر موضوع بنایا گیا ہے۔ ان کے ہاں عورت کے باطنی حسن اور کردار کی ستائش تو ملتی ہے مگر وہ کبھی عورت کے ظاہری حسن کے مداح نظر نہیں آتے۔ وہ محبوب کے عارض و رخسار پہ کبھی جان نہیں دیتے جیسا کہ بیشتر شعرا کا وطیرہ ہے۔ ان کے بقول :

چشم مخمور ونگاہ غلط انداز و سرود
ہمہ خوب است ولے خوشتر ازاں چیزے ہست
حسن رخسار دمے ہست و دمے دیگر نیست
حسن کردار و خیالات خوشاں چیزے ہست

اقبال کہتے ہیں کہ وہ شکل وصورت کی پرستش نہیں کرتے اور انھوں نے یہ بت خانہ مسمار کر دیا ہے :

صورت نہ پرستم من، بت خانہ شکستم من
آں سیل سبک سیرم، ہر بند گسستم من

ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اقبال کے حوالے سے لکھتے ہیں :

’’اکثر صوفیا اور حکما کی طرح اقبال کی زندگی میں بھی عشق مجازی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ان کی عالم شباب کی شاعری میں کہیں کہیں اس کا ثبوت ملتا ہے مگر یہ آتی جاتی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ ان کا یہ شبابی عشق مصری کی مکھی کی طرح ہے، شہد کی مکھی کی طرح نہیں جس کے پائوں اس میں دھنس جائیں۔ ‘‘

وہ کبھی کبھی دل کو تنہا چھوڑ دینے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن جب عشق مجازی سے دست کش ہوتے ہیں تو یہ مشورہ بھی دیتے ہیں :

عشق اب پیروی عقل خداداد کرے
آبرو کوچہ جاناں میں نہ برباد کرے

چناں چہ اقبال عطیہ فیضی کی جس خوبی سے متاثر ہوئے وہ ان کی ذہنی خوبصورتی (Intellectual Beauty) تھی، اس کی ادب اور فلسفے سے گہری واقفیت تھی۔ اقبال کی اس سے زیادہ تر گفتگووں کا موضوع ادب اور فلسفہ ہی ہوتا تھا۔ اقبال نے اپنے آپ کو اس عشق مجازی میں ڈبونے نہیں دیا۔ ان کا شعور ان کے وجود پہ ہمیشہ غالب ہی رہا اور یہی فرق ہے ان میں اور باقی رومانی شعرا میں۔ وہ کبھی لارڈ بائرن نہیں بنے اور نہ ہی انھوں نے اختر شیرانی کی طرح اپنے آپ کو شراب و کباب میں ڈبویا۔ وہ رومانی قلب ضرور رکھتے تھے مگر عملی زندگی میں وہ کلاسیکی انضباط اور رکھ رکھائو کے قائل تھے اور ایک بلند اخلاقی معیار رکھتے تھے۔ اقبال شروع سے آخر تک جس حسن کے جویا نظر آتے ہیں وہ ہے حسن ازل جس کی نمود انھیں ہر طرف نظر آتی ہے۔ اقبال بلند تر جمالیاتی ذوق کے حامل تھے، ایک ایسا ذوق جو ہندوستان کے بہت ہی کم شعرا کو نصیب ہوا ہے۔ آخر میں اپنے دور کے نام نہاد دانش وروں کو یہ پیغام دینے کی جسارت کروں گا کہ وہ آنے والی نسلوں کو اپنے بلند پایہ مشاہیر کی زندگیوںکے مثبت پہلووں کے متعلق زیادہ سے زیادہ آگاہ کریں اور ان کے پیغام کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائیں نہ کہ ان کی زندگیوں کے نجی پہلووں کی کرید کر کے دور از حقائق اور بے سروپا باتوں کو پھیلانے کو اپنی دانش وری کی معراج تصور نہ کریں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: