امت مسلہ کی فکری زبوں حالی اسباب و علاج 

0
  • 49
    Shares

آج کا نوجوان جب تاریخ کے عمومی مطالعے سے امت  کی عظمت پارینہ  کا مطالعہ کرتا ہے تو امت مسلمہ کی فکری زبوں حالی کی کچھ اہم وجوہات سامنے آتی ہیں. جن کا مختصر بیان حسب ذیل ہے.

جب مسلمان قوم دنیا میں اٹھی تھی اس وقت مسلمانوں نے دوسری قوموں پر محض سیاسی یا فوجی غلبہ ہی حاصل نہیں کیا تھا بلکہ لاالہ کا نعرہ اس وقت کا سیاسی نعرہ تھا تمام معبودان باطل کے خلاف اور اور پھر اپنے علم کو اپنے نقطہء نظر، اپنے طرز فکر اور اپنے عقیدے کے مطابق ایک رْخ دیا۔ چنانچہ دنیا اسلامی تہذیب کے زیر نگیں آگئی اور صدیوں دنیا یہ سمجھتی رہی کہ اگر تہذیب و تمدن ہے تو مسلمانوں کا ہے۔ فکر و عمل ہے تو مسلمانوں کے پاس ہے۔ 

مگر بعد کے دور میں مسلمان جو کچھ علوم محققین سلف سے ملے تھے اسی کو پڑھتے اورپڑھاتے رہے۔ ان ہی کے اوپر حاشیے چڑھاتے رہے پھر وہ سارا لٹریچر بھی ایک خاص تہذیب کاورثہ تھا اور وہ تہذیب ہمارے تکثیری سماج سے ہم آہنگ نہ ہوسکی چنانچہ ان کتابوں اور تحقیقات کی عجیب سی صورت بن گئی ہے۔  پھرہمہ جہت تنزلی کے نتیجہ میں مسلم قوم نے اپنے آپ کو سماج سے کاٹ لیا اور یہاں سے مسلم زوال کاآغاز شروع ہوتا ہے۔ عام طور پر 1924کو مسلم زوال کا آغاز بتایا جاتا ہے۔ مگر زوال تو صحابہء اکرام کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا (الا ماشاءاللہ ہ کچھ استثنیات کے ساتھ) ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ ہم فطرتاً جذباتی قوم ہیں.  مختلف عوامل اور اسباب کی بدولت ہمارے فکر وذہن پر خوابوں کی گرفت ہمیشہ سے مضبوط رہی ہے۔ 

موجودہ وقت میں بھی فکر اور فہم کے پرانے سانچے عملی اور حقیقی شکلوں میں بکھرتے نظر آتے ہیں لیکن کوئی نیا سانچہ تیار نہیں ہو رہا جو ایک تشویشناک بات ہے۔  ہم انسانیت کی اجتماعی صورت حال کو سامنے رکھ کر بشریت کی بنیاد پر کام کریں۔ روایت پسندی اور دوسری طرف خشک دانشوری سے کو چھوڑ کر عصرحاضر کی سمجھ اور فہم کے مطابق   جس میں فطرت اور زندگی ہم آہنگ ہو۔ ڈپلومیسی کے ساتھ انتھک جد و جہد اور زمینی محرکات کو اپنی توجہ کا مرکز بناناہوگا ۔

تاریخ کا کڑوا گھونٹ یہ ہے کہ علم کا مشرقی مزاج خود پسندواقع ہوا ہے اس لئے وہ کسی بھی تنقید کو خود پر حملہ تصور کرتا ہے۔ نتیجے کے طور پرضد اور رد کا روایتی رویہ سامنے آتا ہے۔ کتابوں کی ایک دنیا ہے ہے جو رد اور ضدکی نفسیات میں لکھی گئیں ہیں۔ لیکن مغربی مزاج چونکہ علم دوست رہا ہے اس لئے وہاں ہر تنقید کوآگے بڑھنے کا ایک راستہ مسلسل ملا. چنانچہ نظریات اور افکار کی ترویج کے ساتھ ساتھ وہاں علم  ہمیشہ ترقی کی منزلیں طے کر تا رہا ۔ پھر اہل مغرب نے فکر و تحقیق کا بیڑا اٹھایا نئی نئی دریافتیں شروع کیں اور نئے نئے فلسفے اور نظام ہائے فکر و عمل کی تشکیل شروع کردیں۔  

تعجب ہے جہاں قرآن کی ساڑھے سات سو آیتیں تفکر ،تدبر اور تسخیر کائنات پر ابھارتی ہیں مگرہمارے واعظین تقریروں میں روزہ اور نماز کے علاوہ ان موضوعات پر گفتگو نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو’ پدرم سطان بود ‘ کی کیفیت غالب ہوتی ہے ایک طرف تو صورتحال یہ ہے ۔ دوسری طرف علمی دنیا میں مغرب کے جن نظریاتی، سیاسی اور تہذیبی چیلنجز سے سابقہ پیش آتا تھا وہ موجودہ چیلنجز سے بالکل مختلف تھا۔ ’’مثلا مغربی فلسفے کی بنیاد جدیدیت پر تھی۔  لیکن آج جدیدیت کو خود مغربی دنیا میں سخت چیلنجز درپیش ہیں۔ مابعد جدیدیت یعنی پوسٹ مارڈن ازم نے جدیدیت کی بنیادیں کمزور کردی ہیں۔  مغرب کے ہمہ گیر سیکولرازم اور تمدن کا زوال بہت واضح ہوچکا ہے۔‘‘

یہ وقت ہے کہ مسلمان دنیا کو قرآن جیسا نسخۂ کیمیا دے سکیں لیکن کون کرے اور کس طرح ؟ روایت پرستی اپنی انتہاپر ہے۔ تعبیرات کے حوالے سے دین کی ہزاروں جعلی روایات کی بنیاد پر مسلم فکر ہے، صدیاں گذرگئی ہیں ، مگر ہم ایک بڑا دماغ پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔ عام طور پر مسلم فکر کو غذا مدارس فراہم کرتے ہیں۔ مگر وہاں بلندیوں کی فکر اور خوب سے خوب تر کی تلاش اور اس جیسی ان گنت باتیں ہم خوب کرتے ہیں مگر منبر و محراب سے آگے یہ گفتگو نہیں بڑھنے پاتی. ۔حقیقی کوششوں سے ہمارا تعلق کم ہوتا ہے۔ اگر کوئی گرفت بھی کرتاہے تو ہم اسکو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں.

ہم پر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ جو دنیا کی اجتماعی صورت گری کرے گا وہی دنیا کا امام ہو گا تو ایسے میں سوال یہ ہے کہ ہم جہاں آج ہیں اسمیں مسلم قوم کی  موجودہ contribution کیا ہے؟  غور کرنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے 
مسلم علماء اور دانشوران کی فکر میں ایک عمومی بات یہ پائی جاتی ہے، کہ وہ عام طور پر دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ سیکولر ہوں، مگر عجیب بات ہے کہ انکارویہ دوسرے مذاہب والوں کے ساتھہ شدت پسندی کا ہوتا ہے . برادران وطن کے قومی تہوار پر انہیں مبارکباد سے متعلق نا معلوم فقہی بحثیں گردش کرنے لگتی ہیں.

  دوسری مشکلات جو علماء اور دانشوران کے درمیان موضوع بحث رہا ہے وہ اختلاف رائے کی تفہیم کو لیکر ہے کہ اختلاف رائے کیا ہے ؟ .بنیادی طور پر انکا حل یہ نکالا جاتا ہے کہ فکرو نظر میں اختلاف رائے یوں سلجھ سکتا ہے کہ دونظریہ کے درمیان تطبیق کی صورت نکالی جائے مثلا اگر دو مختلف رائے ہیں تو کوشش یہ ہوتی ہے کہ دونوں کو چسپاں کردیا جائے ۔ ایسے میں خرابی دور نھیں ہوپاتی. اب  ہونا تو یہ چاہیے تھا جو پرزے کام کرنے کے لائق نہیں،  انہیں چھانٹ کر الگ رکھ دیا جائے. 

پھر حیرت ہے ہمارے علماء اور دانشوران کی تیسری پریشانی یہ ہے کہ وہ سماجی خوف کی وجہ سے آدھا سچ لکھتے اور بولتے ہیں نہ قوم کو حقیقت حال سے آشنا کراتے ہیں اور نہ حقیقی دشمن کی شنا خت کرتے ہیں۔۔۔ ہاں زبان وبیان پر قدرت کی وجہ سے ایک نامعلوم سازشوں کا انبار ضرور لگا دیتے ہیں …اور امت اس سازش کے خوف سے اسے حقیقی مفکر سمجھتی ہے …ورنہ تاریخی تسلسل ہے کہ حقیقی مفکر کے ساتھہ ظلم کا ایک لامتناہی سلسلہ رہا ہے، بزرگوں کی کتابیں بھی واقعات سے بھری پڑی ہیں ،ہم یہاں صرف ایک مثال پر اکتفاء کرنا چاہیں گے، ابن رشد ہماری تاریخ کا روشن باب ہے مگر ابن رشد کو ہم نےَ برتا کیسے ؟حقائق کچھ اور ہیں …ابن رشد کے افکار ونظریات نے بالخصوص مغرب کو متاثر کیا ابن رشد کا کارنامہ یہ ہے کہ مذہب اور فسلفہ کے حقائق کو یکساں طور پر پیش کیا مغرب نے مذہب کو تو پورا نھیں لیا مگر فلسفہ سے متعلق ان کے افکارو نظریات سے بھر پور فائدہ اٹھایا …ہم نے تو فائدہ اٹھانا بہت دور گھاس تک نہ ڈالی ابن رشد اپنے افکارو نظریات کی وجہ سے ہمارے لئے ہمیشہَ دردِ سر رہا.  انہیں مسجد قرطبہ کی سیڑھیوں پر نمازیوں کے جوتے صاف کرنے کی سزا سنائی گئی اور پھر جلاوطن کر دیا گیا… ہسپانیہ کے یہودیوں نے اسے گلے لگایا اسطرح انکے افکار ونظریات یورپ کے علمی وسائنسی ترقی کانقطۂ آغاز بنے ۔۔۔مگر آج ہم بڑے شوق سے انکے تمام کارناموں کا سہرا اپنے سر باندھتے ہیں۔

مجھے یہ نھیں معلوم کہ یہ تاریخی
تسلسل کب ٹوٹے گا جو ہمارے یہاں اوریجنل قسم کے مفکرین کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے . لمحہء فکریہ یہ ہے ہمیں اسکا فیصلہ کرلینا چاہیے کہ ہم بحثیت قوم ترقی کرنا چاہتے ہیں یا غلبہ پاناچاہتے ہیں . اس سلسلے میں مسلمانوں کے اندر خاصے طبقے ہیں ۔۔۔.ایک بڑی تعداد اس بھرم میں ہے کہ کہ ترقی خود بخود ہوجائے گی اور تقدیر کو کرتا دھرتا سمجھتے ہیں..یا کچھ لوگ معجزوں کے انتظار میں ہیں.  ۔۔۔ایک طبقہ تو ماضی کے فسوں کا شکار ہے..بقول شخصے وہ اپنی اسٹرٹیجی اسلامی ناولوں سے طے کرتے ہیں ..کچھ ایسے طبقے بھی موجود ہیں جو کوئی رائے ہی نہیں رکھتے ۔۔۔.ایک چھوٹاسا طبقہ ان دانشوروں پر مشتمل ہے جو مادی ترقی کی بات کرتے ہیں …لیکن معذرت خواہانہ رویہ کے ساتھ۔۔ 

اس طرح ملی زوال کے بنیادی محرکات یہ ہیں۔ زندگی کے فلسفیانہ شعور کا فقدان نظر آتا ہے.. فلسفۂ علم تعلیم کے سلسلے میں تنگ نظری کا رویہ،  اسلام کو مخصوص کلچر بنانے کا چلن،  دین وسیاست کی جدائی تسلیم کر لینا.  ملکی  پس منظر میں مشرکہ قومی دھارے سے کنارہ کش رہنا،  سا ئنسی ایجادات سے دوری اور بیگانگی کا رویہ اور مسلم علما ء اور دانشوروں کی سماج میں بڑھتی ہوئی ناقدری کی مشکلات وغیرہ 
۔۔۔ ہماری نظر سے یہ بات اوجھل نہ ہو کہ تبدیلی ایک مسلسل اور بتدریج عمل ہے یہ کسی خلاء میں واقع نہیں ہے. . پہلے تو اسکے لئے مناسب معاشی سائنسی اور علمی فضا کا ہو نا نہایت ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔مگر جہا ں تک” فکر کی تشکیل نو” کا تعلق ہے اسکو وقت کے دھارے پر نہیں چھوڑاجاسکتا ہے کیونکہ فکر میں نیا خون پیدا کرنا ہی تبدیلی کا آغاز ہے …تو چلو پھر اپنے حصے کی شمع جلاتے ہیں۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: