عمران کیس کی وضاحت اور ن لیگ حکمت عملی : ثاقب ملک

0

چند وضاحتیں

فیصلے کے مطابق شریف خاندان کسی ایک اثاثے کی بھی مکمل منی ٹریل دینے میں بھی ناکام رہا. جو لوگ دیدہ دانستہ اقامہ اور دس ہزار درہم کا ٹھٹھہ اڑا کر  اربوں کی کرپشن پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ یا تو بہت سادہ ہیں یا کینفوزن پھیلانا چاہتے ہیں.

پورا کیس ہی لندن فلیٹس کی منی ٹریل ہے اور نواز شریف نے پہلے اسے اپنے بچوں کی ملکیت بتایا پھر یہ سوال ہوا کہ نواز شریف نے پیسے کہاں سے دئیے تو گلف اسٹیل مل بیچنے کا ذکر کیا گیا اسکی تفصیلات پوچھیں گئیں تو کوئی ٹھوس ثبوت ہی نہیں موجود تھا. پھر جھوٹ کی ایک لمبی زنجیر ہے.

  عدالت کا کام نواز شریف کے متعلق انکی نا اہلی کا فیصلہ تھا جو انھوں نے متفقہ طور پر کر دیا. سپریم کورٹ اربوں کی کرپشن کے متعلق فیصلہ دینے کی مجاز ہی نہیں تھی نہ ہی یہ پٹیشن تھی. پٹیشن نواز شریف کے صادق اور امین ہونے یا نہ ہونے کے متعلق تھی. اسی لئے کیس تو نیب میں ہی بھیجنے تھے.

یہ بھی یاد رہے کہ دو ججز تو پہلے ہی نواز شریف کو بے ایمان اور جھوٹ کا مرتکب قرار دے چکے تھے اور وجہ لندن فلیٹس کی خریداری کی منی ٹریل مکمل جھوٹ ثابت ہونا ہے . گلف اسٹیل مل اور جدہ مل کے لئے پیسہ کہاں سے آیا یہ اس وقت بھی ثابت نہیں کر سکے یہ جے آئی ٹی میں بھی ثابت نہ کرسکے. مریم کا زیر کفالت رہنا بھی جھوٹ ثابت ہوا.  جہاں تک بینچ کی بات ہے، تین کا ہو یا پانچ کا کیونکہ وہی کیس تھا اس لئے میری معلومات کے مطابق قانونی لحاظ سے کوئی قباحت نہیں.

جہاں تک اکاونٹ ریسیو ایبل کی بات ہے تو وہ ہر تعریف کے مطابق ایک اثاثہ ہے. ہر وہ شہ جو میرا ایکسپینس نہیں وہ ایسیٹ ہے. مالی معنوں میں اپنی ہر وہ  چیز جو بیچی جا سکے یا منافع دے. آپ اسی تنخواہ کا نام نہ دینا چاہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا. جہاں تک وصول نہ کرنے کی بات ہے تو وہ بھی سفید جھوٹ ہے. متحدہ عرب امارات میں تنخواہ خود بخود ٹرانسفر ہوجاتی ہے. کس بینک اکاؤنٹ میں جاتی رہی یہ کھوج لگانا زیادہ مشکل کام نہیں. کوئی کمپنی چھ ماہ تنخواہ نہ دے تو اس پر پابندی لگ جاتی ہے.

سوال تو صاف یہ ہے کہ آخر جلاوطنی میں بننے والی کمپنی کپٹیل ایف زیڈ ای کے بورڈ آف ڈائریکٹر نواز شریف اتنی معصومیت سے 2014 تک وزیراعظم بننے کے بعد اور پاکستان میں قیام کے دوران بھی کیوں اس کمپنی کے چیئرمین رہے؟ اسکا کہیں ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟. چیئرمین شپ چھوڑ کیوں نہ دی؟ یہ بھی پوچھنا بنتا ہے کہ جبل علی فری زون میں کمپنی کھولنے کے لئے  ویزا، کنسلٹنٹسی، ڈپازٹس، سرٹیفیکیٹس، کرایہ کی مد میں کم از کم ایک لاکھ ڈالر کی رقم بینک اکاؤنٹ میں موجود ہونا لازمی ہے تو یہ رقم نواز شریف کے پاس کہاں سے آئی؟ جبکہ انکی ساری کمپنیاں تو خسارے میں چل رہیں تھیں.

اب سوال یہ ہے کہ اقامہ اور دس ہزار درہم پر ہی کیوں نا اہل کیا گیا؟ سادہ منطقی سا جواب ہے کہ  کیونکہ کپٹیل ایف زیڈ ای نواز شریف سے براہ راست متعلق تھی کسی بچے کے زیر کفالت رہنے کا واسطہ نہیں تھا کہ اس لئے نواز شریف اس غلط بیانی کے براہ راست ذمہ دار تھے. دوسری وجہ کہ سب سے تازہ الیکشن میں نواز شریف نے یہ معلومات ظاہر نہیں کیں تھیں. تیسری وجہ کہ کسی بھی وزیراعظم کا اقامہ یا کسی دوسرے ملک کا ورک پرمٹ لینا اور اسے چھپانا ایک سنگین ترین جرم ہے. یہ حلف نامے کی بھی خلاف ورزی ہے. 

“عمران کیس کی وضاحت”

عمران خان بظاہر میری رائے میں کسی بھی صورت نا اہل نہیں ہوسکتا۔ اس نے جو کہا اسکے مطابق منی ٹریل پیش کر دی۔ جو ریکارڈ عمران یا کاونٹییز ک پاس موجود نہیں وہ کوئی بھی تفتیشی ادارہ انگلینڈ کے بینکوں سے منگوا سکتا. یوں تو اب عمران نے بھی بینک ٹرانزکشن کا کچھ ریکارڈ مہیا کر دیا ہے۔

مشتاق احمد کا کنٹریکٹ بطور مثال پیش کیا گیا ہے کہ سسیکس کاونٹی کا ایسا کنٹریکٹ ہوتا ہے کیونکہ مشتاق احمد بھی 2007 تک سسیکس کی جانب سے کاونٹی کھیلتے رہے. اس پر  عمران مخالفین کی مزاح نگاری کی سمجھ نہیں آئی۔

یہ احمقانہ سوال اتنا مضحکہ خیز ہے کہ ہنسی آتی ہے کہ بتاؤ عمران کے ذرائع آمدن کیا تھے؟ تو جناب کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عمران 20 برس مفت کرکٹ کھیلتا رہا؟ یا اتنے عرصے نواز شریف گلف اسٹیل مل کے منافع سے عمران کو پالتے رہے؟ سیاست میں تو تھا نہیں تو کیا پشاوری چپلیں ایکسپورٹ کرکے پیسے کمائے؟ کیری پیکر، سسیکس اور ورسٹر شائر تینوں نے لکھ کر دے دیا ہے کہ عمران ہماری جانب اتنی اتنی رقم کے کنٹریکٹ پر کھیلتا رہا.

میں تو کہتا ہوں عمران خان پر جے آئی ٹی بنا دیں. دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

“ن لیگ حکمت عملی “

پہلے تو اس جمہوریت کے ڈرامے کو چاٹیں جہاں نواز شریف، شہباز شریف کا نام بطور وزیراعظم پیش کرتے ہیں اور غلامان شریف فوراً تالیاں پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کے بعد شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا جائے گا اور شہباز شریف یا اگلا کوئی بھی ن لیگی وزیراعظم آرٹیکل 62 63 میں ترمیم کرکے اور اگلے وزیراعظم کو استثنا کا قانون بنانے کی کوشش کرےگا.پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پہلے ہی ترمیم کے حق میں ہیں. اس طرح نواز شریف اور مریم نواز شریف کی راہ دوبارہ ہموار ہوسکتی ہے. حمزہ شہباز وزیر اعلٰی بنیں گے یوں خاندان میں ہی اقتدار رہے گا۔

بظاہر لگتا ہے کہ نواز شریف کی  کی مظلومیت کو کیش کرایا جائے گا. اگلے الیکشن کے لئے نگران حکومت ہی گیم چینجر ہوگی.  نواز شریف نا اہلی کے باوجود مسلم لیگ کی مجموعی پوزیشن اگلے الیکشن کے لئے مضبوط ہے. کیونکہ پنجاب میں تحریک انصاف پیپلزپارٹی کے الیکٹ ایبلز پر انحصار کر رہی جو اس بار بھی پٹیں کے. نواز شریف کے نا اہل ہونے کا مسلم لیگ کو زیادہ سے زیادہ پانچ سے 7 فیصد ووٹرز کا نقصان ہوگا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں ووٹرز کی اکثریت اپنا ذاتی مفاد اور فائدہ دیکھ کر ووٹ دیتی ہے. نظریاتی ووٹرز کم ہیں. اس بات کا فائدہ ہمیشہ ن لیگ کو ہوتا رہا ہے کیونکہ انکا انداز سیاست دھیما اور تعلقات، برادری پر مبنی  ہوتا ہے۔

تحریک انصاف کو بہت کچھ کرنا ہے. پانامہ کیس کے فیصلے کی قانونی اور اخلاقی فتح کو سیاسی ایڈوانٹج میں تبدیل کرنا ہی اصل چیلنج ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: