لاہورمشکل میں, وزیر اعظم مالدیپ کی خوشیوں میں

0

دہشت گردوں نے میرے شہر لاہور کو ایک بار پھر سے خون میں نہلا دیا۔ پیر 24جولائی 2017، لاہور کی معروف شاہراہ فیروز پور روڈ، ارفع کریم ٹاور کے نذدیک سول انتظامیہ پولس کے تعاون سے پرانی سبزی منڈی کے قریب تجاوزات کو مسمار کرنے میں مصروف تھی ۔ ایک دہشت گرد نے جو موٹر سائیکل یا رکشا میں سوار تھا، پولیس اہلکاروں کے قریب آکر خود کو بم سے اڑا لیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آٹھ سے دس کلو وزنی بارودی مواد پر مبنی۔ خود ساختہ بم تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں آس پاس کی دکانیں گھر، فلیٹس تو لرز اٹھے ساتھ ہی قیمتی انسانی جانیں جن میں 9 پولیس اہلکار اور 17شہری یعنی 26افرادشہید ہوگئے جب کہ 60کے قریب افراد شدید زخمی بتائے جارہے ہیں جن کی حالت نازک ہے۔

جب کسی گھر یا خاندان میں کوئی مشکل یا مصیبت آتی ہے تو افراد کو حوصلہ اور ہمت افزائی خاندان کے سب سے بڑے فرد سے میسر آتی ہے۔ وہ انہیں تسلی دیتا ہے، حوصلہ دیتا ہے، ان کے دکھوں پر مرہم رکھتا ہے۔ اس کے اس عمل سے متاثرہ افراد کے غموں میں کمی آتی ہے۔ زخم کتنے ہی شدید ہوں، کتنی کی تکلیف دے رہا ہو اپنے بڑے اور بزرگ کی تسلی و تشفی سے اسے قلبی سکون اور راحت محسوس ہوتی ہے۔ لاہور خون میں نہا گیا، 26افراد کو دہشت گردوں نے شہید کردیا، 60سے زیادہ زخمی اسپتالوں میں کرب کی حالت میں ہیں۔ اسپتال کے ذرائع بتاتے ہیں کہ ان میں سے اکثر کی حالت نازک ہے۔ گویا شہداکی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ ہے شہر لاہور کی صورت حال پیر 24جولائی سے اور ہمارے وزیر اعظم جنہیں پانامہ کیس کے نتیجے میں قائم ہونے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کے معزز ججوں کے فیصلے کاانتظار ہے۔ اس دوران ریاست کے امور ساکت ہیں۔ انتظامی امور میں جمودطاری ہے۔ ملک عجیب قسم کی گونا گوں کی کیفیت میں ہے، ساتھ ہی عدالت کے فیصلے کا شدت سے انتظار ہے۔ وہ فیصلہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی والی تاریخ بھی دہرائی جاسکتی ہے۔ عدالت وزیر اعظم کو اپنے عہدے پر بحال رکھتے ہوئے اگلی عدالتی کاروائی کا حکم بھی دے سکتی ہے۔

گویا وزیر اعظم صاحب اس وقت بچ بھی سکتے ہیں اور تلوار بھی لٹکتی رہے گی۔۔ ایسے حالات میں پہلے تو وزیر اعظم صاحب اپنی فیملی کے ہمراہ مری چلے گئے۔ ۔ اس لئے کہ ملک کے دیگر شہروں کا موسم اور سیاسی درجہء حرارت انتہائی اوپری سطح پر تھا۔ چنانچہ انہوں نے اسی میں عافیت جانی۔ ویسے بھی ان کے لیے مری کا ماحول بہتر ہے۔ دل کے مریض کو زیادہ گرمی برداشت نہیں ہوتی۔ اب دیکھئے کہ میں خود دل کا مریض ہوں میرے تو صرف ایک اسٹینٹ ڈلاہوا ہے مجھے خود بھی گرمی، حبس،بھیڑ، زیادشور غل، ہنگامہ برداشت نہیں ہوتا، نواز شریف صاحب کا تو بائی پاس ہوچکا ہے۔ شاباش ہے ان کی ہمت پر وہ مکمل دل کے مریض ہوتے ہوئے ایسے مشکل سے مشکل حالات کا مقابلہ ہمت اور بہادری سے کر رہے ہیں۔

ان کی صحت کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ اب اپنا موجودہ وزارت اعظمیٰ کا وقت مکمل کریں یعنی اپنی تیسری باری جیسے تیسے اختتام کو پہنچائیں۔ جس کے آثار نظر نہیں آرہے اور عملی طور پر سیاست کو خیر باد کہہ دیں۔ اب کنگ کے بجائے کنگ میکر کا کردار ادا کریں۔ اپنے مضبوط۔ سیاسی جانشین کا انتخاب کریں۔ خواہ وہ شہباز شریف ہوں، مریم صفدر ہوں، بیگم کلثوم نواز ہوں یا پارٹی میں سے کوئی اور ہو۔۔ غور فرمائیں کہ لاہور شہر کو خون میں نہلا دیا گیا، مگر آپ مری سے مالدیپ تشریف لے گئے۔ مقصد کوئی بہت اہم نہیں تھا۔ مالدیپ کا یوم آزادی منا یا جارہا تھا۔

یاد رہے کہ آپ کے اپنے ملک کے حالات دگرگوں ہیں۔ سیاسی حالات مستحکم نہیں۔ سرحدوں پر صورتحال کشیدہ ہے۔ بھارت، افغانستان اور امریکہ کی ریشہ دوانیاں جاری ہیں۔ پاناما لیکس کا فیصلہ کچھ بھی ہوسکتا ہے آپ مالدیپ کے یوم آزادی کے جشن میں شریک ہیں، چلیں اگر مالدیپ کا صدر بھی آپ ایساہی دوست ہے جیسا کہ سعودی عرب یا قطری شہزادہ اس لیے آپ کا وہاں جانا آپ کی مجبوری تھی۔ تسلیم اب جب آپ نے لاہور میں دہشت گردی کی خبر سنی آپ کو فوری طور پر دورہ مختصر کر کے واپس لوٹ آنا چاہیے تھا۔ آپ کے بغیر مالدیپ کے جشن آزادی منعقد ہو ہی جاتا۔ لیکن مالدیپ یا کسی اور ملک نے آپ کے غم میں سوگ کااعلان نہیں کرنا تھا۔ اگر آپ ایسا کرتے تو پاکستان کے عوام کے دلوں میں آپ کے لیے مثبت سوچ نے جنم لینا تھا۔ پھر یہ ہی وقت تو اپنے ساتھیوں سے صلاح و مشورہ کا ہے۔ چودھری نثار آپ کا ہی ساتھی ہے ۔ انہوں نے کیسے سیاسی تدبر کا ثبوت دیا۔ جیسے ہی اسے معلوم ہوا کہ لاہور میں دہشت گردی ہوئی اس نے یہ کہہ کر اپنی پریس کانفرنس ملتوی کردی کہ ایسی صورت حال میں سیاسی معاملات پر گفتگو مناسب نہیں۔ یہ ہے سیاسی حکمت عملی مگر ہمارے محترم وزیراعظم نے مالدیپ کے جشن میں وقت گزارنے کو اہمیت دی اور اپنے ملک، اپنے شہر لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں شہیدوں اور ذخمیوں کو وہ مقام و مرتبہ نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے۔ آپ کی اسی قسم کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں نے آپ کو آج یہ دن دکھائے کہ تلوار آپ کے اوپر لٹک رہی ہے۔ نہیں معلوم کیا فیصلہ آتا ہے ۔ لیکن خدا را دہشت گردی کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کریں۔ زبانی ہمدردی، شہید ہونے والوں کے لیے امداد سے کب تک کام چلے گا___

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: