داستان گو — قسط نمبر 11 — ادریس آزاد

0
  • 105
    Shares

مائمل ٹہلتے ہوئے انہی لوگوں کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ پچھلے دو گھنٹوں سے اپنے آفس میں اکیلی تھی۔ شفاف یاقوت کی یہ عظیم عمارت شہر کے بیچوں بیچ ایک بڑے میدان کے عین وسط میں واقع تھی۔ یہ سیّارہ ’’عیراش‘‘ تھا۔ پوری سڈرہ کمیونٹی کا ہیڈ آفس۔ دراصل جبرالٹ پرمائمل کی موجودگی فقط مہمانوں کی وجہ سے رہی تھی۔ مائمل تو ’’ماں‘‘ تھی۔ آج سے پندرہ سوسال بعد کی پوری انسانیت کی ماں۔ جب سےسڈرہ کمیونٹی کا تمام ترانتظام و انصرام مائمل نے سنبھالا تھا وہ عیراش پر ہی مقیم تھی۔ یہ الگ بات تھی کہ اُسے آئے روز سڈرہ کی پوری کاسموپولیٹن سوسائٹی کے کسی نہ کسی سیّارے پر اچانک جانا پڑجاتا۔ وہ اگرچہ کمیونٹی کی مصروف ترین شخصیت تھی لیکن اِس کے باوجود مائمل کبھی اپنے کام سے اُکتاتی نہ تھکتی۔

عیراش پر شہر ہی شہر تھے اور ہر شہر میں آفس ہی آفس تھے۔ لیکن چونکہ یہی سیّارہ پوری سڈرہ کمیونٹی کا ہیڈ آفس تھا اِس لیے یہاں کا انتظام و انصرام پوری کاسموپولیٹن سوسائٹی کے ہر سیّارے سے بدرجہابہترتھا۔ یہاں کا ٹرانسپورٹ سسٹم بھی نہایت عجیب تھا۔ یہاں سڑکیں چلتی تھیں۔ یہاں شفاف عمارتوں کے نیچے دریا بہتے تھے۔ یہاں آسمان بے پناہ صاف تھا۔ عیراش کی فضاؤں سے آسمان پر تیرتے ہوئے دیگر بہت سے بڑے سیّارے صاف دکھائی دیتے تھے۔ دن میں یہ دیوہیکل چاند کسی قوسِ قزح کی طرح رنگین نظر آتے اور رات کو اتنے روشن کہ پورا عیراش اُن کی چاندنی سے مہک اُٹھتاتھا۔ عیراش کا سُورج بہت روشن تھا۔ دن روشن اور رات رنگین چاندنی سے منور، گویا یہ کوئی سیّارہ نہیں، سچ مچ کی جنت تھی۔ لیکن یہاں جتنے بھی لوگ تھے، سب پارمش تھے۔ سب کے سب ورژن ٹُو کے انسان تھے۔ یہاں کوئی خاص الخاص بنادم کبھی لایا جاتا تو کچھ روز کی مہمان نوازی کے بعد اُسے واپس بھیج دیا جاتا تھا۔ عیراش کی خوبصورتی اپنی نوعیت میں دوسرے حسین سیّاروں سے یکسر مختلف تھی۔ دراصل پارمشوں کا ذوق ہی مختلف تھا۔ یہاں لعل و یاقوت کی عمارتیں تھیں۔ زمین کے زیادہ تر حصے شیشے کی طرح شفاف تھے۔ جن کے نیچے بہتے دریا، ندیاں اور جھلمل کرتی جھیلیں تھیں، جو ہزاروں رنگ کے پھولدار آبی پودوں سے تہہِ آب لہلاتی رہتیں اورپانی کی جھلملاہٹ اُن آبی پھولوں کے رنگوں کو سطحِ زمین کے اوپر تک منعکس کرنے لگتی۔

مائمل کا آفس اوپر سے نیچے تک یوں بلّوری تھا جیسے یہ عمارت نہیں الماس کا کوئی بڑا سا ٹکرا ہو اور اِسے تراش خراش کر عمارت بنادیا گیاہو۔ مائمل دوسری منزل پر ایک کھلے برآمدے میں بچھے قالین پر ٹہل رہی تھی۔ اس نے سرجھکا رکھا تھا اور مسلسل کسی سوچ میں گم تھی۔ آج پروفیسرولسن کی ٹیم کو روانہ ہوئے چھ ماہ ہونے کا آئے تھے۔ مائمل صرف یہی سوچ رہی تھی کہ زمین کے مدار میں پہنچ کر اُن لوگوں کو رُک جانا پڑیگا کیونکہ اب زمین پر کوئی لینڈنگ پیڈ نہیں تھا۔ اس موضوع پر سڈرہ کمیونٹی کی مجلسِ شوریٰ میں کافی دیر بحث ہوتی رہی تھی کہ آیا مہمانوں کے لیے زمین پر فی الفور ایک لینڈنگ پیڈ بنا دیا جائے تاکہ وہ اپنی پرانی طرز کی شِپ کے ساتھ وہاں اُتر سکیں؟ لیکن بالآخر یہی فیصلہ ہوا تھا کہ ان کے معاملات میں سڈرہ کی طرف سے مزید دخل اندازی مہمانوں کی خواہش کے خلاف ہوگی۔ یہی وجہ تھی کہ جب سے پروفیسر ولسن اور اُس کی ٹیم زمین کے لیے واپس روانہ ہوئے تھے سڈرہ کمیونٹی کے کسی کارندے نے اُن کے ساتھ کوئی رابطہ نہ رکھا تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ ’’پالما‘‘ نے اُن کی شِپ پر گہری نظر رکھی ہوئی تھی اور انہیں پل پل کی خبر تھی کہ یہ لوگ کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں۔ دراصل مائمل نہیں چاہتی تھی کہ وہ لوگ کسی حادثہ کا شکار ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ نائتلون گزشتہ چھ ماہ سے ایک ہی مِشن پر مصروف تھا۔ اور وہ مشن تھا معزز مہمانوں کی بحفاظت زمین تک رسائی۔

مائمل ہربار ٹہلتے ہوئے جب شیشے کی دیوار کے پاس آکر رُکتی تو اسے شیشے میں اپنا عکس دکھائی دیتا۔ وہ ایک بُردبارخاتون تھی۔ نہایت حسین لیکن باوقار۔ وہ ہمیشہ ہرطرح کے میک اپ کے بغیر رہتی کیونکہ اس کے ہونٹ قدرتی طور پر گلاب کی پتیوں جیسے تھے اور جِلد گویا چاندنی کے ساتھ گوندھی گئی تھی۔ مائمل کی پیشانی کشادہ تھی اور آنکھوں کا رنگ ڈارک براؤن تھا جن میں بلا کی ذہانت اور دانائی واضح دکھائی دیتی تھی۔ وہ ایک دراز قد لڑکی تھی اور جب کبھی یونیفارم میں ہوتی تو اس کی لمبی لمبی ٹانگیں دیکھ کر لگتا تھا جیسے وہ ضرور ایتھلیٹ رہی ہوگی۔ مائمل نے زندگی کا ہرروپ دیکھ رکھا تھا۔ وہ پارمش تھی اور پارمش لڑکیوں میں مائمل کے حسن، رعبِ حسن، چال ڈھال اور بات کرنے کے انداز کے چرچے تھے۔

معاً مائمل کی بائیں ہتھیلی پر میٹھی سی کھجلی ہوئی۔ اس نے مٹھی کھول کر دیکھی تو وہاں گلاب کے پھول جیسی سکرین روشن تھی۔ وہ سمجھ گئی۔ آئیسوان آپہنچا ہے۔

آئیسوان کے ساتھ اس کی ملاقات طے تھی۔ چنانچہ وہ سیدھی اپنے آفس کی طرف چل دی۔ دروازے کے پاس پہنچی تو دروازہ خود بخود کھل گیا اور مائمل سڈرہ کمیونٹی کے سب سے بڑے عہدہ دار کے دفتر میں داخل ہوئی۔ یہ ایک کھلا کمرہ تھا جس کی دیواروں پر مختلف پینٹنگز آویزاں تھیں۔ درمیان میں ایک بڑا سا، نہایت نفاست کے ساتھ بنایا گیا، لکڑی کا میزرکھاتھا جس کے عقب میں ’’مدرمائمل‘‘ کی کرسی تھی۔ میز پر کچھ پرانی کتابیں، اور چند ضروری چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ مائمل نے کرسی پر بیٹھتے ہی میز کے کونے پررکھی قدیم طرز کی گھنٹی بجائی۔ اگلے لمحے، ایک باوردی مقسور لڑکا آفس میں داخل ہوا۔ مائمل نے مسکرا کر آفس بوائے کی طرف دیکھا اور کہا،

’’آئیسوان کو بھیجو! بیٹا‘‘

اور کچھ دیر بعد آئیسوان اور مائمل آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ مائمل نے آئیسوان کے چہرے پر قدرے تفکر دیکھا تو اُسے حیرت ہوئی۔ پارمش نسل کے انسان بہت کم فکرمند ہوا کرتے تھے اور آئیسوان تو پھر بہت سینئر، سمجھدار اور دانا انسان تھا۔ چنانچہ مائمل نے بلاتوقف آئیسوان سے سوال کیا،

’’ڈاکٹرہارون سے متعلق کیا خبرہے؟‘‘

’’مائمل! میرا خیال ہے کہ ڈاکٹر ہارون یہاں نہیں ہیں‘‘

’’کیا؟‘‘

’’ہاں! میں نے اب تک جتنی کوششیں کی ہیں، سب ناکام گئیں‘‘

اب مائمل بھی تھوڑی سی فکر مند ہوئی۔ دراصل یہ لوگ کتنی صدیوں سے پرسنٹیج کا نظام بدلنا چاہتے تھے۔ پرسنٹیج کے موجودہ نظام میں سڈرہ کمیونٹی کے فلسفیوں نے ایسے ایسے نقائص کی نشاندہی کی تھی کہ کئی مرتبہ تو مائمل کی مجلس ِ شوریٰ یہاں تک مشورہ دے دیتی کہ اب مزید انسانوں کو جگانا بند کردیا جائے۔ اِن لوگوں کو ڈاکٹر ہارون کے کاغذات کی دریافت سے بڑی اُمید پیدا ہوگئی تھی کہ ولسما کو پرسنٹیج کے نئے طریقے میسر آجائیں گے۔ مائمل کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر ایک لمبی سانس لیتے ہوئے کہنے لگی،

’’اگر ڈاکٹر ہارون، ففتھ ڈائمینشن میں ہیں تو پھر اُن سے رابطہ ممکن نہیں۔ کیونکہ ففتھ ڈائمینشن میں تو کسی سے بھی رابطہ ممکن نہیں۔ تم جانتے ہو، ہم ففتھ ڈائمینشن سے فقط سگنلز ہی موصول کرسکتے ہیں، اُن لوگوں سے باتیں نہیں کرسکتے‘‘

آئیسوان نے مائمل کی بات سنی توپھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا،

’’ایک لحاظ سے دیکھاجائے تو ہرانسان جب مرجاتاہے تو ففتھ ڈائمینشن میں ہی چلا جاتاہے یا پھر اُس سے بھی اُوپر کی کسی ڈائمینشن میں۔ ولسما تو صرف لوگوں کو اُن کے ڈی این اے اور یاداشت کی مدد سے ایک شناخت دیتاہے۔ یہ شناخت اُن کی حقیقی رُوح تو نہیں ہوسکتی۔ یقیناً سب انسانوں کی حقیقی رُوح کہیں اور چلی جاتی ہے۔ اگر ڈاکٹر ہارون ففتھ ڈائمینشن میں ہیں یا اُس سے بھی آگے کی کسی ڈائمینشن میں، تواس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ کم ازکم ہمارے لیے ان کی یاداشت حاصل کرلینا تو کسی طرح ممکن ہونا چاہیے تھا‘‘

’’ہاں! مطلب اب ایک ہی حل ہے۔ ٹائم ٹریول کرناہوگا۔ تم یہی کہنے آئے ہو؟‘‘

’’ہاں! اس کے سوا کوئی صورت ہی نہیں‘‘

’’لیکن تم نے تو اپنی آخری رپورٹ میں بتایا تھا کہ ماریہ کو چودہ اگست کا دن یاد آگیاہے، جب وہ ڈاکٹر ہارون کے گھر میں تھی؟‘‘

مائمل نے نہایت ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا لیکن آئیسوان نے پہلُو بدلتے ہوئے جواب دیا،

’’لیکن ناکام ہوگیا۔ ہم ٹائم کی کھڑکی سے ویڈیو نہیں بناسکے۔ اسی لیے میں نے آتے ہی کہا کہ ڈاکٹر ہارون یہاں نہیں ہیں۔ اب کسی زندہ اور جیتے جاگتے انسان کو ہی ماضی میں روانہ کرناہوگا۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں‘‘

مائمل یکلخت خاموش ہوگئی۔ وہ کچھ دیر کسی گہری سوچ میں کھوئی رہی اور پھر کہنے لگی،

’’ٹھیک ہے۔ میں اپنی پوری کوشش کرونگی کہ یہ کام ممکن ہوسکے۔ آئیسوان! تم جانتے ہو کہ ہمیں انیتا کے لیے گریوٹی بس کا انتظام کرناہوگا۔ ایک وقت میں اتنے زیادہ ٹائم لُوپس کس قدر خطرناک ہوسکتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بدقسمتی سے اُن دونوں ادوار میں فرق ہے۔ یہ لوگ اکیسویں صدی کے وسط سے آئے ہیں جبکہ ڈاکٹرہارون دوہزار گیارہ کے زمانے میں وائیلنس پر کام کررہے تھے‘‘

مائمل، ولسن اور انیتا کی ٹیم کی طرف اشارہ کررہی تھی۔ آئیسوان نے تائید میں سرہلایا۔ کچھ دیر خاموش رہا اور پھر کسی قدر جھجکتے ہوئے مائمل کی طرف دیکھا تو مائمل کو حیرت ہوئی۔ اُس نے آئیسوان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے، سوال کیا،

’’تم کچھ کہنا چاہتے ہو؟‘‘

’’ہاں‘‘

’’کیا‘‘

’’دیکھیے مائمل! ہمارے پاس ایک اور حل بھی ہے‘‘

مائمل قدرے آگےکی طرف جھک آئی۔ اس کی آنکھوں میں حیرت اور چمک کی جھلک تھی۔ آئیسوان نے نہایت سنجیدہ لہجے میں کہنا شروع کیا،

’’اگر انیتا مان جائے۔ اور وہ مان جائے گی۔ کیونکہ زمین پر پہنچنے کے بعد جب اُسے یقین آجائے گا کہ وہ لوگ فی الواقعہ پندرہ سوسال آگے آگئے ہیں تو اسے مجبوراً اپنا ذہن بدلنا ہوگا۔ وہ ماضی میں جانا چاہتی ہے۔ ہم اسے دوہزار گیارہ میں جانے کی درخواست بھی تو کرسکتے ہیں‘‘

مائمل نے سوچتی ہوئی نگاہوں سے آئیسوان کی جانب دیکھا۔ تجویز معقول تھی لیکن وہ لوگ مہمانوں کو زبان دے چکے تھے کہ ہرقیمت پر اُن کی ہر خواہش کا احترام کیا جائےگا۔ اگر انیتا دوہزار گیارہ میں واپس جانے پر راضی نہ ہوئی تو ڈاکٹرہارون کی یاداشت کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے انہیں کسی پارمش کو اِس مشن پر بھیجنا پڑجانا تھا۔ اور آئیسوان بھی جانتا تھا اور مائمل بھی کہ سڈرہ کمیونٹی کا اکیڈمیا کبھی بھی اتنے بڑے بڑے ٹائم ٹریولز کی اجازت نہیں دے گا۔ معاً کسی خیال کے تحت آئیسوان نے مائمل سے سوال کیا،

’’مائمل! یہ لوگ کس طرح ٹائم ٹریول کرتے ہیں؟ یہ پارمش جو داستان گو بن جاتے ہیں؟ میں نے آج تک اس پر غور نہیں کیا‘‘

ویسے تو سڈرہ کے اُن سیّاروں پر جہاں بچوں کی پرورش کا انتظام و انصرام کیا گیا تھا آنے والے اور قریہ قریہ گھومنے والے داستان گو بنادم نسل کے انسان ہوتے تھے جنہوں نے اپنے اپنے ادوار میں جو کچھ دیکھا ہوتا، وہی بچوں کو بتاتے لیکن جب کبھی کوئی پارمش نسل کا انسان یعنی ہیومین ورژن ٹُو داستان گو بننا چاہتا تو وہ ٹائم ٹریول کے ذریعے پہلے ماضی میں جاتا اور پھر وہاں خاصا لمبا عرصہ گزارتا۔ کئی کئی سال۔ کوئی کوئی پارمش تو ایک پوری انسانی زندگی تک وہاں گزار دیتے اور پھر مرنے کے بعد واپس آتے۔ چنانچہ سڈرہ کے داستان گوؤں کے لیے جو عظیم ترین ادارہ قائم کیا گیا تھا اُس میں بھی ٹائم ٹریولنگ کا طریقہ خاصے بڑے پیمانے پر رائج تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آئیسوان نے ایسا سوال کردیا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر داستان گوؤں کو ٹائم میں ٹریول کرنے کا مسئلہ اُس شدت سے درپیش کیوں نہیں جس شدت سے آئیسوان کے ادارے ولسما کو درپیش ہے۔ یوں گویا وہ ایک طرح سے اپنی شکایت بھی مائمل تک پہنچا رہاتھا۔ مائمل نے آئیسوان کے چہرے پر کسی قسم کے تاثرات تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔ آئیسوان فی الواقعہ جاننا چاہتا تھا کہ داستان گوؤں کے ٹائم ٹریول کی کیا حقیقت ہے۔ چنانچہ مائمل نے اُسے نہایت متانت سے جواب دیا،

’’آئیسوان! پالما کی اپنی حدود ہیں۔ ہم جس کائنات میں رہتے ہیں، یہاں سے تمام ممکنہ ٹائم لائنز کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہمارا ٹریولر ٹھیک اُسی ٹائم لائن میں جائے گا جس میں اُسے ہم نے بھیجا اور ٹھیک اُسی ٹائم لائن میں واپس آئےگا جس میں ہم یہاں موجود ہیں، اس بات کی تسلی کیے بغیر ہم کسی کو ٹائم کے سفر پر روانہ کرہی نہیں سکتے۔ اور اِس بات کی تسلی ہماری اِس کائنات میں رہتے ہوئے ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہرٹریول کے لیے ففتھ ڈائمینشن سے سگنل مانگتے ہیں۔ کیونکہ ففتھ ڈائمینشن سے ہماری اِس کائنات کی تمام ٹائم لائنز کو ایک ساتھ، صاف دیکھا جاسکتاہے۔ ہمارے رضاکارجنہوں نے اپنی زندگیاں تج دیں فقط ہمارے لیے، وہاں موجود ہیں۔ وہ ہمیں مختلف ٹائم لائنز میں سے ٹھیک وہی لائن چن کر بتاتے ہیں جہاں ہمارے مسافر کو جانا چاہیے۔ کیونکہ اگر وہ کسی او رٹائم لائن میں چلا جاتاہے تو پھر اس کی واپسی بھی کسی اور ٹائم لائن میں ہی ہوگی۔ یہ ابتدائی فزکس ہے۔ مجھے یقین ہے تم اِ س سب میکانزم سے واقف ہو۔ یاد ہے؟ ہمیں بچپن میں سکھایا جاتا تھا، ’جتنے امکانات اُتنی ٹائم لائنز‘‘۔ بہرحال تمہارا سوال کہ داستان گو کس طرح ٹائم ٹریول کرتے ہیں بجا ہے۔ داستان گو پہلے اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں۔ سینکڑوں سال تکلیف دہ صدیوں میں رہنا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ ادارہ ولسما سے زیادہ اہم ہے۔ ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ ہم اپنے پیچھے بہتر دنیا چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ ایک داستان گو جب ماضی میں جاتاہے تو وہ وہاں رہتاہے۔ اسے جلد واپس نہیں آنا ہوتا۔ جبکہ عام ٹائم ٹریولر تو بہت تھوڑے وقت کے لیے جاتے اور واپس آتے ہیں۔ ہردوطرح کی ٹیکنالوجیز الگ الگ ہیں۔ ٹائم ٹریولر گریوٹی بس کا استعمال کرتاہے۔ داستان گو ٹائم مشین کا استعمال کرتے ہیں۔ ذرا سی خرابی ان کی جان لے لیتی ہے۔ وہ بیسیوں بار مرتے اور بیسیوں بار جیتے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات کہ ففتھ ڈائمینشن سے لگ بھگ ہمیشہ ہی داستان گوؤں کے لیے ٹائم لائن کا انتخاب مشکل نہیں ہوتا جبکہ عام ٹریولر کے لیے مشکل ہوتاہے۔ یہ باتیں جوں جوں تفصیل طلب ہوتی جاتی ہیں مشکل بھی ہوتی جاتی ہیں۔ لیکن تمہارے لیے کچھ مشکل نہیں۔ میں سمجھتی ہوں تمہارے ذہن میں کچھ اور ہے، ورنہ تم یہ سوال نہ کرتے‘‘

آئیسوان پوری توجہ سے مائمل کی بات سن رہا تھا۔ مائمل کے آخری جملے پر وہ تھوڑا سا ٹھٹکا اور پھر ہنستے ہوئے کہنے لگا،

’’مائمل! آپ مجھے جانتی ہیں۔ میں فقط متجسس ہوں۔ اور میرے ذہن میں یہ ہے کہ ڈاکٹر ہارون کو کسی طرح جلد سے جلد جگایا جائے اور کسی طرح پرسنٹیج کے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے۔ مجھے ہر اُس نئے جاگنے والے پر ترس آتاہے جسے ہم جحمان کے سیّاروں پر بھیج دیتے ہیں۔ کیا پتہ کل کلاں ایسی ٹیکنالوجی آجائے جو ہمارا یہ سب کیا دھرا غلط قراردے دے۔ اگر جحمان کے سیّاروں پر بھیجے جانے والے لوگ کل کلاں معصوم ثابت ہوگئے تو ہم کس طرح اپنے آپ سے نظریں ملا پائیں گے؟‘‘

مائمل کے چہرے پر ہلکا سا ملال ظاہر ہوا۔ آئیسوان نے اپنی بات جاری رکھی،

’’مائمل! سچ تو یہ ہے کہ ہم خدا نہیں اور نہ ہی ہم خدا کے فرشتے ہیں۔ آپ دیکھتی نہیں؟ جب بھی کوئی بیدار ہوتاہے وہ ہمیں فرشتے سمجھنے لگتاہے؟ کیوں؟ اس لیے کہ ہم نے پرسنٹیج کا نظام بنارکھاہے۔ اصل لوگ جو ففتھ ڈائمینشن میں موجود ہیں، یا جو سکستھ، سیونتھ، ایٹتھ، نائنتھ یا ٹینتھ ڈائمینشن میں موجود ہیں، اُن لوگوں کو علم ہوگا نا کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے؟ ہم تھری ڈی کے بنے ہوئے ہیں۔ ہماری ان مٹی کی مورتوں کو کیا معلوم کہ حقیقت کیا ہے؟ میرا تو یقین جانیے اب رضاکار بن جانے کو جی چاہتاہے۔ اگر مجھے ڈاکٹر ہارون کے طریقہ سے کچھ اُمید نہ ہوتی تو میں اب تک ففتھ ڈائمینشن میں جاچکاہوتا‘‘

مائمل ہنسنے لگی۔

’’ففتھ ڈائمینشن میں جانا اتنا آسان ہوتا تو میں بھی اب تک جاچکی ہوتی‘‘

ابھی اُن لوگوں کی گفتگو جاری تھی کہ اچانک بیرونی فضا میں بادل چھاجانے کی وجہ سے پوری عمارت کے رنگ بدلنے لگے۔ یہاں یاقوت اور زمرد کی عمارتیں تھیں اور اس طرح تراشی جاتی تھیں کہ اگر بادل آتے تو روشنی کی شعاعیں مخصوص انداز میں منتشر ہوتیں۔ کچھ شعاعیں منعکس ہوتیں تو کچھ منعطف۔ بادلوں کی ایک ایک ٹولی سے الگ الگ نکھار آتاچلا جاتا اور کبھی کبھار تو ایسا ہوتا کہ عمارت میں بیٹھے ہرشخص پر سحر طاری ہوجاتا۔ آئیسوان نہیں جانتا تھا لیکن مائمل جانتی تھی کہ ایسا کیوں ہوتاہے۔ آج بھی ایسا ہورہا تھا۔ آئیسوان اور مائمل دونوں مسحور ہونے لگے۔ موسم تیزی سے بدلنے لگا۔ وہ دونوں کچھ دیر خاموشی سے باہر کی فضا کو دیکھتے رہے او رپھر مائمل نے کہا،

’’اچھا آئیسوان! مجھے ابھی جانا ہوگا۔ تم ابھی عیراش پر ہی رکو! ہم کل پھر ملتے ہیں‘‘

اتنا کہہ کر مائمل تیزی سے اپنی نشست سے اُٹھی اور دفتر کے پچھلے دروازے میں غائب ہوگئی۔ مائمل نے یہ سب کچھ اتنا عجلت میں کیا کہ آئیسوان حیرت زدہ رہ گیا۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا۔ ضرور ان بادلوں، اِن روشنیوں، عمارت میں موجود اس سحرانگیزیت اور اس موسمی تبدیلی کا تعلق مائمل کے جلد اُٹھ جانے کے ساتھ ہے۔ سڈرہ کے لوگ کبھی کسی کے بارے میں برا نہیں سوچتے تھے۔ وہ بُرا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آئیسوان کو مائمل پر رشک آنے لگا۔ اس نے یہی سوچا کہ مائمل کسی خاص قسم کے روحانی مقامات کی بلندی پر ہے۔ وہ آئیسوان تھا۔ تاریخ، آرٹ اور روحانیت کا دلدادہ۔ یہی وجہ تھی کہ اس کا ذہن مسلسل مائمل او رموسم کی اچانک تبدیلی کے بارے میں سوچے چلا جارہاتھا۔

****************

’’دانش! آپ کو اگر ماضی میں جانے کا موقع ملے تو کیا آپ واپس جائیں گے؟‘‘

یہ سوال بنچ پر ساتھ بیٹھے دانش کے ’’دوست داستان گو‘‘ نے کیا تھا۔ دانش ابھی تک سیّارہ پائرہ پر ہی تھا۔ وہ اب داستان گو بن چکا تھا اور چونکہ وہ براہِ راست داستان گو بنایا گیا تھا اس لیے اس کو ہرقدم پر رہنمائی بھی فراہم کی جاتی رہی تھی۔ گزشتہ کچھ ماہ سے مسلسل اصلاحی نوعیت کی ہدایات سننے اور پھر ان پر عمل کرنے کے بعد اب وہ اپنی کہانیوں میں کم سے کم مبالغہ کرتا تھا۔ وہ سارا دن پائرہ پر گھومتا۔ مختلف باغات، کھیل کے میدانوں، جم خانوں، تماشہ گھروں اور تربیت گاہوں کے چکر لگاتا۔ جہاں اسے کچھ بچے کھیلتے ہوئے نظر آتے وہ اُن کےقدرے قریب سے گزرتا، اگر بچے دوڑ کر اُس کے پاس آجاتے تو وہ انہیں اپنے عہد کی کہانیاں سنانے لگ جاتا۔ بچے داستان گوؤں کو ان کے لباسوں سے پہچان جایا کرتے تھے۔ ہرداستان گو خود کو بچوں کے لیے دلچسپ بناتا۔ وہ مزاحیہ لیکن خوشنما بہروپ دھار لیا کرتاتھا۔ اگر دانش چلتے چلتے یا کام کرتے کرتے تھک جاتا تو کسی نہ کسی قہوہ خانے پر جابیٹھتا۔ اُسے عموماً قہوہ خانوں پر اپنے جیسا کوئی نہ کوئی داستان گو مل جایا کرتا تھا۔ جس کے ساتھ گپ شپ کرکے دانش اپنا بقیہ وقت گزارتا۔ کسی داستان گو پر کوئی پابندی نہ تھی کہ وہ ہروقت کام کرتا رہے۔ اگر کوئی داستان گو کئی کئی دن بھی کام نہ کرتا تو اسے کوئی آکر یہ نہ پوچھتا کہ تم سارا دن قہوہ خانوں میں بیٹھے وقت کیوں ضائع کرتے رہتے ہو۔ دراصل قہوہ خانوں پر بھی داستان گوؤں کا وقت کبھی ضائع نہ ہوتا تھا۔ عموماً قدرے بڑی عمر کے بچے، وہاں بھی آجاتے۔ ایسے نوعمر لڑکے، بچوں کے جمگھٹے میں بیٹھ کر کہانیاں سننے کی بجائے قہوہ خانوں میں بیٹھ کر داستان گوؤں سے گپ شپ کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے تھے۔

ساتھی داستان گو کا سوال سن کر دانش چونک سا گیا۔ ماضی میں واپس جانے کا موقع؟ اُس نے کافی دنوں سے اس موضو ع پر سوچا ہی نہیں تھا۔ ساتھی داستان گو کو کوئی جواب دینے سے پہلے دانش نے اس سے الٹا سوال کردیا،

’’لیکن تمہیں یہ خیال کیوں آیا؟‘‘

ساتھی داستان گو نے دانش کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے، ایک اور سوال کردیا،

’’یار دانش! کیا تم نے کبھی سوچا کہ پارمش نسل کے انسان جب داستان گو بنتے ہیں تو وہ کس عہد کی کہانیاں سناتے ہیں؟‘‘

دانش نے قدرے گہری نظر سے ساتھی داستان گو کی آنکھوں میں جھانکا لیکن پھر کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگا،

’’ہاں سوچاہے! پارمش بہت پرانے ہیں۔ وہ کئی صدیاں پہلے بھی اسی دنیا میں موجود تھے۔ ظاہر ہے وہ اپنے پرانے ادوار کا آنکھوں دیکھا حال سناتے ہیں۔ یعنی اُن ادوار کا جب وہ شروع شروع میں پیدا کیے گئے اور انہوں نے سڈرہ کمیونٹی کے ابتدائی دنوں کو دیکھا‘‘

’’نہیں جناب! تم نے دیکھا نہیں اُس پارمش داستان گو کو؟ وہ جو سامنے بیٹھاہے، لال داڑھی والا؟ وہ 1640 عیسوی کی کہانی سنا رہا تھا؟ کیا سولہ سو چالیس عیسوی میں کوئی پارمش موجود تھا؟ یہ پارمش تو سب کے سب ہیومین ورژن ٹُو ہوتے ہیں نا؟ میرا خیال ہے کہ یہ لوگ ٹائم ٹریولر ہیں۔ تم یقین کرو! وہ آنکھوں دیکھا حال سنا رہا تھا اوربتا رہا تھا کہ اس نے ساٹھ سال گزارے اور پھر 1700 عیسوی میں وفات پائی اور یوں دوبارہ پیدا کیا گیا؟‘‘

دانش نے ساتھی داستان گو کی بات سنی تو ہکا بکا رہ گیا۔

’’ایک پارمش دوبارہ پیدا کیا گیا؟‘‘

اب حیران ہونے کی باری ساتھی داستان گو کی تھی۔ اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دانش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

’’تو کیا تمہیں واقعی پتہ نہیں ہے کہ پارمش جب بنادم بننا چاہتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟‘‘

اب تو دانش کے دیدے اور بھی پھیل گئے۔

’’کیا؟ پارمش بھی بنادم بنناچاہتے ہیں؟‘‘

’’تو اور کیا؟بعض پارمش تو بڑی خوشی سے بنادم بننا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے وہ پہلے داستان گو بنتے ہیں۔ پھر ٹائم ٹریول کرتے ہیں اور دُوردراز کے ماضی میں کہیں جاکر مکمل زندگی جیتے ہیں اور پھر وہاں جب مرجاتے ہیں تو اب وہ پارمش نہیں رہتے کیونکہ وہ ہم انسانوں کی طرح فوت ہوتے ہیں۔ چنانچہ جب انہیں دوبارہ جگایا جاتاہے تو وہ بنادم ہوتے ہیں‘‘

دانش پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے۔ اُسے یاد آیا، ایک بار مائمل نے خود اسے بتایا تھا کہ پارمش لوگ، بنادم لوگوں کو برتر اور خود کو کم تر سمجھتے ہیں۔ وہ سوچنے لگا کہ آخر یہ باتیں تین ماہ کے تربیتی کورس کے دوران اسے کیوں نہ بتائیں گئیں؟ لیکن پھر اُسے خیال آیا کہ تربیتی کورس تو ٹیمپرامنٹ کی تربیت کا کورس تھا نہ کہ داستان گوئی کا۔ لیکن اس کی حیرت ابھی دُور نہیں ہوئی تھی۔ معاً اُسے اپنے ساتھی داستان گو کے پہلے سوال کا خیال آیا اور اس نے اُس سے پوچھا،

’’لیکن تم نے مجھ سے یہ کیوں پوچھا کہ اگر مجھے ماضی میں جانے کا موقع ملے تو میں واپس جاؤنگا یا نہیں؟‘‘

’’اسی لیے پوچھا نا! میں جب بھی اس پارمش داستان گو کو دیکھتاہوں میرا جی چاہتاہے کہ میں بھی ماضی میں جاؤں۔ کسی صدی کے کسی دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں اور پھر واپس آکر وہاں کی کہانیاں سناؤں‘‘

دانش کو اس کی بات عجیب تو لگی لیکن اُس کے اپنےدل میں بھی ایسی ہی خواہش جنم لینے لگی۔ شروع شروع میں تو وہ ہرروز سوچا کرتا تھا کہ کسی طرح ماضی کا ایک چکر لگا کر واپس آجائے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے آپ کو پائرہ کے ماحول میں ڈھال لیا اور اپنی بیٹی اور بیوی کے ساتھ مستقل طور پر رہنا شروع کردیا۔

ایلس بھی پائرہ پر ہی مقیم تھی۔ وہ تو بس سارا وقت ہی چڑیا کے ساتھ گزارتی۔ شفلا ابھی تک اِن لوگوں کے ساتھ ہی رہ رہی تھی۔ کبھی کبھار جب دانش کام پر نہ جاتا اور گھر پر ہی رہتا تو یہ لوگ مزے مزے کی چیزیں بناتے، مختلف کھیل کھیلتے اور خوب ہلاگُلا کیا کرتے تھے۔ کبھی کبھار چڑیا اصرار کرتی تو یہ لوگ بڑے دریا کی سیر کے لیے چلے جاتے۔ رنگین بجروں میں میں بیٹھ کر دریا کے پانی پر اچھلتی مچھلیوں کو دیکھنا چڑیا کا پسندیدہ ترین مشغلہ تھا۔ کبھی کبھار کوئی مچھلی اُچھل کر بجرے میں آگرتی تو چڑیا اُسے اُٹھا کر واپس پانی میں پھینک دیتی۔ مچھلی تلملاتی اور چڑیا کی پکڑ میں نہ آتی تو چڑیا بری طرح شور مچانا شروع کردیتی۔ سب ہنستے اور بالآخر چھوٹی مچھلی کو واپس پانی میں پھینک دیا جاتا۔

آج دانش جب گھر آیا تو چڑیا کبوتروں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ ایلس سامنے برآمدے میں بیٹھی سویٹر بُن رہی تھی اور شفلا کالےانگوروں کی بیلیں توڑ رہی تھی۔ شفلا کالے انگوروں سےنہایت خوش ذائقہ ’’ریڈوائن‘‘ بنانے میں ماہر تھی۔ یہی وجہ تھی کہ دانش نے دور سے ہی شفلا کو دیکھا اور دل ہی دل میں خوش ہوا کہ اب پھر عمدہ والی ریڈوائن پینے کو ملے گی۔

وہ آہستہ قدموں سے چلتے ہوئے ایلس کے نزدیک آیا اور پاس رکھے موڑھے کو ذرا سا کھینچ کر اُس پر بیٹھ گیا۔

’’تمہارے چہرے سے لگ رہاہے کہ آج تمہارے پاس کچھ خاص ہے، مجھے بتانے کے لیے‘‘

دانش کے بیٹھتے ہی ایلس نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

’’تو اور کیا! تم تو ہو ہی پوری نجومن! اچھا بتاؤ! میرے ذہن میں کیا ہے؟‘‘

ایلس نے گہری نگاہ سے دانش کا جائزہ لیا۔ اس کے ہاتھ مسلسل چل رہے تھے اور وہ سویٹر بنتی جارہی تھی لیکن اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں دانش کی آنکھوں میں گڑی تھیں۔ وہ کچھ دیر دانش کے چہرے پر آئے تاثرات کو پڑھنے کی کوشش کرتی رہی اور پھر ہنس دی۔

’’نہیں! میں اب اتنی بھی نجومی نہیں ہوں۔ تم خود ہی بتادو! کیا نئی بات ہوئی آج؟‘‘

’’نئی بات تو خیر ہوئی اور وہ میں بعد میں بتاتاہوں۔ لیکن پہلے یہ آئیڈیا شیئرکرنا چاہتاہوں کہ اگر مجھے بطور داستان گو، ماضی میں جانے کا موقع ملے، یعنی ٹائم ٹریول کا موقع ملے تو کیا مجھے یہ رسک لینا چاہیے ؟‘‘

ایلس کو دانش کی بات سے دھچکا سا لگا۔ اس نے یکایک بُنائی والی سلائیاں ایک طرف رکھیں اور قدرے دانش کی طرف جھکتے ہوئے کہا،

’’کیا؟؟؟؟‘‘

ایلس کے انداز میں تھوڑی سی جارحیت بھی تھی۔ وہ بدستور دانش کو گھُور رہی تھی۔ پھر تھوڑے سے توقف کے بعد اس نے سوال کیا،

’’یہ خیال تمہیں کیوں آیا؟‘‘

’’ایلس! ایسی کوئی بات نہیں۔ یونہی آج ایک ساتھی داستان گو کے ساتھ باتوں ہی باتوں میں پتہ چلا کہ ایک داستان گو چاہے تو ماضی میں جاسکتاہے۔ کیونکہ اسے جو بھی کہانی سنانا ہوتی ہے، وہ لازمی ہے کہ آنکھوں دیکھاحال ہی سنائے۔ میں ابھی تو اپنے عہد کے قصے سنا رہاہوں نا۔ لیکن مستقبل میں ایسا بھی تو ہوسکتاہے کہ میں کسی او رصدی میں چلا جاؤں اور کسی اور عہد کے قصے سناؤں۔ کیا ایسا ہونا نہیں چاہیے؟‘‘

ایلس نے ایک دم اطمینان کی سانس لی۔ سلائیاں واپس اُٹھائیں اور دوبارہ سویٹر بننے لگ گئی۔ اب اس نے کسی قدر بے پرواہی کے ساتھ کہا،

’’مستقبل کی بات اور ہے۔ ہماری بچی بڑی ہوجائے تو ہم دیکھیں گے کہ مستقبل کا کیا کرناہے‘‘

*************

کوریڈور کے آخری سرے پرچھوٹے سے ایک کمرے میں بیٹھی دبلی پتلی سی لڑکی کاغذ پر مسلسل کچھ لکیریں کھینچ رہی تھی۔ وہ وقفے وقفے سے اپنے سنہرے بالوں کی ایک لَٹ کو جھٹک کر آنکھوں کے سامنے سے ہٹاتی اور پھر کام میں منہمک ہوجاتی۔ معاً لڑکی نے ایک مخصوص بِیپ کی آواز سنی تو چونک کر سامنے دیوار کی جانب دیکھا۔ دیوار ایک بڑی سی سکرین کی طرح روشن تھی، جس پر کسی اجنبی زبان کے الفاظ کے ساتھ ساتھ ریاضی کی مختلف مساواتیں بار بار ظاہر اور غائب ہورہی تھیں۔ وہ بِیپ کی آواز سن کر چونکی۔ کچھ دیر دیوار پر ظاہر ہونے والی مساواتوں کو غور سے دیکھتی رہی اور پھر قدرے مایوس ہوکر سر کو ایسے جھٹکا جیسے، بِیپ کی آواز اُس کا وہم رہی ہو۔ اب وہ ایک بار پھر کاغذ پر لکیریں کھینچ رہی تھی۔ لیکن ابھی اُس نے سرکو جھکایا ہی تھا کہ بِیپ کی آواز دوبارہ سنائی دی۔ اب تو وہ اُٹھ کر کھڑی ہوگئی اور بھاگ کر دیوار کے پاس آگئی۔ وہ نہایت غور سے ایک ایک مساوات کو دیکھ رہی تھی۔ سکرین پر تیزی کے ساتھ ریاضی کے اعداد چل رہے تھے اور ساتھ ہی کیلکولس کی بے شمار عجیب و غریب علامات ظاہر اور غائب ہورہی تھیں۔

لڑکی کے چہرے کے تاثرات اچانک بدلنا شروع ہوگئے۔ اور اب تو بِیپ کی آواز بار بار اور مسلسل پیدا ہورہی تھی۔ لڑکی کے لیے اپنی چیخ کو روکنا ناممکن ہوگیا۔ اس نے شدتِ جذبات سے ایک زور دار چیخ ماری اور پھر چلا چلا کر کسی کوپکارنا شروع کردیا۔ اگلے ہی لمحے سکرین کے ایک کونے پر کسی سائنسدان کا چہرہ نمودار ہوگیا۔ وہ مُسکراتے ہوئے سنہرے بالوں والی لڑکی کو دیکھ رہاتھا۔

’’کیا ہوا شیلما؟ تم نے پھر کوئی نیا سیّارہ دریافت کرلیا؟‘‘

یہ پالما کا ہیڈکوارٹر تھا۔ پالما کا ہیڈ کوارٹر کسی بھی سیّارے پر نہیں تھا۔ یہ ایک بہت ہی بڑی سپیس شِپ تھی جو ہمہ وقت کھلے خلامیں ہی گردش کرتی رہتی تھی۔ یہ گویا ایک طرح سے مصنوعی سیّارہ تھا۔ اتنا بڑا مصنوعی سیّارہ کہ جس پر لاکھوں لوگ بیک وقت موجود رہتے۔ پالما سڈرہ کمیونٹی کا سب سے بڑا ادارہ تھا۔ یہی ادارہ تھا جس نے اب تک کے تمام سیّارے دریافت کیے تھے۔ پالما کی جانب سے گزشتہ صدیوں کے دوران پوری کائنات میں لاکھوں مشن بھیجے جاچکے تھے۔ بلکہ سولر کشتیاں تو کروڑوں کی تعداد میں پوری کائنات میں موجود تھیں جو وقت کے ساتھ ساتھ پالما کو نئی نئی دنیاؤں کی خبر دیتی رہتیں۔ پالما ایسا عجیب و غریب ادارہ تھا کہ یہاں آئے روز کوئی نہ کوئی نیا سیّارہ دریافت ہوتا۔ خاص طور پر ایسا سیّارہ جہاں کی گریوٹی انسانی جسم کے لیے مناسب ہوتی تو یہ لوگ اس سیّارے کو بھی آنے والے وقت کے لیے اپنی فہرست کا حصہ بنالیتے۔ اگرچہ پوری سڈرہ کمیونٹی دوسوبیالیس سیّاروں پر آباد تھی لیکن پالما کے منصوبوں میں ہزاروں ایسے سیّارے ابھی موجود تھے جن پر کبھی نہ کبھی زندگی کا آغاز کیا جاسکتا تھا۔

’’نہیں! لائتوان! سیّارہ نہیں! زندگی‘‘

سکرین کے کونے پر موجود چوکھٹے میں نظر آنے والے سائنس دان کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے عجب سی چمک نمودار ہوئی اور پھر وہ یکلخت چوکھٹے سمیت غائب ہوگیا۔

آن کی آن میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ہیڈ کوارٹر میں پھیل گئی۔ فوری طور پر ہنگامی اجلاس طلب کرلیے گئے۔ پوری سپیس شپ پر بھگدڑ مچ گئی۔ ہرچہرے پر بلا کا تجسس تھا۔ اتنا تجسس کہ ہر ہر چہرہ گویا تمتما اُٹھا تھا۔ اگلے چند منٹوں میں پالما کے تمام بڑے بڑے سائنسدان ایک ہال میں جمع ہوچکے تھے۔ ہال کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا ’’ہالوگرام‘‘ کھلا ہوا تھا۔ یہ ایک روشنی سی تھی جو فرش سے یوں پھوٹ رہی تھی جیسی تھری ڈی کی فلم چل رہی ہو۔ سب سائنسدان ہالوگرام کے چاروں طرف کھڑے تھری ڈی فلم کے مناظر دیکھ رہے تھے۔ ہالوگرام میں ’’وِرپُول کہکشاں‘‘ کا نقشہ حرکت کررہاتھا۔ یہ ایک بہت بڑی کہکشاں تھی جو ملکی وے سے پینتیس ملین نوری سال کی دُوری پر واقع تھی۔ یہ ایک سپائرل کہکشاں تھی جس کے دومرکز تھے اور بے شمار ستارے اور سیّارے۔

پالما کی پوری تاریخ میں ایک مرتبہ بھی ایسا نہ ہوا تھا کہ انہوں نے کوئی ایسا سیّارہ دریافت کیا ہو جہاں پہلے سے زندگی موجود تھی۔ اب تو سڈرہ کمیونٹی کے بعض عوام کا خیال تھا کہ ہم انسان اِس کائنات میں اکیلے ہیں۔ کیونکہ صدیوں پر صدیاں بیت گئی تھیں لیکن کبھی کوئی ایسا سیّارہ دریافت نہ ہوسکا تھا جس پر پہلے سے زندگی موجود ہوتی۔ پانی، برف، آکسیجن وغیرہ سے بھرے ہوئے سیّارے تو بہت مل گئے تھے لیکن کبھی کوئی ایک بھی سیّارہ ایسا نہیں ملا تھاجس پر فقط نباتات ہی ہوتے۔

معاً ہال کے دروازے کی طرف سے کچھ شور سا بلند ہوا۔ سب سائنسدانوں کی نظر ایک ساتھ دروازے کی طرف اُٹھ گئی۔ مائمل ہال کے دروازے سے اندر داخل ہورہی تھی۔ یہ ایک تاریخی موقع تھا۔ مائمل کو جونہی خبر موصول ہوئی۔ اس نے ایک منٹ کی تاخیر بھی نہ کی اور سیدھی پالما کے ہیڈکواٹر پہنچ گئی۔ اُسے اطلاع ملی تھی کہ پالما نے ’’ٹائفون کہکشاں‘‘ کے سیّاروں میں سے ایک پرنباتات اور ابتدائی حیات دریافت کرلی ہے۔ ٹائفون کہکشاں اُسی وِرپول کہکشاں کا دوسرا نام تھا جس کا ہالوگراف سامنے کھلا تھا۔ یہ ایک سِمولیشن تھی جو کسی تھری ڈی کی روشنی کے بہت بڑے اور وسیع ہالے میں چل رہی تھی۔ مائمل ہال میں داخل ہوئی تو سب سائنسدانوں نے خود بخود ہی مائمل کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔ وہ سیدھی ہالوگرام کے پاس پہنچی اور نہایت توجہ سے اُس سیّارے کو دیکھنے لگی۔ ہالوگرام نے مائمل کے سامنے اس مخصوص سیّارے کو خود بخود فوکس کردیا اور مائمل کے چہرے پر پہلی بار لوگوں نے تجسس کی بے پناہ شدت دیکھی۔ یہ تو واقعی نباتات سے لبریز سیّارہ تھا۔ سبزہ ہی سبزہ، جنگل ہی جنگل، درخت ہی درخت اوربے پناہ متحرک حیات سے بھرپور سیّارہ۔ یہ تو واقعی ایک بہت بڑا تاریخی واقعہ تھا۔

’’تو ہم اِس کائنات میں اکیلے نہیں ہیں‘‘

مائمل نے دل ہی دل میں سوچا۔

’’اگر ایک سیّارے پر نباتات اور ابتدائی حیوانات ہوسکتے ہیں تو یقیناً کبھی ایسے سیّارے بھی دریافت ہوسکتے ہیں جن پر انسان موجود ہوں۔ ایسا بھی ہوسکتاہے کہ ایسے انسان موجود ہوں جو ہم سے بھی ہزاروں سال آگے ہوں اور بے پناہ ترقی یافتہ ہوں‘‘

وہ مسلسل ایسی ہی باتیں سوچ رہی تھی۔ کافی دیر تک ساکت و جامد کھڑے رہنے کے بعد بالآخر مائمل نے مزید تصدیقات طلب کرلیں۔ اور نہایت باریک بینی سے ریاضی کی ایک ایک مساوات کا جائزہ لینے لگی۔ تفصیلات کو نہایت باریکی سے، اچھی طرح خود دیکھا، پڑھا، پرکھا اور اچھی طرح سے تسلی کرلی۔ جب تک مائمل تصدیقات کی جانچ پڑتال کرتی رہی، تب تک خبر کو روک کر رکھا گیا۔ اور پھر جب تصدیق ہوگئی تو پھر کیا تھا،

پوری سڈرہ کمیونٹی کو یہ خبر سنائی جارہی تھی کہ

’’ پالما نے ایک ایسا سیّارہ دریافت کرلیا ہے جو جنگلی حیات سے چھلک رہاہے‘‘

اور ٹھیک اُسی وقت، دور، بہت دور، سیّارہ شربری کے ایک غار میں، بیٹھا ایک زَردرُو بوڑھا نہ جانے کیوں یہ خبر سن کر مُسکرا دیا۔ اس نے اپنے سامنے جلتی آگ کے الاؤ کو ایک چھوٹی سی لکڑی کے ساتھ چھیڑا اور پھر سے آنکھیں بند کرکے سرجھکالیا۔ خداجانے وہ کون تھا۔

—جاری ہے۔—

پہلی قسط اور ناول کا تعارف اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

دوسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

تیسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

چوتھی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں 
پانچویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں
چھٹی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

ساتویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

آٹھویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

نویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

دسویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: