مضبوط فیصلے کیوں ضروری ہوتے ہیں۔ میاں ارشد فاروق

0
  • 99
    Shares

خوراک کی ضرورت کے بعد ایک طاقتور سماج کیلیے سب سے اہم چیز اسکے اقتدار اعلی کی حفاظت ہوتی ہے ۔ جو قوم اپنے اقتدار اعلی کی حفاظت کیلیے مستعد نہیں ہوتی وہاں کوئی نہ کوئی ہٹلر، صدام، یا قذافی اقتدار پر قابض ہو جاتا ہے۔ جس سے نجات کے لئے معاشرے کو کئی دہائیاں نجات کی دعائیں کرنا پڑتی ہیں۔طاقتور سماج کسی ایک شخص کی لامتناہی طاقت کو برداشت نہیں کرتے اور کسی نہ کسی طور پر اس کا حل نکال لیتے ہیں۔ اگر صاحب اقتدار واقعی ایسا قابل شخص ہو کہ وہ تمام سماج کی یکساں بڑھوتری کرنے کے قابل ہو تو بھی اسکے لیے لازم ہے کہ وہ مہاتیر محمد اور نیلسن مینڈیلا کی طرح خود ہی جگہ خالی کر دے تاکہ سماج میں بغاوت پیدا نہ ہو۔ جدید ریاستوں کے آئین میں اسی لیے کسی شخص کے دو یا تین بار سے زیادہ منتخب ہونے پر باندی عائد کی جاتی ہے کیونکہ وہاں بھی لوگ ایک ہی شخص کو بار بار دیکھ کر اکتا جاتے ہیں۔ کاش یہ بات میاں صاحب کی سمجھ میں آسکتی! اور وہ تاریخ میں اپنا مقام محفوظ کرنے کو کرسی پر ترجیح دیتے۔

میاں صاحب کے خلاف فیصلے سے قطع نظر انکے دور کو غیر معمولی ترقیاتی منصوبوں کے باعث یاد رکھا جاے گا۔ البتہ عظیم داستانوں کے کیریکٹرز کی مانند انکی خوبیوں اور خامیوں دونوں پر کافی طویل عرصہ بہت سنجیدہ مباحث ہوتے رہیں گے۔ لیکن اس داستان میں سب سے اہم کردار سپریم کورٹ آف پاکستان کا ہے جس نے اس مقدمے کو فیصل کرنے کے لئے جس طرح اپنی مہارت، جرات اور دانشمندی کو استعمال کیا اسے عوام جس طرح بھی یاد کرے لیکن قانون کے شعبے میں اس فیصلے کی بازگشت لمبے عرصے تک سنائی دیتی رہے گی اور جیسا کہ لارڈ کھوسہ نے کہا تھا کہ فیصلہ صدیوں یاد رکھا جاے گا ۔۔۔حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوگا۔

قارئین کرام سماج اندر سے مضبوط ہوا کرتے ہیں، کوئی بیرونی قوت کسی سماج کو تقویت نہیں دے سکتی، اور اسے صرف مضبوط فیصلے طاقتور بناتے ہیں، خواہ وہ عدالتی ہوں یا انتظامی، ان  سے اجتماعی شعورتعمیر ہوتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں دو مثالیں اس دور کی بے پناہ بصیرت آمیز قوت کو ظاہر کرتی ہیں۔ پہلا واقعہ جب حضرت خالد بن ولید کے خلاف ایک شکایت پر انکو خلیفہ وقت پابجولاں حاضر ہونے کا حکم دیتے ہیں تو باوجود عسکری سربراہ ہونے کے وہ بیڑیاں پہن کر حاضر ہوجاتے ہیں اور ریاست کی تابعداری کے اصول کو تسلیم کرتے ہیں اور دوسراواقعہ جب خلیفہ وقت حضرت علی علیہ السلام  قاضی کی عدالت میں اپنی زرہ کا مقدمہ لے کر جاتے ہیں تو انکا مقدمہ اسلیے یہودی کے خلاف خارج کر دیا جاتا ہے کہ انکے پاس گواہ اپنے خاندان کے علاوہ نہیں ہے اور حضرت علی علیہ السلام اس فیصلہ کو تسلیم کر کے قانون اور عدالت کی بالادستی کے اصول پر تا قیامت اپنی مہر تصدیق ثبت فرماتے ہیں۔ یہ اس طاقتور سماج کی علامت ہیں جس نے ایک دنیا پر اپنا اثر قائم کیا ۔ جب بے ہنگم ہجوم قوم میں بدلنے لگتا ہے اور قوم کی تعمیر ہونے لگتی ہے تو فیصلوں کو احترام دینا شروع کیا جاتا ہے ۔ مجھے اکثر حیرت ہوتی تھی کہ آنحضورص نے ایک قریشی عورت کے چوری کے مقدمے میں سیدہ کاینات رض کے بارے میں کیوں کہا تھا کہ اگر وہ بھی معازاللہ ایسا کرتیں تو آپ ص یہی فیصلہ فرماتے ۔ اب سمجھ آیا کہ مضبوط فیصلے ہی قوموں کی قوت ہوتے ہیں اور فیصلوں کے احترام میں قوموں کی قوت چھپی ہوتی ہوتی ہے۔

اب دیکھئے کہ یہ فیصلہ بھی بہت سی تنقید اور تحسین برداشت کرے گا لیکن اسکے اندر بہت سےایسے مباحث کا انجام ہوگا جو کسی نہ کسی وجہ سے عدلیہ کے کردار پہ سوالیہ نشان بنتے تھے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ مشرف کی ایمرجینسی کے خلاف عدلیہ کے ہمت آمیز فیصلے کے بعد اب عظمی اور عالیہ کو گالیاں دینے والوں کو نئے راگ تلاش کرنے پڑیں گے ۔ پنجابی وزیر اعظم اور سندھی وزیر اعظم کے مباحث کو بھی اب عدلیہ پر اپنا کوڑا پھینکنے کی سہولت نہیں رہے گی ۔ ہاں البتہ سازشی تھیوری والے لوگ اسٹبلشمنٹ اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ پر خامہ فرسای کرتے رہیں گے۔ ہمارے ہاں کچھ دانشور ایسے ہیں جو پاکستان کی ہمیشہ ایک بری تصویر پینٹ کرنے کو اپنی قومی خدمت خیال کرتے ہیں انکے لیے عدلیہ ایک آسان ٹارگٹ ہوا کرتا ہے اور حق بات یہ ہے کہ نظریہء ضرورت اور ارسلان افتخار جیسے فیصلوں کی وجہ سے کسی حد تک انکے رقیق حملوں کا جواب دینا مشکل بھی ہوا کرتا تھا ۔ لیکن اب یہ امید کی جاتی ہے کہ ہمارے ملک میں ایک نیے دور کا آغاز ہو رہا ہے جہاں پانامہ کیس نے یہ ہمیشہ کیلیے طے کردیا ہے کہ سیاست اب کرپشن کا لحاف نہیں ہوگی۔ اب کوی بھی شخص سیاست کے ذریعے اپنی کرپشن سے بچ نہیں سکے گا۔ دو ہزار سال سے قانون کو مکڑی کا جالا ہونے کا طعنہ دیا جا رہا تھا اسکو بھی ایک موثر جواب مل گیا ہوگا۔ اگرچہ ہمیں بہت زیادہ توقعات نہیں قائم کرنا چاہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ عدلیہنے کرپٹ سیاستدانوں کی گردنوں میں طوق ڈالنے والا دروازہ مکمل طور پر کھول دیا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ اس چھلنی سے معاشرتی تطہیر کا ایک عمل شروع ہو جائے گا۔ تاریخ جس طرح نظریہ ضرورت والے ججوں کو یاد رکھتی ہے ہمیں اسی طرح اس بینچ کے معزز جج صاحبان کی جرات کو یاد رکھنا چاہیے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس ثاقب نثار نے نہ صرف اپنی ذات کو فیصلے سے علیحدہ کر کے عظیم قانونی روایت کو زندہ کیا بلکہ اس تمام عمل میں غیر جانبداری کا مکمل اظہار کرکے قانون سے وابستہ افراد کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ انکو پاکستان کے عظیم قانون دانوں میں تو پہلے ہی شمار کیا جاتا ہے اب انکے غیر جانبداری بھی ایک مثال ہو گی ۔ ہمیں آئندہ باہر سے ہی مثال ڈھونڈنے کی تکلیف سے بھی نجات ملے گی۔

یہ ہر لحاظ سے ا یک شاندار مقدمہ تھا جس کے تمام فریقوں نے اسے اپنی استطاعت سے بہت بڑھ کر لڑا۔ نعیم بخاری صاحب نے جو تاریخی ریکارڈ اکٹھا کیا اس کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی ۔ البتہ حکومتی وکلا سے اظہار ہمدردی ہی کیا جا سکتا ہے جنہوں نے بغیر ثبوتوں اور اخلاقی جواز کے بنا بھی اسے بہت محنت سے لڑا۔ خدا کسی بھی وکیل کو ایسا کمزور مقدمہ لڑنے کیلیے نہ دے۔ عدلیہ نے اپنے غیر جانبدار ہونے کو یقینی بنانے کیلیے جس طرح جے آئی ٹی بنائی اور جس طرح مدعاعلیہ کو آخری وقت تک ثبوت مہیا کرنے کا بار بار موقع دیا اسکی مثال شاید کہیں اور نہ مل سکے۔

ملکی سیاست ایک ایسی شے ہے جو قاید اعظم کی وفات پر بھی نہیں رک سکی اسلیے یہ کسی طور چلتی رہے گی البتہ جن لوگوں کو یہ تشویش ہے کہ اس سے کہیں سسٹم ڈی ریل نہ ہو جاے وہ مسلم لیگ نون کی تاریخ کوشاید نظر انداز کر رہے ہیں۔ میں اپنی پہلی تحریروں میں بھی عرض کر چکا ہوں کہ مسلم لیگ کے ورکرز کی باقاعدہ سیاسی تربیت نہ ہونے اور ایک علمی بنیاد پر منظم نہ ہونے کے باعث یہ ایک گروہ سے بڑھ نہیں سکی اور مکمل سیاسی پارٹی تو شاید یہ کبھی بن ہی نہ سکے ۔ ویسے اس مرحلے پر انکے لیے سب سے بہترین لائحہ ءعمل یہ ہو گا کہ وہ کھلے دل سے فیصلے کو تسلیم کریں اور گروہ کو مزید تقسیم ہونے سے بچانے کی کوشش کریں۔

ہمیں اس فیصلے کو سیاسی نظر سے علیحدہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ن لیگ اور تحریک انصاف اسے اپنے اپنے طرز پہ دیکھیں گی لیکن ہمارے دانشوروں کو اسے اس نظر سے بھی دیکھنا چاہیےکہ یہ فیصلہ ن لیگ کے خلاف نہیں ہے بلکہ سسٹم کی ایک بڑی خرابی کے خلاف ہے جس نے ہمارے ملک کے تمام نظام کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ان لوگوں کے لیے  جو ہمیشہ سسٹم میں بہتری نہ آنے پر شکوہ کناں رہتے ہیں ایک امید کا پیغام ہے ۔اس سے پاکستان میں سیاسی عمل میں بہتری کے در کھلیں گے اور ایسے لوگوں کے سیاست کرنے کے امکانات روشن ہونگے جو کرپشن کا حصہ نہ بننے کی وجہ سے سیاست سے دور رہتے تھے۔ یقینا ملک معراج اور نوابزادہ نصراللہ خاں جیسے لوگوں کی سیاست کا دور شروع ہونے والا ہے اور ایک مضبوط قوم کی تعمیر ہونے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: