ایک مرد کو کیسا شریکِ حیات ہونا چاہیئے؟ زارا مظہر

0

گذشتہ دو دن میں فیس بک پر ہی کسی اسٹیٹس پہ نظر پڑی تو گہری سوچوں نے گھیر لیا۔ کچھ خیالات آپ کے ساتھ شئیر کرنے کو دل کیا۔ وہ اسٹیٹس کچھ اس طرح کا رہا کہ؛
مرد کو کبھی کمزور نہیں ہونا چاہیئے۔ پتہ ہے مجھے کیسے مرد پسند ہیں۔ ایسے جو رعب والے ہوں۔ تھوڑے سے سڑیل، تھوڑے سے مغرور، تھوڑے سے گھمنڈی۔ پتہ ہے کیوں؟؟ کیونکہ ایسے مرد ہر کسی کے سامنے بچھ نہیں جاتے۔ دل ہتھیلی پر نکال کر نہیں رکھ دیتے۔ ہر جگہ ہر کسی سے اظہارِ محبت نہیں کرتے۔ ایسے مرد ہی دراصل عورتوں کے محافظ ہوتے ہیں”۔

پڑھ کر معاً اپنی جوانی کے بہت سے خواب یاد آ گئے۔ ایک ایسی لڑکی جس نے زندگی کو ابھی صرف گھر کی چار دیواری میں محدود دیکھا ہے۔ مرد کے نام پر صرف شفیق باپ اور دوست نما بھائی کو جانتی ہے۔ جو بال کھینچ کر یا بہن کا حصہ کھا کر خوب تنگ کرتا ہے۔ مگر پھر شام کو بھیل پوری، دہی بڑے اور آ ئس کریم زبردستی کھلاتا ہے۔

عام طور پر لڑکیوں کا آ ئیڈیل باپ اور بھائی ہی ہوتے ہیں۔ انہیں ابھی زندگی کو برتنے کا سلیقہ ہے نا ڈھنگ۔ بڑی عجیب سی خواہش کر بیٹھی ہے۔ یہ کمرشل ڈائجسٹس کی افسانہ نگار ریٹنگ کے لئیے عجیب وغریب خیالات نوخیز ذہنوں میں فیڈ کر دیتی ہیں۔ کچے ذہن اسطرف مڑ جاتے ہیں۔ اور جب خیالی دنیا کا اپالو حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو ڈریکولا سے مشابہ لگتا ہے اور گھر ٹوٹنے لگتے ہیں۔ زندگی کی بہت سی بہاریں دیکھنے کے بعد خیالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ تب بہت رومینٹک لگتا تھا کھلنڈری لڑکیاں لمحے بھر کی الفت اور نظر کرم کو غنیم جانتی ہیں۔ مگر زندگی ایسے نہیں گزرتی۔ یا شائد گزرتی تو ہے مگر بہت سے قیمتی پل، چھوٹی چھوٹی خوشیاں جو زندگی کے کینوس میں رنگ بھرنے کے اسٹروک لگاتی ہیں وہ نصیب نہیں ہوتیں۔ اور دل کے بہت سے ارمان حسرت کی قبر میں جا سوتے ہیں۔

اگر خدانخواستہ کسی اکھڑ کا ساتھ بندھ جائے تو زندگی میں سے شوخ و رنگین پل اُڑ جاتے ہیں۔ اور سنو اچھی لڑکی! زندگی انہی شرارتی، گلابی پَلوں سے حسین اور ہلکی پھلکی ہوتی ہے۔ تیوریاں چڑھے مرد سے کیا توقع ؟ وہ تو باہر اپنے کولیگز اور دوستوں میں قہقہوں کے جام لنڈھا آ یا ہے۔ ساری توانائیاں وہاں خرچ کر آیا ہے۔ گھر میں ایک تھکا ہارا مرد داخل ہوا ہے۔ جسے نخرے اٹھوانے کو اور کمائی کا احسان جتانے کو ایک ملازمہ چاہیئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک زرخرید ڈری سہمی احسانات سے چور ملازمہ جو صاحب کا موڈ کھولنے کے چکر میں دائیں بائیں ہوئی جاتی ہے۔ آ تشہ مزاج کے آ گے سیدھے کام بھی الٹے ہو ہو جاتے ہیں۔ جوتا اٹھاتے پاؤں رپٹ گیا۔ پانی کا گلاس کپکپا کر لڑھک گیا یا چائے پکڑاتے پیالی چھلک گئی اور شوہر نامدار کا پیمانہ بھی لبریز ہو کر جو چھلکا تو بیوی کے آ نسوؤں میں ٹپکا۔

معاف کیجئے گا یہ نہ مردانگی ہے اور نہ مردانہ شان۔ آپکو زعم صرف اپنے مرد ہونے کی سوچ پر ہے ورنہ کمائی تو عورتیں بھی کر لاتی ہیں اور بعض اوقات مردوں سے ذیادہ کماتی ہیں۔ مگر آ ج کا موضوع کمائی میں موازنہ نہیں ہے سو اسکو نہیں چھیڑتے۔

مرد کو بیوی اور بچوں کا دوست ہونا چاہیئے۔ بجائے اسکے کہ بیوی گھریلو راز اور چھوٹے موٹے دکھڑے رشتہ داروں اور محلے داروں میں بانٹتی پھرے ( کہ گھٹن اخراج چاہتی ہے) اور کئی جھوٹے مفاد پرست اور سراہنے والے ہمدرد اپنے گرد اکھٹے کر لے جو بہت بڑی سردردی اور بسا اوقات بے راہ روی کا بھی شاخسانہ بن جاتے ہیں کہ آ ج کل کے دور میں ایسا ہونا ناممکن نہیں۔ شریکِ حیات کو اتنا پیار اور اعتماد دیجئے کہ بیوی اپنا ہر رشتہ آ پ میں دیکھے۔ یہ مرد کی کمزوری نہیں مضبوطی کی نشانی ہے کہ وہ خود سے منسلک یر رشتے کو اعتماد اور عزت و توقیر میں ملبوس کرے۔ رشتوں کے بیچ تصادم عورت کی نہیں مرد کی کمزوری ہے۔

شریکِ حیات کو اتنا پیار اور اعتماد دیجئے کہ بیوی اپنا ہر رشتہ آ پ میں دیکھے۔ یہ مرد کی کمزوری نہیں مضبوطی کی نشانی ہے کہ وہ خود سے منسلک رشتے کو اعتماد اور عزت و توقیر دے۔

سارا رومانس، ساری خوبصورتی اس میں ہے کہ مرد صبح گھر سے نکلے تو عموماً بیوی دروازے تک چھوڑنے جاتی ہے ایسے میں ایک الوداعی نشان محبت ماتھے پر ثبت کر دے۔ کوئی نرم گرم جملہ سماعت میں انڈیل دے یا نکلتے نکلتے گھوم کر ہلکا سا ہاتھ ہلا دے تو بیوی سارا دن اس قید سے نکل نہیں پاتی۔ رومانس اس میں نہیں کہ مرد اکڑے ماش کے مزاج کے ساتھ گھر میں داخل ہو۔ لرزتی کانپتی ہراساں بیوی بےوقوفی سے پلکیں جھپکاتی، پلّو گراتی اسکے جوتے چپل، چائے پانی حاضر کرے۔ رومانس اس میں ہے کہ ہلکی سی تھکی مسکراہٹ آ پکے لبوں پر پاتے ہی بیوی بیگ ہاتھ سے لے لے۔ مرد اپنے تبدیل شدہ جوتے دو انگلیوں کے آنکڑے میں پکڑ کر شو ریک پر رکھ دے ہاتھ منہ دھو لے۔ اتنے میں نکھری ستھری، بااعتماد خوشبو میں بسی بسائی بیوی کچن میں چائے تیار کر لے اور ہلکی پھلکی گفتگو کے دوران رات کا مینیو ڈسکس کر لیا جائے۔

کہیں سفر میں ٹھنڈ سے اکڑتی ہلکے سویئٹر میں ملبوس بیوی کو اپنا کوٹ یا جیکٹ اوڑھا دے۔ کہیں حضر میں کمبل سیدھا کر دے۔ سفر میں اشارے پر رکنا پڑ جائے تو پھوں پھاں اور تن فن کرنے کی بجائے دو گجرے لیکر بیوی کو پہنا دے۔ بیوی کی محبت اور اعزازِ محبت سے چور نگاہ سے گاڑی میں اور ارد گرد کی فضا مشکبار ہو جائے گی۔ اس سمے کتنے گداز پل سرمایہ بن جاتے ہیں کہ محبت تو نرمی میں، نرم لہجوں میں نمو پاتی ہے۔ آ نکھوں میں بہار بن کے لہراتی ہے۔ مرد کی گھبھیر آ واز اور دلکش لب و لہجہ اسکی نرمی سے ہے ناکہ چیخ و پکار میں۔ کرخت لہجہ اور رعونت چہرے کے نقوش بگاڑ دیتی ہے۔ خشونت اور سوچیں قبل از وقت بڑھاپا طاری کر دیتے ہیں۔

کتنا پُروقار لگتا ہے وہ مرد جو اپنی بیوی کے لئیے گاڑی کا دروازہ کھولتا ہے۔ تحفظ اور فخر کا بے تحاشہ احساس عورت کو گردن اکڑانے پر مجبور کر دیتاہے۔ دیکھنے والوں کی نگاہ بھی مارے عقیدت و احترام کے جھک جاتی ہے۔ آ پ اپنی عزت کو عزت دیجئے دوسرے تبھی ایسا کرنے پر مجبور ہوں گے۔ وہ عورت ہمیشہ خود کو بہادر اور با اعتماد سمجھتی ہے جس کو اپنے مرد کا اعتبار حاصل ہوتا ہے۔

پرام دھکیلتا مرد برابر میں سہج سہج شوہر کی ڈھال میں چلتی بیوی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہے رومانس۔ یا گروسری کے ایک ایک آ ئٹم کو سلیکٹ اور ریجیکٹ کرتا ہوا کپل یہاں ہے رومانس نہ کہ جلدی جلدی کی رٹ لگاتا چیختا چلاتا مرد۔ رومانس کو پَلوں میں تلاش کیجیئے اور قید کر کے سرمایہ بنا لیجئے۔ یہ زندگی ہے اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔ سو خوشیاں کشید کرنے کا ہنر سیکھئے۔

ان لڑکیوں کے لئیے خصوصیت سے یہ بات کہنا چاہتی ہوں جو مندرجہ بالا کوٹیشن کے اکھڑ مرد کو آ ئیڈیل سمجھتی ہیں سراسر غلطی پر ہیں۔ مردوں کو اپنی عزت اور انا نسبتاً ذیادہ عزیز ہوتی ہے۔ وہ بچھ بچھ نہیں جاتے ہاں اگر خواتین ہی ریشم کا لچھا، ہوا مٹھائی، موتی چور کا لڈو یا رس ملائی بننے پر مصر ہوں تو پھر مرد مٹھائی کے شوقین ہوتے ہی ہیں خاص طور پر بڑی عمر کے مرد۔

آ خر میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ یہ وہ واحد قانوناً، مذہباً جائز رشتہ ہے۔ جسے بناتے تو ہم اپنی مرضی سے ہیں مگر معاشرے میں انتہائی توقیر و عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ خوب صورت زندگی کی اساس اسی ایک رشتے سے جنم لیتی ہے اور آ گے بہت سے رشتوں میں ضرب پا جاتی ہے۔ مرد حضرات سے التماس ہے کہ پلیز شوہر بنئے ہوّا نہیں۔ اور دیکھئے اب گھر کو جنت اور بیوی کو حور بننے سے کون روک سکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: