گٹر کے مکین ۔۔۔ معلمہ ریاضی

0

کراچی کے حالات انیس سو پچاسی سے خراب ہونا شروع ہوئے۔ مختلف علاقوں میں آئے دن ہونے والے فسادات کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات کی خبر ملتی۔ پی ٹی وی کا خبر نامہ اس وقت صدر نامہ ہوا کرتا تھا لہذا اصل خبر اگلے دن اخبارات ہی سے معلوم ہوتی۔ اس کا ایک فائدہ یہ تھا کہ اگر کسی علاقے میں رات گئے حالات خراب بھی ہوتے تو باقی علاقوں میں ’عدم آگہی‘ کی بناء پہ کاروبارِ زندگی رواں دواں رہتا۔ خصوصاً تعلیمی ادارے کھلے رہتے۔
انیس سو نواسی میں روزنامہ جنگ کے بانی میر خلیل الرحمٰن نے شام کا اخبار ’عوام‘ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ کہتے ہیں یہ خیال انکے صاحبزادے میر شکیل الرحمٰن نے پیش کیا تھا۔ گو کہ روزنامہ جنگ ایک مستحکم اخبار تھا اور شام کے اخبارات افواہ ساز سمجھے جاتے تھے مگر خلیل صاحب کے سامنے بیٹے نے ایسے ایسے نکات رکھے کہ وہ فوراً مان گئے۔ ویسے بھی منہ سے میر خلیل الرحمٰن جتنی بھی عظمتِ صحافت کی بات کرتے ہوں حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے سارا صحافتی پیشہ ورانہ سفر حکمرانوں کے قدموں میں بیٹھ کر طے کیا۔
پیسہ کمانے کی ہوس میں موصوف نے اخلاقیات، روایات، مذہب اور شرم و حیا جیسی فضول چیزوں کو کبھی اپنے راہ کی دیوار نہ بننے دیا۔ جنگ کے اجراء سے اپنی وفات تک میر صاحب نے ہمیشہ اپنے اخبار کے سالانہ پروگرام کی صدارت حاکمِ وقت سے کرائی۔ جنگ کی کرسیء صدارت پہ قائدِ اعظم جیسے با اصول بھی بیٹھے اور یحیحیٰ خان جیسے آمر بھی۔ اس کرسی نے فوجی بھی بٹھائے اور سول بھی۔ شرط بس طاقت و اقتدار کی تھی۔ جس زمانے میں ضیاء الحق صاحب کے زیرِ اثر پی ٹی وی کے ڈراموں میں سوتی ہوئی اداکارہ کے سر پہ بھی دوپٹہ ہوتا تھا اس دور میں اخبارِ جہاں کے سرورق پہ بغیر آستین کی قمیض پہنے خاتون ماڈل کی تصویر چھپا کرتی تھی اور پھر بھی سرکاری اشتہارت کی بارش اس اخبار پہ ہوا کرتی۔
بہرحال جنگ میں روزانہ کی بنیاد پہ روزنامہ عوام کی تشہیر شروع کی گئی اور اس بات پہ بار بار زور دیا گیا کہ یہ پاکستان کا پہلا رنگین اخبار ہوگا۔
روزنامہ عوام کا اجراء ہوا اور پہلی بار لوگوں نے فسادات اور حادثات میں مرنے والوں کی خون آلود رنگین تصاویر دیکھیں۔ سنجیدہ علمی طبقے نے اعتراض کیا کہ یہ غیر اخلاقی عمل عام افراد میں بے حسی کو جنم دے گا۔ مگر ’نقار خانہء میر‘ میں یہ آواز سنی ہی نہیں گئی۔
اور پھر ایک دن ’روزنامہ عوام میں ایک معروف نجی اسکول پہ کچھ دہشت گردوں کے قبضے کی خبر چھاپی گئی کہ مسلح دہشت گردوں نے اسکول کے عملے، اساتذہ و طلبہ و طالبات کو یرغمال بنا لیا ہے۔ واضح رہے کہ شام کا یہ اخبار دن گیارہ/بارہ بجے تک بازار میں آجاتا تھا۔ ایک گھنٹے میں سارا اخبار ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگیا۔
والدین بھاگم بھاگ اسکول پہنچے تو معلوم ہوا خبر تو جھوٹی ہے۔ والدین نے روزنامے کے دفتر کال کرنی شروع کی اور بوڑھے میر خلیل الرحمٰن کے ہاتھ پائوں پھولنے لگے تو شاطر میر شکیل نے باپ کو تسلی دی اور کہا کہ پہلی قسط کما لی، اب دوسری قسط کمانی ہے۔
چند گھنٹوں میں وضاحت کے نام پہ ’عوام‘ کا ضمیمہ جاری کیا گیا اور سدا کی تماشہ و تجسس پسند عوام نے اس ضمیمے کو خرید کر بھی میر شکیل کی جیب بھر دی۔ کئی دن میر شکیل اس جھوٹی خبر کی وضاحت در وضاحت کی بریانی کھاتا رہا۔
پوچھنے والا کون تھا؟ بے نظیر صاحبہ کا پہلا دورِ حکومت تھا اور وہ تن دہی سے اپنے ’سر تاج‘ کو ’مسٹر ٹین پرسنٹ‘ کا ایوارڈ دلانے میں کوشاں تھیں۔
مشرف نے نجی ٹی وی چینلز کو لائنسس دینا شروع کیا تو نا ممکن تھا کہ جنگ گروپ اس بہتی گنگا میں ’اشنان‘ نہ کرتا۔
اور اب ایک نئی مصیبت شروع ہوگئی۔ بریکنگ نیوز کی مصیبت۔ اب یہ ہوتا کہ شہر کی کسی گلی میں پٹاخہ بھی پھوٹ جاتا تو اسے اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا کہ جیسے جنگِ عظیم سوئم شاید کراچی کے علاقے ’لیاقت آباد المعروف لالو کھیت‘ میں لڑی جارہی ہے۔
اور ساتھ ہی صوبائی وزیرِ تعلیم سے رابطہ کر کے اور شہر کی ’دگرگوں‘ حالت کا نقشہ کھینچ کر انہیں آگاہ کیا جاتا کہ شہر کے حالات سے گھبرائے ہوئے والدین میں کل اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بارے میں ’خاصی تشویش‘ پائی جاتی ہے۔ نفسیاتی طور عقل سے پیدل وزیرِ تعلیم کھَٹ سے اگلے دن کی تعطیل کا اعلان فرمادیتے
اور چینلز کو ایک ’پٹاخہ نیوز‘ کے ساتھ ’تازہ دم‘ تعطیل نیوز بھی مل جاتی۔
سلائیڈ چلنا شروع ہو جاتی، ’شہر کے حالات کی وجہ سے کل تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے، وزیرِ تعلیم‘
جن بچوں کے امتحانات ہوتے وہ گومگو کی کیفیت میں کبھی کسی دوست کو فون کریں تو کبھی کسی دوست کو۔۔۔ ’جیو پہ سلائیڈ چل رہی ہے، چھٹی تو ہے، امتحان بھی ملتوی ہوگئے کیا؟‘
’پتہ نہیں۔ کسی اور چینل پہ چیک کرو، امتحان کا بھی آرہا ہے یا نہیں‘
’اچھا دیکھتا ہوں/دیکھتی ہوں‘
لیجئے سب پڑھائی چھوڑ چھاڑ ٹی وی کے آگے بیٹھ گئے۔
ـــــــــــــــــــــ
باپ نے کاروبار کو مقدم رکھ کر اخلاقیات و اصول کی دھجیاں اڑائیں تھیں مگر زبان سے مان کر نہیں دیا۔ بیٹا چار ہاتھ آگے نکلا اور ببانگِ دہل حب الوطنی اور مذہب کو بھی فروخت کرنے کا اعلان کردیا کہ ’کاروبار فرسٹ باقی بھرشٹ‘
ــــــــــــــــــــــ
۔۔۔‘
مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔۔۔
ہم جلتے کڑھتے ہی رہ گئے
اسی دوران ’امن کی آشا‘ جیسے ’میٹھے زہر‘ کا آغاز کر دیا گیا۔ غالباً اپنے ادارے میں ہم واحد تھے جو پہلے دن سے ’امن کی آشا‘ کے چولے میں چھپے زہر سے واقف تھے۔ ریاضی کے ساتھ ساتھ ہم نے جتنا جنگ جیو اور امن کی آشا کے خلاف طلبہ وطالبات کو لیکچر دیے ہیں شاید ہی کسی اور موضوع پہ دیے ہوں۔
ــــــــــــــــــــــــــ
آج سے تقریباً چالیس برس پہلے ایک امریکی مصنف نے ایک ناول لکھا تھا جس میں ایک ٹی وی چینل کا مالک اپنے اسٹاف سے تقریر کرتے ہوئے کہتا ہے، ’ہمیں خبر کی صداقت سے زیادہ یہ دیکھنا ہے کہ سنسنی کیسے پھیلائی جائے تاکہ ناظر کرسی کے ہتھے سختی سے دبوچے ہوئے ٹی وی سے نظریں نا ہٹا سکے۔ جتنی سنسنی اتنی ہائی ریٹنگ، اور جتنی ہائی ریٹنگ اتنا زیادہ پیسہ‘
دیکھا جائے تو امریکی مصنف کا یہ چالیس سال پہلے کا منظر نامہ امریکی چینلز کے لئے تھا مگر آج ہمارے تمام چینلز نے اسے من و عن اپنایا ہوا ہے۔ اور جیو اس دوڑ میں صفِ اول پہ ہے۔
سنسنی خیزی وہ غلاظت ہے جو جتنی زیادہ ہو اتنا ہی ریٹنگ ابلتی ہے اور جتنی ابلتی ہے اتنی بدبو یعنی پیسہ دلاتی ہے۔
ایسے میں کوئی اس غلاظت پہ انگلی اٹھائے تو برا تو لگتا ہے نا۔۔۔۔ کیا ہوا اگر میر شکیل الرحمٰن نے سوشل میڈیا کو ’گٹر‘ کہہ دیا۔ بھیؔا! ’کانے‘ کو ساری دنیا ’کانی‘ ہی دکھائی دیتی ہے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: