آئی کیوز کی داستان (2) : لالہ صحرائی

0
  • 82
    Shares

ان صلاحیتوں کو چیک کرنے کیلئے ریمنڈ کیٹل اور جان ہارن کیساتھ ڈاکٹر کارول نے مل کر کراس بیٹری ایسسمنٹ ٹیسٹ ترتیب دیا تھا جسے C-H-C یعنی کیٹل۔ھارن۔کارول ٹیسٹ بھی کہا جاتا ہے۔

گارڈنر کی تھیوری آف ملٹیپل انٹیلیجنس یہ بتاتی ہے کہ انسان کن کن فیلڈز میں قابلیت رکھتا ہے، یہ ٹوٹل آٹھ میجر سیکشنز ہیں، اور کیٹل۔ہارن تھیوری یہ بتاتی ہے کہ ان آٹھ قابلیتوں کو حاصل کرنے کیلئے کون کون سے عوامل انسان میں موجود ہونے چاہئیں، یہ کل نو عوامل یا نو قسم کی استعداد ہیں جو کسی انسان کو کسی ایک یا متعدد فیلڈز میں ممتاز کرا سکتی ہیں۔

کیٹل۔ہارن تھیوری کو آپ غور سے دیکھیں تو یہ چیز سامنے آتی ہے کہ فلوئیڈ انٹیلیجنس وہ واحد صلاحیت ہے جو خداداد یا نیچرل ہے، جبکہ باقی سب چیزیں کرسٹیلائزڈ انٹیلیجنس سے متعلق ہیں یعنی کسی خاص شعبے کا اکتسابی علم جو اس نے نصابی اور عصری ذرائع سے حاصل کیا ہو۔
دوسری اہم بات یہ کہ فلوئیڈ انٹیلیجنس ہی وہ واحد ایلیمنٹ ہے جو کرسٹیلائزڈ انٹیلیجنس حاصل کرنے کا بنیادی ٹول ہے، اس کی مقدار مختلف لوگوں میں مختلف ہو سکتی ہے لیکن یہ چیز ہر انسان میں تسلی بخش حد تک موجود ضرور ہوتی ہے۔

جب سائیکالوجی کہتی ہے کہ عقل کا فینومینا کماحقہٗ بیان نہیں کیا جا سکتا تو اگلا سوال یہ بنتا ہے کہ کیا یہ سفر کسی حتمی شکل کو پہنچا ہے یا نہیں، اس کا جواب ہے نہیں۔
پہلے ایک سادہ عقل کو مانا جاتا تھا پھر اسے فلوئیڈ اور کرسٹلائز میں کیٹگرائز کیا گیا پھر ان دونوں چیزوں کے ساتھ ساتھ آٹھ مختلف میدان وضع کئے گئے جن میں عقل اپنا رنگ جماتی ہے، مستقبل میں اس کی کیا شکل بنتی ہے یہ کچھ پتا نہیں لیکن ہم اس کی موجودہ شکل پر کچھ مزید بات کریں گے جو ابھی تک انٹیلیجنس کی حتمی پوزیشن ہے۔
آج کی دنیا میں آئیکیو IQ کی جگہ اب ایکیو EQ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، 1964 میں ایک سائیکالوجسٹ مائیکل بیلڈچ نے اپنا نظریہ پیش کیا کہ آئیکیو انسانی عقل کی مکمل رینج کا احاطہ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ طریقہ نسبتاً ایک تنگنائے کی طرح ہے یعنی یک رخا ہے، یعنی یہ قابلیت حاصل کرنے کا پتا تو دیتا ہے مگر اس قابلیت کو کام میں لانے کی صلاحیت کا پتا نہیں دیتا لہذا اس کی بجائے ایکیو EQ عقل کی موجودگی کو بہتر طریقے سے واضع کرتا ہے۔

بعد میں دیگر سائیکالوجسٹوں کو بھی اس نظریئے کے ساتھ اتفاق کرنا پڑا اس لئے کہ سائیکالوجی اس بات پر بھی متفق ہے کہ ہائی آئیکیو والا ضروری نہیں کہ ایک کامیاب انسان بھی ہو، وہ زندگی میں سوشیو۔کلچرل یا ماحولیاتی پسماندگی کی وجہ سے ناکام شخص بھی ہو سکتا ہے اس کی مثالیں ہمارے ارد گرد بھی نظر آتی ہیں جہاں بیشمار جینئیس لوگ زندگی میں ناکام اور عام ایوریج آئیکیو ہولڈرز کہیں زیادہ بہتر اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ آئیکیو کے علاوہ محنت کی عادت اور اچھے انسانی رویے کا ساتھ ہونا کامیابی کیلئے ایک جیسے لازمی امور ہیں ان میں سے کوئی ایک چیز بھی کم ہوگی تو کامیابی میں خلل ضرور آئے گا۔

یہ بات سچ ہے کہ ہائی آئیکیو پرسن ترقی کرنے والے ایک اہم ایلیمنٹ سے لیس ہوتا ہے لیکن سائیکالوجی کے جدید نظریئے کے مطابق کامیاب زندگی میں آئیکیو کا دخل صرف دس فیصد ہے اور اس کا انتہائی حصہ صرف پچیس فیصد ہے، یعنی کامیاب زندگی میں پچھتر سے نوے فیصد حصہ دیگر عوامل کا ہے جن میں بندے کا ماحول، محل وقوع، محنت، اخلاقی رویہ، دیانت اور بالخصوص ریزننگ یعنی پرابلم فائنڈنگ اور پرابلم سالونگ کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جو ہم ایک کامیاب سیلز مین کی مثال میں دیکھ سکتے ہیں۔

ایک کامیاب سیلز مین ہمیشہ گاہک کی نفسیاتی و جذباتی پوزیشن کے ساتھ سینکرونائز کرتا ہے، کوالٹی اور قیمت پر گاہک کا اعتماد بحال کرنے کیلئے وہ ایسے ٹیپیکل جملے بولتا ہے جن میں گاہک کے ساتھ ہمدردی اور اپنائیت کا عنصر غالب ہوتا ہے تاکہ اسے خریداری میں یہ اعتماد قائم ہوجائے کہ وہ کوئی غلط چیز نہیں خرید رہا اور دام بھی مناسب دے رہا ہے، یہ کوالٹی EQ کی بدولت پیدا ہوتی ہے۔

کامیابی کیلئے آئیکیو کے علاوہ جو باقی مؤثر فیکٹرز ھیں وہ سب ایکیو میں بیان ہوئے ہیں، ڈینئیل گولمین نے اسے Emotional Intelligence Quotient، ایموشنل انٹیلیجنس کوشئنٹ یا EQ کا نام دیا ہے، یہ نظریہ سب سے پہلے مائیکل بیلڈچ نے 1964 میں پیش کیا تھا مگر قابل توجہ نہیں رہا، پھر ڈینئیل گولمین نے 1990 میں اپنی کتاب میں اس نظریئے کو پیش کیا لیکن اس کے خدوخال جان مائر اور پیٹر سالووئے نے اپنی ریسرچ سے واضع کئے، اس طرح EQ نے اپنا باقائدہ سفر 1995 سے شروع کیا ہے۔
یہاں ایموشنل سے مراد اینگر یا غصہ نہیں بلکہ والہانہ پن یا لگاوٹ کے معنی میں ہے، یعنی وہ انسانی قابلیت جو کسی سبجیکٹ یا معاملے کو سمجھنے، اسے اپنی گرفت میں رکھنے، اسے اپنے مطابق موزوں کرنے یا اسے ڈیفائن کرنے میں آپ والہانہ انداز میں صرف کرتے ہیں، انگریزی میں اسے یوں بیان کیا گیا ہے۔

This refers to a person’s ability to perceive, control, evaluate, and express emotions.
پروفیشنل سطح پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ self-confidence, initiative, and empathy میں پختہ ہوتے ہیں وہ اپنے ہم پیشہ افراد میں دوگنا زیادہ کامیابی کی صلاحیت رکھتے ہیں، یعنی اعتماد، کسی کاروائی کو اپنی قوت سے شروع کرنے کا حوصلہ اور دوسروں کے جذبات سمجھانے اور اپنے جذبات سمجھانے کا گُر یا سلیقہ EQ کے اہم جز ہیں۔
کارنیگی میلون یونیورسٹی کے کارنیگی انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی 2012 کی ریسرچ کے مطابق 85 فیصد کامیابی آپ کے ہیومن انجینئیرنگ اسکل کی بدولت ہے جس میں آپ کی شخصیت، کمیونیکیشن پاور اور گفت وشنید کی تکنیک وغیرہ شامل ہیں جبکہ اپنی پروڈکٹ کا ٹیکنیکل نالج صرف 15 فیصد کام آتا ہے، اس ریسرچ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پسندیدہ شخصیت اور رویہ رکھنے والا شخص کسی انجان کو بھی کم قیمت چیز اچھے داموں بیچ سکتا ہے۔

ایکیو کی مزید وضاحت ارسطو کے اس قول سے ہوتی ہے کہ “غصہ کسی کو بھی آ سکتا ہے، غصہ کرنا بہت آسان ہے لیکن صحیح بندے کے ساتھ، صحیح انداز کے ساتھ، صحیح وقت پر، صحیح مقصد کیلئے اور صحیح طرز عمل سے غصہ کرنا آسان کام نہیں”

“Anyone can become angry، that is easy. But to be angry with the right person, to the right degree, at the right time, for the right purpose, and in the right way, that is not easy.”
اسی بات کو الٹ کرلیں تو صحیح جگہ، بروقت، متعلقہ بندے کے جزبات و ضروریات کو سمجھنا اور اپنے جزبات و ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسرے کو اپنی بات سمجھانا دراصل ایموشنل انٹیلیجنس ہے، اس کے چار بڑے عناصر اس طرح سے ھیں

The ability to perceive emotions
The ability to reason with emotions
The ability to understand emotions
The ability to manage emotions

جیسے عام اسکول کی نسبت مونٹیسوری یا اس جیسا نصاب بچوں میں لاجک اور ریزننگ کے ساتھ تعلیم کے علاوہ آئیکیو بوسٹ۔اپ کرنے کا بہترین ذریعہ بنا ویسے ہی سوشل ایموشنل لرننگ بچوں میں چالیس فیصد بہتر گریڈ پیدا کرنے کا موجب بنی ہے، اس کی مثال ہمارے ہاں کے انگلش میڈیم اسکولوں میں آئے دن کے فنکشنز، پینٹنگ، میوزک کلاس اور آؤٹ ڈور لرننگ ہے، بچے اپنی برتھ ڈے بھی اب اسکولوں میں مناتے ہیں، زیرو ٹالرینس کے باوجود یعنی اسکول سے ڈنڈے کا رول ہٹانے کے باوجود ان اسکولوں کے بچے 90%+ نمبرز لیتے ہیں، SEL یا سوشل لرننگ سسٹم نے بچوں میں نظم و ضبط، شئیرنگ، باقائدگی سے اسکول جانا اور دیگر کئی خوبیاں بھی پیدا کی ہیں جبکہ بے قائدگیوں کا رجحان کم کیا ہے، یہ ایکیو EQ کے بعد SQ کا کونسیپٹ ہے، اس کے تحت اب بچوں کیلئے کھلونے، پروگرامز اور نصاب SEL سوشل ایموشنل لرننگ کونسیپٹ کے تحت ڈیزائن کئے جاتے ہیں جبکہ بزنس سیکٹرز میں امیدواروں کی سیلیکشن کیلئے اب آئیکیو کے علاوہ ایکیو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے، آئیکیو کی طرح ایکیو کی بھی کئی قسمیں ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی نے پروجیکٹ۔زیرو کے نام سے ایک مشن شروع کیا تھا، بیشتر جدید نظریات اسی پروجیکٹ کی ریسرچ سے سامنے آئے ہیں، ان سب کا مقصد ایک ہی تھا کہ انٹیلیجنس کے نظام کو باریک بینی سے سمجھنا اور اس کے مطابق ایسے نصاب تیار کرنا جو اپنی نسل کو “تھنکنگ کلچر” فراہم کرسکیں، اس کلچر کی خاص خوبی یہ ہے کہ اپنے ماحول سے بے بہرہ رہنے کی بجائے اسے نظر بھر کے دیکھنا، تنقیدی اور تخلیقی سوچ پیدا کرنا، اپنی نسل کی ذہنی صحت کو اجاگر کرنا اور اسے قابل عمل بنا کر اسکول اسمارٹ اور سوشل سمارٹ جنریشن تیار کرنا۔

اس فینومینا کے تحت ریسرچ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہر دس سال بعد بدلتے ہوئے جدید ماحول کی بدولت جنرل پبلک آئیکیو میں تین پوائینٹس کا اضافہ ہوتا ہے اور ہر نئی جنریشن پچھلی جنریشن سے فلوئیڈ انٹیلیجنس میں 20 پوائینٹس آگے ہوتی ہے۔

نظریات کا سفر ختم ہوا اب ہم آئیکیو ٹیسٹنگ پر بات کرتے ہیں، کسی شخص کی آئیکیو ایسسمنٹ اس بنیاد پر نہیں کی جاتی کہ وہ ازخود کیا جانتا ہے یا وہ بہت اعلٰی پائے کا علم رکھتا ہے تو اس کے علم کو ایسس کرکے اسے جینئیس قرار دے دیا جائے، مثال کے طور پر اگر کوئی فرد یہ دعوٰی کرے کہ اسے پندرہ زبانیں آتی ہیں، اس نے پندرہ علوم کو پڑھا ہے اور دس کتابیں لکھی ہیں تو اس بات کی سچائی ناپنے کیلئے اسکی زبان دانی، پندرہ سبجیکٹ اور دس کتابوں سے سوال پوچھ کر اسے جینئیس قرار نہیں دیا جائے گا، اس لئے کہ یہ سب کچھ اپنی جگہ بہتر ہے مگر یہ سب کچھ حاصل کرتے ہوئے نہ جانے اس نے کتنے معاملات سے تغافل کیا ہے جو زندگی کی سمجھ بوجھ کیلئے نہایت ضروری ہیں۔

ایک جینئیس فرد ہم اس کو کہتے ہیں جو معاملات زندگی کے ضروری پہلؤوں کا پختہ یا سنجیدہ ادراک رکھتا ہو، اس کیلئے علم کے ساتھ ساتھ معقولیت کا عنصر، فوری اور مثبت ردعمل کا ہونا، معاملات کی تفہیم اور ان کو حل کرنے کی استعداد کا ہونا بہت ضروری ہے، ایک جینئیس بندہ اپنے علم اور تجربے کے ساتھ اپنے ماحول میں اس ادراک کے ساتھ متحرک ہوتا ہے کہ اسے پتا ہو کس معاملے میں اسے ردعمل دینا ہے اور کس معاملے میں خاموش رہنا ہے، کسی معاملے میں موجود مشکلات کو کیسے سمجھنا ہے اور ان کا حل کیسے نکالنا ہے۔

اس مقصد کے تحت جدید آئیکیو ٹیسٹ آپ کے اندر تین طرح کی انٹیلیجنس کا تعین کرتا ہے، فلوئیڈ انٹیلیجنس ہے، کرسٹیلائزڈ انٹیلیجنس اور ایموشنل انٹیلیجنس یعنی خداداد صلاحیت، پروفیشنل قابلیت اور معاملات ہینڈل کرنے کا جذبہ۔

فلوئیڈ انٹیلیجنس وہ چیز ہے جو انسان کی فطری یا پیدائشی عقل ہے، اس میں ریزننگ یعنی معقولیت، پرابلم سالونگ یعنی مشکل کا حل ڈھونڈنے کی استعداد اور ایبسٹریکٹ سینس، کامن سینس یا سمجھنے کی اہلیت یعنی کسی نامکمل معلومات یا اشاراتی گفتگو سے اصل بات تک پہنچنے کی صلاحیت شامل ہے۔

فلوئیڈ انٹیلیجنس بچپن سے بیدار ہوتی ہے اور جوانی تک بڑھتی ہے، جوانی کے نقطہء عروج کے بعد یہ اپنی جگہ رک جاتی ہے، عمر ڈھلنے کے بعد یہ اہلیت کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، اسی لئے کہتے ہیں بوڑھے طوطے نہیں پڑھا کرتے اور اسی لئے بڑھاپے میں انسان سٹھیا جاتا ہے مگر یہ اسٹیج ستر اسی سال کی عمر میں جا کے آتی ہے، اسے سترہ بہترہ ہونا بھی کہتے ہیں۔
کرسٹیلائزڈ انٹیلیجنس کسی شعبے کا وہ علم اور تجربہ ہے جو بندہ کسی نصاب اور ادارے سے سیکھتا ہے، یہ علم و تجربہ یا کرسٹیلائزڈ انٹیلیجنس عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔
آئیکیو ٹیسٹ آپ کی استعداد کو تو ظاھر کرتا ہے مگر یہ نہیں بتاتا کہ آپ کسی معاملے سے کس حد تک دلچسپی رکھتے ہیں یعنی آپ کا اوبسیشن لیول نہیں بتا سکتا، مثال کے طو پر آپ میتھ میں بہت اچھا آئیکیو رکھتے ہیں لیکن اس آئیکیو سے یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ اس فیلڈ میں آپ ایک اچھے استاد کے طور پر کوئی کردار بھی ادا کر سکتے ہیں یا نہیں، اس بات کا تعین صرف آپ کے لگاؤ اور انداز و اطوار کو دیکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے، یہ چیز ایکیو ٹیسٹ سے طے کی جاتی ہے۔

آئیکیو اور ایکیو ٹیسٹنگ کیلئے کئی میتھاڈولوجیز ڈیزائن کی گئی ہیں جنہیں اسکیلز کہا جاتا ہے، یہ ایسے سوالنامے پر مشتمل ہوتی ہیں جن کے جوابات سے وہ تمام چیزیں سامنے آجاتی ہیں جو اوپر بیان شدہ نظریات کے تحت کسی فرد میں موجود ہونی چاہئیں، یہ اسکیلز ہر ایج گروپ کیلئے الگ ہیں اور ہر شعبے کیلئے بھی الگ ہیں، ان میں بینٹ۔سائمن اسکیل سب سے پہلی تکنیک ہے اور دیگر مشہور اسکیلز میں یہ سب شامل ہیں۔

ACT, GMAT, SAT, GRE, WISC, WAIS-IV, CTMM, Cattell-III-B, Miller Analogies, Stanford-Binet 5, Woodcock-Johnson, Raven’s APM, RAIT and MSCEIT for EQ testing

سائیکومیٹریشئینز یا لائسنس یافتہ سائیکالوجسٹ جو امریکن سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن APA میں رجسٹرڈ ہوں صرف وہی ان اسکیلز پر آئیکیو۔ایکیو ٹیسٹ لیتے ہیں، یہ لوگ کسی فرد میں آئیکیو کی مقدار جاننے کیلئے جو کلیہ استعمال کرتے ہیں وہ آئیکیو کے بانی الفرڈ بینٹ کا ڈیزائن کردہ ہے۔

Mental age ÷ Choronical age x 100 = IQ
مثال کے طو پر ایک بچے کی ذہنی عمر اگر دس سال ہے، جو سوالوں کے جواب سے سامنے آئے گی، اور اس کی بیالوجیکل عمر یعنی پیدائش کے بعد کی عمر بھی دس سال ہے تو درج بالا فارمولے سے آئیکیو یوں بنے گا۔

IQ = MA ÷ CA x 100 = ?
IQ = 10 ÷ 10 x 100 = 100
اگر دس سال کی عمر میں بچے کی ذہنی عمر پندرہ سال ہو تو آئیکیو یہ ہوگا۔
IQ = 15 ÷ 10 x 100 = 150

یہاں سے بہت دلچسپ صورتحال شروع ہو رہی ہے، سائیکالوجی یہ تقاضا نہیں کرتی کہ آپ کا آئیکیو 150 یا 200 ہونا چاہئے بلکہ اس کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہر ایج گروپ اور ہر شعبے میں آپ کا آئیکیو لیول 100 پوائنٹ ہونا چاہئے، اس کی وجہ یہ کہ الفرڈ بینٹ نے بچے کی ذہنی صحت جانچنے کیلئے مینٹل ایج کا نظریہ پیش کیا تھا کہ ہر بچے کو اپنے ایج گروپ کے تقاضے پر پورا اترنا چاہئے یعنی دس سال کی جسمانی عمر میں اس کی ذہنی عمر بھی دس سال ہونی چاہئے، یہی بات جاننے کیلئے آئیکیو ٹیسٹ ڈیزائن کیا تھا کہ اگر دس سال کے بچے کو جن فلاں فلاں دس باتوں کا پتا ہونا چاہئے وہ دس باتیں بچے کے سامنے رکھ کے دیکھ لی جائیں، اگر وہ پورے سوالنامے کا جواب دے تو سوفیصد صحتمند ہے اگر کم دے تو آئیکیو گر جائے گا، یہ تو ہے ایک صورتحال، دوسری صورتحال زیادہ آئیکیو کی ہے وہ کیسے آتا ہے…؟

اس بات کیلئے مثال کو وسیع کرنا پڑے گا ایسے کہ پانچ سال کی عمر کے بچے کو پانچ جنرل باتوں کا پتا ہونا چاہئے، دس سال کے بچے کو دس باتوں کا، پندرہ سال کے بچے کو پندرہ، بیس سال کے بچے کو بیس باتوں کا اور چالیس سال کے بندے کو چالیس باتوں کا پتا ہونا چاہئے، یہ چالیس سوال جو الفرڈ کے خیال میں ان سب کو اپنی اپنی جگہ پتا ہونے چاہئیں وہ اس نے ایک شیٹ پر لکھ دئے، اب ہر چھوٹا یا بڑا اپنی عمر کے حساب سے ہی اس سارے سوالنامے کا جواب دے سکے گا۔
اگر پانچویں کلاس یا دس سال کا بچہ پہلے دس سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کمزور ہے اس کی مینٹل ایج کم ہے، اسی طرح اگر تیس سال کا بندہ اپنے تیس سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا بلکہ بیس کا جواب دیتا ہے تو اس کی مینٹل ایج بیس سال ہے لیکن اگر وہ تیس سال کی عمر میں چالیس سوالوں کا جواب بھی لکھ دیتا ہے تو اس کا مطلب ہے اس کی ذہنی عمر زیادہ یعنی چالیس سال ہے۔

جب آپ اپنی عمر کے تقاضے کے عین مطابق پورے جواب دیں گے تو آپ کو سو پوائینٹ ملیں گے مطلب یہ کہ آپ سوفیصد تندرست ذپن کے مالک ہیں، اگر زیادہ کے جواب دیں گے تو آپ اپنی ظاہری عمر سے آگے سمجھے جائیں گے، اس صورت میں آپ کا آئیکیو سو سے زیادہ آئے گا۔

یہ صرف سمجھانے کیلئے مثال دی تھی جبکہ حقیقی طریقہ یہ ہے کہ ایک ہی طرز کے سوال ہوتے ہیں جو پانچویں کلاس کیلئے سادہ اور گریجوایٹ کیلئے کمپلیکسڈ سطح کے ہوں گے مثلاً بچے کیلئے یہ پوچھا جائے گا کہ 5+5 کتنے ہوتے ہیں تو بڑے سے 5mn+2bn کا جواب مانگا جائے گا، جب آپ کسی ایج گروپ یا کسی پروفیشنل لیول سے کسی بھی اسکیل پر امتحان دیتے ہیں تو آپ کے رزلٹ کو بیل شیپ کروو bell shape curve ڈیوی ایشن چارٹ پر پیش کیا جاتا ہے جو میتھمٹیکلی اور اسٹیٹسٹکلی لوگوں کی گروپ بندی کرنے کا ایک طریقہ ہے، یہ لاکھوں لوگوں کے سیمپل لینے کے بعد طے کیا گیا ہے کہ کس کس عمر اور پروفیشن میں لوگ کس کس سطح کی complexity کو حل کر سکتے ہیں پھر اسی حساب سے ٹیسٹ ڈیزائن کئے گئے ہیں، وہاں جس مینٹل ایج گروپ کے ساتھ آپ کا رزلٹ میچ کرتا ہو وہی مینٹل ایج آئیکیو کے فارمولے میں فٹ کرکے آپ کا آئیکیو نکالا جاتا ہے۔

وہ پرانے جینئیس لوگ جو اس پریکٹیس کی ایجاد سے قبل دنیا سے چلے گئے ان کا آئیکیو اس طرح ڈیفائن کیا گیا ہے کہ ان کا کام بیل شیپ ڈیوی ایشن چارٹ پر رکھ کر دیکھ لیا جاتا ہے کہ وہ کس قسم کے لوگوں کے ساتھ میچ کرتا ہے پھر وہ جس کیٹگری سے میچ کرتے ہوں وہی ان کا آئیکیو سمجھا جاتا ہے۔


بقیہ تیسرے حصے میں

پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: