قوم کی عظیم بیٹیاں: محمد شہزاد

0
  • 19
    Shares

قربانیاں اور خدمات بناتی ہیں کسی کو قوم کی بیٹی۔ یہ کوئی بے وقعت سا تمغہ حسن کارکردگی ایسا اعزاز نہیں جوآج کل ہرایرا غیرا بغل میں دبائے پھر رہا ہے۔ نہ ہی یہ کوئی سرکاری عہدہ ہے جوسیاسی چمچوں کو آقاؤں سے ملتا ہے۔ مریم صفدرکو چھبیس جون کے بعد سے (جب انہیں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے طلب کیا تھا) قوم کی بیٹی کے طور پرمتعارف کرانا اسی مہم کا حصہ ہے۔

بیس سال قبل ہم ایک برطانوی سفارت کار Rowan Laxton کے میزبان تھے۔ بقول ہمارے مہمان، پاکستان دنیا بھر میں صرف منفی وجوہات کی بنا پر جانا جاتا ہے۔ (اس وقت ان وجوہات میں دہشت گردی شامل نہیں تھی۔)  لیکن یہ آدھا سچ ہے۔ ہمارے خیال میں پاکستان دنیا میں اپنی عظیم بیٹیوں کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ ایسی کئی بیٹیاں ہیں۔ کچھ علم میں ہیں کچھ نہیں۔ یہ کالم ان سب کے لئے خراج تحسین ہے۔

قوم کی عظیم بیٹی ہے اسماء جہانگیر۔ دھان پان سی لڑکی۔ ضیاء ایسے آمر سے ٹکرا گئی۔ لاٹھی، گولی، آنسو گیس، قید کچھ نہ اس کے آگے بند باندھ سکا۔ غریب انسانوں خاص طور پر بے بس اقلیتوں کے حقوق کے لئے لڑتی ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کے لئے مشعل راہ! توہین رسالت کے ملزمان کے مقدموں کی پیروی کرنے سے بڑے بڑے گھبراتے ہیں۔ مگر بہادر اسماء ایسے لوگوں کا مقدمہ بے خوف و خطر لڑتی ہے۔ اس کی خدمات غریب لوگوں کے لئے بلا معاوضہ ہوتی ہیں۔

قوم کی عظیم بیٹی ہے بے نظیر بھٹو۔ جالب نے دریا کو کوزے میں بند کردیا یہ لکھ کر کہ ’ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے‘۔ ضیاء الحق کی رات کی نیند اور دن کا چین تباہ کرنے والی بے نظیر۔ کیا قربانی ہو گی جو نہیں دی اس بیٹی نے۔ باپ کو عدالت کے ذریعے قتل کروایا گیا۔ بھائی کو زہر دے کر مارا گیا۔ دوسرے بھائی کو پولیس مقابلے میں مروا دیا گیا۔ ماں کو لاٹھیوں سے ماراگیا۔ پاکستانی جمہوریت کے داستان اس کے بغیر ادھوری ہے۔ کتنا منع کیا گیا اسے کہ مت آنا پاکستان۔ ماردی جاؤ گی۔ پر یہ آئی۔ استقبال خود کش حملے سے ہوا۔ بچ گئی۔ پھر کہا گیا کہ اب بھی وقت ہے۔ زندگی عزیز ہے تو واپس چلی جاؤ۔ راولپنڈی نہ جانا۔ پر موت کیا ڈرائے گی اس دلیر بیٹی کو۔ کوئی اور ہوتا تو فوراً دم دبا کر سعودی عرب بھاگ جاتا بمع اہل و عیال۔ یہ گئی پنڈی اور شہید ہو گئی خود کش حملے میں۔ جب تک پاکستان رہے گا اس بیٹی کی بہادری کی داستان زندہ رہے گی۔

اسی بہادر بیٹی کی کوکھ سے جنم لینے والی دو باہمت بیٹیاں ہیں بختاور اور آصفہ۔ اپنے بے اصول باپ سے ٹکرا گئیں کہ نہیں قبول عرفان مروت ایسا مشکوک کردار کا حامل انسان پی پی پی میں۔ باپ کو فیصلہ بدلنا پڑا۔ جب امداد پتافی نے سندھ اسمبلی میں نصرت سحر عباسی پر رکیک جملے کسے یہ دونوں بیٹیاں میدان میں اتر آئیں اور مجبور کر دیا پتافی کو کہ معافی مانگے سب کے سامنے۔ اجرک ڈالے نصرت کے سر پر اور بہن بنائے۔

جب ن۔لیگ کے جاوید لطیف نے بے حیائی کی تمام حدور پھلانگ کر تحریک انصاف کے مراد سعید کی بہنوں کے کردار پر کیچڑ اچھالا تو اس وقت قوم کی خود ساختہ بیٹی مریم خاموشی کی تصویر بنی رہی۔ آصفہ اور بختاور نے سخت مذمت کی۔ مریم کی چچی تہمینہ درانی (جن کی وجہ شہرت ایک ادیب اور انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر ہے) نے شدید مذمت کی اور نواز شریف سے لطیف کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ لیکن کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی گئی۔

اپنے تئیں بنی قوم کی اس بیٹی کی زبان ہر اس لمحہ گنگ رہی جب اسے احتجاج کرنا تھا۔ اس بیٹی کے والد یعنی نواز شریف نے تیس اپریل کے جلسے میں تحریکِ انصاف کی خواتین پر جملے کسے۔ تحریک انصاف کی شیریں مزاری اور فردوس عاشق اعوان کے بارے میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے غیر اخلاقی جملوں پر بھی اس بیٹی نے کبھی صدائے احتجاج بلند نہیں کی۔ معصوم مشعل خان کو ہجوم نے بے دردی سے شہید کیا۔ اس بیٹی سے مذمت تک نہ ہو سکی۔ دو ٹوک مذمت اور احتجاج کرنے میں پہل ہمیشہ آصفہ اور بختاور نے ہی کی۔ ان ہی بیٹیوں نے یہ جرات مندانہ مطالبہ کیا کہ رمضان آرڈینینس کو منسوخ کیا جائے کیونکہ یہ اسلام کی روح سے متصادم ہے۔

قوم کی عظیم بیٹی ہے ملالہ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا شہر طالبان کے نرغے میں ہے، ملالہ نے تعلیم کیلئے آواز بلند کی۔ ایک بچی سے ڈر گئے طالبان۔ گولی مار دی اسے۔ وہ تو شکر ہے اللہ کا کہ بچ گئی۔ قوم کی عظیم بیٹی ہے مختاراں مائی۔ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی غریب بے بس لڑکی عورتوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے والی بن گئی۔ کوئی اور ہوتا تو یا خودکشی کر لیتا یا گوشہ گمنامی میں چلا جاتا۔

قوم کی عظیم بیٹی ہے زاہدہ بی بی۔ پاکستان کی پہلی خاتون ڈرائیور گذشتہ بیس برس سے۔ بیوگی کے بعد ٹیکسی چلا کر رزقِ حلال کماتی ہیں اس معاشرے میں جہاں مرد ٹیکسی والے کو بھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

قوم کی عظیم بیٹی ہے زلیخا علی۔ کوئی چوبیس برس پہلے ہاکس بے پر دو ڈوبتی خواتین کو بچاتے شہید ہو گئیں۔ زلیخا دی نیوز کراچی کی رپورٹر تھیں۔ ماحولیات کی خبر نگار تھیں۔ بہت اچھی تیراک تھیں۔ ایک خاتون کو کامیابی سے بچا لائیں۔ دوسری کو بچاتے بچاتے خود جان دے دی۔

قوم کی عظیم بیٹی ہے قندیل بلوچ۔ کس ہمت سے اس منافق معاشرے کا مقابلہ کیا۔ اپنے ماں باپ کیلئے بیٹوں سے بڑھ کر تھی۔ بے غیرت بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔
قوم کی عظیم بیٹی ہے ارفہ کریم۔ نو سال کی عمر میں مائکروسوفٹ کی ماہر!

ْْقوم کی عظیم بیٹیاں ہیں سبین محمود اور پروین رحمان۔ ان دونو ں نے اپنی جان اس ملک کو ہم سب کے لئے بہتر بنانے کے لیے دی۔

قوم کی عظیم بیٹی ہے ثمینہ بیگ۔ پہلی پاکستانی لڑکی جس نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کی اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔

قوم کی عظیم بیٹی ہے رضیہ بھٹی۔ انگریزی میگزین نیوز لائن کی بانی مدیرہ۔ جراتمندانہ صحافت کا استعارہ! پاکستان کی صحافت کی تاریخ رضیہ کے ذکر کے بغیرممکن ہی نہیں۔
قوم کی عظیم بیٹی ہے شیما کرمانی۔ لال شہباز کے مزار پر خود کش حملے کے بعد دھمال ڈال کر دہشت گردوں کو للکارنے والی لڑکی۔

ایسی بے مثال بیٹیوں کی موجودگی میں کون مانے گامریم صفدر کو قوم کی بیٹی جن کی واحد قابلیت وزیرِ اعظم کی بیٹی ہونا ہواور بدعنوانی اور جعل سازی جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہو!


محمد شہزاد اسلام آباد میں مقیم اردو اور انگریزی کے لکھاری ہیں۔ 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: