غریدہ فاروقی کیس اور گھریلو ملازمین مافیا: محمود فیاض

0

کسی سیانے نے کہا تھا کہ لکھنے والے کا ہر لفظ سخاوت ہوتا ہے۔ میں اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتا ہوں کہ انسانی سماج پر لکھنے والے ہر لکھاری کا ہر لفظ گواہی بھی ہوتا ہے جو وہ اپنے علم، مشاہدے اور وجدان کے بل پر پورے معاشرے کے سامنے دیتا ہے۔
غریدہ فاروقی کیس میں ایک گواہی دینا میری بھی مجبوری بن گئی ہے۔ کیونکہ میڈیا کے خون آشام گدھ، غریدہ کیس سے اپنے لیے ریٹنگ اور رینکنگ کا رس چوس رہے ہیں۔
غریدہ فاروقی کے گھر سے عدالت کے حکم پر بچی برامد ہو چکی اور باقی کارروائی بھی جاری ہے۔ تو کس کو پڑی ہے کہ آنکھوں دیکھے سچ کے علاوہ کچھ جاننے کی کوشش کرے۔ مگر جیسا کہ میں نے کہا گواہی کا قرض ہم پر رہتا ہے سو وہ اتار رہا ہوں۔ چاہے اس سے کچھ فرق پڑے نہ پڑے۔
پاکستان کے معاشی حالات کی بگاڑ اور بڑھتی ہوئی غیر ہنر مند آبادی کی وجہ سے پاکستان میں چائلڈ لیبر کے قوانین پر عمل کرنے کی صلاح دینے والے کسی اور دنیا میں رہتے ہیں۔ زمینی صورتحال یہ ہے کہ آپ کسی مناسب سی کالونی میں گھر کرائے پر لے لیں تو آئے روز کوئی نہ کوئی آپ کے گیٹ پر گھریلو ملازمت کے لیے دستک دے رہا ہوتا ہے۔
میری بیوی تین سال پہلے بیٹے کی پیدائش کے آپریشن کی وجہ سے گھر کے کاموں سے عارضی طور پر معذور ہوئی تو ہم نے بھی گھریلو ملازمہ رکھنے کی ہمت کی مگر کچھ ہی تجربات کے بعد کانوں کو ہاتھ لگا لیے۔
۔
پہلی ملازمہ کو چیزیں چراتے پکڑا تو اس نے الٹا میری بیوی پر الزام لگا دیا کہ یہ پیسے تو آپ نے میرے سامان میں رکھ دیے ہیں۔ خاموشی سے اس کو رخصت کیا اور اپنی عزت بچائی۔
دوسری ملازمہ کے گریبان سے موبائل نکلا جس پر وہ اپنے کسی بوائے فرینڈ سے دن رات باتیں کیا کرتی تھی، منع کرنے پر اس نے بھاگ جانے کی دھمکی دی، تو اس کے گھر والوں کو بلا کر اس کے حوالے کیا۔
تیسری ملازمہ کو ہمارا گھر چھوٹا لگا، چوتھی کو گلی میں کھیلتے لڑکوں میں زیادہ دلچسپی تھی۔
آخری ملازمہ جو ہم نے رکھی، اس کو چوری کرتے دو بار پکڑا اور معافی مانگنے پر سمجھا کر چھوڑ دیا۔ مگر تیسری بار اسکی ماں کو بلا کر بتایا اور ماں اسکو دو دن کے لیے ساتھ لے گئی اور عقدہ کھلا کہ ماں بھی اس کے ساتھ شامل تھی۔ وہ جب بھی اس سے ملنے آتی تھی، یہ اسکو چوری کے پیسے یا سامان پکڑا دیتی تھی۔ تب ہم پر عقدہ کھلا کہ عام دنوں میں ہمارے کچرے کا بیگ کچن میں ہی رکھنے والی، ماں کے جاتے ہی شاپر اٹھائے باہر کیوں بھاگ جاتی تھی۔
قصہ مختصر کرتا ہوں، ان تمام ملازماؤں کے الگ الگ وجوہات کے باوجود ایک بات مشترک تھی۔ اور وہ یہ کہ ہم نے جب بھی انکی کسی بات پر اعتراض کیا، یا جب بھی انکو کسی غلط کام پر پکڑا، انکا جوابی حربہ ہم پر الزام لگانا ہی ٹھہرا۔
باجی ڈانٹتی زیادہ ہیں، میرا بازو مروڑا تھا، مجھے مارا تھا، مجھے کھانا نہیں دیتی، یا مجھ سے کام زیادہ لیتے ہیں، یہ سب ہی ہم نے اپنے اوپر برداشت کیے ہوئے ہیں۔
آپ اس کو بے بسی کا اندازہ تب ہی ہو سکتا ہے جب آپ جانتے ہوں کہ سامنے والا جھوٹ بول رہا ہے مگر محض اپنی عزت کی خاطر چپ کر جانا پڑے۔ کیونکہ عموماً لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ غریب مزدور جھوٹ نہیں بولتا، ہمیشہ موٹے پیٹ والا سیٹھ ہی ظالم ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اب تک جتنی ملازمائیں آزمائی ہیں سوائے ایک کے باقی ہر ایک نے ہمیں ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ حالانکہ ہمارے گھر میں تین افراد اور ایک بچہ ہے، اور ہم انتہائی سادگی سے رہتے ہیں۔ ایک وقت کھانا بنتا ہے، سوائے مہمانوں کی آمد کے، جو کہ محدود ہے۔ اور یہ بھی بتا دوں کہ کھانا پکانے کا کام ہمیشہ میری بیگم خود کرتی ہیں، بیماری کے باوجود۔ تفصیل بتانے کی ضرورت اس لیے ہوئی کہ آپ سمجھ سکیں کہ زیادہ کام کی شکائت، یا کوئی اور ظلم نہ ہونے کے باوجود انکا رویہ یہی تھا۔
ہر ملازمہ میری بیٹی کے روم میں سوتی تھی۔ سرونٹ کوارٹر ہونے کے باوجود ہم نے کبھی اس کو وہاں نہیں سونے دیا۔ کھانا بھی ہمیشہ اپنے ساتھ۔ البتہ ہم نے کچھ کو نوٹ کیا کہ وہ ہمارے ساتھ جھجھک کی وجہ سے اچھی طرح کھا نہیں سکتیں تو انکو علیحدہ بیٹھ کر کھانے کی اجازت دے دی۔
اب انکے والدین کے رویے کا بھی سن لیں۔ بیٹی کو ملازمہ رکھنے کے پہلے مہینے میں فرمائشیں شروع ہوتی ہیں۔ کپڑے وغیرہ تو میری بیوی ویسے ہی دیتی رہتی تھی، مگر بچہ بیمار ہے دوا کے لیے پیسے، شوہر کام پر نہیں گیا کچھ ادھار۔ اگلے مہینے تک صورتحال یہ ہوتی کہ کام کے پیسوں کے علاوہ ایک دو ماہ کی تنخواہ جا چکی ہوتی۔ یہی وہ وقت ہوتا جب ماں کا فون آتا کہ میں بیمار ہوں بچی کو ایک دو دن کے لیے بھیج دیں، اس کے بعد نہ بچی، نہ ماں۔
یہ ایک واقعہ بتایا ہے، اس طرح کی واردات کچھ بہانے بدل بدل کر ہمیشہ چلتی ہے۔ عید اور رمضان سے کچھ دن پہلے کام والیاں منتیں کر کے آپ کے گھر ٹھہر جانا چاہتی ہیں۔ پہلے رمضان تو سمجھ میں نہ آیا، مگر جب رمضان پر ہم نے بھی اور ہمارے آنے جانے والوں نے انکو مدد وغیرہ دی، اور عید پر عیدی کے مد میں بھی کافی کچھ ہو گیا تو اگلے ہفتے عید پر جانے کے بعد وہی بہانہ کہ گھر میں کچھ بیمار ہیں اس لیے میں نہیں آ سکتی۔ ہم ہی احمق کہ یہ واردات اگلے سال رمضان سے پہلے سمجھ میں نہ آ سکی، وہ بھی جب کچھ اور لوگوں نے بھی اسکی تصدیق کی۔

ماں باپ کے علاوہ بہت سی عورتیں گھریلو کام کاج کے لیے ملازمائیں مہیا کرنے کا کام کرتی ہیں۔ یقین کر لیجیے کہ یہ لوگ انتہائی بے رحمی سے کام کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں ہر دس مرلے گھر والا جو اپنے لیے کل وقتی ملازمہ رکھنا چاہتا ہے، یا تو اسمگلر ہے یا اس کی پانامہ میں آفشور کمپنی ہے۔ وہ ہر ہر بات کے پیسے وصول کرتی ہیں، اور اکثر جھوٹ بول کر آپ کا وقت خراب کرتی رہتی ہیں۔ اول تو انکے پاس ملازمہ نہیں ہوگی مگر محض اس لیے کہ آپ کہیں اور سے نہ انتظام کر لیں، یہ آپ کو روک دیں گی کہ بس وہ کل آرہی ہے، پرسوں آرہی ہے۔ پھر وہی بہانے کہ اسکی پھوپھی مر گئی، تائے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا، وغیرہ وغیرہ۔ اسکے بعد اگر قسمت سے کوئی ملازمہ آپ کے پاس کام پر لگا دیں تو صرف دو ماہ صبر کریں گی۔ پہلے ماہ کی تنخواہ تو ویسے انکو کمیشن میں مل جاتی ہے، اگلے ماہ سے انکی پلاننگ شروع ہو جاتی ہے۔ اول تو وہ آپ کو کہیں گی کہ یہ لڑکی زرا سست سی ہے، جلدی میں یہی ملی تھی، ایک اور لڑکی ہے جو بہت اچھا کام کرتی ہے، وہ آپ کو لا کر دیتی ہوں۔ اگر آپ اب تک گھاگ ہو چکے ہوں اور اسکی یہ چال سمجھ کر انکار کردیں تو اب وہ آپ کی ملازمہ کے کان بھرے گی، کہ یہ تو کم پیسے دے رہے ہیں، ایک اور گھر دیکھا ہے زبردست، کام بھی زیادہ نہیں۔ بس اس کے بعد چھٹی جانے کا کوئی بہانہ اور اسکے بعد لڑکی غائب۔ نئی ملازمہ لینے پر آپ مجبور اور اسکا کمیشن نئے سرے سے دینے پر بھی۔

آپ اگر یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ صرف میرا مشاہدہ ہے اور صرف اپنے گھر میں آنے والی ملازماؤں کا بیان ہے۔ تو اول تو میں نے آپ کے سامنے ایک دو نہیں پانچ سے زیادہ مثالیں پیش کر دی ہیں۔ مگر پھر بھی ہم نے خود بہت سے دوسرے ایسے ہی گھروں سے رابطہ کیا اور پتہ چلا کہ یہ مافیا اور اس کی چلاکیاں اس سے کہیں بڑھ کر ہیں جو ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ ہماری ہی گلی میں تیسرے مکان والوں کی ملازمہ ہمسائیوں کے ڈرائیور کے ساتھ بھاگ گئی، اور پکڑے جانے پر الزام اپنے مالکان پر لگا دیا کہ یہ مجھے مارتے تھے اور کھانا نہیں دیتے تھے۔ ایک اور گھر والوں نے ملازمہ اور پولیس کو لاکھوں دے کر جان چھڑوائی کہ انکی ملازمہ نے ان پر ایسے ہی جھوٹے الزامات لگا دیے تھے۔
۔
اتنی ساری تفصیل کا مطلب یہ نہیں کہ میں یہ نہیں جانتا کہ انہی حالات میں کہیں ظالم لوگ بھی ہوتے ہیں جو ملازمین پر بیجا ظلم بھی روا رکھتے ہوں گے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ ایسا کم از کم شہروں کی حد تک بہت ہی کم ہو گیا ہے۔ اور قانون، میڈیا اور بدنامی کے ڈر سے، اور بہت سے تعلیمیافتہ گھرانوں میں ملازم رکھنے کے رجحان سے سے ملازمین کو بہت اچھا ماحول ملتا ہے۔ مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسے ہی اچھے ماحول اور رعایتوں سے ایسے مافیاز فائدہ اٹھاتے ہیں جو کمانے سے زیادہ حرامخوری پر یقین رکھتے ہیں۔
۔
تو دوستو! یہ ساری تفصیل آپ کے سامنے رکھنے کے بعد اب میں آتا ہوں غریدہ فاروقی کیس کی طرف۔ آڈیو آپ نے بھی سنی۔ لڑکیاں مہیا کرنے والی کس لہجے میں بات کر رہی ہے، غریدہ کس لہجے میں۔ میرا آپ سے سوال ہے کہ اگر آپ سے کوئی بندہ کوئی ڈیل کرتا ہے اور اس کے بعد پے در پے جھوٹ بولتاہے، فون نہیں اٹھاتا، یا اور طریقے سے دھوکہ دہی کرتا ہے اور پھر فون پر آپ سے بدتمیزی سے بات بھی کرتا ہے، تو کتنے لوگ ہیں جو گالیاں نہیں دیں گے؟ جو لوگ اپنے گھروں میں ملازمین رکھتے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھیے کہ جب کوئی ملازمہ چھٹی پر جانے کا کہتی ہے تو انکے تجربات کیا کہتے ہیں؟
۔
میرے تجربے کے مطابق بات صرف اتنی سی تھی کہ جس ایجنٹ عورت نے غریدہ کو متبادل ملازمہ دینے کا وعدہ کیا اس نے وہ نہیں مہیا کی، اور ٹال مٹول کرتی رہی، اور غریدہ کے فون کرنے کے باوجود بھی ملازمہ کا باپ پیسے لینے اس لیے نہیں آیا کہ کیس مضبوط کیا جاسکے۔ آخری کام فون ریکارڈ کرکے کیا گیا جس میں غریدہ نے اس عورت کی ہر بات کو جھوٹ قرار دیا۔ ہم سب غریدہ سے تو یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ اس نے چالیس ہزار کی بات کیوں کی، کوئی اس “غریب ایجنٹ عورت” سے بھی پوچھے گا اس نے غریدہ پر تشدد کا جھوٹا الزام کیوں لگایا؟
۔
غریدہ کا کیس عدالت میں ہے، قانونی پہلو وہ جانیں۔ میں اس کیس کے سماجی اثرات پر اپنی گواہی مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ میرے لیے یہ اہم نہیں کہ غریدہ کس پارٹی کو سپورٹ کرتی ہے؟ کس چینل پر کام کرتی ہے؟ یا کتنے پیسے کماتی ہے؟ یا یہ کہ اس کے شیشہ پیتی ہوئی تصویر سے مجھے اس کے اخلاق کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگانا۔
۔ مجھے اس کیس کے بارے میں یہ گواہی دینا ہے کہ جو عدالت غریدہ کے “حبس بیجا” سے لڑکی کو بازیاب کروا رہی ہے، وہ آجر کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے، اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے ایسے مافیاز سے عام لوگوں کو بھی ریلیف دے۔
۔
اور آخر میں آپ سب سوشل میڈیا کے دوستوں سے کہنا ہے کہ غریدہ الیکٹرانک میڈیا پر دوسروں کی کردار کشی (اگر) کرتی بھی ہے تو کیا ضروری ہے کہ ہم بھی ایک ایسے کیس میں جس میں وہ واضح طور پر متاثرہ نظر آ رہی ہے، اسکی آڈیو کے ساتھ اسکی شیشہ پیتی تصویر لگا کر راتوں رات وائرل کر دیں؟ کیا پھر ہم بھی سچائی اور انصاف کا ساتھ دینے کی بجائے سنسنی، ریٹنگ، اور بلیک میلنگ کرنے والوں کا ساتھ نہیں دے رہے ؟ اس بات پر سوچیے گا ضرور۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: