بھارت افغان تعلقات: ایک جائزہ —— چوہدری بابر عباس

0
  • 53
    Shares

آزادی کے بعد سے اگر بھارت افغان تعلقات کو دیکھا جائے تو وہ دو مختلف پالسیز پر مشتمل دکھاءدیتے ہیں۔جن میں 9/11 کا واقعہ حد فاصل ہے۔
اس واقعہ سے پہلے بھارت کا افغانستان کے ساتھ ہمیشہ ایک محتاط اور گریز کی پالیسی پر مبنی تعلق رہا ہے۔جیسا کہ نہرو کا 1950 کا افغانستان اور پشتون معاملہ پر یہ بیان کہ بھارتی حکومت افغانستان کے معاملات میں دلچسپی رکھتی ہے مگر اسکے کسی بھی داخلی معاملہ میں مداخلت سے اجتناب کرتی ہے۔ بھارت کی یہ پالیسی سرد جنگ کے اختتام تک جاری رہی۔جبکہ اس سرد جنگ کے اختتام پر وجود میں آنے والی طالبان حکومت پر اظہر من الشمس پاکستان کا ہی دست شفقت تھا۔

1989 میں افغانستان سے روسی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغانستان کی کیمونسٹ حکومت اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکی اور افغان جہاد سے فارغ مجاہدین کے باہمی جنگ و جدل کے نتیجے میں شمالی اتحاد کے خلاف لڑتے ہوئے طالبان نے کابل کی حکومت حاصل کرلی۔ ایران کی کھلے بندوں شمالی اتحاد کی ہر ممکن مدد کے برعکس اگرچہ بھارت نے ، امریکی سعودی سپانسر شپ میں پاکستان کی سرپرستی میں روسی فوجوں کے افغانستان کو چھوڑنے پر مجبور کر دینے کے بعد اپنا قد ماپتے ہوئے ایک محتاط پالیسی کے تحت اس نءاسلام پسند حکومت کی طاقت کو کاونٹر بیلنس کرنے کی سوچ کے ساتھ شمالی اتحاد کی محدود اور خاموش حمایت شروع کردی تھی۔ بھارت طالبان حکومت کو اپنے لئے ایک تزویراتی دھمکی سمجھتا تھا۔اور پھر 1999 میں ائیر انڈیا کے جہاز کے اغوا نے بھی طالبان اور بھارت حکومت میں کسی سمجھوتے کے آثار کو ختم کر دیا تھا۔مگر خطے میں اسوقت کے دگر گوں سیکورٹی حالات کے پیش نظر یہ ایک ایسا موقع تھا جس پر بھارت کو ایک سیکولر اور خطے کی اہم اور بڑی ریاست ہوتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے تھا۔مگر اس وقت کے وزیر اعظم نر سیما راو نے اس بار بھی توقع کے برعکس ایک گریز اور محتاط پالیسی ہی اپناءجس پر افغان سول حکومت پہلے بھارت کی طرف سے روسی مداخلت پر اور پھر طالبان حکومت کے قیام پر خاموشی سے بھارت سے نالاں تھی۔
بھارت اس لمحے افغانستان کو پاکستان کی ایک مکمل طفیلی ریاست قبول کر چکا تھا۔

افغان بھارت تعلقات کا دوسرا اور زیادہ متاثر کن دور 9/11 کے بعد شروع ہوتا ہے۔ جس میں پہلی بار امریکی اور نیٹو افواج کے شیلٹر میں بھارت کو افغانستان میں زمینی طور پر موجود رہنے کا موقع ملا۔اور پہلی بار بھارت نے اپنی پالیسی محتاط اور گریز کی پالیسی کے بجائے مواقع کی تخلیق اور افغانستان میں اس وقت پشت پر کھڑے امریکہ اور پورے مغرب کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، خطے میں اثرو نفوذ حاصل کرنے،سکیورٹی معاملات میں مداخلت، اور جیو پالیٹکس میں فعال ہونے جیسے خطوط پر مرتب کرنے کی کوشش کی۔مگر یہ ساری تخلیق افغانستان میں امریکہ اور اتحادی افواج کی مو جودگی سے ہی مشروط تھی۔ جو کسی بھی وقت امریکی اور نیٹو فوجوں کے انخلاء کے ساتھ ایک سخت خطرے سے دوچار ہو سکتی تھی۔ اور پھر 2011 سے 2014 تک کے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کے دوران منموہن حکومت نے موجود حاصل محدود معاشی اور سیاسی مفادات کو سمیٹنے کی کو شش بھی کی اس موقع پر بھارتی فوج کے ایک بر گیڈئیر نے اس عمل کو بھارت کے ایک بار پھر “تزویراتی تعطل” سے تعبیر کیا ،جو کہ دراصل ہدف تھا بھارتی حکومت کا۔ توامریکی چھتری تلے ایک مامور ریاست ایسا کردار ،مغرب کو متاثر نہ کر سکا جو بھارت کے لئے عالمی سیاست میں محدود مفاد پر ہی مکتفا ہوا۔ اور بھارت کو ایک ناپختہ طاقت گردانا گیا۔ اگرچہ پاکستان کی موجودگی اور افغان جہادی گروہوں پر اسکے اثرو رسوخ اور خود عوام کے باہمی رشتوں کے پیش نظر بھارت کسی قسم کے فوجی تعاون سے قاصر تھا۔ مگر اس صورت حال نے بھارتی انخلاء کو تیز نہیں کیا بلکہ اس دوران بھارت خود کو اس پوزیشن میں کم از کم لا چکا تھا کہ نظر ثانی کے ساتھ ایک لچکدار پالیسی اختیار کر کے اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے جو اسکے علاقا ی تزویراتی مفادات سے جڑی ہے۔ جو اس تخمینے پر مبنی ہے کہ اسکے عالمی سیاست میں تحدیدات کیا ہیں۔ اس لچکدار افغان پالیسی کے تسلسل کے مرہون بھارت اب افغانستان میں خود کو کسی بھی قائم ہونے والی حکومت سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کا دعوی رکھتا ہے۔

دہلی نے افغانستان میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی، بڑے معاشی منصوبے، سماجی سطح پر استعداد کار بڑھانے، مواصلات کے شعبہ میں سرمایہ کاری، بھارتی سٹیل اتھارٹی کی طرف سے ایک کنسوریشم کا قیام، بجلی گھروں کی تعمیر کے علاوہ افغان پولیس اور سکیورٹی فورسز کی تربیت اور تعاون کو بھی اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ہے۔ جن کے زریعہ بھارت نے عوام اور اشرافیہ سے ایک بہتر تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو اسے بہر صورت افغانستان میں اپنے مستقل وجود کی سہولت فراہم کرے گی۔ مزید برآں افغانستان کے ساتھ خوشگوار تعلق بھارت کو وسط ایشا کے ساتھ جڑے اپنی کمرشل اور انرجی مفادات کی پیروی بھی کرنے میں مدد دے گا۔

اگر بھارت کے دوسرے ممالک سے تعلقات اور عالمی سیاست میں اپنے مقام کی کوشش کے حوالے سے اسکی خارجہ پالیسی کو دیکھا جائے تو تین سطحی تعلقات پر مشتمل دکھائی دیتی ہے۔ پہلی سطح پر اسکے سرحدی ہمسایہ ممالک ہیں جن پر بھارت ایک برتر طاقت ہونے کا خواہاں ہے۔ دوسرے درجے پر خطے کے ہمسایہ ممالک (وسط ایشیاءاور بحرہ ہند کی پٹی پر واقع ممالک) ان ممالک سے تعلقات میں ایک توازن چاہتا ہے۔اور تیسرے درجے پر وہ بڑی عالمی طاقتوں کے بیج اپنا ایک مخصوص مقام چاہتا ہے۔ جو اسے جیو پالٹکس میں اسکا ایک کردار دلوا سکے۔

مگر حقائق کے پیش نظر اس ایک متفق علیہ رائے سے انکار ممکن نہیں کہ بھارت کے عالمی عزائم کی راہ میں جو بڑی رکاوٹیں ہیں ان کا تعلق اسکے ہمسایہ ممالک سے ہے۔ نمو پاتی معیشت کے باوجود خوفناک غربت، کئی علیحدگی پسند مسلح تنظیمیں اور حالیہ ریاستی استحصال اور ریاستی دہشت گردی جیسے اندرونی بحرانوں نے بھی بھارت کے عالمی منظر نامے پر نوے کی دہائی میں نام نہاد لبرل اصلاحات کے نفاذ کے نام پر حاصل ایک عارضی کامیاب تاثر کو بری طرح زائل کیا ہے۔کے علاوہ بھارت کے سرد تعلقات کے حامل ہمسایہ ملک چائنہ نے جس طرح ترقی کی ہے اور اس وقت دنیا میں طاقت کے توازن کا دوسرا فریق بننے میں کامیابی حاصل کر لی ہے ،سے بھارت کا عالمی منظر نامے میں کوءکردار ادا کرنا مشکل ہو چکا ہے۔

افغانستان کے حوالے سے ساری جدو جہد کے بعد بھی جو عنصر حدف کے حصول میں رکاوٹ بنا وہ بھی خطے کا ماحول ہی ہے۔جو اس وقت کسی طور سے بھی بھارت کے حق میں نہیں ہے۔

اس نظر ثانی شدہ اور لچکدار افغان پالیسی میں جو اہداف مقرر کئے گئے تھے انکے پیراڈکسز اپنے تزو یراتی مقاصد کا حصول، عالمی سیاست میں ایک ترقی پسند اور پر امن ملک کے تاثر کا قیام اور سب سے اہم پاکستان کے افغانستان پر اثر رسوخ کو غیر فعال حد تک محدود کر نا تھا۔مگر اپریل 2011 میں پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور جنرل کیانی کے کابل کے دورے پر صدر حامد کرزایءسے پاکستان کا کابل اور طالبان میں مصالحتی کردار کو منوانے کے تحریری معاہدہ (جسکو واشنگنٹن کی حمایت بھی حاصل تھی) حاصل کر لینے نے گویا یک بارگی بھارت کی اس ساری جد و جہد اور سرمایہ کاری کو غارت کر دیا ہے اور سب سے اہم اور اصل ہدف پاکستان کا اثر و رسوخ کم کرنے میں بھارت کو ناکامی ہوئ۔اور امریکہ کی حمایت بھی اس بات کی غماز تھی کہ افغانستان کے حوالے سے کوءبھی فیصلہ اور پالیسی پاکستان کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔

معاشی اور کچھ سیاسی کامیابیوں کے ساتھ افغانستان میں اپنی زمینی موجودگی حاصل کر لینے کے بعد پاکستان مخالف پروپیگنڈا اور تخریبی کاروائیاں کرنے میں تو بھارت نے ضرور کامیابی حاصل کی ہے۔ مگر آج تک بھارت کو عالمی افغان پالیسی کے حوالے سے کسی بھی بیٹھک کا حصہ نہیں بنا یا گیا۔

سرد جنگ کے بعد وسط ایشیاءریاستیں افغانستان کے سیکیورٹی حالات کے پیش نظر اسکی تعمیر و ترقی میں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں۔ مگر قازقستان کے صدر نور سلطان نذر بایوف نے امریکہ افغان جنگ پر ایک انتہائی عمیق اور درست تجزیہ دیا تھا کہ امریکی انخلاءکے بعد افغانستان کے بہت سے مسائل کا بوجھ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک کو اٹھا نا پڑے گا۔

امریکہ اور اتحادی ممالک کی طرف سے بھارت کی کوششوں کو دل سے نہیں سراہا گیا اور نہ ہی کسی فیصلہ سازی کا بھارت حصہ بن سکا۔ایک لچکدار افغان پالیسی سے بھی بھارت کو ٹھوس تزویراتی کامیابی نہیں مل سکی۔کییءمحازوں پر بھارتی تخمینے نا کافی ثابت ہوئے۔نہ تو طالبان کو خاموش کروایا جا سکا نہ ہی پاکستان کی ایک فعال مداخلت کے آگے بند با ندھا جا سکا۔

ایسے میں مزموم مقاصد کے حامل ایڈہاک شوز پیش کرنے کے بجائے مستقل بنیادوں پر نیک نیتی کے ساتھ انفراسٹرکچر اور افغان اداروں کی مضبوطی کے لئے کام کی ضرورت ہے۔

ان تمام حالات کے پیش نظر خود اپنے بھارت کے مفادات کے تحفظ ،سیکیورٹی معاملات اور سب بڑھ کر بھارت کی پاکستان کے کردار کو محدود کرنے کی خواہش بھی اسی فورم سے منسلک ہو کر نیک نیتی سے کام کرنے سے پوری ہو سکتی ہے۔اسطرح بھارت چین اور اب روس سے پاکستان کے اچھے ہوتے تعلقات کو پاکستان پر دباو کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر بھارت افغانستان کو 2005 کی سارک کانفرنس میں لے کر آیا ہے تو شنگھاءتعاون تنظیم بھی افغانستان کو مستقل ابزرور ملک کا درجہ دینے کی کوشش میں ہے۔ جبکہ بھارت اس تنظیم کی رکنیت حاصل کرنے میں آج سے چند ہفتے پہلے تک قاصر تھا جو اسکو اس سال  ۹ جون کو حاصل ہوئی۔

ایک دلچسپ اور اہم نکتہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر بھارت کی گریز اور محتاط افغان پالیسی میں اچانک تبدیلی 9/11 واقعہ کے بعد ہی کیوں آئ؟ خطے کے اور ہمسایہ ممالک کے لئے کءتشویش ناک پیچیدگیاں لئے ہوئے اس سوال کا ایک سادہ سا جواب بھارت اور امریکہ کے مشترکہ مفادات ہیں اور مزید بھارت امریکی مفادات کی چوکیداری کی اضافی نوکری کرے گا۔خطے کے دیگر ممالک کے مفادات مختلف ہیں جیسے (چین،روس،وسط ایشیاءریاستیں،ایران اور سعودی عرب)جن میں بھارت اب تک خود کو اس لئے بہتر اور محفوظ پوزیشن میں سمجھتا رہا کہ بھارت اور امریکہ کے مفادات مشترک ہیں اور کسی بھی دوسرے ملک کے مفاداد سے علاوہ پاکستان ان میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اور اس ضمن میں بھارت کے پارٹنر شپ ان ڈیولپمنٹ ایجنسی کے قیام کے منصوبے کا مقصد بھی تھرڈ پارٹی ضمانت اور دیگر ممالک کی شراکت کا حصول تھا جو اسکی کامیابی علامت نہیں ہو سکتی۔اگرچہ امریکہ کی طرف سے شراکت داری کا عندیہ دیا گیا مگر علاقائی سطح پر اس سلسلے میں تا حال فقدان پایا جاتا ہے۔اور یقینآ پاک چائنہ راہداری منصوبے میں افغانستان کی شمولیت اسکے لئے کسی رحمت خداوندی سے کم نہیں ہو گی چہ جائیکہ بھارتی حکومت کا آلہءکار بننے کو ترجیح دی جائے۔۔ جسکا انحصار افغان حکومت کی فہم و فراست پر ہے۔

اس تناظر میں کہ جب شنگھائی تعاون تنظیم پر چائنہ اور روس کا غلبہ ہے، جہاں ایک طرف اس وقت بھارت چائنہ کے ساتھ سخت سرحدی کشیدگی پیدا کر چکا ہے وہاں شام اور مشرق وسطی میں امریکہ اپنے اتحادیوں کے ہمراہ روس کے مدمقابل کھڑا ہے۔تو ایسے میں بھارت کے لئے خطے میں اپنی نمبرداری، تزویراتی مفاد اور تحفظ کی یقین دہانی اور امریکی مفاد کے تحفظ کے لئے اپنی دستیابی اور پاکستان پر کسی طرح کا دباو ڈالنے کو یقینی بنانا کس قدر آسان ہو گا؟ ایک اہم سوا ل ہے۔

اور افغانستان جس کے اندر طالبان جن کے دل میں بھارت کے لئے کوءنرم گوشہ نہیں ہے ایک بار پھر اپنا وجود ایک سخت ردعمل کے ساتھ ثابت کر رہے ہیں ،جس کے نتیجے میں امریکہ کو دوبارہ اپنی فوجیں افغانستان بھیجنا پڑ رہی ہیں۔

اس سوال اور بھارت کے لئے پیدا ہوتی بہت سی پیچیدگیوں پر بھارتی خارجی پالیسی پر تحقیقی مقالہ لکھنے والا ایک مصنف ڈینیل نور فوک اپنے مقالے کا اختتامیہ ان الفاظ میں لکھتا ہے

“بھارت کا جو تزویراتی کلچر بن چکا ہے اسکا مطلب یہ کہ وہ ماہرین جو ملک کی بڑھتی ہوئی معاشی ضرورتوں کو زمینی سیاسی حوالوں سے فعال دیکھنا چاہتے ہیں انہیں مایوس ہونا ہو گا۔

1976 میں ذوالفقار علی بھٹو اور افغان صدر داود کے بیچ ڈیورنڈ لائن کا پاکستان اور افغانستان کے بیچ حل ہوتا واحد سیاسی تنازعہ اگر مارشل لاءکی بھینٹ نہ چڑھتا تو تیس لاکھ مہاجرین کی کفالت، اس جنگ میں ہزاروں پاکستانی جانوں کی قربانی ،افغانستان کے لئے ہر ممکن تعلیمی اور طبی مدد اور اقتصادی رہداری مہیا کرنے کے با وجود ہمیں محض جغرافیایءلیورج پر انحصار نہ کرنا پڑتا۔ہماری حکومتوں کو ضرور سوچنا چاہیئے__!

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: