بامراد راستے یا بے مراد منزلیں ۔۔۔ فارینہ الماس

1
  • 69
    Shares

میں آج تک سوچتی ہوں کہ میری ہر دل عزیز پروفیسر یہ کیوں کہا کرتی تھیں کہ “اکثر، کلاس کی آخری نشستوں پر بے دھیانی اور لاپرواہی سے بیٹھے، اساتذہ سے نظریں چراتے طلبہ پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی و کامرانی کے جھنڈے بڑے رعب اور دبدبے سے گاڑتے دکھائی پڑتے ہیں۔” ان کے منہ سے یہ سن کر میرا دل بہت جلا کرتا۔ دل ہی دل میں سوچتی کہ بس استاد محترم کی یہی ایک بات تھی جو جھوٹ پر مبنی تھی۔ یا شاید اسے جھوٹ سمجھنے میں ہی میری عافیت تھی۔ کاش کبھی اس وقت یہ سنجیدگی سے سوچا ہوتا کہ آخر وہ یہ کہتی ہی کیوں تھیں۔ اگر یہ سوچا ہوتا تو کہانی آج کچھ مختلف ہوتی۔

وقت کے ساتھ ساتھ تجربے اور میری ایک پرانی کلاس فیلو نے اس جھوٹ کو سچ سمجھنے میں میری بہت مدد کی۔ وہ کلاس فیلو جس کا نام سعدیہ تھا۔ بی اے میں میری ہم جماعت تھی لیکن عمر میں مجھ سے تین یا چار سال سینئر تھی۔ اس نے میٹرک اور ایف اے پرائیویٹ کیا تھا اور یہ اضافی تین چار سال اسے ضمنی امتحانات کو نپٹانے میں لگے۔ اس کا مزاج مجھ سے برعکس تھا۔ اس کے باوجود وہ ہر دم مجھے متاثر کرنے اور اپنے دوستوں کی فہرست میں شامل کرنے کے درپے رہتی۔ مجھے اس کی شخصیت میں ایسی کوئی کشش محسوس نہ ہوتی کہ میں اس کی دوستی قبول کرتی۔ کیونکہ دوستی کے معاملے میں میں ہمیشہ سے ہی حساس تھی۔ ہر چند کہ میں اس سے کنارہ کشی کی سو سو ترکیبں لڑا چکی تھی لیکن ہر ترکیب اس کے عز م و حوصلے کے آگے شکست سے دوچار ہوئے جاتی۔ گو کہ مجھے کبھی اس سے بات کر کے کچھ حاصل نہ ہوا لیکن یہ میں آج بھی مانتی ہوں کہ معمولی نین نقش اور خالص دیہاتی ماحول سے تعلق رکھنے والی وہ لڑکی اپنا نام اور مقام بنانے میں بڑی سرعت سے کامیاب ہو گئی تھی۔ جب کالج کی تقریبات میں روح پھونکنے کی بات ہوتی تو مجھے محفل مشاعرہ میں نظم پڑھنے، تقریری مقابلے میں تقریر کرنے سے لے کر لکھنے لکھانے کے مقابلوں میں بھیجنے کے لئے یاد کیا جاتا، لیکن جب تقریبات کو سجانے، سنوارنے اور مہمانوں کی تواضع کرنے یا دوسرے انتظامی امور کو سنبھالنے کی بات آتی تو سعدیہ کو یاد کیا جاتا۔ اسے اپنے سبھاؤ سے ہر کسی کے دل میں اترنے کا ہنر آتا تھا۔ چند ہی دنوں میں وہ پرنسپل کے لئے بھی خاص الخاص طالبہ بن چکی تھی۔ اس کا اور میرا فلسفہء حیات بہت مختلف تھا۔ وہ شوخ و شنگ خیالات کی حامل اور میں فلسفی اور سنجیدہ مزاج۔ اس کا پڑھائی سے دور دور کا کوئی واسطہ تعلق نہ تھا لیکن وہ پھر بھی امتحانات کے لئے مطمئن تھی۔ اس کی اس طمانیت کی بظاہر کوئی بھی وجہ مجھے تو معلوم نہ ہوتی تھی۔ لیکن میں اس کے اس غیر سنجیدہ رویے کا گاہے بگاہے اس سے تذکرہ کیا کرتی جسے وہ بڑی آسانی سے ہنسی میں ٹال دیتی۔ امتحانات ہوئے تو سنٹر ہمارا اپنا کالج ہی تھا۔ پہلے ہی پیپر میں بلا کی بد انتظامی نے مجھے بہت رنج میں مبتلا کیا۔ یہ ملال اپنی اوراپنے جیسوں کی محنت کے رائیگاں چلے جانے کا تھا۔ شکایت کرنے کی ٹھانی تو یہ راز کھلا کہ یہ سب پرنسپل ہی کی سرپرستی میں ہوا اور جس کا پورا پورا فائدہ خود سعدیہ نے بھی اٹھایا۔ یہ وہ پہلا مقام تھا جہاں میرے اندازے ناکامی سے دوچار ہوئے۔ مجھ پر سسٹم کی خرابیاں عیاں ہوئیں کہ کس طرح کم محنت کرنے والے بھی ان خرابیوں کی بدولت فائدہ میں رہتے ہیں۔ سعدیہ نے بھی اسی سسٹم کی بدولت سیکنڈ ڈویژن بنا کسی رکاوٹ کے حاصل کر لی۔

کالج کا سلسہ ختم ہوا تو یونیورسٹی کی زندگی کا آغاز ہو گیا۔ میں نے یونیورسٹی سے اور سعدیہ نے لاہور کے ایک مشہور کالج سے ایم اے کرنے کا ارادہ کیا۔ مجھے اب بھی اس خوش فہمی نے گھیر رکھا تھا کہ اب تو اس کے پاس سوائے پڑھنے اور محنت کرنے کے کوئی راستہ نہ ہو گا اور اگر وہ اس سے فرار اختیار کرے گی تو کبھی کامیابی کی سیڑھی نہ چڑھ سکے گی۔ ان دو سالوں میں محض ایک بار ہی سعدیہ کے کالج جانے کا موقع ملا جو اس نے زبردستی مجھے فراہم کیا۔ گو اس کا لب و لہجہ اب بھی خالص دیہاتی تھا۔ آج بھی بظاہر اس کی شخصیت میں کوئی کشش اور لباس میں کوئی خاص رکھ رکھاؤ نہ تھا۔ اس کے باوجود یہاں بھی وہ کالج بھر کی ہر دل عزیز شخصیت تھی۔ خصوصاً اساتذہ سے اس کے تعلقات دیدنی تھے۔ ایک استاد محترم تو ایسے بھی تھے جن سے اس کا تعلق ذیادہ ہی بے تکلف تھا۔ بقول اس کے وہ اس سینئر استاد کے گھر بھی ایسی ہی بے تکلفی سے آتی جاتی تھی۔ وہ سعدیہ کا ہر معاملے میں بہت خیال رکھتے۔ مجھے یہ سب بہت عجیب سا لگا۔ گویا مفاد کی حرص انسان کو سبھی ادب آداب اور لحاظ و مروت سے مبراء کر سکتی ہے۔ مجھے اس دن بہت عجیب سے خیالات ستا تے رہے ” آیاانسان کی خواہشات کے راستے میں حائل ہر رکاوٹ کو ہٹانے کے لئے درکار محنت کا بھی کوئی معیار ہونا چاہئے یا نہیں؟ کیا آرزوؤں کی خاطر اپنے نفس کو گھائل کرنا، اپنی حرص کو لا تمام کرنا، ان آرزوؤں کو اجازت دینا کہ وہ ہر صورت کامیابی کو جالینے کے لئے خود راستے تجویز کرتی پھریں، جائز ہے؟” میں سوچنے لگی کاش ہم اپنی محنتوں کو الٹ پھیر سے بچانے کے لئے ان کے منتخب راستوں اور ان راستوں کی محنتوں کا انجام اس کے باطن میں دیکھ سکیں۔ کہ آیا جو کامیابی ہے وہی اصل کامیابی ہے یا جو ناکامی ہے وہ صریح ناکامی ہے۔۔۔


۔۔۔وہ رتی رتی جینے کی بجائے اپنی سبھی خوبیوں اور خامیوں کے اظہار سمیت ڈٹ کر اور کھل کر جیتے ہیں۔


سعدیہ میرے اس تذبذب اور الجھن کو شاید بھانپ چکی تھی، اس نے کالج کی سیڑھیوں پر مجھے بٹھا کر میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور مجھے کچھ سمجھانے لگی “میں جانتی ہوں کہ مجھ میں کوئی ٹیلنٹ نہیں۔ آج بھی اگر تم مجھ سے میرے سبجیکٹ کی الف ب بھی پوچھو گی تو مجھے کچھ معلوم نہیں۔ میں نہیں بتا پاؤں گی کہ آئین کسے کہتے ہیں؟ قانون کیا ہوتا ہے؟ امریکی تو کیا پاکستانی اداروں کی بھی سوجھ بوجھ نہیں مجھے۔ لیکن پاکستان میں پڑھنے لکھنے اور درست محنت کرنے والا ہی تو ناکام ہے۔ یہاں اصل محنت کی ضرورت  پڑتی ہے تعلقات نکالنے اور سفارش چلانے میں۔ جو مجھے کل بھی کرنا پڑے گی، تب بھی جب اگر میں خوب محنت سے پڑھ کر ایمانداری سے ڈگریاں لوں گی۔ لیکن اگر قدرت آج ہی مجھے موقع دے رہی ہے تو اس کا فائدہ کیوں نہ اٹھاؤں۔ آج تمہیں یہ سب اچھا نہیں لگ رہا۔ لیکن ایک دن تم بھی مان لو گی کہ کامیابی کے حصول کا یہی ایک طریقہ ہے۔ اس وقت میری کامیابی کا سارا دارو مدار اسی پروفیسر پر ہے جس کی خواہشوں کو اس کی آنکھوں میں پڑھنا دراصل میری خواہشوں کی کامیابی ہے۔ میں کہاں جاتی ہوں اور کتنا آگے تک جاتی ہوں یہ اسی بات پر منحصر ہے۔ تم بھی سمجھو۔۔ کامیابی پانے کے گر کو سمجھو۔۔ ورنہ کیا فائدہ سوکھی پھیکی ڈگریاں اکٹھا کرنے کا۔۔ “میں اس دن کے بعد پھر کبھی سعدیہ سے نہیں ملی۔ لیکن مجھے خبر ملتی رہی۔ وہ ایم اے کر نے کے فوراً ہی بعد ایم فل میں داخلہ لے چکی تھی۔ اسے اس پروفیسر کی محنتوں سے اسی کالج میں لیکچرار کی نشست بھی مل گئی۔ گو کہ دیگرفارن کوالیفائیڈ پروفیسروں نے اس بات پر خوب احتجاج بھی کیا۔ مجھے امید ہے کہ ایم فل کے فوراً بعد وہ اپنا پی ایچ ڈی تھیسز بھی شروع کر دیا ہو گا۔ میں نے یہ سوچتے ہوئے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار کس قدر زبوں حالی کا شکار ہے ایم فل یا پی ایچ ڈی کی بجائے اچھے لکھاریوں کی کتابیں پڑھ کر اپنی جہالت دور کرنے کو بہتر سمجھا۔


اپنے خوابوں کے ٹوٹنے سے بھی کہیں ذیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب آپ نا اہل اور کم فہم لوگوں کو تعبیر پاتے دیکھتے ہیں۔


لیکن یہ راز بھی سمجھ آ چکا ہے کہ تعلیم میں پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والے اکثر ہی زندگی میں کامیابی کو اپنے معیار کے مطابق پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کامیابی کے ایک سو ایک طریقے ہیں۔ وہ ایک ہی زندگی میں دو زندگیاں جینا جانتے ہیں۔ ان کی فطرت میں سرکشی تو ہوتی ہے لیکن وقت ضرورت وہ عاجز بن کر اپنا مطلب نکالنے کے ہنر سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔ وہ بیک وقت محبت، شرارت، خلوص، عداوت، چوٹ کھانے اور چوٹ دینے جیسی سبھی خوبیوں اور خامیوں کا مرقع ہوتے ہیں۔ انہیں کلاس کا سبق یاد ہو نہ ہو زندگی کا سبق بخوبی یاد ہوتا ہے۔ ہر واقعے، ہر قصے، ہر کہانی سے باخبر۔ جیسے ہیں اسی میں خوش۔ نہ اساتذہ کی خفگی کی پرواہ، نہ والدین کی کسی آرزو کے ٹوٹنے کا ملال۔ نہ دل میں ناکامی کا خوف نہ پیچھے رہ جانے کا رنج۔ وہ رتی رتی جینے کی بجائے اپنی سبھی خوبیوں اور خامیوں کے اظہار سمیت ڈٹ کر اور کھل کر جیتے ہیں۔۔ وہ کامیابی کو کسی بھی صورت پانا چاہتے ہیں۔ اور پا بھی لیتے ہیں لیکن ان کے برعکس سامنے کی نشستوں پر براجمان۔۔۔ کتابی علم میں کھوئے، حقیقت کی دنیا سے بے بہرہ۔ زندگی کے تخیلاتی تصور میں مبتلا۔ خوب پڑھتے ہیں خوب سیکھتے ہیں اور خوب جانتے ہیں لیکن اس سب کو برتنے کا طریقہ اور سلیقہ نہیں سمجھ پاتے۔ عقلی طور پر مضبوط لیکن شخصی طور پر کمزور۔ چوٹ کھانا تو جانتے ہیں چوٹ دینے کا حوصلہ نہیں۔ کمزور ناتواں، کم حوصلہ جو سسٹم میں جینے کی خاطر پیچھے بھی رہ جائیں تو بھی سسٹم سے باہر نہیں نکلیں گے۔ اصول اور قائدے میں فائدہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اپنی راہ کھوٹی کر بیٹھتے ہیں۔ کامیابی اصول اور قاعدہ میں کہاں؟ اس کا تو اپنا ہی ایک جدا فارمولہ ہے ہمارے سسٹم میں۔ جسے انسان چوٹ کھا چکنے کے بعد سمجھتا ہے۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اپنے خوابوں کے ٹوٹنے سے بھی کہیں ذیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب آپ نااہل اور کم فہم لوگوں کو تعبیر پاتے دیکھتے ہیں۔ وہ لمحہ جب جیتنے والے منزل ہار جائیں اور ہارنے والے منزل کو جا لیں۔۔۔۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بہترین موضوع پہ بڑے وسعت سے روشنی ڈالی ہے ۔
    اج مجھے اک دوست کامران امین جو سوشل میڈیا کا اسکی تحریر پڑھنے کا موقع ملا۔ جسمیں اک ہی بات قابل غور تھی کہ جب بھی ہمارے ہاں میٹرک کا خصوصا نتیجہ نکلتا ہے تو بیشتر طلبا مقررہ نمبر سے گنتی کے نمبرز پہ فاصلے میں ہوتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اگلے مقابلے کے امتحانات میں فیل ہو جاتے ہیں۔
    یہ ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو نہ تو ادھر کے رہ جاتے ہیں نہ ادھر کے۔

    کہنے کامقصد اتنا ہی ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام کا سہرا اور اسکی زبوں حالی کا سارا قصور سعدیہ جیسے تعلقاتی یافتہ طلبہ کا عملی میدان میں کسی بھی سیٹ پہ بیٹھنے یا بٹھانے والوں کے گلے میں پھندتا ہے۔ جو اس دنیا میں وقتی چند مادی سہوکتین اور لطف تو اٹھا لینگے لیکن آخروی زندگی میں دھوکہ دہی ، حقوق العباد کی خلاف ورزی اور عہدے و اختیارات کا استعمال میں کجی ان سب سوالوں کے جوابات پھر وہ وہاں انہی تعلقی پیادوں سے نہیں لے پائے گی بلکہ وہ اسکے ساتھ نابوت ہونگے ۔۔۔ انشاءاللہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: