خورشید ندیم صاحب کے تضادات: جواب آں غزل ۔۔۔۔ عماد بزدار

0
  • 196
    Shares

محترم خورشید ندیم نے میرے ایک کالم کا جواب دنیا نیوز پر لکھا۔ میرا وہ کالم ایک ویب سائٹ پر چھپا تھا جس میں میں نے خورشید ندیم صاحب کے گزشتہ ایک سال کے کالم اٹھائے اور ان میں تضادات کی طرف اشارہ کیا تھا۔
محترم اپنے آج کے کالم میں فرماتے ہیں کہ میرے مؤقف میں تضاد کہاں ہے؟ آیئے ایک بار پھر دیکھتے ہیں کہ خورشید ندیم صاحب کے مؤقف میں تضاد کہاں ہے؟
اپنے آج کے کالم کے دوسرے نقطے میں فرماتے ہیں:
عمران خان صاحب اگرنوازشریف یا حکومت پر کرپشن یا کسی غیر قانونی اقدام کا کوئی الزام لگاتے ہیں تو انہیں یہ الزام عدالت میں ثابت کرنا چاہیے۔پھر عدالت کا حکم سب کو ماننا چاہیے”
بہت اچھی بات ہے سب کو ,بشمول عمران اور نواز شریف، عدالت کا حکم ماننا چاہیئے یہی بات محترم پانامہ کے فیصلے سے پہلے تسلسل کے ساتھ کہتے رہے اور عمران کو بار بار ہدفِ تنقید بھی بناتے رہے کہ عمران کسی عدالت کو نہیں مانتا
فیصلے سے پہلے نواز شریف کو ہٹانے کا طریقہ کار کیا تجویز کرتے ہیں
(2016-4-13)
سوال سادہ ہے: کون کرپٹ ہے اور کون نہیں، اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ انسانی تاریخ انصاف کی دو صورتوں سے واقف ہے: ایک عدالتی (Court Justice) اور ایک عوامی (Street Justice)۔ جمہوریت میں عدالتی اور عوامی انصاف بیک وقت ممکن ہے۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں کس طرح انصاف لینا ہے۔”
مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران کا مقدمہ کمزور ہے تاثر دینا یہ مقصود ہے کہ عمران کو بس لہو گرم رکھنے کا بہانہ چاہیئے
28-09-2016
قانون کی عدالت میں ان کا مقدمہ کمزور ہے، آج سے نہیں ہمیشہ سے ہے۔ دھاندلی سے لے کر پاناما تک، کسی عدالت کے سامنے وہ اپنا دعویٰ ثابت نہیں کر سکے۔”
اس کے بعد پانامہ کا پہلا فیصلہ آتا ہے تو محترم کا مؤقف یکسر مختلف نظر آتا ہے
05-06-2017
عمران خان نے اس ہیجانی سیاست کاآغاز کیا۔ 2014 ء میں ایک ریاستی ادارہ اس کی زد میں آیا۔2017 ء میں دوسرا۔آج اہلِ سیاست کا معاملہ یہ ہے کہ ‘نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘۔رخشِ سیاست اب کسی کے قابو میں نہیں۔سب وقت کے جبر کا شکار ہیں۔عمران خان نے سیاسی عمل کواحتجاج کی راہ پر ڈالا۔’انصاف‘ کی طلب میں انہوں نے کبھی امپائر کی انگلی کی طرف دیکھا اور کبھی عدالتی ایوانوں کی طرف۔”
اور کیا یہ تضاد آپ کو نظر نہیں آتا کہ آپ تسلسل سے ایک بات کرتے کرتے اپنے پچھلے بیانات سے یکسر مختلف مؤقف اپناتے ہوئے نظر آتے ہیں
جب معاملہ نواز شریف کے خلاف مزید خراب ہوا تو آپ سیاسی عصبیت کے ایمونیشن سے لیس ہو کر حملہ آور ہوئے۔
17-07-2017
آج یہی معاملہ نوازشریف کا ہے۔وہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کے راہنما ہیں۔انہیں سیاسی عصبیت حاصل ہے۔ان کے خلاف قانون کو متحرک کیا جائے گا تواس کی ایک قیمت ہے جو ریاست کو چکانا ہوگی۔کیا ریاست اس کی متحمل ہو سکتی ہے؟پھرمعاملات بھی اگر پوری طرح شفاف نہ ہوں اور ان کے پس منظر میں سازش صاف جھانکتی دکھائی دے رہی ہو تو نتائج کی سنگینی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
نوازشریف کے خاتمے کا صرف ایک راستہ ہے:ان کی سیاسی عصبیت کا خاتمہ۔یہ انتخابی عمل سے ہوگا۔دوسرا ہر طریقہ ملک کو فسادکی طرف لے جائے گا۔”
کیا آپ کو اپنی ان تحریروں سے یہ نہیں لگتا کہ جیسے ہی زمینی حقائق نواز شریف کے خلاف بدل گئے آُپ بھی اپنے پچھلے مؤقف سے پھر گئے عمران کو عدالت سے انصاف حاصل کرنے کا بار بار کہتے ہیں جب عمران معاملہ عدالت میں لے گئے، تو آپ نے وہاں بھی عمران ہی کو موردِ الزام ٹھہرایا کہ کبھی ایمپائر کی انگلی تو کبھی عدالت کی طرف دیکھتا ہے۔ اب آپ ہی بتایئں عمران انصاف کے لیئے کس کی طرف دیکھے؟ سارے راستے تو آپ نے بند کیئے ہیں۔
یاد دہانی کے لیئے ایک بار پھر یہ پڑھ کر دیکھ لیں
(2016-4-13)
جمہوریت میں عدالتی اور عوامی انصاف بیک وقت ممکن ہے۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں کس طرح انصاف لینا ہے۔”
17-07-2017
نوازشریف کے خاتمے کا صرف ایک راستہ ہے:ان کی سیاسی عصبیت کا خاتمہ۔یہ انتخابی عمل سے ہوگا۔دوسرا ہر طریقہ ملک کو فسادکی طرف لے جائے گا۔”
آپ کے خیال میں جس کو سیاسی عصبیت حآصل ہو اس کے خلاف فیصلے کا ریاست متحمل نہیں ہو سکتی ہےیعنی جب تمام راستے بند ہوتے ہوئے نظر آئے تو سیاست عصبیت کے نام پر ریاست کو نواز شریف کے ہاتھوں یر غمال بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔
ریاست اگر اس طرح عصبیت کے نام پر بلیک میل ہونا شروع ہو جائے تو آپ کے خیال میں کیا سیاسی عصبیت صرف نواز شریف کو حآصل ہے؟
سیاسی عصبیت تو یزید کو بھی بنو امیہ کی حاصل تھی کیا اس بنا پر یزید کے خلاف خروج کو ناجائز قرار دیا جا سکتا ہے کہ اسے ایک طاقتور قبیلے کی عصبیت حآصل تھی۔
آپ عبداللہ بن ابی کا واقعہ تو کھینچ لائے لیکن شاید آپ کی نظروں سے رسول اللہ کا وہ پیغام نہیں گزرا جس میں آپ نے فرمایا کہ چوری اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی کرتی تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جاتا۔ تم سے پہلے کی قومیں اس لیئے برباد ہویئں کہ طاقتوروں کو تحفظ دیا جاتا تھا۔
جب عمران لاک ڈاؤن کی بات کرے آپ عمران کو عدالتوں کا مشورہ دیں جب عدالتوں سے میاں کے خلاف کچھ ثابت ہوتا ہے تو آپ اسے سازش قرار دیتے ہیں یا سیاسی عصبیت کی چھاؤں میں پناہ لیتے ہیں
یہ عصبیت آپ کو 05 نومبر 2016 میں نظر نہیں آتی جس میں آپ فرماتے ہیں کہ
میرے نزدیک یہ بات اب بےمعنی ہے کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے۔ نواز شریف اگر سرخرو ہوتے ہیں تو جمہوری عمل جاری رہےگا۔ اگر فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو پارلیمان نئے قائد کا انتخاب کرے گی۔ یہ بھی جمہوری عمل کے تسلسل کا باعث ہو گا۔ – “
عمران اب بھی یہی کہہ رہا ہے کہ میاں صاحب ریزائن کرے کسی اور کو وزیرِ اعظم بنائے اور اپنی مدت پوری کرے اس میں کونسی غیر جمہوری بات ہے؟ یہی بات، آپ خود پہلے اپنے کالم میں کہہ چکے جب میاں صاحب کے پکڑے جانے کا امکان کم تھا لیکن جیسے ہی میاں صاحب کے گرد گھیرا تنگ ہوا، آپ بھی اپنے پچھلے مؤقف سے دستبردار ہوتے گئے۔
بات صرف ان تضآدات تک موقوف نہیں آپ جس طرح عمران کے خامیوں کو خوردبینی نظروں سے دیکھتے ہیں باالکل اس کے بر عکس میاں صاحب کے معاملے میں کہیں اس کی غلطیوں کو جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو کہیں غصِ بصر سے کام لیتے ہیں ۔عمران کا روز عدالت جانا قابلِ گرفت، خواجہ سعد رفیق کی عدالت کو دی گئی ننگی دھمکیاں آپ کے کالم میں جگہ نہیں پاتیں
آپ کو پورے خاندان کے میڈیا پر دیئے گئے متضاد بیانات کبھی نظر نہیں آئے,جے آئی ٹی کے سامنے بولے گئے جھوٹ آپ کی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ قوم کے سامنے جے آئی ٹی کے بعد عدالت نے ان کے وکیلوں کو سنا، صفائی کا موقع دیا آپ کو کہیں بھی ان میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی جو جو میاں صاحب کا مؤقف ہوتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ آپ کا مؤقف ان کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا جاتا ہے۔
انہوں نے کوئی ایک فیصلہ کن ڈاکیومنٹ عدالت کے سامنے پیش کیا جن سے ثابت ہو سکے کہ یہ جائز کمائی سے بنائی گئی پراپرٹی تھی۔ آخری دن تک عدالت ان سے جواب طلب کرتی رہی کہ” پوچھ پوچھ کر تھک گئے کہ فلیٹس کس کے نام ہیں” بجائے اس پر کچھ لکھنے کے آپ نے سب کچھ سازش قرار دے دیاِ۔پانامہ سازش ہے۔ جے آئی ٹی اور ان کی فیملیز کو دی گئی دھمکیاں سازش ہے، قطری خط سازش ہے، ایس ای سی پی کے چئیرمین کی ریکارڈ تیمپرنگ سازش ہے، فلیٹس کی ملکیت بارے ایک بھی فیصلہ کن شہادت نہ جے آئی ٹی کے سامنے نہ عدالت کے سامنے پیش کی گئی، سازش ہے۔
آپ جیسے دانشوروں سے توقع کی جاتی ہے طاقتوروں کو تحفظ دینے کے بجائے قانون کی حکمرانی کے لیئے اپنے قلم کی طاقت کو اسعتمال کریں الٹا آپ لوگ حکمرانوں کے حق میں یک طرفہ مہم چلا کر پوچھتے ہیں کہ ہمارے مؤقف میں تضاد کہاں ہے ?

یہ سب کچھ پڑھ کر بھی آپ کو کہیں تضاد نظر نہیں آتی اور حکمرانوں کے بیانیے کو اپنے قلم کے ذریعے تقویت دینے کی کوشش نظر نہیں آتی تو میں حسن نثار کے الفاظ میں یہی کہونگا کہ
شہرِ آسیب میں آنکھیں ہی نہیں ہیں کافی
الٹا لٹکو گے تو پھر سیدھا دکھائی دے گا

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: