برانڈز اورملٹی نیشنل کمپنیاں: اعظم احمد

0
  • 119
    Shares

ذہنوں پر چھائے ہوئے یہ پر کشش نام کیا محض ایک حسین دھوکہ ہیں؟

فرانس کے وزیر تجارت نے ایک بار کہا تھا برانڈز مارکیٹنگ کی دنیا کا سب سے بڑا فراڈہے۔ ان کا مقصد تو امیر لوگوں سے پیسے نکلوانا ہے لیکن غریب اور متوسط طبقے کے لوگ ان سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں بر انڈز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کردار پر یہ کافی جامع تبصرہ ہے لیکن اس طرز فکرکے نقصانات اور تباہ کاریاں اس سے کہیں زیادہ ہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہیں. اگرچہ ان کے کچھ فوائد بھی ہیں جن کا ہم آگے ذکر کریں گے۔ 1950 اور 1960 کی دھائیوں میں سب سے پہلے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا تصور سامنے آیا۔یہ عالمی پیداواری نظام کا ایک پیچیدہ طریقہ ہے جس میں لاکھوں کام کرنیوالے شامل ہیں جو مقامی،علاقائی اور قومی سے عالمی منڈی تک ایک پیدواری نظام سے منسلک ہیں، ان کا سادہ سا دو نکاتی ایجنڈہ ہوتا ہے (1) وسیع پیمانے پر پیداوار اور وسیع پیمانے پر کھپت۔ دنیا کی مجموعی تجارت میں ان کا حصہ 50% سے زیادہ ہے جو کہ بتدریح بڑھ رہا ہے۔ دنیا کی 500 بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں سے آدھی سے زیادہ صرف ان چار ممالک کی ہیں۔

(1)  امریکہ 140= ملٹی نیشنل کمپنیاں
(2)  جاپان 68= ملٹی نیشنل کمپنیاں
(3)  فرانس 40= ملٹی نیشنل کمپنیاں
(4)  جرمنی 39= ملٹی نیشنل کمپنیاں

دنیا کی کچھ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ان کی سالانہ آمدنی درج ذیل ہے۔
(1)  وال مارٹ ( امریکہ) سالانہ آمدنی 485.65ارب ڈالر
(2)  سنوپیک ( چین) سالانہ آمدنی 433.31 ارب ڈالر
(3)  رائل ڈچ شیل ( ہالینڈ) سالانہ آمدنی 385.63 ارب ڈالر
(4)  پیٹرو چائنا (چین) سالانہ آمدنی 367.85 ارب ڈالر
(5)  ایگزون موبل (امریکہ) سالانہ آمدنی464.85 ارب ڈالر
(6)  بی۔پی (انگلینڈ) سالانہ آمدنی 334.61 ارب ڈالر
(7)  ویوٹا موٹرز (جاپان) سالانہ آمدنی 248.95 ارب ڈالر
(8)  فاکس ویگن (جرمنی) سالانہ آمدنی 244.81 ارب ڈالر
(9)  گلینس کور (سوئٹرزلینڈ) سالانہ آمدنی 209.22 ارب ڈالر
(10)  ٹوٹل (فرانس) سالانہ آمدنی 194.16 ارب ڈالر

اب ہم دنیا کی سب سے بڑی ملٹی نیشنل کمپنی وال مارٹ کا حال بیان کرتے ہیں. اس کمپنی کے امریکہ اور دنیا کے دوسرے 15 ممالک میں 8100 سپر سٹور ہیں 2014 میں اس کی کل آمدنی 486 ارب ڈالر تھی. اس کے ملازمین کی تعداد 21 لاکھ ہے۔ اس کی 70% مصنوعات چین سے درآمد کی جاتی ہیں۔ وال مارٹ اگر ایک آزاد ملک ہوتا تو یہ چائنا سے تجارت کرنے والا دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہوتا۔ وال مارٹ دنیا میں سب سے زیادہ خیراتی کاموں میں حصہ لینے والوں میں سے ایک ہے۔

اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ ان تجارتی تنظیموں کے مقامی معاشروں پر کیا اچھے اور برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم فوائد کا ذکر کرتے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں مقامی ممالک میں بھاری سرمایہ کاری اور وسائل لاتی ہیں جس سے وہاں کی معیشت کو سنبھالا ملتا ہے۔ یہ کمپنیاں نہ صرف سرمایہ لاتی ہیں بلکہ مقامی ممالک میں نئی ایجادات، نئی ٹیکنالوجی اور مہارت بھی متعارف کراتی ہیں۔ مقامی انسانی وسائل کو ترقی دے کربے روزگاری میں کمی لاتی ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں مقامی حکومتوں کو ٹیکس کی مد میں بڑی رقوم دیتی ہیں جس سے حکومتوں کے ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کرنے کا پیشہ ورانہ ماحول فراہم کرتی ہیں جہاں اچھی مینجمنٹ، اداراتی شفافیت اور کارکردگی کی بنیاد پرورکرز کو ترقی ملنا ایک اچھے میرٹ سسٹم کو جنم دیتا ہے جس سے مقامی کمپنیوں میں بھی ان کی پیروی کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اوراس طرح اداروں میں ایک صحتمند مسابقتی دوڑ پیدا ہوتی ہے۔ جس سے نہ صرف کام کرنے والوں کا بھلا ہوتاہے بلکہ سرکاری شعبے پر بھی روزگار مہیا کرنے کا دبا ئو کم ہوتا ہے۔ یہ کمپنیاں چونکہ کاروباری شعبے میں ملازمتیں مہیا کرتی ہیں اس لیے ملک میں کاروباری اورانتظامی شعبے کی تعلیم حاصل کرنے کا رجحان پیدا ہوتا ہے جو فی زمانہ بہت ضروری ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں جن علاقوں میں اپنے پیداواری یونٹ لگاتی ہیں وہا ں پرانفراسٹرکچر کا انتظام بھی کرتی ہیں وہ چاہے یہ کمپنیاں خود کریں یا مقامی انتظامیہ کو فنڈز مہیا کریں وہاں پر بجلی گیس اور سڑک جیسی سہولتیں مہیا ہو جاتی ہیں جس سے علاقے کے لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اندر ایک تحقیقاتی شعبہ ہوتا ہے جو عام آدمی کی ضروریات کے حوالے سے ریسرچ کرتا رہتا ہے اور اس کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر نئی پروڈکٹ تیار کی جاتی ہیں جس سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری آتی ہے۔

اب ہم جائزہ لیتے ہیں ان نقصانات اور مضر اثرات کا جو برانڈز اورملٹی نیشنل کمپنیوں کی وجہ سے معا شرے اورعام آدمی پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہ چونکہ خالصتاً کاروباری ادارے ہوتے ہیں اور ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ منافع کمانا ہوتا ہے اس لیے یہ ایسی کسی بات کا خیال نہیں رکھنے کہ ان کے طریقہ کار سے مقامی روایات اور اقدار پر کیا اثرات پڑتے ہیں جو کہ یقینی طور پر اچھے نہیںہوتے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں مقامی کمپنیوں کے لیے زہر قاتل بن جاتی ہیں۔ یہ یا تو ان کوخرید کہ خود میں ضم کر لیتی ہیں یا پھران کا کاروبار ٹھپ کرنے کیلئے اپنی مضوعات کی قیمتیں اتنی کم کر دیتی ہیں کہ مقامی کمپنیوں کا کام بند ہو جاتا ہے، اپنے بے پناہ مالی وسائل کی بنا پر یہ اس پوزیشن میں ہوتی ہیں کہ مقامی منڈی کو اپنی مرضی کے ایجنڈے پر چلا سکیں۔ اپنے مقاصد کے اصول کیلئے یہ کمپنیاں اپنی لابیاں بناتی ہیں، حکام کو قیمتی تحائف اور رشوت پیش کرتی ہیں الغرض اپنا مقصداور مفاد حاصل کرنے کیلئے ہرحربہ استعمال کرتی ہیں اس حوالے سے میڈیا ان کا سب سے اہم ہتھیار ہے۔ سب جانتے ہیں عوام کے اذہان متاثر کرنے کیلئے میڈیا سب سے موثر ذریعہ ہے جس کا یہ کمپنیاں بے ذریع استعمال کرتی ہیں۔ میڈیا کے ذریعے یہ ایک عام اور غیر ضروری چیز کو بھی اتنا پر کشش بنا کر پیش کرتی ہیں کہ وہ چیز لوگوں کے ذہن پر سوار ہو جاتی ہے اور وہ اس کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرز عمل کی یوں تو بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں مگر ہم یہاں پر کاربو نٹیڈ ڈرنکس یعنی کولا وغیرہ کی مثال دیتے ہیں۔ آپ اپنے اردگرد جائزہ لیں تو ہم دیکھیں گے کہ حالیہ سالوں میںان کا استعمال بہت بڑھ چکا ہے، پہلے پہل ان کا استعمال صرف گرمیوں اور مہمانوں کیلئے ہوتا تھا، اب میڈیا کے ذریعے اس کو اتنا گلیمرائزڈ کر دیا گیا ہے کہ یہ سارا سال استعمال ہوتی ہیں اور بیشتر لوگ تو انکے بغیر کھانا ہی نہیں کھاتے۔ دوسری طرف اگر ہم ان کے نقصانات کا جائزہ لیں تو انتہائی تشویشناک صورتحال سامنے آتی ہے، ایک تحقیق کے مطابق سوڈے کی ایک بوتل میں 6 چمچ چینی کے برابر مٹھاس ہوتی ہے جبکہ نقصان دہ کیمیکل کیفین اس کے علاوہ ہوتا ہے، مٹاپا، بلڈپریشر،شوگر اور ہاضمے کے مسائل اس کے عمومی نقصانات ہیں جس سے آگے مزید کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک نئی قسم کے طرز معاشرت کو جنم دے رہی ہیں جس میں زیادہ تر ریڈی میڈ اور ڈسپوز ایبل چیزیں استعمال ہوتی ہیں۔ جیسا کہ فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا رجحان، سافٹ ڈرنکس، کھانے پینے اور استعمال کی دوسری بہت سی چیزیں، یہ رجحان فضول خرچی بے عملی اورسستی کی ترویح کر رہا ہے۔ کچھ سال پیچھے جائیں تو ہماری گھریلو خواتین ہمہ وقت گھر میں مصروف رہتی تھیں زیادہ وقت کچن میں صرف ہوتا تھا، موسم کے اعتبار سے نت نئی چیزیں اچارمربعے، چٹنیا ں، شربت اور حلوے وغیرہ گھر پر ہی تیار ہوتے تھے۔ اب یہ ساری باتیں ماضی کا قصہ ہو گئی ہیں۔ کھانے پینے کی ہر چیز کمپنیوں نے پیک کرنی شروع کر دی ہے اس سے یہ فرق پڑا ہے کہ جہاں دو سو روپے میں پورا مرتبان اچار تیار ہو جاتا تھا جسے گھر کے ساتھ محلے والے بھی استعمال کرتے تھے اب ان دو سو روپوں میں کسی برانڈ کا ایک کلو اچار بھی نہیں آتا۔ اگر کہا جائے کہ ان ریڈی میڈ اشیا سے وقت کی بچت کا پہلو ہے تو اس کا فائدہ ترقی یافتہ ممالک اور معاشروں کو تو ہو سکتا ہے جہاں ہر مرد وزن کام کرنے میں مصروف ہوتا ہے لیکن ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں زیادہ تر لوگوں بالخصوص شہروں میں گھریلو خواتین کے پاس گھنٹوں فارغ وقت ہوتا ہے جسے وہ موبائل پر اپنی بہنوں اور سہلیوں کے ساتھ گپ شپ میں صرف کرتی ہیں اس طرز عمل سے اخراجات اور گھریلو بجٹ پر کیا اثرات پڑتے ہیں اس سے انہیں سروکار نہیں ہوتا۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں اور برانڈز ایسی بے شمارغیر ضروری چیزیں ہماری زندگی میں شامل کر دیتی ہیں جن کے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے ایک تو ان چیزوں کے ہماری صحت پر برے اثرات پڑتے ہیں اور اوپر سے ان کی قیمت اور اس میں منافع بہت زیادہ ہوتا ہے وضاحت کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ میڈیا چینل کے زریعے ہمیں بتایا جاتا ہیں کہ ہلکی پھلکی بھوک میں ہلکا پھلکا ٹک یا لیز کے چپس یا کوئی اور اسی قبیل کی چیز استعمال کریں۔لیز کے چپس کی اگر ہم بات کریں تو 100گرام کا پیکٹ جس میں آدھا کلو ہوا بھری ہوتی ہے تقریبأٔ 100 روپے کا ملتا ہے یعنی سادہ لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آلو ہمیں پروسس کر کے 1000روپے کلو دیے جاتے ہیں جسے خوشی سے ہم ستعمال کرتے ہیں دوسری طرف اس مہنگائی کے دور میں بھی مکئی کا بھٹہ یا چھلی ریڑھی والے سے 10یا 20 روپے کی مل جاتی ہے،اور اگر گھر میں تیار کریں تو صرف تین روپے کی۔۔ جو نہ صرف بھوک مٹاتی ہے بلکہ وٹامنز اور فائبر کا بھی ایک خزانہ ہوتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ اس میں گلیمر نہیں ہوتا اسے کھاتے ہوے کی فوٹو فیس بک پر اپلوڈ نہیں کی جا سکتی۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں اور بر انڈز کمرشل ازم کی دوڑ میں اس حد تک آگے جا چکی ہیں کہ دھوکہ دہی کی حد تک اپنی چیزوں کی تعریف میں جھوٹ کے قلابے ملائے جاتے ہیں اپنی چیزوں کی جن خصوصیات اور خوبیوں کے دعوئے کرتے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا اور ان چیزوں کے استعمال سے آپ کے اندرجوہر کو لیسی طاقت آجاتی ہے وہ داستان الف لیلہ سے بھی آگے کی چیز ہیں اس کے نتیجہ میں نئی نسل کے اندر جھوٹ اور چھچھوراپن پیدا ہوتا ہے اور وہ حقیقت کے بجائے خیالی خوش گمانیوں کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں اگرچہ آغاز میں تو سرمایہ لاتی ہیں لیکن ایک بار جب ان کا کاروبار جم جاتا ہے تو پھر ہر سال اربوں روپے کما کر اپنے اصل ممالک کو بھیجتی ہیں زیا دہ تر ان کے منافع کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے ایک مشہور زمانہ منرل واٹر برانڈ کی مثال دیتا ہوں کہ وہ ہماری زمین سے پانی نکال کر ہمیں فروخت کرتے ہیں اور ہر سال اربوں روپے منافع کماتے ہیں اس طرح کی اور بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں جہاں چیز کی اصل مالیت بہت کم ہوتی ہے ایک خوبصورت ٹیٹراپیک جوس کا ڈبہ جو ہمیں 150روپے میں ملتا ہے اس میں جوس کی مالیت اندازن 10روپے ہوگی،30روپے اس کی پیکنگ کا خرچ اور 20روپے اس کی پبلسٹی کی مد میں خرچ کیے جاتے ہیں ٹیکس اور پرافٹ ملا کر 10روپے کا جوس صارف تک 150روپے میں پہنچتا ہے۔بے شمار انڈسٹری لگنے سے جو ماحولیاتی نقصان ہوتا ہے اور آلودگی میں جس قدر اضافہ ہوتا ہے وہ ایک الگ نقصان ہے جس کی طرف عموماً دھیان نہیں دیا جاتا۔ دن بدن سر سبز کھیتوں کی جگہ آلودگی اور زہریلا فضلہ اگلتی فیکٹریاں لگتی جا رہی ہیں جس سے زیر زمین پانی آلودہ ہو رہا ہے اور عالمی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

قارئین آپ نے دیکھا کہ اس طرز زندگی کے اگرچہ کچھ فوائد ہیں لیکن اس کے نقصانات اسکے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں اس رجحان نے انسان کو خواہشات کا غلام بنا دیا ہے نت نئی ایجادات اور سامان تعیش کے حصول کی خاطر اس دور کا انسان کولہو کا بیل بن چکا ہے اس کے پاس اپنے لیے اپنے پیاروں کے لیے وقت نہیں رہا ان چیزوں کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانہ اس کا واحد مطمع نظر ہے جس سے بہت سی اخلاقی برایاں جنم لیتی ہیں اسلام خواہشات نفس کی مذمت کرتا ہے اور ہمارے پیارے نبی معلمﷺ کی زندگی سے بھی ہمیں سادگی کا درس ملتا ہے، صبرو قناعت اور خواہشات سے چھٹکارہ ہی ایک خوش باش اور مطمئین زندگی کی ضمانت ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: