جوش کے نام فراق کا ایک تاریخی خط

0
پیارے جوش! ملیح آبادی سلامِ شوق

تمہارا جو ایک خفیہ انٹرویو تھا یعنی اس کو تمہارے مرنے کے بعد شائع ہونا چاہیے تھا مگر تمہارے حاشیہ برداروں نے اس کو قبل از وقت شائع کرکے راز کو فاش کر دیا اور تمہارے اوپر عتاب نازل ہونے لگے۔ میرے نزدیک یہ تمہاری غلطی تھی۔ پاکستان میں رہ کر اقبالؔ کی مخالفت دانشمندی نہیں اور صحیح بات تو یہ ہے کہ تم اقبالؔ کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ کیونکہ اقبالؔ نے دینِ اسلام کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اس کی افادیت میں اعلیٰ پیمانے کی گہر افشانی کی ہے۔ ان کا علم اس معاملے میں مکمل ہے۔ تمہارا علم اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ تم دین سے واقف ہی نہیں اور دین کی گہرائیوں کا مطالعہ کرنے کے لیے علم کم ہے اور پر طرہ یہ کہ تم دہریے بھی ہو۔

تم آفاق کے کفر میں گم
اقبالؔ دین کی ہمیشگی سے لبریز

تمہاری شاعری اس لیے نہیں مانی جا سکتی کہ دونوں میں تضاد ہے۔ میں نے جو اقبال پر اعتراض کیے ہیں اس کی نوعیت الگ ہے ۔ یعنی وہ ملت کی شاعری اگر نہ کرتے تو عظیم شاعر ہوتے لیکن ملت کی شاعری پر میں نے تنقید نہیں کی۔ کیونکہ میں اسلامی مسائل سے نابلد ہوں۔ اور اگر واقف بھی ہوتا تو مجھے اس کا حق نہیں کہ کسی کے دینی معاملات میں دخل دوں۔ ملت کی شاعری کے علاوہ جو کچھ اقبالؔ نے کہا ہے کہ وہ بھی بہت کچھ ہے۔ تمہاری تنقید اقبالؔ پر ہر اعتبار سے غیر معتبر ہے۔ کیونکہ کہیں تم دہریے بن جاتے ہو اور کہیں پر مرثیے میں اپنے جوہر دینی طور پر دکھانے لگتے ہو۔ اور حسینؑ کی مدح میں یہاں تک کہہ گئے ہو۔
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ
۔۔
تم نے مذہب کی تبدیلی بھی ادبی فائدے کے لیے کی تھی۔ جب اس سے کچھ حاصل نہ ہوا تو علماء کے خلاف لکھنا شروع کر دیا۔
سمجھ میں بات یہ نہیں آتی کہ اگر کوئی عالم تعریفِ حسینؑ کرے تو اس پر اعتراض اور تم حسینؑ کی مدح سرائی کرو تو سب سر دھنیں۔ تم نے حسینؑ کی تعریف یہ کہہ کر کی میں حسینؑ الگ سے ایک عظیم انسان مانتا ہوں۔
میرے پیارے! تم تک حسینؑ کی عظمت اور کردار کیسے پہنچا؟ تم تو کربلا میں موجود نہ تھے، ہاں تاریخ کے صفحات ہی اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ لیکن جن صفحات میں حسینؑ کی تعریف ہے اس میں یہ بھی موجود ہے کہ حسینؑ رسولﷺ کے نواسے تھے اور اپنے نانا کی پیروی سے آخر دم تک غافل نہیں ہوئے ۔ یعنی کربلا میں بیعت کے سوال کو ٹھکرا دیا۔ اور عالمِ سجدہ میں شہید ہو گئے۔ تم ان نے سب باتوں کو نظر انداز کر کے حسینؑ کو عظیم مان لیا؟ یہ تمہاری فرضی اُپچ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جس کو کوئی بھی ذی فہم تسلیم نہیں کرے گا۔ ایک طرف تو خدا سے انکار اور بے یقینی اور مزید یہ کہ علما سے خطاب:
خدا کو اور نہ پہچانیں یہ حضرت!
خدا کے ساتھ کے کھیلے ہوئے ہیں

تمہارے عقیدے کے لحاظ سے بھی تمہارا مرثیہ بارگاہِ حسین میں اس لیے پیش نہیں ہو سکتا کہ تم نے خدا اور علما کی بھی توہین کی ہے۔
حسینؑ خدا کے ماننے والے اور نبیﷺ کے نواسے تھے اور خدا ہی کی راہ میں شہید ہوئے۔ اس لیے شاعر نے ان کو یہاں تک مان لیا:
“دیں ہست حسین دیں پناہ ہست حسین”

اس لحاظ سے تم نہ پکے دہریے ہوئے اور نہ حسیںؑ کے شیداء، اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ تمہارے والد کو جب تمہاری مذہبی تبدیلی کا تیقن ہوگیا تو انہوں نے اپنی تمام جائیداد سے محروم کر دیا۔ اور صرف سو روپے ماہانہ کے لیے لکھ دیے۔ یہ تمہارا ذاتی بیان “یادوں کی بارات” میں ہے لیکن اس پر تم اپنی ضد پر اڑے رہے اور اسی دوران بقول تمہارے تم نے ایک خواب دیکھا کہ ایک جلوس جا رہا ہے جو اتنا پاکیزہ اور با رونق تھا کہ تمہارے ہوش اڑ گئے اور اسی عالمِ حیرانی میں کسی نے تمہاری پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور وہ تھے جنابِ ابوذر غفاری۔ انہوں نے بتایا کہ اس جلوس میں پیغمبرِ اسلامؐ اور مشکل کشا حضرت علی تھے جو آگے جا کر تمہیں ملیں گے۔ یہ سن کر تم پیچھے پیچھے وہیں پہنچ گئے اور تمہیں دیکھ کر پیغمبرِ اسلامؐ نے علی المرتضیٰ سے کچھ فرمایا، جسے تم سن نہ سکے لیکن علی المرتضیٰ بنفس نفیس تمہارے پاس آئے اور ارشاد فرمایا: “جو ہم سے محبت کرتا ہے نہ تو اس کی دنیا خراب ہوتی ہے اور عقبیٰ۔ جاؤ جوشؔ بلندیاں تمہارا انتظار کر رہی ہیں۔”
۔
پیارے جوش!۔ حضرت علی نے صرف تمہاری بلندیوں کے بارے میں فرمایا لیکن دین کی راہ پر چلنے کی کوئی تلقین نہیں فرمائی، اور نہ شراب نوشی سے منع فرمایا۔ گویا ان تمام دینی لوازمات سے تمہیں بری کر دیا۔ طاعت و زہد کی طرف بھی کوئی اشارہ نہیں کیا۔ گویا ان تمام دینی لوازمات سے تمہیں بری کردیا اور حیرت ہے کہ یہ بھی نہیں فرمایا کہ اے جوش!۔ تم نے یہ جو بکا ہےکہ ( شبیر حسن خاں سے بھی چھوٹا ہے خدا)۔ جبکہ خدا کو پہنچوانے کے لیے پیغمبرِ اسلامﷺ تشریف لائےتھے اور کافروں سے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر تم میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند بھی رکھ دو تب بھی میں وحدانیت کا پرچار کرنے سے گریز نہ کروں گا۔ اور حضرت علی بھی اسی راہ پر گامزن تھے۔
ایک قوم نصیری تھی جو حضرت علی کو خدا مانتی تھی لیکن حضرت علی نے وحدانیت میں فرق ڈالنے والے کو منکرِ خدا ہی کہا ہے کہ اس لیے حضرت علی سے یہ کہاں امید کی جا سکتی ہے کہ تم جو منکرِ خدا بھی ہو حضرت علی تمہیں بلندیوں پر سرفراز ہونے کی خوشخبری دیں۔ خلافِ عقل اور مذہب اسلام کے منافی ہے۔
اگر حضرت علی ایسے سنگین گنہ گار اور منکرِ خدا کو اپنی محبت اور عنایات سے نواز سکتے ہیں تو میں دنیا و آخرت میں ان کی کرم نوائیوں کا امیدوار ہو سکتا ہوں۔ اب تم یہ کہو گے کہ میں ہندو ہوں اور ہندو ایسے خواب سے سرفراز نہیں سکتے، تو میں یہ کہوں گا کہ منکروں کے لیے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ایسے خوابوں کو خوابِ پریشان ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی دلیل بھی نہیں دی جا سکتی۔
مجھے اس سلسلے میں ایک کہانی یاد آ گئی۔ ایک بادشاہ نے اپنے درباری علما سے کہا کہ نماز کے سلسلے میں بادشاہوں کےلیے نماز نہ پڑھنے میں کوئی رعایت ہے؟ ایک موقع پرست عالم نے مختلف دلائل سے دو وقت کی نماز نہ پڑھنے کا جواز پیش کر دیا۔ بادشاہ نے اسے انعام سے نوازا۔ کچھ ہی دنوں بعد بادشاہ نے اور نمازوں کے بارے میں وہی سوال کیا۔ اس مرتبہ دوسرے عالم نے یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور مختلف دلائل سے دو وقت کی نماز کی بھی مثالیں پیش کر دیںَ بادشاہ بہت خوش ہوا کہ چار وقت کی نماز سے تو نجاب ملی۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد بادشاہ نے پھر اسی سوال کو دہرایا تا کہ آخری نماز کا بھی کوئی جواز نکل آئے لیکن اس مرتبہ سب عالم خاموش بیٹھے رہے اور کسی کو بھی ہمت نہ ہوئی کہ کوئی جواز پیش کرے۔ بادشاہ کو تردد میں دیکھ کر ایک عالم کھڑے ہوئے۔ بادشاہ نے ان کی طرف بڑے اشتیاق اور اعتماد سے دیکھا۔ دیگر علما یہ سوچنے لگے کہ آخری بازی یہ لے گیا لیکن کوئی یہ نہ سمجھا کہ جھوٹوں اور مصلحت پسندوں کے درمیاں سچے بھی ہوتے ہیں۔ جن کو اپنی سچائی پر یقین کامل ہوتا ہے۔ ان کے سر کسی کے سامنے خم نہیں ہوتے۔ بادشاہ یہ سکوت کا عالم دیکھ کر اس عالم سے مخاطب ہوا کہ مجھے یقین تھا کہ آپ کی نگاہ ہلند اور آپ کا علم عمیق ہے۔ آپ کے مقابل میرے دربار میں کوئی عالم نہیں ہے۔ عالم نے بادشاہ کے حضور میں دست بستہ عرض کیا کہ عالی جاہ! میں نے آپ کے لیے وہ راستہ نکالا ہے کہ اس پر کسی کی نگاہ جا ہی نہیں سکتی۔
کیونکہ سب کی آنکھوں پر مصلحت پسندی اور خود غرضی کے حسین پردے پڑے ہوئے ہیں۔ اگر عالی جاہ کسی وقت کی بھی نماز نہ پڑھیں تو اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ میری ناچیز رائے تو یہ ہے کہ حضور! آپ مذہب اسلام سے انکار فرما دیں۔ ان جملوں کو سنتے ہی دربار میں سناٹا چھا گیا۔
پیارے جوشؔ! تمہاری حالت بھی کچھ ایسی ہے۔ تم نے جو خواب دیکھا تھا اس کا قدرتی اثر بقول تمہارے یہ ہوا یعنی اس خواب کی تعبیر یہ ہوئی کہ جس جائیداد سے تمہارے والد نے تمہیں محروم کر دیا تھا دوبارہ تمہارے والد نے تمہارے حق میں بحال کر دیا۔
اب تمہیں بتاؤ کہ یہ خواب تم نے گھڑا ہے یا سچا ہے؟ تم نے یہ خواب شیعہ قوم کو بے وقوف بنانے کے لیے تراشا ہے۔ اگر اس خواب کو تم سچا سمجھتے تو یقینا دہریت سے توبہ کر لیتے۔ بھئی ایسا خواب میں نے اگر دیکھا ہوتا تو میں نے اپنی دنیا ہی بدل دی ہوتی۔ اب تم یہ کہو گے کہ میں ہندو ہوں۔ مجھے یہ پاک ہستیاں خواب میں نظر آ ہی نہیں سکتیں۔ بھئی اس موقع پر میرے خیال میں ہندو مسلمان کا سوال ہی نہیں ہوتا کیونکہ جو منکرِ خدا ہے وہ مسلمان ہو ہی نہیں سکتا اور جب مسلمان ہونا تسلیم نہیں ہوا تو یہ خواب بھی خوابِ پریشان کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اول تو تم نے اس خواب میں حضرت علی کے لیے جو الفاظ اور جس بد تہذیبی کا مظاہرہ کیا ہے وہ سراسر غلط ہے۔ یعنی حضرت علی بہ نفسِ نفیس تمہارے پاس آئے۔ خادم مخدوم کے پاس جاتا ہے۔ مخدوم کے آنے سے توہین کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ چونکہ یہ خواب جھوٹا ہے اس لیے تم نے تحریر پر غور نہیں کیا۔ جھوٹ میں یہ غلطیاں عام طور پر ہو جاتی ہیں۔ بہرحال تم اس خواب کے بعد کم سے کم پیغمبرِ اسلامﷺ اور حضرت علی کے تو صحیح پرستار ہو جاتے، نعت یا منقبت سے کچھ نہیں ہوتا
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

مگر تم نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ ان کی پیروی میں خدا کو بھی ماننا پڑتا۔ اسی لیے میں نے یادوں کی بارات کو جھوٹ کا پلندہ کہا ہے۔ میں میر انیسؔ، محسن کاکوروی، تلسی داس وغیرہ کو اس لیے نہیں مانتا ہوں کہ وہ مذہبی شاعر تھے بلکہ ان کی فنکارانہ صلاحیتیں ادبی دنیا کا عظیم ذخیر ہیں۔
اقبال کی شاعری میں جو تضاد ہے وہ ابھی عقل و دانش کا پہلو لیے ہے۔ تمہاری شاعری کا بنیادی تضاد مشقِ سخن پر دلالت کرتا ہے۔ مذہبی داؤ پیچ سیاسی جوڑ توڑ یہ سب شاعری میں ابھرنے کے لیے ہیں۔ یہ بات ضرور ہے کہ تم نے بندشِ الفاظ کی نئی راہیں نکالیں تراکیب کا بہترین سرمایہ گھن گرج کے ساتھ ادب کو دیا ہے۔ شاعری میں جو مقام تم نے حاصل کر لیا ہے اس کو کم نہ سمجھو۔ میری ذاتی رائے ہے کہ آنے والال زمانہ اور تاریخِ ادب تمہیں فراموش نہیں کر سکتی۔ تم زندہ ہو اور زندہ رہو گے کیونکہ ادب میں نئی اور حسین تراکیب کے تم شہنشاہ ہو۔
تم اقبالؔ کو برا کہہ کر اقبال سے بلند ہونے کی کوشش نہ کرو۔ کیونکہ یہ گناہ گناہِ عظیم ہے۔ وقت کی کسوٹی نے جتنا کھرا تم کو مان لیا ہے اس کو کھوٹا نہ کرو۔ پچھلے حالات و خیالات کی تلافی اس صورت سے ہو سکتی ہے کہ یا تو تم توبہ کرلو یا خدائی کا دعوی کردو۔
تمہارا فراق
جنوری 2، 1975ء
الہ آباد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: