ہمارے سیاسی لیڈر: ایک تاثر، ایک جائزہ —— محمود فیاض

0
  • 142
    Shares

آئیے دیکھیں لیڈرشپ کے نام پر پاکستانی قوم نے کیا کمایا ہے؟ بیس بائیس کروڑ آبادی کے ملک میں، جہاں کم از کم دس شہری آبادیاں ایسی ہیں کہ جو تعلیم یافتہ لوگوں سے بھری پڑی ہیں، جسکے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پوری دنیا میں اپنی قابلیت کا سکہ جما چکے ہیں۔ جس کے میڈیکل ڈاکٹرز، کمپیوٹر ماہرین، سائنسدان، اساتذہ، غرضیکہ ہر شعبے کے افراد دنیا میں ناموری حاصل کر چکے ہیں۔

مگر کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ جس ملک میں سینکڑوں کالجوں یونیورسٹیوں میں ہر سال ہزاروں طلبا و طالبات تقریری مقابلوں میں اول آتے ہیں، وہاں پارلیمان میں وہ لوگ تقریر کر رہے ہوتے ہیں جن کو لکھا ہوا پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کیا یہ شرم کا مقام نہیں کہ جس ملک کے امتحانی نتائج میں قائم کیے گئے ریکارڈز پوری دنیا سے نہیں توڑے جا سکے، اس ملک میں اسمبلیوں میں جانے والے وہ لوگ ہوتے ہیں کہ جن کی وجہ سے ڈگری والا قانون بنانا پڑا۔

کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ہمارے عوام اور اقتدار کے ایوانوں کے درمیان وہ کونسا پل ہے جو بیچارے عوام پار نہیں کر سکتے اور ہمیں ایسے لوگ اپنی اسمبلیوں میں اور اقتدار میں نظر آتے ہیں جو ملک کو آگے لے جانے کی بجائے جگ ہنسائی کا سامان ہی کرتے نظر آتے ہیں۔

شائد عام آدمی کے ایوان اقتدار تک جانے کے سارے راستے مسدود ہونے ہی کی وجہ ہے کہ آج جمہوریت کے نام پر جمہوری ڈرامے کرتے کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ہمارے سیاسی افق پر کوئی معتبر نام نظر نہیں آتا۔ عمومی جائزے میں ایک لیڈر کے اندر قائدانہ صلاحیت، افہام و تفہم کی فضا پیدا کرنا، مشکل فیصلے کرنا، رسک لینا، اور ویژنری ہونا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ آئیے ہمارے سیاسی لیڈروں کا جائزہ لیتے ہیں کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔

نواز شریف


ایک صنعت کار کا بیٹا، جو کسی دوسرے شعبے میں نہیں چل سکا تو سیاست میں چلا دیا گیا۔ مگر یہ کوئی بری بات نہیں۔ چین کا کھرب پتی اور علی بابا ڈاٹ کام کمپنی کا مالک جیک ما بھی بہت سے شعبوں میں ناکام ہوا اور بالاخر کامیابی اس کے گھر کی لونڈی بن گئی۔ بری بات یہ ہے کہ انسان جس شعبے میں کامیاب کہلائے اس میں بھی حماقتوں کے ڈھیر لگا دے۔ نواز شریف صاحب نے اپنے وزارت اعلیٰ کے دور سے لیکر حالیہ وزارت عظمیٰ کی تیسری باری تک بھی سیاست سے کچھ نہیں سیکھا۔ میرے تجزیے کے مطابق نواز شریف جیسے لوگ قسمت اور حالات کی پیداوار ہوتے ہیں۔ قسمت، وقت اور حالات ان کے لیے ایک کردار کا انتخاب کر لیتے ہیں اور وہ محض اس کردار کو انجام دے کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ بظاہر نواز شریف کے حالات زندگی کو دیکھا جائے تو ایک بھی فیصلہ ان کا اپنا نہیں لگتا۔ سیاست میں بھیجنے کا فیصلہ انکے والد کا تھا، اور اسکے بعد ہر سیاسی فیصلہ بھی انکے والد ہی کے مشورے پر ہوتا رہا یا جناب ضیا الحق کے اشارے پر۔ انکی پارٹی کے لوگ انکو دیوتا بناتے رہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ چاغی دھماکے سے لیکر آپریشن ضرب عضب تک کے فیصلے نواز شریف کی موجودگی میں ہوئے، نواز شریف کی آمادگی حاصل کی گئی۔ مجھے نواز شریف کے بطور لیڈر تجزیہ کرتے کوئی ایک موقع ایسا نظر نہیں آتا جہاں انہوں نے کوئی ایسا کردار نبھایا ہو جو ایک لیڈر کے شایان شان ہو۔ جہاں وہ ہجوم سے ہٹ کر ملک و قوم کو کسی ایسے ویژن کی طرف لے جانے کے متمنی دکھائی دیے ہوں جو انکو ایک لیڈر کے طور پر سامنے لے آئے۔ انکی کل پونجی لین دن کی سیاست ہے جو انہوں نے اپنے والد سے سیکھی اور آج تک اسکا استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ سیاست میں کچھ لو اور کچھ دو کا اصول بہت پرانا ہے۔ مگر اسکا مطلب شریف ڈاکٹرائن سے پہلے تک ایک دوسرے کے مطالبات ماننے اور منوانے کے زیل میں آتا تھا۔ شریف صاحبان نے اسکو باقاعدہ صنعت کا درجے دیدیا اور ایک نئی کرنسی متعارف کروا دی۔ نواز شریف کو بطور لیڈر نہ تو کوئی ویژن دے سکے، نہ ہی انہوں نے ملک و قوم کے مفاد میں مشکل فیصلے کرنے میں کوئی قائدانہ کردار ادا کیا۔ جیسا کے میں نے مثال دی، اکثر فیصلے حالات کے دباؤ میں ہوئے۔ اور نہ ان میں افہام و تفہیم کی فضا پیدا کرنے کی صلاحیت نظر آتی ہے کہ انہوں نے اپنی ساری سیاست میں جوڑ توڑ اور مقابلے بازی کی فضا ہی قائم رکھی۔ نواز شریف اس وقت ہمارے ملک کے سب سے بڑے سیاسی لیڈر خیال کیے جاتے ہیں جبکہ ان میں لیڈ کرنے کی صلاحیت آج بھی جنم نہیں لے پائی۔

آصف زرداری

نام لینا ضروری ہے کہ ملک کی دوسری یا تیسری بڑی پارٹی کی کرسی سنبھالے ہوئے آصف زرداری ہمارے ملک کے سیاسی افق کی قد آوور شخصیت ہیں۔ پارٹی کی ساکھ کو اگرچہ انہوں نے پچھلے عرصہ حکومت ہی میں ڈبو دیا تھا اور وعدے قران و حدیث نہیں ہوتے کہہ کر اپنی کوتاہ نظری کو اپنی چالاکی کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی تھی۔ آصف زرداری حادثاتی سیاسی لیڈر ہیں کہ بیوی کے مرنے پر سیاست میں آئے اور جن وجوہات کی وجہ سے انکی بیوی کی حکومت ماضی میں ختم ہوئی انہی وجوہات کی اخیر کر کے وہ دوبئی روانہ ہوئے۔ اس وقت انکی آخری خواہش اپنے بیٹے کے راستے پھر سیاست میں اپنا حصہ وصول کرنے کی ہے۔ بڑی سیاسی پارٹیاں بھی بحری جہاز کی طرح ہوتی ہیں، اگر انکو توڑ کر کباڑ بھی بیچا جائے تو کافی منافع دے جاتی ہیں۔ پی پی پی کے ساتھ آجکل یہی ہورہا ہے۔ آصف زرداری کی لیڈرشپ اگرچہ کسی تجزیے کی محتاج تو نہیں مگر جس طرح انہوں نے اپنے دور صدارت اور دور حکومت کے پانچ سال پورے کیے اس پر بہت سے تجزیہ کار تالیاں بجایا کرتے تھے اور آصف زرداری کی “سیاست” کی داد دیا کرتے تھے۔ میرے خیال میں وہ سب تجزیے اور آصف زرداری کا دور ایک انتہائی ناتجربہ کار شخص کا دور تھا جس کو حادثاتی طور پر ملک کی بڑی پارٹی کی سربراہی اور حکومت مل گئی اور اس نے اس کا بیڑہ غرق کر دیا۔ آصف زرداری میں اچھے لیڈر کی ایک بھی خوبی نہیں نظر آتی سوائے افہام و تفہیم کی صلاحیت کے، جس کو انہوں نے صرف اپنے لین دین والے دوستوں کی حد تک رکھا۔

بلاول بھٹو زرداری

آصف زرداری اور شائد پی پی پی کے خیال میں بلاول اپنی والدہ کی طرح کرشماتی شخصیت کے ساتھ سیاست میں انٹری دے گا اور معاملات ان کے لیے بہتر ہو جائیں گے۔ مگر وقت اور حالات بدل چکے ہیں اور بلاول بھی اپنی والدہ جیسی ایک بھی صلاحیت کا اظہار نہیں کر سکا۔ محترمہ بے نظیر صاحبہ کے اندر بھٹو خاندان کی مقرررانہ صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ تقریر کرتیں تو بھٹو کی طرح عام آدمی پر اثر انداز ہوتی محسوس ہوتیں۔ مگر بلاول اس میں بری طرح ناکام ہوا اور ایک نوجوان، پڑھے لکھے اور جدید دور کے انسان ہونے کا فائدہ نہیں اٹھاسکا۔ بلاول اپنے اوپر سے اپنے والد کی مبینہ کرپشن کی گرد بھی نہیں ہٹا سکا اور عوام اسکو محض آصف زرداری کے تسلسل میں ہی دیکھ رہی ہے۔ بلاول کی اپنی شخصیت ایک لیڈر کے طور پر سامنے ہی نہیں آسکی۔ اس لیے ایک لیڈر کے طور پر پاکستانی سیاسی افق پر انکا ہونا نہ ہونا فی الحال برابر نظر آرہا ہے۔

عمران خان

ایک کرکٹر جو اپنی والدہ کی محبت میں ایک چکا چوند والی زندگی گزارے گزارتے خیراتی ہسپتال بنانے والی زندگی اختیار کر بیٹھا۔ صرف ماں کی محبت ہوتی تو شائد ہسپتال تک رہتا ، اس کی پہلی کتاب پڑھ کر لگتا ہے کہ وہ دھرتی ماں کی محبت کا بھی اسیر ہوا۔ اسی محبت میں وہ سیاست میں آ گیا۔ عمران خان سیاست میں نہیں آنا چاہتا تھا اور میرا خیال ہے وہ ٹھیک تھا کیونکہ سیاست کے لیے وہ بالکل بھی موزوں انتخاب نہیں ہے۔ عمران خان میں صرف ایک خوبی ہے جس کی وجہ سے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اور وہ ہے انکی ہار نہ ماننے والی خوبی۔ باقی ملکوں میں شائد ہی کوئی کرکٹر سیاست میں اس قدر کامیاب ہوا ہو جتنا عمران خان ہوئے ہیں۔ ہمارے ہمسایہ ملک میں امیتابھ بچن جیسے لیجنڈ اداکار سیاست سے بری طرح پٹ کر واپس اپنے شعبے میں چلے گئے۔ اور پھر پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاست میں آنا اور سیاست میں رہنا شریفوں کے بس کی بات ہی نہیں، عمران خان نے نہ صرف سیاست میں کامیابی حاصل کی بلکہ ایسی کامیابیاں حاصل کیں جن کی مثال ہمارے اردگرد کے ممالک میں بھی نایاب ہے۔ انہوں نے ایک نئی پارٹی بنائی اور اس پارٹی کو ملک کی دوسری بڑی سیاسی قوت بنا دیا۔

مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان دو دہائیوں کی سیاست کے باوجود بھی ایک مدبر سیاستدان نہیں بن پائے۔ وہ آج بھی کرکٹ کا ایک کپتان ہی ہیں۔ ان کے اندر قائدانہ صلاحیت ہے مگر اسکا میدان مختلف ہے۔ کرکٹ میدان کے فیصلے اور ہوتے ہیں اور سیاسی میدان کے اور۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ سالوں میں عمران خان جب جب پاکستانی سیاست بازوں (سیاستدان کہنا توہین ہے) کے سامنے آئے ہیں انہوں نے دھوکا کھایا ہے۔ اس سے انکی سیاسی سمجھ بوجھ پر سنجیدہ سوال اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف انہوں نے جس پارٹی کی تشکیل کی ہے وہ ملک میں موجود دوسری پارٹیوں سے مختلف انداز میں وجود میں آنے کے باوجود تیزی سے روائتی پاکستانی سیاسی پارٹی میں تبدیل ہوتی جارہی ہے، اور عمران خان اس کا ادراک کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔ اسلیے میرے خیال میں عمران خان ترقی کا بہتر ویژن رکھنے کے باوجود ملک کی موجودہ صورتحال میں ایک بڑی پارٹی کے لیڈر کے طور پر اپنا سیاسی قد کاٹھ ثابت نہیں کر پائے۔ بعض ناقدین کے خیال میں پی ٹی آئی ایک سیاسی پارٹی سے زیادہ عمران خان فین کلب ہے۔ اس بات سے اختلاف کرنے کے باوجود کئی لحاظ سے ناقدین کی یہ بات درست بھی ہے۔۔

سراج الحق

جماعت اسلامی کے موجودہ سربراہ نے اپنا سیاسی قد کاٹھ اور سوجھ بوجھ بہت کم عرصے میں قومی سیاسی منظر نامے پر جس طرح ابھارا ہے اس سے کئی امیدیں لگائی جا سکتی ہیں۔ جماعت اسلامی ایک پر اثر سیاسی قوت ہے اور ماضی میں اس کے جلسوں نے انتخابی فضا کی حد تک جماعت اسلامی کو ایک جاندار پارٹی بنائے رکھا۔ قاضی حسین احمد نے بھی پارٹی کو سیاسی ٹریک پر کافی دور تک گھسیٹا۔ مگر بعد میں چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔ سراج الحق نہ صرف جماعت اسلامی کے سربراہ کی حیثیت سے لوگوں کی نظروں میں آئے، بلکہ سیاسی منظر پر اور دھرنوں کے حالیہ ادوار میں انکا رول ایک افہام و تفہیم پیدا کرنے والے سیاستدان کے طور پر نظر آیا۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات اور اجتماعات میں عوام کے ساتھ گھلنے ملنے والی لیڈر اور عام انسان کی زندگی سے قریب زندگی گزارنے والے لیڈر کے طور پر بھی انکی شخصیت نمایاں ہوئی۔ پاکستانی سیاسیت میں انکا نام ایک اور انداز سے بھی ابھرا جب سپریم کورٹ کے ایک جج نے انکا نام لیکر کہا کہ پاکستان میں صرف سراج الحق ہی صادق و امین سیاستدان کی کسوٹی پر پورا اترتے ہیں۔ یہ سب باتیں سراج الحق کو ایک سیاسی لیڈر کے طور پر مضبوط کرتی نظر آتی ہیں۔ 

فضل الرحمن

 
فضل الرحمٰن ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور کے پی کے اور بلوچستان میں اپنا خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ مدارس، اور علما کے زریعے وہ عوام کے ایک حصے کی نمائندگی کے دعویدار ہیں جس کو ہم جتنا بھی ناپسند کریں مگر وہ حقیقت ہی رہے گا۔ قائدانہ صلاحیتوں کے تجزیے میں فضل الرحمٰن بہت آگے جاتے نظر آتے ہیں۔ وہ ایک پارٹی کے سربراہ ہیں۔ افہام و تفہیم کی صلاحیت کا جتنا مظاہرہ انہوں نے کیا ہے حالیہ سیاسی ادوار میں اسکی مثال نہیں ملتی۔ غضب کے مقرر اور الفاظ و بیان پر ایسی قدرت ہے کہ آسمان کو زمین سے نیچا اور پاتال کو ستاروں سے بلند ثابت کر دیں۔ حقیقت میں اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو فضل الرحمٰن میں جتنی قائدانہ صلاحیتیں نظر آتی ہیں وہ ان کے دیگر ہم عصر سیاستدانوں میں کم ہی یکجا ہوئی ہیں۔ یہ پاکستانی قوم کی قسمت ہی کہلائے گی کہ ایک ایسے سیاستدان کی سیاست کا تجزیہ البتہ انتہائی سطحی فائدوں کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے اور یہ ساری قائدانہ صلاحیتیں محض وقتی فائدوں کے حصول تک ہی محدود نظر آتی ہیں۔ مذہب کو سیاسی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے انکے ویژن کو محدود قرار دینا بھی تجزیاتی مجبوری سمجھا جائے۔
 
 
  • ادارہ دانش کا مضمون نگار سے  اتفاق لازم نہیں

(جاری ہے)

 

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: