فیس بک لائیکس میں ڈوبتی خوداعتمادی: مدیحی عدن

0
  • 36
    Shares

گذشتہ دنوں فیس بک پہ ایک انتہائی اہم موضوع پہ ایک تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ تحریر میں لکھاری نےمرد اور عورت کی فطرت پہ کمال کا فلسفہ بیان کیا تھا۔ تحریر پڑھتے پڑھتے میں کئی بار گہری سوچوں میں ڈوبی، کئی بار رک کے بات کو پوری طرح سے سمجھنے کی کوشش کی۔ لیکن میرے افسوس میں تب بے حد اضافہ ہوا جب اس پوسٹ پہ ایک بھی لائیک نہ تھا۔ کیونکہ آج کل کسی کی بات میں کتنا وزن ہے اس کا انداہ لگانا ہو تو اس کی بات کو سننے یا سمجھنے کی بجائےبس اس کے لائیکس کی تعداد کو دیکھناہی کافی ہوتا ہے۔ کسی بھی سوشل میڈیا پوسٹ پہ جتنی زیادہ تعداد میں لائیکس ہو گئے پوسٹ کا اثر رسوخ اتنا ہی زیادہ بڑھے گا۔ تبھی میں نے لائیکس کے پیچھے چھپی فلاسفی کو جاننے کی کوشش کی اور سوچا کچھ ان لوگوں کے بارے میں بھی لکھوں جن کی پوسٹ تو کمال کی ہوتی ہیں لیکن لائیکس نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بہترین پوسٹ کی credibility سوشل میڈیا پہ شاید صفر ہو جاتی ہےلیکن اصل دنیا میں انکی تخلیقی سوچ کا معاملہ اس سے قدرے مختلف ہے۔

لائیکس کا رحجان اکثر اپنے سے منسلک پوسٹ سیلفی ، کھانے کی تصویرں، فیملی فن یا کوئی ذاتی تخلیق کیا ہوا سٹیٹس پہ ہی زیادہ دیکھنے کو آیا ہے اور دوسروں کی شئیر کی گئی پوسٹ پہ اس کی تعداد سے لوگوں کو کوئی خاص لگاؤ نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں کے لیے لائیک کا بٹن مثبت رد عمل سے زیادہ بن کے رہ گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جنتے لائیکس آپ حاصل کروں گے اتناہی آپ کو محسوس ہو گا کہ آپ کولوگوں کی طرف سے پیار اور توجہ دی جارہی ہے، آپ کی سوچ اوربہترین زندگی کو سراہا جا رہا ہے۔

حقیقت میں ماہر نفسیات کریسل ڈی ڈی کوسٹا کے مطابق لائیک بٹن ایک آلے کے طور پر اتنا مؤثر بن گیا ہے کہ یہ کسی کی حرکت یا عمل کو فروغ دینے یا بگاڑ میں بہت معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ لائیکس سائنسی طور پر ہمارے دماغ میں positive receptors کو فعال کرنے کے لئے بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پوسٹ کر کے لوگ لائیکس کے انتظار میں ہوتے ہیں اور بار بار پوسٹ پہ ہونے والے لائیکس کے نمبر کو چیک کرتے رہتے ہیں۔ ماہر نفسیات کا یہ کہنا ہے کہ لوگوں کا یہ رویہ بالکل نارمل ہے کیونکہ اگر پوسٹ پہ لائیکس آتے ہیں تو لوگوں کے اندر بالکل ایسی خوشی پیدا کرتے ہیں جو خوشی چاکلیٹ کھا کہ یا کوئی پیسے جیت کے حاصل ہوتی ہے۔ اسی نارمل رویے کے مدنظر طبیعت میں جیسے پیسےحاصل کرنے کی خواہش اور رہتی ہے اسطرح مزید لائیکس کی طلب بھی بڑھتی رہتی ہے۔

یہ لائیکس بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے کسی کو ملنے پہ آئے تو چھپڑ پھاڑ کے ملیں ۔ اسلیے ان لوگوں میں خود اعتمادی دیکھنے میں آئی ہے جن کو پوسٹ پہ بے شمار لائیکس وصول ہوتے ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ خطرناک صورت تب اختیار کرنے لگ جاتا ہے جب کسی پوسٹ پہ لائیکس بالکل وصول نہیں ہوتے یا پھر توقعات سے بہت کم آتے ہیں۔ ایسے میں زیادہ تر لوگوں کا رویہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ کوئی دوسری پوسٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور اگر پھر بھی کوئی اچھا ریسپانس نہیں آتا تو پوسٹ ڈیلیٹ کر دی جاتی ہے یا پھر اس پہ مزید خیالات کا اظہار کرنے سے پرہیز کی جاتی ہے۔ اس رویہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مستقل ایسا کرتے رہنے سے لوگ خود اعتمادی سے محروم ہوسکتے ہیں اور خود کے خلاف منفی رویہ رکھنا شروع کر دیتے ہیں جیسےوہ اپنے آپ سے یا اپنے ہی خیالات سے مطمئن محسوس نہیں کرتے۔

اس لائیک بٹن کہ پیچھے جو انسانی سائیکلوجی کام کرتی ہے اس میں ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کو یہ باور کروایا جائے کہ ان کا اپنی self esteem سب سے پہلے عزیز ہونی چاہیے اور جہاں ان کو اس پہ دھچکے لگتے محسوس ہو تو بجائے اس پہ منفی سوچ کو پروان چڑھانے کہ اس بات کو سامنے رکھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا کی یہ زندگی صرف شارٹ ٹائم ہیرو بننے کے علاوہ اور کچھ بھی تو نہیں۔ ایک پوسٹ کا دورانیہ مشکل سے چند گھنٹے سے ایک دن کا ہوتا ہے بھر آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کا سا معاملہ بن جاتا ہے۔ کسی کو یاد نہیں رہتا کہ فلاں دن آپ کی کی پوسٹ پہ کتنوں کے لائیکس وصول ہوئے تھے لیکن آپ کی نفسیات دوسروں کی لائیکس سے موازنہ مسلسل کررہی ہوتی ہے اور یہی خوداعتمادی کو کم کرنے کا سب سے بڑا موجب بنتی ہے۔

 اپنے بارے میں منفی رویے رکھنے کی بجائے اپنی سوچ میں اعتماد کو بحال کرنا بے حد ضروری ہے کیونکہ یہ منفی رویے مستقبل میں ملک کی ترقی کو بہت متاثر کر سکتےہیں اور نئی نسل میں ایسی سوچ کے پروان چڑھنے سے رہنماؤں اور لیڈرز کی تعداد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اپنےخوداعتمادی کو صرف لائیکس کی تعداد کا محتاج کر دینا اپنی ذات کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے جس کا لاشعوری طور پہ ہم سب نشانہ بن رہے ہیں۔ آج ہمیں اپنے آپ سے خوش اور مطمئن رہنے کے لیے ان لائیکس کی قید سے آزاد ہونا بہت ضروری ہے۔ اپنی خوداعتمادی کو بحال کریں یہ جان کر کہ آپ اپنے لیے انمول ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: