مسلم امہ: خود سے برسرپیکار ۔۔۔ پرویز ہود بھائی

0
  • 263
    Shares

امت خود سے برسرپیکار ہے۔ ورنہ شام، عراق، لیبیا، یمن، افغانستان، ترکی اور پاکستان میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مسلمانوں کے قتل عام کو اور کیسے بیان کیا جا سکتا ہے۔

     سچی بات تو یہ ہے کہ امت کا تصور ایک طویل عرصے سے حکومتوں یا مسلمان ممالک کے عوام کے لئے غیر اہم بن چکا ہے۔ مسلمان ممالک کے درمیان ریاستی سطح پر تعلقات حیرت انگیز طور پر مذہبی شناخت سے آزاد ہیں۔ اس کی جگہ ان تعلقات کا انحصارذاتی مفاد، اندرونی سیاست اور حکمرانوں کی افتاد طبع پر ہے۔ اس دعوے کے شواہد دیکھئے۔

پاکستان مذہبی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا۔ لیکن 1956 میں نہر سویز کے بحرانی دور میں پاکستان کا موقف مبہم تھا۔ پاکستان نے اس وقت جمال عبدالناصر کی حمایت کرنے سے انکار کیا جب انہوں  نے نہر سویز کو قومیا  کر برطانیوں کو نکال باہر کیا تھا۔

اس کے برعکس ہندوستان غیروابستہ تحریک میں سرگرم، عرب قومیت کا مکمل طرف دار اور آزادی فلسطین کا پرزور حمایتی تھا۔ شکرگزاری کے اظہار کے لئے شاہ سعود بن عبدالعزیز نے ہندوستان کا سرکاری دورہ کیا اور اعلان کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ وہاں عمدہ سلوک ہو رہا ہے۔ پاکستان کے طول وعرض میں شدید غم وغصہ پیدا ہوا۔ اخبارات اس وقت غصے سے پھٹ پڑے جب ریاض میں اپنے جوابی دورے کے دوران جواہرلعل نہروکا خیرمقدم خود بادشاہ نے کیا اور ریاض کی سڑکیں ایسے بینرز سے سج گئیں جن پررسول السلام (امن کا پیامبر) تحریر تھا۔

 

یکم دسمبر 1956 کو ڈان نے اپنے ادارئیے میں عربوں اور ناصر کی پاکستان کے خلاف نفرت اور بھارت اور نہرو کے ساتھ محبت پر شدید تنقید کی۔ اس میں یہ تک تجویز کیا گیا کہ ایسے شدید تعصب اور اندھی عصبیت کے لئے کسی ماہر نفسیات کا بندوبست کرنا چاہئے۔باالفاظ دگر اس وقت عرب دنیا کے عظیم ترین ہیرو کو پاگل قرار دے کر رد کر دیا گیا۔

آج پاکستان کے اپنے دو مسلمان ہمسائیوں، ایران اور افغانستان کے ساتھ جھگڑے چل رہے ہیں۔ افغانستان اور ایران پاکستانی حدود میں وقتاًفوقتاً گولہ باری کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان بھی گولہ باری کا جواب دیتا رہتا ہے جبکہ پی اے ایف کے جیٹ طیاروں نے پچھلے ماہ ایرانی ڈرون مار گرایا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ سب سے قریبی تعلقات ہیں جو کہ ایک کمیونسٹ ریاست ہے جس نے اپنے واحد مسلم اکثریتی صوبے میں داڑھی اور حجاب پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ ہندوستان کے ایران اور افغانستان، دونوں سے ہی قریبی تعلقات ہیں اور اسی طرح بھارت چین سے تجارت پاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ 

یہ معاملہ صرف پاکستان کے ساتھ نہیں ہے۔ سعودی عرب اور قطر کی  بادشاہتیں جو کہ وہابی فکر کی حامل ہیں، اس وقت ایک دوسرے کے خلاف عملاً حالت جنگ میں ہیں۔ سعودی عرب کہتا ہے کہ چھوٹا سا قطر اپنے حجم سے بڑھ کر چھلانگیں لگا رہا ہے حالانکہ اسے اپنی آزادنہ خارجہ پالیسی متعین کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔  قطر نے سعودی اور یواےای کی طرف سے الجزیرہ، جو کہ عرب دنیا میں خبریں فراہم کرنے والا واحد آزادانہ ادارہ ہے، کو بند کرنے کا مطالبہ رد کر دیا ہے۔ اس کے جواب میں سعودی عرب سے تمام قطری، ان کے خاندان اور 15000 قطر کے رقاص اونٹوں کو سعودی عرب سے نکال دیا گیا ہے۔

گزشتہ برس سعودی بادشاہ سلمان نے سعودی عرب کا سب سے بڑا سویلین ایوارڈ ہندو بنیاد پرست نریندر مودی کودیا۔ سعودی بادشاہ کشمیر اور پیلٹ گنز کا ذکر بھی گول کر گئے۔

سعودی عرب کی یمن سے جنگ بھی امت کے تصور کا کھوکھلا پن ظاہر کرتی ہے۔ مسلمان دنیا کے اس غریب ترین ملک پر مسلط کی گی اس جنگ میں 7600 مسلمان جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 42000 زخمی ہیں۔  زیادہ تر اموات کے ذمہ دار سعودی سربراہی میں قائم ہونے والے اتحاد کے فضائی حملے ہیں۔ اس معاملے پر پاکستان نے کسی قسم کی تشویش کا اظہار نہیں کیا۔  میں نے ابھی تک یمن کی جنگ پر ایک بھی ٹی وی رپورٹ یا شام کے ٹاک شومیں کسی قسم کی بحث نہیں سنی۔ 

ایک دور میں سرزمین فلسطین پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ امت کا سب سے عظیم خواب تھا جو شعیہ سنی تفریق پربھی غالب آ گیا تھا۔ لیکن آج سعودی عرب بہت تیزی سے اسرائیل کے ساتھ مفاہمت کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔  دونوں ممالک ایران کو ایک بڑے دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں۔  ناکام عرب بہار کے بعد سیسی کا مصر اور خلیجی بادشاہتیں ایران کو ایک ایسی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں جو ان ممالک میں بغاوت پھیلا سکتی ہے اور اسی لئے وہ اسرائیل کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اب فلسطین کا ذکر نہیں ہوتا۔

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ او آئی سی کی کیا اہمیت ہے جس کا کام مسلمان امت کو قریب لانا اور ان کی نمائندگی کرنا تھا؟  سعودی سرزمین پر قائم اس تنظیم کی 57 ممبر ریاستیں ہیں اور یہ خود کو مسلمان دنیا کی نمائندہ آواز کہلواتی ہے۔ او آئی سی کے پاس شام، عراق، لیبیا اور یمن کو تباہ کر دینے والی جنگوں کے بارے میں کہنے کے لئے کچھ نہیں۔ نہ ہی اس ادارے کا مسلمان ریاستوں کے مابین تنازعات یا ان کے اندرونی جھگڑوں سے کوئی تعلق ہے۔  ابھی تک اس نے ان بھٹکتے مہاجروں کے لئے ایک پیسہ بھی نہیں دیا جو اب مغرب پر بھروسہ کرنے پہ مجبور ہو چکے ہیں۔

پاکستان نے اوآئی سی سے شروع میں بہت امیدیں باندھیں لیکن  1974 میں ذوالفقار علی بھٹو کی بلائی گئی لاہور کانفرنس سے پیدا ہونے والی خوش امیدی بھٹو صاحب کے جانے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔ اس کی ایک نشانی اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر  شاندار جھنڈوں سے مزین عمارت کے طور پر باقی رہ گئی ہے جو کہ کامسٹیک کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ او آئی سی کا سب سے بڑا سائنسی ادارہ ہے جسے چلانے کے اخراجات کا زیادہ تر حصہ پاکستان ادا کرتا ہے۔

کامسٹیک کا فریضہ امت مسلمہ میں سائینس کی ترویج ہے۔  یہ ایک فضول اور بیکار کوشش ہے کیونکہ سائنس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکی اور ایران کو چھوڑ کر دیگر مسلمان ممالک میں سائنس کے پست معیار کو بھی مدنظر رکھیں۔ وزیراعظم سہروردی کا مشہور قول ہے کہ صفر جمع صفر جمع صفر بھی آخر کار صفر ہی ہوتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے یہ بات نہر سویز بحران کے دوران عرب بلاک کے بارے میں کہی تھی لیکن یہ سائنسی تعاون کے معاملے میں بھی بالکل درست ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ او آئی سی کو احترام سے دفن کر دیا جائے اور اس خیالی تصور سے جان چھڑائی جائے کہ کامسٹیک مسلمان سائنس کے مرکز کے طور پہ کوئی خدمت سرانجام دے سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے دیگر فوائد کے علاوہ کامسٹیک کے سٹاف کو پاکستان میں سائنس کے فروغ کے لئے کام میں لایا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ  عمارت کو عوامی سائینس لائبریری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا اسے بچوں کے لئے سائنس کی کرامات دکھانے کا ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔

  اگر مسلمان ریاستوں نے امت کی طرف توجہ نہیں دی تو غیر ریاستی عناصر نے اس حوالے سے اور بھی اغماض برتا۔ انہوں نے لاکھوں ہم مذہبوں کو قتل کیا۔ افغان اور پاکستانی طالبان ایک ہی پرندے کے دو پروں جیسے ہیں۔ ایک افغانستان کے مسلمانوں کو مارتا ہے تو دوسرا پاکستانی مسلمانوں کو۔ ایک کو پاکستان میں پناہ گاہ میسر آتی ہے تو دوسرے کو افغانستان میں۔ اسلامک سٹیٹ  کے جنگجو لگتا ہے کہ ہر جگہ موجود ہیں اور قتل کرنے میں اس کی ہچکچاہٹ اور بھی کم ہے۔ ایسے کوئی آثار نہیں ہیں کہ ان قوتوں میں سے کوئی بھی جلدی ختم ہو سکے۔

مسلمان ریاستوں اور عوام کے لئے آگے بڑھنے کا ایک اور رستہ موجود ہے۔ اس کے لئے انہیں مضبوط جمہوری ادارے تخلیق کرنے پڑیں گے جن کی بنیاد شہریوں کے مساوی حقوق پر ہو، جو سماجی زندگی میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کریں، مسلمان فرقوں کے درمیان اور دیگر مذاہب کے حوالے سے برابر کا احترام ملحوظ خاطر رکھیں، افراد کو مواقع اور آزادی مہیا کریں اور تعلیم کو عقلی اور سائنسی بنیادوں پر استوار کریں۔

یہ مضمون انگریزی سے ترجمہ کیا گیا، اصل مضمون یہاں ملاحظہ کیجئے

ترجمہ: مجاہد حسین

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: