آئی کیوز کی داستان: لالہ صحرائی

1
  • 212
    Shares

کوئی شک نہیں کہ ہم سادہ عقل کے ساتھ بھی یہ بات جانتے ہیں کہ عقل کے مختلف مدارج ہیں لیکن ان میں درجہ بندی کیسے کی جائے کہ عقلمندوں کے درمیان حفظ مراتب قائم ہو سکے اور ہر بندہ اپنی حد میں رہ سکے، سب سے اہم بات یہ کہ کیا ہم عقلمندوں میں اپنا شمار کرسکتے ہیں یا نہیں انٹیلیجنس کا یہ سفر لمبا ضرور ہے مگر بہت دلچسپ بھی ہے۔

نفسیات کے اسکالرز بالاتفاق یہ کہتے ہیں کہ انسانی عقل کی ایسی کوئی جامع تعریف اب تک متعین نہیں کی جا سکی جسے کماحقہٗ انسانی عقل کا معیار یا پرتو قرار دیا جا سکے کیونکہ ہر بندہ کسی نہ کسی حد تک عقلمند ہوتا ہے، یہ مشکل صرف اسکالرز کے ہاں نہیں ملتی بلکہ مذہبی فلسفے میں بھی یہ بحث موجود ہے کہ عقل کے کئی مراتب ہیں کیونکہ دین کی ہربات سادہ عقل سے حل نہیں ہوتی، فقہی معاملات میں علم کے ساتھ ساتھ عقل کا ایک خاص لیول بھی درکار ہوتا ہے۔

عقل کا ڈیلیما سائینس میں بھی اسی طرح سے ہے کہ ایک ہی مضمون کے دو مستند عالم بھی اپنی استعداد کے حساب سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، ایک فرسٹ ڈویژن میں ماسٹرز کرتا ہے تو دوسرا تھرڈ ڈویژن میں لیکن اپنے شعبے کے عاقل و عالم دونوں ہی کہلاتے ہیں۔

پھر دنیاوی معاملات میں بھی یہی الجھن موجود ہے مثال کے طور پر یہ کیسے طے کیا جائے کہ امیزون کے قبائلی جو جنگلی حیات سے لڑنے کا فن، ضروری عقل، جانفشانی اور بہادری کا وصف بھی رکھتے ہیں وہ بہتر فوجی ثابت ہو سکتے ہیں یا لندن اور نیویارک کے پرتعیش زندگی گزارنے والے باشندے جبکہ سیلیکشن کے بعد ٹریننگ تو دونوں کو ہی کرانی پڑے گی، یہاں لٹریسی کا فیکٹر ایڈ کرنے سے پہلے ویت نام اور افغانستان کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ ان پڑھ لوگوں نے کیسے اپنے اپنے وقت کی سپر پاورز کو شکست دی یا برابر کی ٹکر دی۔

یہی وہ تفاوت و تضادات ہیں جن کی بنیاد پر نفسیات کے اسکالرز کہتے ہیں کہ انٹیلیجنس ایک کمپلیکس اور کونٹروورشیئل سبجیکٹ ہے، عقل کی ایسی تعریف وضع کرنا ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا جو سب کو کفایت کرے تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ عقل کی کوئی تعریف وضع نہ کی گئی ہو، ہم منطقی اور مذہبی فلاسفہ کے وہ مختلف اقوال دیکھ سکتے ھیں جن میں عقل کی ساخت اور حیثیت پر گفتگو کی گئی ہے۔

عربی لغت میں عقل کے معانی روکنا، لگام دینا یا کھینچنا کے ہیں، بامحاورہ ترجمہ یہ ہوگا کہ کسی معاملے کو کسی معقول حد میں رکھنے والی استعداد کا نام عقل ہے، مریم ویبسٹر ڈکشنری کے مطابق، خدا کی عطاکردہ باطنی یا دماغی صلاحیت یا ماحول کو اپنے علم سے ضرورت کے مطابق ڈھالنے کی استعداد یا نت نئی صورتحال کو پڑھنے، جاننے اور ضرورت کے مطابق اس سے نمٹنے کی صلاحیت کو عقل کہتے ہیں، کیمبرج ڈکشنری کے مطابق پڑھنے، سمجھنے اور نقطہ نظر قائم کرنے کی استعداد جو کسی معقول وجہ پر منحصر ہو، عقل کہلاتی ہے، آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق علم و تجربہ حاصل کرنے اور انہیں استعمال کرنے کی استعداد انٹیلیجنس کہلاتی ہے۔

کل ملا کر بات یہ ہے کہ اپنے علم اور تجربے سے کسی معاملے میں معقولیت کی بنیاد پر فیصلہ و عمل کرنا عقل یا انٹیلیجنس کہلاتا ہے‌، ارسطو، سگمنڈ فرائیڈ، امام رازی اور دیگر متقدمیں بھی کم و بیش یہی کچھ کہتے ہیں لیکن ساتھ میں عقل کے ماخذات و عوامل پر بھی ہمہ جہت بحث کرتے ہیں لیکن ان سب تعریفوں کے بعد بھی مسئلہ پھر ڈیڈلاک پر منتج ہوتا ہے یعنی ان تعریفوں کے آئینے میں آپ ایک دستکار، کارپینٹر، قالین باف اور پی۔ایچ۔ڈی اسکالر کے درمیان یہ کیسے طے کریں گے کہ ان میں فلاں بندہ عقلمند نہیں ہے؟ کیونکہ عقل کے بغیر ان سب کیلئے اپنا کام کرنا ناممکن ہے، اگر یہ سب ہی عقلمند ہیں تو اسکالر اور کارپینٹر کے درمیان فرق کیا ہے؟

اگر آپ کہیں کہ یہ سب اپنے اپنے شعبے کے عقلمند ہیں تو پھر اسکالر کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ دستکار کے کام میں نقص نکالے، اگر اسکالر کو یہ حق دیں گے تو دوسرے کو بھی دینا ہوگا لیکن ایک دستکار اسکالر کے کام کو سرے سے جان ہی نہیں سکتا تو اس میں نقص کیسے نکالے گا؟ یہی بات میں نے شروع میں کہی تھی کہ عقلمندوں کے درمیان درجہ بندی ہونی چاہئے تاکہ عقلمندوں کے درمیان حفظ مراتب قائم ہو سکے۔

آئی کیو کہاں سے آتا ہے، اس کی پیمائش اور درجہ بندی کیسے کی جائے اس پر سائیکالوجی نے جو سالہاسال محنت کی ہے آپ کے سامنے اس چیز کے ارتقائی مراحل بتدریج پیش کرتا ہوں۔

آئی کیو مخفف ہے انٹیلیجنس کوشئینٹ کا “intelligence quotient”، یہ اصطلاح جرمنی کے سائیکالوجسٹ ولیم اسٹیرن نے وضع کی تھی اور آئیکیو پر سب سے پہلا کام سر الفریڈ بینٹ نے کیا تھا، سر بینٹ ہی وہ پہلے آدمی ہیں جس نے مینٹل ایج کا نظریہ پیش کیا یعنی وہ سیٹ آف ایبیلیٹیز یا قابلیت کی ڈائمینشینز جو ہر عمر کے بچے میں ایک مخصوص حد تک ہونی چاہئیں وہ مینٹل ایج کہلاتی ہیں، کسی فرد کا آئیکیو نمبر جاننے کیلئے مینٹل ایج ہی بنیادی فیکٹر ہے جسے ہم دوسری قسط میں ڈسکس کریں گے اور آئیکیو نکالنے کا فارمولا بھی دیں گے۔

آئیکیو کی درجہ بندی کم و بیش سوا صدی پہلے شروع ہوئی تھی، شروع میں اس کا مقصد اسکول کے بچوں کی کلاسیفکیشن کرنا تھا تاکہ بہتر تعلیمی مقاصد حاصل کئے جا سکیں لیکن بعد میں اسے ہر شعبے تک پھیلا دیا گیا۔

بیسویں صدی کے آغاز میں جب فرانس نے اپنے ملک کے ہر بچے کیلئے تعلیم لازمی قرار دی تو ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ پتا لگانا تھا کہ محدود ذہنی استعداد یافتہ بچوں کو اسکولنگ میں کن کن مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں کیسے حل کیا جائے تاکہ ہر بچے کی ذہنی نشوونما ہو سکے اور وہ پڑھائی میں باقیوں کی طرح بہتر ہو جائیں، یہ کام ماہر نفسیات سر الفرڈ بینٹ کو سونپا گیا جس نے مختلف ماڈیولز ڈیزائن کئے جن کے ذریعے بچوں کی ذہنی استعداد کا تعین کیا اور ان کند ذہن بچوں کی شناخت کی جنہیں زیادہ توجہ کی ضرورت تھی۔

الفرڈ بینٹ نے اپنے ساتھی تھیوڈور سائمن کے ساتھ مل کر کچھ ایسے سوالنامے تیار کئے جن کا تعلق تعلیمی نصاب کے علاوہ زندگی کے عام معاملات کے ساتھ بھی تھا جو سادہ عقل سے سمجھ میں آنے چاہئیں، مثال کے طور پر ٹیڑھی چیز کیا ہوتی ہے، کلر بلاکس کے ایک گروپ میں کونسا بلاک دوسروں سے مختلف رنگ کا ہے، کونسی چیزیں ہم جنس نہیں ہیں، ان سوالوں سے یہ جاننا مقصود تھا کہ بچے میں توجہ، یاداشت اور پرابلم سالونگ کی اہلیت کتنی ہے؟ کیونکہ جو بچہ ان چیزوں میں تیز ہوگا وہ نسبتاً زیادہ عقلمند یا سیکھنے کے عمل میں زیادہ اچھی کارکردگی دکھائے گا۔

اس پریکٹس میں یہ محسوس ہوا کہ ایک ہی ایج گروپ میں کچھ بچے اتنے تیز ہیں کہ اپنے سے بڑی عمر کے بچوں جیسے جوابات دینے کی اہلیت رکھتے ہیں، کچھ بچے صرف اپنی عمر کی حد تک سوال حل کر سکتے ہیں اور کچھ بچے اپنے سے چھوٹے بچوں والے سوال ہی حل کر سکتے ہیں۔

اسی فرق کو دیکھ کر الفرڈ بینٹ نے کسی بھی عمر کے بچے کیلئے ایوریج کی بنیاد پر مینٹل ایج کا تصور پیش کیا، یعنی پانچویں کلاس کے بچوں کی قابلیت اتنی ہونی چاہئے کہ فلاں فلاں سوالوں کا جواب دے سکیں یا فلاں فلاں کام کر سکیں، اسی طرح ہر ایج گروپ کا ایک پیمانہ مقرر کیا تاکہ ہر ایج گروپ کا جو بچہ اپنے ایج گروپ کیلئے مختص سوالوں کا جواب دے سکے وہ اپنے ایج گروپ میں انٹیلیجنٹ قرار دیا جا سکے اور باقیوں کو خصوصی توجہ دی جا سکے۔

اس پہلے آئیکیو ٹیسٹ کا نام بینٹ۔سائمن اسکیل Binet-Simon Scale رکھا گیا جو آئیکیو ٹیسٹنگ کی بنیاد بنا اور ابھی تک ہے تاہم الفرڈ بینٹ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی حتمی پیمانہ نہیں جو خداداد صلاحیتوں کو گہرائی تک ناپ سکے البتہ یہ ایک اچھا اندازہ ضرور فراہم کرتا ہے کیونکہ اس کے خیال میں ذہانت پر کئی چیزیں اثرانداز ہوتی ہیں جس میں ماحول کا فرق بہت نمایاں ہے اسلئے یہ ٹیسٹ صرف ایک ایج گروپ اور ایک ہی بیک گراؤنڈ رکھنے والے بچوں کا ایک دوسرے کیساتھ موازنے کیلئے بہترین ٹول ہے یعنی جو ٹیسٹ شہری علاقوں کے پانچ سالہ بچوں کیلئے ہے، دیہاتی بچے اس پر پورا نہیں اتر سکتے گویا دیہاتی بچوں کا آئیکیو شہری بچوں سے کم ہوگا جب تک کہ انہیں ایک ہی معیار کی تعلیم نہ دی جائے۔

بینٹ۔سائمن اسکیل اپنی ابتدا سے اب تک مقبول عام طریقہ ہے جس میں بہتری لانے کیلئے کئی بار ریویژن بھی ہوچکی ہے تاہم اس کے علاوہ بھی کئی طریقے ایجاد ہوئے جن پر دوسری قسط میں بات کریں گے۔

یہی بینٹ۔سائمن Binet-Simon اسکیل کچھ عرصہ بعد امریکہ امپورٹ کیا گیا جہاں اسے کافی پزیرائی ملی، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر لیوس ٹرمین نے اس ٹیسٹ کو کچھ تجربات کے بعد انیس سو سولہ میں شائع کیا جو اس کے بعد اسٹینفورڈ۔بینٹ اسکیل Stanford-Binet Scale کے نام سے امریکہ میں آئیکیو پرکھنے کا اسٹینڈرڈ قرار پایا۔

آئی کیو کا تیسرا مائل اسٹون پہلی جنگ عظیم ہے جب فوجی بھرتی کیلئے قابل رنگروٹوں کا انتخاب فوجی قیادت کیلئے ایک بڑا چیلنج تھا، انیس سو سترہ میں روبرٹ یرکیز Robert Yerkez نے امریکن سائیکالوجی ایسوسی ایشن کے سربراہ اور سیلیکشن کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے آرمی الفا اور آرمی بِیٹا alpha & beta ٹیسٹ ڈیزائن کئے، آرمی الفا امیدواروں کی استعداد جانچنے کیلئے تحریری ٹیسٹ تھا اور بِیٹا ان لوگوں کیلئے تھا جو جسمانی طور پر تو فٹ تھے مگر تحریری ٹیسٹ دینے کے قابل نہیں تھے، اس لئے ان سے زبانی ٹیسٹ لیا جاتا تھا، فوج کی مدد کیلئے سائیکالوجسٹوں نے تقریباً بیس لاکھ امیدواروں سے یہ ٹیسٹ لئے اور یہ طے کرکے دیا کہ کونسے امیدوار لڑائی کیلئے بہتر ہیں اور کونسے لوگ لیڈرشپ کیلئے بہتر ہیں، یہ طریقہ آج بھی دنیا بھر کی فوجوں میں بھرتی کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔

وراثتی ذہانت دنیا کا قدیم تصور تھا جس میں ذہانت کو ایک سنگل پرت چیز سمجھا جاتا تھا یعنی انسانی ذہن ایک خالی سلیٹ ہے جس پر کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے، جسے اپنے ماحول کے مطابق تعلیم و تربیت دے کر اپنی مرضی کا انسان بنایا جاسکتا ہے لیکن بیسویں صدی کے ریسرچرز اور اسکالرز نے یہ طے کیا ہے کہ ذہانت سنگل پرت چیز نہیں بلکہ یہ ملٹی لیول فینومینا ہے، یہ بات چارلس اسپیئرمین کی دریافت ہے۔

چوتھا مائل اسٹون 1925 کے قریب سامنے آیا جب چارلس اسپیئرمین نے انٹیلیجنس کیلئے جنرل انٹیلیجنس یا جی۔فیکٹر کو متعارف کرایا، جی فیکٹر انیلیسز کا مطلب تھا کہ جو لوگ جنرل کوگنیٹیو cognitive ability میں اچھے ہوتے ہیں وہ دوسرے کاموں میں بھی اچھے ہوتے ہیں کوگنیٹیو ایبلٹی کا مطلب ہے کہ حواس اور تجربے کے ذریعے سمجھنے اور علم حاصل کرنے کی صلاحیت، یہ وہی پرانا سلیٹ والا تصور تھا اس فرق کے ساتھ کہ سیکھنے کے ساتھ عمل کرنے کی صلاحیت کو بھی جانچا جا سکتا ہے اور اسے بھی نمبروں میں ڈیفائن کیا جا سکتا ہے، یہی تصور بعد میں ای کیو EQ کا باعث بنا جو دوسری قسط میں بیان ہوگا۔

پانچواں اور اہم مائل اسٹون بیسویں صدی کے نصف میں سامنے آیا جب لوئیس تھرسٹون نے یہ نظریہ پیش کیا کہ آئی کیو کو سنگل پرت چیز سمجھنے کی بجائے اسے سات بنیادی ذہنی قابلیتوں کا مجموعہ سمجھنا چاہئے وہ سات اسطرح سے ہیں، وربل کمپرہینشن یعنی زبانی استعداد، ریزننگ یعنی منطقی یا لوجیکل جائزہ، پرسیپشن اسپیڈ یعنی دیکھ سن کر سمجھنے کی صلاحیت، نیومیریکل ایبلٹی یا شماریاتی قابلیت، ورڈ فلواینسی یا لفظی روانی، ایسوسی ایٹڈ میموری اور اسپےشئیل spatial ویژوالائزیشن یا بصری و تخیلاتی قابلیت وغیرہ۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اسکالر کے مقابلے میں ایک دستکار بندے کا آئیکیو ٹیسٹ نارمل اسکیل پر تو ایوریج ہو لیکن حقیقت میں وہ بندہ حیرت انگیز قسم کا مصور، کاشی کار، کارپینٹر، مشینی کاریگر، میوزیشن، کمپوزر، سنگر، آرٹسٹ، ادیب، کھلاڑی یا ایسا کچھ ہو کہ اس جیسا بننا کسی ہائی آئی کیو لیول بندے کے بس کی بھی بات نہ ہو تو ایسے لوگوں کو جینئیس نہ سمجھنا بھی ایک طرح کی زیادتی ہوگی، اسی بات کے پیش نظر سر ہاورڈ گارڈنر نے ملٹیپل انٹیلیجنس کا نظریہ پیش کیا۔

چھٹا مائل اسٹون، آخری کوارٹر میں سامنے آیا جب سابقہ تھیوریز کو مزید پیوریفائی کرکے ڈاکٹر ہاورڈ گارڈنر نے اپنی کتاب دی فریمز آف مائنڈ، تھیوری آف ملٹیپل انٹیلیجنس مطبوعہ 1983 میں ملٹیپل انٹیلیجنس کا نظریہ پیش کیا جو سب سے زیادہ خوبصورت اور قابل قبول نظریہ ہے، ہاورڈ گارڈنر کا کہنا تھا کہ فرد کی جنرل قابلیت کی جانچ اور اسے نمبروں میں ڈیفائن کرنے کی بجائے اس کے مخصوص تجربے اور عملی قابلیت کی بنیاد پر دیکھنا اور ڈیفائن کرنا چاہئے کیونکہ کسی بھی کلچر میں یہ دونوں چیزیں خاص اہمیت رکھتی ہیں، گارڈنر کے مطابق انٹیلیجنس کی آٹھ ڈائمینشنز ہیں۔

لینگوئسیٹک یا زبان دانی: اس شعبے کے لوگ عموماً زبان و بیان کی طرف مائل ہوتے ہیں جن میں ادیب، شاعر اور وکیل شامل ہیں
لوجیکل۔ میتھمیٹیکل: ریاضی دان و شماریات کے ماہرین وغیرہ
اسپےشئیل: یعنی مخصوص پیٹرنز کو سمجھنے والے، آرکیٹیکٹس، جغرافیہ دان، پائلیٹس، بحری سیلرز اور ٹاؤن پلانرز وغیرہ
میوزیشنز: موسیقی کی کمپوزنگ، آواز سے متعلق پرفارمرز، سنگرز وغیرہ
باڈی۔ کِنستھیٹک: ذہنی و جسمانی شعبے سے متعلق ایکٹر، ڈانسر، اتھلیٹس وغیرہ
انٹرپرسنل: موقع محل اور دوسروں کو سمجھنے والے، یعنی ایجوکیٹرز، مینیجرز، کنسلٹینٹس، کونسلنگ پرسن، سیلزپرسنز، سوشل ورکرز، مذہبی و سیاسی لیڈرز
انٹراپرسنل: خود کو جاننے والے، ادیب، صحافی، مصور، آرٹسٹ وغیرہ

نیچرلسٹ: یہ تھیوری گارڈنر نے 1995 میں ایڈ کی تھی جس کا مطب ہے کہ وہ انسانی صلاحتیں جو نیچر کے ساتھ متصل رہتی ہیں جیسے کھیتی باڑی، فارمنگ، سوشل گیدرنگ، شکار، سوشل ایتھیکل سینس یا فطری ماحول سے متعلق سمجھ بوجھ وغیرہ۔

گارڈنر کی اس تھیوری کو نظام تعلیم میں بہت سراہا گیا، اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر رابرٹ اسٹیرنبرگ نے اسی بات کو اپنی ٹریچرک تھیوری آف انٹیلیجنس میں تین لیولز میں بیان کیا کہ ایسی ذہنی قابلیت جو فرد اپنی حقیقی دنیا میں کسی مقصد کو چننے، صورت گری کرنے اور کوئی منزل حاصل کرنے کیلئے اختیار کرتا ہے تاہم وہ گارڈنر کے ساتھ متفق ہیں کہ آئیکیو سنگل جنرل انٹیلیجنس کی بجائے ایک ملٹی لیول سبجیکٹ ہے۔

نیچرلسٹ: یعنی پہچاننے، کیٹیگرائز کرنے، نئے فیچرز متعارف کرانے والے
اسپرچؤلسٹ: معاملات کا قدرتی فہم رکھنے والے
مورالسٹ: قوائد، رویہ، اخلاقیات اور انسانی تواضع سے متعلق انٹیلیجنس رکھنے والے

 

اسٹیرنبرگ کی تجویز تھی کہ کامیاب آئیکیو کو ان تین جہتوں میں پورا اترنا چاہئے، پہلی اینالیٹک انٹیلیجنس یا تجزیاتی قابلیت جو پرابلم سالونگ میں اہم کردار ادا کرتی ہے یعنی مسئلہ پہچاننے اور اسے حل کرنے کی صلاحیت، دوسری کری۔ایٹیو انٹیلیجنس یا تخلیقی قابلیت جو اپنے نئے پرانے تجربات کی بنا پر اپنی باطنی دنیا کا خارجی دنیا سے ربط پیدا کرسکے یا ہر طرح کی نئی سچوایشن کو ٹیکنیکلی ڈیل کر سکے اور تیسری پریکٹیکل انٹیلیجنس یا عملی قابلیت جو کسی خاص یا روزمرہ کے ماحول کو موثر اور موزوں طریقے سے ہینڈل کر سکے۔

چارلس سپیئرمین کی فیکٹر انیلیسز کو ہم نے اسے لئے ادھورا چھوڑ دیا تھا کہ اس کا فائنل ورژن کراس بیٹری ایسسمنٹ کی شکل میں سامنے آیا ہے، یہ تھیوری Raymond Cattell and John Horn کی مشترکہ دریافت تھی جس میں سپئیرمین سے لیکر ہاورڈ گارڈنر تک سب کا عکس شامل ہے، اس گفتگو کے بعد ہم آئیکیو کی تمام جہتوں پر اپنا نقطہء نظر فائنل کرکے آئیکیو جاننے کے طریقے کی طرف بڑہیں گے

کیٹل۔ھارن تھیوری Cattell-Horn Fluid-Crystallized Intelligence Theory میں عقل کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ایک حصہ وہ جو انسان کی وراثتی استعداد ہے، اس میں تمامتر غیر نصابی علمی و عملی علوم اور جنرل انٹیلیجنس شامل ہے، اسے فلوئیڈ انٹیلیجنس کا نام دیا گیا ہے۔

 

فلوئیڈ انٹیلیجنس اس استعداد کا نام ہے جس میں انسان قدرتی ذہانت یا وراثتی عقل سے چیزوں کو منطقی طور پر علیحدہ کرسکے، معقولیت کی بنیاد پر چیزوں کو رکھ سکے، گفتگو یا چیزوں کے فرق کو پرکھ سکے، ہم جنس یا غیر ہم جنس، ہم شکل یا غیر ہم شکل اشیاء کی درجہ بندی کر سکے، اسے اسپیرمین کے جی فیکٹر سے جی اور فلوئیڈ سے ایف لےکر جی۔ ایف بھی کہا جاتا ھے یعنی Fluid General Intelligence (Gf)

کرسٹیلائزڈ انٹیلیجنس (Crystallized Intelligence (Gc اس استعداد کا نام ہے جو کسی انسان نے نصابی علم اور تجربے سے حاصل کر رکھی ہو۔

وژوئیل پراسیسنگ  Visual Processing (Gv) وہ استعداد ہے جو کسی زمینی قطعہ، کسی شیپ اور خاکے کو سمجھنے، کسی مواد کو بصری طور پر دیکھ کر سمجھنے یا اسے بیان کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آڈیٹری پراسیسنگ  Auditory Processing (Ga) وہ استعداد ہے جو کسی سمعی مواد کو سن کر اسے سمجھنے اور مناسب ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

شارٹ ٹرم میموری  Short-Term Memory (Gsm) وہ استعداد ہے جو آگہی یا ماضی قریب میں حاصل کی گئی تعلیم و تربیت کو بوقت ضرورت استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

لانگ ٹرم اسٹوریج اور ریٹریویل Long-Term Storage and Retrieval (Glr) بچپن، جوانی یا کسی بھی پچھلے دور میں حاصل کی گئی تعلیم یا معلومات کو حال میں بوقت ضرورت ری۔کال کرنے کی صلاحیت، اسے آپ ماضی کے سوشل یا اکیڈمک نالج کو یاد رکھنے کی صلاحیت بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ گریجوایشن کے دس سال بعد بہت سے لوگ اپنی نصابی تعلیمات کو بھول جاتے ہیں جو ایک ڈیفیشئینسی یا عیب ہے۔

 

پراسیسنگ اسپیڈ (Processing Speed (Gs وہ استعداد ہے جو کسی سادہ ٹاسک کو بغیر کسی ٹول کے، زبانی طو پر فوراً حل کر سکے، یعنی 259 اور 259 کتنے ہوتے ہیں، تیز آدمی فوراً پہلے ڈھائی سو کو جمع کرے گا پھر نو کو اور 518 کیلکولیٹ کرلے گا، ایسے نان۔نیومیریکل معاملات بھی ہو سکتے ہیں۔

قوت فیصلہ یا Decision Speed (Gt) وہ استعدا ہے جو کسی ٹاسک یا چین آف ٹاسکس میں فوری فیصلے کر سکے، یعنی سامنے سے آتا ہوا رکشہ اگر اچانک آپ کی طرف رخ کرلے تو خطرے کو بھانپ کر فوری طور پر آپ اپنی جگہ تبدیل کر سکیں۔

علمی کمیت یا Quantitative Knowledge (Gq) وہ استعداد ہے جو شماریاتی اور میتھمیٹکل کونسیپٹس کو سمجھ سکے اور انہیں ایپلائی کر سکے۔

ستر کے قریب دیگر ایسی کوالٹیز یا سب سیکشنز ھیں جو انہی سیکشنز کے زیر اثر آتے ہیں، یہ سب کوگنیٹیو ایبلٹیز cognitive abilities ہیں جن کا سپئیرمین نے مختصر تزکرہ کیا تھا۔


جاری ہے۔۔۔ بقیہ دوسرے حصے میں

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. سلام۔
    لالہ پوسٹ کے تناظر میں ہی ایک سوال ہے کہ کیا سالانہ یا چھ ماہی امتحان ذہانت چیک کرنے کے لیے ہوتا ہے؟ جو آدمی امتحان پاس کر لے اس کو ذہین ڈیکلیئر کیا جاسکتا ہے؟
    ایک آدمی چار یا چھ سال پروفیشنل تعلیم حاصل کر کہ بزنس میں آتا ہے جبکہ شالمی مارکیٹ میں اپنے باپ دادا کی دوکان پر بیٹھا آٹھ، دس جماعتیں پاس کو اس پروفیشنل سے زیادہ بزنس کی سمجھ ہے۔ تو کیا آئی کیو یا ذہانت عملی تجربے کا نام ہے؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: