(لارنس آف عربیہ کی حقیقی داستان (حصّہ 3

0
  • 49
    Shares

گذشتہ سے پیوستہ:

 عقبہ کی مہم ابتدائی بیسویں صدی کے عظیم الشّان کارناموں میں شمار کی جاتی ہے اور فوجی کالجوں میں اب بھی اس کا مطالعہ کیا جاتا ہے، لیکن لارنس نے اس کے فوراً بعد ہی ایک شاطرانہ چال چلی جس کے نتائج کہیں زیادہ دور رس تھے۔ اپنی کارگزاری کے بارے میں قاہرہ میں مقیم برطانوی اعلیٰ قیادت کو یہ سب بتانے کے لیے تیزی سے سفر کرتے ہوئے لارنس کو پتہ چلا کہ پچھلے برطانوی سالار کو، جو عرب بغاوت کا کچھ زیادہ حامی نہیں تھا، ترکوں کے خلاف دو محاذوں پر ناکام حملوں کی پاداش میں برطرف کر دیا گیا ہے۔ اس کی جگہ آنے والے شہہ سوار فوج کے سالار کا نام ایڈمنڈ ایلن بی تھا، اور جب اس نے نحیف و نزار اور شکستہ پا لارنس کو اپنے دفتر میں طلب کیا تو اسے اپنا نیا عہدہ سنبھالنے ہوئے بمشکل دو ہفتے ہوئے تھے۔

 

اگر جنرل کے ذہن میں ایسا کوئی سوال تھا بھی کہ اس ماتحت افسر نے اپنی اسکیم کے بارے میں اپنی اعلی قیادت کو کیوں مطّلع نہیں کیا تھا تو وہ عقبہ سے آنے والی اس ذہنوں میں بجلی دوڑاتی خبر اور اس کے ممکنہ سیاسی نتائج کے نیچے دب گیا تھا۔ بجائے جواب دہی کے، لارنس نے اپنی نو حاصل کردہ اہمیّت کو کام میں لاتے ہوئے، جوان ذہن ایلن بی کو ایک تشنہء عمل ممکنہ کامیابی کے لیے راضی کرنے کا تہیّہ کر لیا۔

اپنی صحرائی مشقّت کے دوران لارنس نے صرف دو ہمراہیوں کے ساتھ دشمن کے زیر نگیں شام کا ایک قابلِ قدر مطالعاتی سفر بھی کیا تھا۔ اس نے ایلن بی کو بتایا کہ وہاں اسے یہ اندازہ ہوا ہے کہ شامیوں کی ایک بہت بڑی تعداد باغیوں سے ملنے پر آمادہ ہے۔
لارنس نے اس تباہ کن فوجی دیو کی پر فریب تصویر کشی کرتے ہوئے اپنے پہلے سے متحرّک اسلحہ بند باغیوں کی طاقت اور صلاحیتوں کو بھی بڑے مبالغے کے ساتھ بیان کیا – برطانوی فلسطین کے ساحل کی طرف پیش قدمی کریں جبکہ عرب شام کے اندرونی علاقوں میں جنگ کریں۔ جیسا کہ لارنس نے اپنی کتاب “سات ستون” میں یادوں کو تازہ کرتے ہوئے لکھا: “ایلن بی کوئی اندازہ نہیں لگا سکا کہ میں کس حد تک واقعی کارگزار تھا اور کس حد تک تیس مار خانی کا اظہار کر رہا تھا۔ یہ کشمکش اس کی آنکھوں سے عیاں تھی اور میں اسے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے بے یار و مددگار چھوڑ کر آ گیا۔ “
لیکن ایلن بی نے ہامی بھر لی، اور یہ وعدہ کر لیا کہ وہ باغیوں کو بھرپور امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو برابر کا شریکِ کار سمجھے گا۔ اس لمحے سے، لارنس کے اندازے کے مطابق، برطانوی فوج اور عرب باغی جگری یار ہو گئے، جبکہ فرانسیسوں کو ایک طرف کر دیا گیا۔ اگر باغی پہلے دمشق پہنچ جاتے تو وہ شام کو پورے کا پورا فرانس سے اچک لینے کے قابل ہوتے۔ کم از کم لارنس کی یہی امیدیں تھیں۔
***
استقبالیہ خیمے میں چائے کا دور ختم ہو جانے کے بعد شیخ العطون مجھے اپنی فور- وھیل ڈرائیو ٹویوٹا میں ایک جھانکتی ہوئی چٹان پر لے جا رہا ہے جہاں سے المدوّرۃ پوری طرح سے نظر آتا ہے۔ اس کے بیٹوں اور بھانجوں بھتیجوں میں سے پانچ مہم جوئی کی غرض سے ٹویوٹا کے کھلے فرش پر پیچھے کھڑے ہوئے ہیں – اور کم کم کامیابی کے ساتھ – کوشش کر رہے ہیں کہ بد مست گاڑی کی اٹھا پٹخ کی وجہ سے ان کے قدم نہ لڑکھڑائیں۔
پہاڑی کی چوٹی پر حلقہ بنائے ان خندقوں کے آثار ہیں جہاں سے ترکوں نے قصبے پر ہونے والے برطانوی حملوں کا تواتر کے ساتھ منہ توڑ جواب دیا تھا۔ “بکتر بند گاڑیوں اور ہوائی جہازوں کے ہوتے ہوئے بھی برطانویوں کا شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا”، شیخ کہہ رہاتھا۔ “ترک واقعی بہت بہادر جنگجو تھے۔ “
العطون کے الفاظ اس جذباتی پیچیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں جو پہلی جنگ عظیم اور عرب انقلاب نے عرب دنیا کے اس خطّے میں پیدا کر دی ہے: اپنے عثمانی حاکموں کو 400 سال کی برتری کے بعد اٹھا پھینکنے کا فخر ایک طرف، اور ان کی جگہ لینے والی صورتحال کی دائمی یاس دوسری طرف۔ شیخ تقریباً دس میل کے فاصلے پر واقع سفیدی کیے ہوئے مکانوں کے ایک جھنڈ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
“وہ سعودی عرب ہے۔ وہاں میرے خاندان کے لوگ اور میرے دوست ہیں، لیکن اگر میں ان سے ملنا چاہوں – یا وہ مجھے ملنے آنا چاہیں — تو ہم کو ویزا لینا پڑے گا اور کسٹم کروانا ہوگا۔ کیوں؟ ایسا کیوں ہے؟ ہم ایک وحدت ہیں، عرب، اور ہم کو ایک قوم ہونا چاہیے۔ اس کی جگہ جانتے ہو ہمیں کتنا بانٹا گیا ہے — 22، کتنا؟ 22 مختلف ممالک میں۔ یہ غلط بات ہے۔ ہم سب کو ایک ہونا چاہیے”۔
شیخ العطون بجا طور پر اس صورتحال کی ذمّہ داری اس امن پر ڈالتا ہے جو پہلی جنگ عظیم کے ختم ہونے پر سامراجی طقتوں نے اس علاقے پر تھوپا تھا، وہ امن جس سے اس علاقے کو بچانے کی لارنس نے اپنی بھرپور طاقت سے جد و جہد کی۔
جنوبی فلسطین میں ترکوں کی صفوں میں دراڑیں ڈالنے، اور دسمبر 1917 میں یروشلم کو ہتھیا لینے سے قطع نظر، برطانوی فوج کی کاروائیاں اس وقت تقریباً رک گئیں جب ایلن بی کی فوجوں کو مغربی محاذوں پر منتقل کر دیا گیا۔ عربوں کے نئے صدر مقام عقبہ سے کارروائیاں کرتے ہوئے لارنس نے ریلوے کے خلاف اور بحیرہ مردار کے مغرب میں واقع پہاڑی سلسلوں میں اپنے حملے جاری رکھے، لیکن یہ کسی طور وہ عظیم مفلوج کر دینے والا دھاوا نہیں تھا جس کی لارنس نے منصوبہ بندی کی تھی۔ جنگ کی یہ ڈھلمل کیفیت 1918 کے پورے موسمِ گرما میں قائم رہی۔

لیکن اس دوران لارنس کے ساتھ ایک سانحہ ہوا۔ نومبر 1917 میں جب وہ ایک لائحہ عمل کے اعتبار سے اہم ریلوے سے منسلک قصبے درعا کی مطالعاتی مہم پر تھا، تو کچھ دنوں کے لیے ترکوں نے اسے قیدی بنا لیا، اور اذیتیں دیں۔ اور زیادہ تر شہادتیں کہتی ہیں کہ مقامی ترک گورنر کے ہاتھوں اس کے ساتھ بد کاری بھی کی گئی۔ جب کسی طرح فرار ہو کر وہ دوبارہ باغیوں کے درمیان پہنچا، تو ایک زیادہ سخت گیر، بلکہ سفّاک لارنس سامنے آنے لگا۔
گو لارنس کے ساتھ درعا میں پیش آنے والے سانحے کو لین کی فلم میں بہت ڈھکے چھپے انداز میں دکھایا گیا ہے، لیکن اس معاملے کا جو پہلو بڑی معقولیت سے دکھایا گیا ہے وہ لارنس کا بتدریج توازن سے ہٹنا ہے۔ کچھ معرکوں میں لارنس نے اپنے ماتحتوں کو حکم دیا کہ کسی کو قید کرنے کا تکلّف نہ کیا جائے، یا ایسے لوگوں کو جن کو ان کے زخموں کی شدّت کی وجہ سے ساتھ لے جانا ممکن نہ ہو، ان کی اذیّت سے نجات دلانے کے لیے، سہولت سےموت کے گھاٹ اتارنے کا اہتمام کیا جائے۔ بعض مواقع پر اس نے ایسے خطرات مول لیے جن کو خودکشی کے قریب کہا جا سکتا ہے۔ ترکی کے دستے کو لے جانے والی ایک ٹرین پر اس نے اتنے کم اسلحہ کے ساتھ حملہ کیا کہ اس کے کچھ ساتھیوں کے ہاتھوں میں دشمن پر پھینکنے کے لیے صرف پتھر ہی تھے۔
اگر اس رویّے کی جڑ درعا کا واقعہ تھا تو بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ اہنے اس مضطرب کن ایقان کے ہاتھوں میں کھیل رہا تھا کہ اگر عرب دمشق پہلے پہنچ جائیں تو اس کے عرب پہنچنے کے بعد بولے جانے والے تمام جھوٹ، اور تمام مجرمانہ راز کسی طور سے جائز قرار پا جائیں گے۔

***
اردن کے بکھرے بکھرے سے سرحدی قصبے رمثا سے نکلنے والی ہر سڑک پر ایک دلچسپ صورتحال نظر آتی ہے: تین چار منزلہ محل جیسے مکان جو چاردیواری سے گھرے باغوں کے درمیان بنائے گیے ہیں۔ “اسمگلر”؛ رمثا کی ایک مرکزی سڑک پر واقع ایک چھوٹی سی ریفرشمنٹ کی دکان کا مالک وضاحت کرتا ہے۔ وہ تقریباً نصف میل کے فاصلے پر شام کی سرحد میں داخل ہوتی سڑک کی سمت اشارہ کرتا ہے۔ “ڈیڑھ سال سے سرحد سرکاری طور پر بند ہے، تو اس طرح سے خوب دولت بنائی جارہی ہے۔ وہ لوگ ہر چیز پار لے جاتے ہیں – اسلحہ، دوائیں، خوردنی تیل، جو کچھ بھی آپ کے دھیان میں آئے۔ “
اس سرحد کے چھ میل پرے شام کا شہر درعا ہے، وہ شہر جہاں سے شام کی موجودہ خانہ جنگی کا آغاز ہوا، اور جہاں سو سال پہلے لارنس کو کچھ دن قید میں رکھا گیا تھا۔ اب ہر لحاظ سے درعا خود اپنا شکستہ خول بن چکا ہے، اسکی گلیاں کھنڈر ہو چکی ہیں اور آبادی کی بہت بڑی تعداد جا چکی ہے۔ بہت سے لوگ عمان کے شمال میں بنائے گئے الزعتري کے بے ہنگم مہاجر کیمپ تک جا پہنچے، یا پھر یہاں رمثا۔
“اب یہاں ساری دکانیں شامی چلا رہے ہیں”، رمثا کے دکاندار نے تجارتی راستے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ “انہوں نے ہر چیز پر قبضہ کر لیا ہے”۔ نئے آنے والوں کے بارے میں اس کی شکایت ساری دنیا میں ہجرت کرنے والوں کے بارے میں شکایات کی باز گشت ہے: یہی کہ وہ مقامی افراد کی ملازمتوں پر قبضہ کر لیتے ہیں، ان کی وجہ سے مکانوں کے کرائے آسمان کو چھونے لگتے ہیں، وغیرہ۔ “میں نہیں جانتا کہ ابھی چیزیں اور کتنی خرابی کی طرف جائیں گی”، وہ ایک لمبی سسکی بھرتے ہوئے کہہ رہا ہے، “لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ جب تک وہاں جنگ ختم نہیں ہوگی، کوئی بہتری نہیں ہو گی”۔
رمثا کے 15 میل مغرب میں امّ القیس کے قدیم یونانی – رومی کھنڈر ایک بڑھی ہوئی چٹان پر واقع ہیں۔ جب مطلع صاف ہو تو شمال میں جولان کی پہاڑیوں اور گلیلی کے سمندر تک بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن پہلی جنگ عظیم کے آخری دنوں میں امّ القیس کو ان دور دراز مقامات کو دیکھ سکنے کے سبب اہمیت حاصل نہیں ہوئی تھی، یہ جینے مرنے جیسی اسٹریٹیجک اہمیّت اسے بالکل نیچے واقع وادیِ یرموک کے سبب حاصل ہوئی تھی۔
جب جنرل ایلن بی نے ستمبر 1918 کے آخر میں ترکوں کو فلسطین میں ایک بھرپور جنگ میں الجھایا تو یہ الجھاؤ جلد ہی ایک بھگڈر میں منتج ہوا۔ ترکوں کے پاس فرار کا واحد راستہ اب یرموک سے ہوتے ہوئے اوپر درعا کے ریلوے اسٹیشن کا تھا۔ لیکن جب وہ وادی سے چڑھ کر وہاں پہنچتے تو لارنس اور ہزاروں عرب باغی سپاہی انہیں اپنے منتظر ملتے۔ درعا کے واقعے کے ایک سال بعد لارنس اس جگہ لوٹ آیا تھا جہاں اسے شدید اذیّتیں بھگتنی پڑی تھیں، اور اب وہ ایک دہشتناک انتقام لینا چاہتا تھا۔
***

کسی زمانے میں ازرق کا 2000 سال پرانا قلعہ، ایک 60 فیٹ کی سنگی عمارت، مشرقی اردن کے صحرا میں ایک دیو کی مانند ایستادہ تھا۔ اس کی اوپری منزلیں اور جنگی برج 1927 میں ایک بڑے زلزلے کے نتیجے میں زمیں بوس ہو گئے، لیکن عمارت اب بھی اتنی متاثّر کن ہے کہ کبھی کبھار 50 میل مغرب میں واقع عمان کی کسی سیّاحوں کی بس کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ یہاں سب سے پہلے سیّاحوں کو جو جگہ دکھائی جاتی ہے وہ جنوبی ٹاور پر، جو ابھی بھی سلامت ہے، واقع ایک کمرہ ہے، جس کا تعارف “لارنس کا کمرہ” کہہ کر کروایا جاتا ہے۔
یہ ایک نیچی چھت والا کمرہ ہے، ٹھنڈا اور کسی حد تک سیلن والا، پتھروں کا فرش، تنگ کھڑکیاں، جن سے چاروں طرف محیط صحرا کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ کمرہ ایک پناہ گاہ کا احساس دلاتا ہے، اور در حقیقت، لارنس نے 60 میل دور درعا میں اس ناخوشگوار واقعے کے بعد یہیں اپنے آپ کو بحال کیا تھا۔ اور یہی وہ جگہ بھی ہے جہاں پہلی جنگ عظیم کے نقطہء عروج پر اس نے شام کے اندر ترک افواج پر ایک بہت بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

اس حملے کو فلسطین میں ایلن بی کی افواج کے شمال میں ترکوں کا صفایا کر دینے والے حملے کے ساتھ مربوط کیا جانا تھا۔ لارنس کا نصب العین یہ تھا کہ ترکوں کی پسپائی کی راہ کو اس کے نازک ترین مقام پر کاٹ دیا جائے: یعنی درعا کا ریلوے جنکشن۔ 19 ستمبر 1918 کی صبح لارنس اور اس کے ساتھیوں نے ازرق کے قلعے سے نکل کر اس قصبے کی طرف پھیلنا شروع کر دیا جہاں لارنس کو اذیّتیں دی گئی تھیں۔
27 ستمبر کو طفاس گاؤں پہنچنے پر، جہاں فرار ہوتے ہوئے ترکوں نے وہاں رہنے والوں کا قتل عام کیا تھا، لارنس نے اپنے آدمیوں کو حکم جاری کیا “کوئی رعایت نہ کی جائے۔ ” سارا دن باغی 4000 فوجیوں کے ایک پسپا ہوتے لشکر کے سپاہیوں کو جستہ جستہ پکڑتے اور جو ملتا اسے قتل کرتے رہے، لیکن جب لارنس نے اس سہ پہر صورتحال کا جائزہ لیا تو اسے پتا چلا کہ اس کے ایک دستے تک اس کا یہ حکم نہیں پہنچا تھا، اور انہوں نے 250 ترکوں اور جرمنوں کو قیدی بنا لیا تھا۔ “ہم نے اپنے گرم بوسے (مشین گن) کا رخ قیدیوں کی سمت پھیرا”، اس نے اپنی میدانِ جنگ کی رپورٹ میں درج کیا، “اور ان کا خاتمہ کر دیا۔ ” اس دن کے بارے میں لارنس نے اپنی کتاب “سات ستون” میں زیادہ وضاحت کی ہے۔ “طفاس کی دہشت سے جنم لینے والے پاگل پن میں ہم قتل کرتے گئے اور کرتے گئے، یہاں تک کہ گرے ہوئے لوگوں کے سروں میں بھی گولیاں داغیں اور جانوروں کے بھی، جیسے کہ ان کی موت اور اچھلتا ہوا خون ہمارے کرب کا مداوا بن جائے گا۔ “
بھاگم بھاگ دمشق پہنچ کر لارنس نے فوراً ایک عبوری عرب حکومت تشکیل دے دی جس کا سربراہ فیصل تھا۔ لیکن جب دو دن بعد ایلن بی دمشق پہنچا تو اس نے لارنس اور فیصل کو وکٹوریہ ہوٹل طلب کیا اور ان کو آگاہ کیا کہ سائکس – پیکو میں درج خاکے کے مطابق اس شہر کو فرانسیسی انتظامیہ کی عملداری میں دیا جائے گا۔ دل شکستہ فیصل کے کمرہ چھوڑنے سے پہلے ہی لارنس نے ایلن بی سے التجا کی کہ اسے اس کی فوجی رہنمائی کی ذمّہ داریوں سے فوری طور پر سبکدوش کر دیا جائے۔
لیکن لارنس کی لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ یورپ میں جنگ ختم ہونے جا رہی تھی، اس لیے لارنس جلد ہی پیرس میں منعقد کی جانے والی امن کانفرنس میں عربوں کے مفاد کو سلامت رکھنے کی غرض سے جلد از جلد لندن پہنچا۔ کانفرنس میں فیصل کے ذاتی نمائندے کی حیثیت سے اس نے شریک وزرائے اعظم اور صدور وغیرہ کو اس بات پر قائل کرنے کی دیوانہ وار کوشش کی کہ عربوں سے کیے گئے وعدوں کا پاس کیا جائے، اور سائکس – پیکو کے خاکے پر عملدرآمد سے احتراز کیا جائے۔ اس اسکیم کے مطابق “عظیم تر” شام کو چار سیاسی وحدتیں میں تقسیم کیا جانا تھا — فلسطین، اردن، لبنان اور شام – جن میں سے فلسطین اور اردن برطانیہ کو ملنے تھے اور لبنان اور شام فرانس کو۔ عراق کے بارے میں برطانیہ نے پہلے تو یہ سوچا تھا کہ وہ صرف اس کے تیل سے مالامال جنوبی علاقوں کو ہی اپنے پاس رکھے گا، مگر شمال میں مزید تیل کی دریافت کے بعد اب وہ پورے عراق کو اپنی گرفت میں رکھنے کا خواہاں تھا۔
لارنس اتحادیوں سے جہاں بھی مل سکتا تھا ملتا رہا۔ یقیناً ان میں سب سے اہم خائم وائزمن تھا، جو انگریز صیہونیوں کی تنظیم کا سربراہ تھا۔ جنوری 1919 میں امن کانفرنس کے موقع پر لارنس فیصل اور وائزمین کے درمیان ایک معاہدے کو بارآور کرنے میں کامیاب ہو چلا تھا۔ فیصل کے زیرنگیں شام کے لیے صیہونیوں کی حمایت کے صلے میں فیصل کو یہودیوں کی فلسطین میں بڑے پیمانے پر ہجرت کی حمایت کرنی تھی، جو ڈھکے چھپے انداز علاقے میں مستقبل کی ایک یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ اس سمجھوتے کو جلد ہی فرانسیسیوں نے خاک میں ملا دیا۔
لیکن اس ضمن میں سب سے تیکھی چیز امریکیوں کا اس معاملے میں کودنا تھا۔ پیرس میں اپنے یورپی ساتھیوں کی سامراجی اسکیموں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے، صدر ووڈرو ولسن نے ایک حقائق کی چھان بین کرنے والا کمیشن مشرق وسطیٰ بھیجا۔ تین ماہ تک یہ کنگ –کرین کمیشن شام، لبنان اور فلسطین میں پھرتا رہا اور جو انہوں نے وہاں کے لوگوں سے سنا وہ دو ٹوک الفاظ میں یہ تھا: ہر لسانی اور مذہبی گروہ کی اکثریت خودمختاری چاہتی تھی، بصورتِ دیگرامریکہ کی حکومت۔ ولسن بہرحال امریکہ کے جھنجھٹوں کو بڑھنے کی جگہ دوسروں کو یہ بتانے کا زیادہ خواہاں تھا کہ ان کو کیا کرنا چاہیے۔ جب یہ کمیشن اپنی سکون برباد کرنے والی یافت کے ساتھ پیرس لوٹا تو اس کی رپورٹ کو سیدھے سادے طریقے سے بالائے طاق رکھ دیا گیا۔

لارنس کی ان کوششوں نے ایک عجیب ظالمانہ اور افسوسناک صورتحال پیدا کر دی۔ جہاں برطانیہ میں اس کو، امریکی صحافی لوویل تھامس کے ایک دلکش لیکچر شو کے حوالے سے جو وہ لارنس کے محیّر العقول کارناموں کے بارے میں کر رہا تھا، لگ بھگ ایک دیوتا سمجھا جا رہا تھا، وہیں برطانوی سرکاری حلقوں کی نظر میں اس کی ایک ایسے دشمن کی حیثیت روز بروز بڑھتی جا رہی تھی جس کی بیہودگیاں فاتح برطانیہ اور فرانس کے درمیان مال غنیمت بانٹنے میں رکاوٹ پیدا کر رہی تھیں۔ آخر کار عملاً اس سرکش لیفٹیننٹ کرنل کو امن کانفرنس میں جانے سے اور فیصل سے مزید کوئی رابطہ کرنے سے موثّر طور پر روک دیا گیا۔ اب سامراجی یکجہتی کی راہ ہموار تھی – اور فریب کاری – واضح۔
نتائج بہت جلدی سامنے آ گئے۔ ایک سال کے اندر اندر، مشرق وسطیٰ کے زیادہ تر حصّے میں عرب دنیا کے نام پر ایک آگ لگ گئی تھی، عربوں نے اس بات پر سخت برہم ہو کر بغاوت کر دی تھی کہ ان کے عثمانی آقاؤں کی جگہ یورپیوں نے لے لی تھی۔ لارنس نے عراق کے بارے میں بطور خاص پیش بینی کا مظاہرہ کیا تھا۔ 1919 میں اس نے وہاں برطانوی حکمرانی کے خلاف مارچ 1920 تک بھرپور بغاوت کی پیشگوئی کی تھی – “اگر ہم نے اپنے طور طریقے نہ بدلے تو۔ ” مئی 1920 کی آزادی طلبی کا نتیجہ 10000 کے لگ بھگ افراد کی موت کی شکل میں ظاہر ہوا جن میں سے 1000 برطانوی سپاہی اور حکّام تھے۔
اس ہزیمت سے نمٹنے کی ذمّہ داری برطانوی نو آبادیوں کے سیکریٹری ونسٹن چرچل کو سونپی گئی، جس نے اسی شخص سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا جس کا انتباہ بے رخی سے ٹھکرا دیا گیا تھا: ٹی ای لارنس۔ 1921 کی قاہرہ کانفرنس میں لارنس نے کچھ غلطیوں کو درست کرنے میں مدد کی۔ نتیجتاً مستقبل قریب میں فیصل کو، جسے فرانسیسیوں نے شام سے معزول کر دیا تھا، برطانیہ کے زیر انتظام عراق کا بادشاہ بنایا جانا تھا۔ برطانیہ کی بفر ریاست ٹرانس اردن میں ایک نئی قوم کی تشکیل کی جانی تھی، جس کا سربراہ فیصل کے بھائی عبد اللہ کو بنایا جانا تھا۔

بہرحال، ایک متحد عرب قوم کا امکان اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا تھا۔ ساتھ ہی لارنس کے اندر موجود جد و جہد کی عادی روح، اور قیادت کی خواہش بھی تحلیل ہو چکی تھی۔ جب اس کا چرچل کے ساتھ اشتراکِ عمل ختم ہوا تو اس نے قانونی طور پر اپنا نام بدل لیا اور برطانوی فوج کو درخواست دی کہ اسے دوبارہ ایک سراغرساں کے طور پر ملازمت میں رکھ لیا جائے۔ جیسا کہ اس نے ایک دوست کو بتایا کہ اب وہ کبھی کوئی ذمّہ داری نہیں سنبھالنا چاہتا۔

۔۔۔جاری ہے۔۔۔

پہلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

دوسری قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: