داستان گو — قسط نمبر 10 — ادریس آزاد

0
  • 132
    Shares

اُلیون عجب سیّارہ تھا۔ یہاں کی تمام آبادی ہمیشہ انہی لوگوں پر مشتمل ہوتی جو تازہ تازہ جگائے گئے ہوتے اور جن کا پرسنٹیج ساٹھ سے اُوپر ہوتا۔ اُلیون پر تربیت کا نظام خودکار تھا۔ ہرکوئی ہرکسی سے سیکھتاتھا۔چونکہ یہاں کی ساری آبادی ہی پرسنٹیج میں ساٹھ سے اُوپر تھی اس لیے تمام لوگ وہی تھے جن میں صبر، تحمل، برداشت، استقامت، محبت، اخوّت اور رواداری پہلے سے ہی موجود ہوتے۔اس لیے اس سیّارے پر کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ اس سب کے باوجود سڈرہ کمیونٹی کی انتظامیہ سیّارہ اُلیون پر نظررکھتی اور کسی بھی قسم کے حالات میں ہمیشہ لوگوں کی مدد کر تی تھی۔اُلیون پر موجود لوگ چونکہ سب کے سب نئے نئے جگائے گئے ہوتے اس لیے ہرکوئی زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتا۔ چنانچہ لوگ ہمہ وقت سیکھنے کے عمل میں مصروف رہتے۔ جگہ جگہ ’’استادخانے‘‘ بنے ہوئے تھےجہاں تجربہ کار اساتذہ گاؤ تکیے لگائے بیٹھے ہوتے اورلوگ جوق درجوق ان کے پاس آتے، ان کی باتیں سنتے، اُن سے سوال کرتے اور اپنے علم اور تجسس کی پیاس بجھاتے۔
آج ایسا ہی ایک’’استادخانہ‘‘ قدرے غیر معمولی طور پر آباد تھا۔یہ شاہ حسین کی حویلی تھی۔تمام اہل ِ محفل حیرت بھری نگاہوں کے ساتھ اُس بزرگ کی طرف دیکھ رہے تھے جو ٹھہر ٹھہر کر بات کررہا تھا اور اُس کی زبان سے نکلنے والا ہر ہر لفظ سیدھا حاضرین محفل کے دلوں میں اُترتا جارہا تھا۔سب لوگوں کے چہروں پر بے پناہ تجسس تھا۔ وہ اجنبی مہمان کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کردیکھ رہے تھے۔ شاہ حسین کی حویلی میں آج یہ شخص پہلی بار آیا تھا۔یہی وجہ تھی کہ آج یہاں لوگوں کا زیادہ بڑا ہجوم اکھٹا ہوگیا تھا۔یہ پاکستانی کمیونٹی تھی۔ سیّارہ اُلیون پر موجود پاکستانی کبھی کبھار کہیں نہ کہیں اکھٹے ہوجایا کرتے تھے۔ سفید ریش اجنبی کہہ رہا تھا،
”پاکستان میں جمہوریت کی کامیابی کا خواب دیکھنا منطقی طور پر درست نہیں تھا۔ اوّل تو پورے مشرق کا مزاج جمہوریت سے میل نہیں کھاتا تھا۔ جمہوریت نے مغربی ملکوں میں جنم لیا تھا اور اِس کے تمام اصول و ضوابط اور لوازمات مغرب سے ہی درآمد شدہ تھے۔ پاکستان ہوتا یا کوئی بھی دوسرا مشرقی ملک، ان علاقوں میں جمہوریت کا پنپنا اُس پودے کی طرح سے تھا جو کسی اور سرزمین کی آب و ہوا میں پروان چڑھتا ہو، مگر اُس کو کسی دوسرے خطے کی زمین میں لگانے کی کوشش کی جائے“
یہ شاہ حسین کی کشادہ حویلی کا لان تھا، جہاں اتنے سارے لوگ اُس بزرگ کی باتیں نہایت انہماک سے بیٹھے سن رہے تھے۔ شاہ حسین خود اونچی نشست پر اُس بزرگ کے پہلو میں براجمان تھا۔ شاہ حسین کے ساتھ دائیں طرف ایک خوشنما مسند پر مادُھو لال فقیر گاؤ تکیہ لگائے بیٹھا، پورے انہماک سے اُس بزرگ شخص کی باتیں سن رہا تھا۔
شاہ حسین اورمادُھو لال کی شہرت، شاعری اور علم و حکمت کے حوالے سے دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ بعض لوگ اُنہیں اُلیون کے بڑے داناؤں میں شمار کرتے تھے۔اُلیون پر موجود بڑے بڑے علمائے ریاضی، سائنس دان، فلسفی اورماہرین ِ علوم ِ مختلفہ شاہ حسین اور مادُھو لال کی شاعری اور تبحرِ علمی کا لوہا مانتے تھے۔ لوگ دور دور سے آتے، شاہ حسین سے سوالات کرتے اور مطمئن ہوکر واپس جاتے تھے۔شاہ حسین سے علم حاصل کرنے کے لیے آنے والوں کی تعداد سنبھالے نہ سنبھلتی تھی۔ اُس کے شاگردوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ وہ جب بھی اپنی حویلی سے نکلتا تو اُس کے چاہنے والوں کا ہجوم اُس کا راستہ روک لیتا تھا۔
لیکن آج شاہ حسین کی حویلی میں ایک عجب آدمی آیا بیٹھا تھا۔ یہ ایک سفید ریش بزرگ تھا۔بزرگ مہمان کے پیروں میں جوتے نہ دیکھ کر شارق اور ماریہ کو اچھنبا سا محسوس ہوا۔اُس کے جسم پر سفید پوشاک تھی جبکہ وہ سر سے ننا تھا۔گھنگریالی داڑھی والا یہ بزرگ ساٹھ کے پیٹے میں تھا۔بزرگ کہہ رہا تھا،
”جمہوریت جسے تم لوگ آزادی کی نیلم پری سمجھتے تھےبظاہر نہایت خوبصورت نظام تھا۔ جس میں لوگوں کی قدروقیمت اور عام شہری کی اہمیت اجاگر ہوتی تھی۔ مگر فی الحقیقت ایسا نہیں تھا۔ یہ نظام طاغوت کا بچھایا ہوا وہ جال تھا جس میں پھنسنے والے پرندے، قیدی ہوکر بھی راگ الاپتے رہتے تھے کہ’شکاری آئے گا، جال بچھائے گا، دانہ ڈالے گا، ہم کو پھنسائے گا، ہم نہ پھنسیں گے‘‘۔ کسی بھی قوم کی اپنی روایات اور اقدار ہوتی ہیں۔ جمہوریت اُن اقدار کو پامال کرنے اور اُن روایات کو مسخ کرنے کا باعث بنتی تھی۔ کسی بھی جمہوری ملک میں، آپ عوام کے رجحانات کو تبدیل کرکے نئے رجحانات پیدا کرسکتے ہیں اور جب نئے رجحانات متعارف ہوجائیں تو آپ جمہوریت کے ذریعے اُنہیں نہ صرف تسلیم کروا سکتے ہیں بلکہ گزشتہ رجحانات سے بآسانی چھٹکارا بھی حاصل کرسکتے ہیں“
بزرگ سانس لینے کے لیے رُکا تو مادھو لال نے سوال کردیا،
”رجحانات سے آپ کی کیا مراد ہے استادِ محترم؟………. کیا آپ مجموعی معاشرتی رویوں کو رجحانات کہہ رہے ہو؟“
مادُھولال کی بات کے ساتھ شاہ حسین کے شاگردوں اور دیگر مجمع نے بھی سرہلایا، جیسے وہ بھی جاننا چاہتے ہوں کہ رجحانات سے اجنبی بزرگ کی کیا مراد ہے۔ سفیدریش بزرگ نے کہا،
’’معاشرتی رجحانات سے میری مراد ثقافتی اقدار ہیں۔ یہ اقدار کسی بھی قوم کی اصل شناخت ہوا کرتی تھیں لیکن اگر اُسی قوم میں جمہوریت نافذ کردی گئی تو ایسی تمام اقدار کو ختم ہونے میں دیر نہ لگی۔بالفاظِ دگر اُس قوم کی انفرادیت کو ختم ہونے میں دیر نہ لگی۔جمہوریت ایک ایسا نظام تھا جس کی فطرت میں یہ بات موجود تھی کہ عامۃ الناس کی رائے کوہی کلیہ اور قانون قرار دے۔جبکہ دنیا میں عامۃ الناس کی رائے بدلنے سے آسان کام کوئی نہیں۔عام لوگوں کی رائے تو ایک پتے کی پھڑپھڑاہٹ سے بھی بدل سکتی ہے۔ ایسی غیر مستحکم شئے کو کسی اُصول کا معیار مان لینا کیسے منطقی ہوسکتاہے؟ اور ؎؎پھر جب عام آدمی کی رائے تارِ عنکبوت جتنی نازک تھی تو پھر میڈیا یا کسی بھی سرمایہ دار کے لیے عوام کی رائے کو اپنے حق میں کرنا کیونکر مشکل رہا ہوگا؟ جب عوامی رائے سے اُصول بننے لگے تو سابقہ اُصول رد کردیے کیے جانے لگے اور یوں اقوام میں اُن کی ثقافتی اقدار فقط جمہوریت کی موجودگی کی وجہ سے مفقود ہوگئیں۔ دوسرے الفاظ میں اقوام کی شناخت ہی مفقود ہوگئی‘‘
سفید ریش شخص کی باتوں میں توانائی تھی۔شاہ حسین اور مادُھو لال نے تائیدی انداز میں سرہلائے۔ مجمع نے بھی تحسین آمیز انداز میں اجنبی مہمان کو داد دی۔ معاً ماریہ کے ذہن میں کوئی خیال آیا اور اس نے مجمع میں سب سےپہلے ہاتھ کھڑا کردیا۔ سفید ریش بزرگ نے ماریہ کی جانب مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھا اور کہا،
’’جی بیٹا! آپ کے ذہن میں سوال ہے کوئی؟‘‘
ماریہ اپنی جگہ پر اُٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ اس نے کہا،
’’میرا سوال آپ کی شخصیت سے متعلق ہے۔ ہم نے اپنے دورمیں آپ کا نام سنا تھا۔ آپ کو بہت بڑا صوفی درویش سمجھا جاتاتھا۔ آپ اگر آسانی محسوس کریں تو ہمیں اپنے بارے میں بتائیں۔یہ میری ذاتی خواہش ہے۔ باقی لوگوں سے بھی پوچھ لیا جائے‘‘
ماریہ کی بات ختم ہونے کی دیر تھی کہ سب لوگوں نے بہ آواز بلند کہنا شروع کردیا،
’’جی ہاں ! جی ہاں! ہم آپ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں حضور!‘‘
اور پھر اجنبی مہمان اپنا تعارف کروانے لگا،
’’میرا نام جلال الدین ہے۔ میں اپنے وقت کے فارس کا رہنے والا ہوں۔ آپ میں سے کچھ ل لوگ شاید مجھے ’رُومی‘کے نام سے جانتے ہوں۔ میں بھی شاہ حسین کی طرح ایک شاعر تھا۔سوچتاہوں، وہیں واپس کیوں آگیا جہاں سے جانے کی اتنی بے تابی اور تڑپ تھی۔یہ جنون ہے جو مجھے اِس نئے زمانے میں بھی چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔مجھے اُس ہستی کی تلاش ہے جس نے مجھے اتنے جہانوں سے گزارا اور رُومی بنایا۔وہ ضرور کوئی جیتی جاگتی، حیّ و قیوم ہستی ہے۔ میں جب جب اسے ڈھونڈنے نکلا وہ مجھے اپنے ہی اندر سے پھوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔اِس نئے زمانے میں ایک بات سوچ کر بہت خوش ہوتاہوں کہ شکر ہے، میں اُسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود نہیں کھو گیا۔ میں ابھی تک اپنی انفرادی شناخت کے ساتھ موجود ہوں اور پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ اُسے اپنے ہی اندر سے پھوٹتاہوا محسوس کرتاہوں‘‘
************
پروفیسر ولسن کی ٹیم کو روانہ کردیا گیا تھا۔یہ لوگ اب پورے ایک سال اور چار ماہ بعد سیّارہ زمین پر پہنچنے والے تھے۔ انہوں نے اپنی شِپ میں واپس جانے کا فیصلہ کرکے دراصل زمین تک پہنچنے کا لمبا راستہ چُنا تھا۔ دانش اور ایلس اُن کے ساتھ نہ گئے تھے۔ ڈاکٹر بوسٹن اور ڈاکٹر کیمیلا بھی نہیں جانا چاہتے تھے لیکن پروفیسر ولسن کے اصرار پر وہ تیار ہوگئے۔ روانگی کے وقت انیتا بہت خوش تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ اس طرح شاید وہ اکیسویں صدی میں واپس جاپہنچیں گے۔ حالانکہ سڈرہ کمیونٹی کی حقیقت اس کے سامنے تھی۔ اس نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا لیکن وہ پھر بھی یہی سوچتی تھی کہ یہ سب کچھ کوئی خواب ہوگا۔ یہ سب کچھ کوئی سپنا ہوگااور وہ جونہی واپس اپنی شِپ میں پہنچے گی تو یہ سپنا ٹوٹ جائے گا۔
سڈرہ کمیونٹی کی طرف سے دانش اور ایلس کو اُن کے فیصلہ کرنے سے پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی بیٹی کے ساتھ سیّارہ پائرہ پر رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اُنہیں کم سے کم تربیت کے ایک مرحلہ سے گزرنا ہوگا۔نائتلون نے انہیں الگ الگ لیٹرز دیے تھے۔ دانش اور ایلس دونوں کے لیے الگ الگ کاغذی دستاویزات تھیں۔ تربیت کی مدت، تربیت کے مراحل، تربیت کے مقاصد،یہاں تک کہ تربیت میں پیش آنے والی مشکلات تک کا تفصیلی ذکر ان دستاویزات میں تھا۔ساتھ میں یہ وضاحت جابجا کی گئی تھی کہ سڈرہ کمیونٹی اور سیّارہ پائرہ کے نظامِ امن و استحکام کے لیے کسی بھی باشندے کا ’’تربیت ِتحمل‘‘ کا حامل ہونا ضروری تھا۔ اور اس طرح دانش اور ایلس کو ان کی بیٹی کے ساتھ رہنے کی اجازت دی گئی۔ دراصل دانش اور ایلس چونکہ ابھی اپنی پہلی زندگی جی رہے تھے اس لیے مائمل اور دوسرے بڑوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا تھا کہ اُنہیں کہاں رکھا جائے۔وہ اپنی بیٹی کے ساتھ رہنا چاہتے تھے جبکہ ان کی بیٹی ’’چڑیا‘‘ تو سیّارہ پائرہ پر ’’مدرشفلا‘‘ کے ساتھ مقیم تھی۔ظاہر ہے کوئی بھی یہ نہ چاہتا تھا کہ معصوم چڑیا کو اُس کے والدین کی وجہ سے مدرشفلا سے جدا کردیا جاتا۔ چنانچہ یہی فیصلہ ہوا کہ دانش اور ایلس بھی پائرہ پر ہی رہیں گے۔سڈرہ کمیونٹی کی مجلسِ شوریٰ کا خیال تھا کہ یہ ایک خطرناک فیصلہ ہے کیونکہ دانش اور ایلس ابھی پرسنٹیج کے مرحلہ سے نہیں گزرے تھے۔ ولسما چاہتا تو دانش اور ایلس کا پرسنٹیج جانچ سکتا تھا۔لیکن کسی ایسے شخص کا پرسنٹیج جانچنا قاعدے کے خلاف تھا جو ابھی پہلی بار بھی فوت نہ ہوا ہو۔یہی وجہ تھی کہ پائرہ جیسے پرامن سیّارے پر ان دونوں کی موجودگی خدشات کا پیش خیمہ ہوسکتی تھی۔ اگر ان کی طبیعتوں میں ’’شَر‘‘ موجود ہوتا تووہ پائرہ کی فضا کو خراب کرنے کا باعث بن سکتے تھے۔ دانش اور ایلس کے مسئلہ پر سڈرہ کی مجلسِ شوریٰ میں ایک طویل میٹنگ ہوئی۔ مائمل بھی اِس حق میں نہیں تھی کہ دانش اور ایلس کو پائرہ پر رکھا جاتا۔ مائمل کا تجربہ کہتا تھا کہ دانش کو تو پائرہ پر قیام کی اجازت دی جاسکتی ہے لیکن ایلس چونکہ ماں ہے اور اکیسوی صدی کی ماں ہے لہذا اُس کی طبیعت میں ’’شَر‘‘ کی موجودگی کے زیادہ امکانات ہیں۔بالآخر مجلسِ شوریٰ کے پچیس ارکان نے حسبِ معمول مائمل کی صوابدید پرچھوڑ دیاکہ وہ جو بھی فیصلہ کرے، قابلِ قبول ہوگا۔ مائمل نے اپنے فیصلے کا اختیاردوبارہ مجلسِ شوریٰ کی طرف لوٹادیا۔ ایسی صورت میں انتخاب کا طریقہ اختیار کیا جاتاتھا اور یوں مجلسِ شوریٰ کے پچیس ارکان نے انتخاب کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا۔یہ دانش اور ایلس کی خوش قسمتی تھی کہ تیرہ ارکان نے دانش اور ایلس کو پائرہ پر قیام کی اجازت کے حق میں ووٹ دیا۔اور اُنہیں سیّارہ پائرہ پر اپنی بیٹی کے ساتھ رہنے کی اجازت مل گئی لیکن اس کے باوجود ان کے لیے تین ماہ کی تربیت لازمی قرار دی گئی۔ دانش اور ایلس اس تربیت کے لیے خوشی خوشی راضی ہوگئے۔ تربیت کے یہ تین ماہ ان دونوں میاں بیوی کے لیے زندگی کا سب سے عجیب و غریب تجربہ ثابت ہوئے۔ یہ ’’تحمل‘‘ کی تربیت تھی۔اس لیے انہیں بعض مشکلات سے بھی گزرنا پڑا لیکن وہ تو ایسی مشکلات کے پہلے سے عادی تھی، اُن کے لیے تربیت کا یہ عرصہ زیادہ صبرآزما ثابت نہ ہوا۔اس عرصہ میں انہیں سینکڑوں عجیب و غریب نئی باتیں جاننے کو ملیں۔ اور اب دانش اور ایلس سیّارہ پائرہ پر چڑیا اور مدرشفلا کے ساتھ مقیم تھے۔ دانش نے مائمل کی اجازت سے ’’داستان گو‘‘ کا پیشہ اختیار کرلیاتھا جبکہ ایلس سارا وقت اپنی بیٹی چڑیا کے ساتھ گزارتی تھی۔
آج اِن لوگوں کو سیّارہ پائرہ پر ستائیسواں دن تھا۔دانش اب ایک تجربہ کار ’’داستان گو‘‘ بن چکا تھا۔ گزشتہ ستائیس دنوں میں دانش کو متعدد بار اس کی غلطیوں سے آگاہ کیا گیا تھا۔اُسے داستان سناتے وقت مبالغہ سے منع کرنے کے لیے تین بار تو مقسور نسل کے پَروں والے نوجوان ’’پیغام بر‘‘ بھی ملنے آئے تھے۔ لیکن ہر بار اسے خوش مزاجی اور تحسین آمیز حوصلہ افزائی کے ساتھ ہی آئندہ کی غلطیوں سے روکا جاتاتھا۔ دانش ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سوچتا تھا کہ یہ لوگ کتنے اعلیٰ اخلاق کے مالک بن چکے ہیں۔ اس نےسڈرہ کمیونٹی کے نظامِ اخلاقیات کو نہایت توجہ سے دیکھنا شروع کردیا۔اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اُن کے اخلاقیات کی عمارت فقط ایک لفظ، ’’ٹیمپرامنٹ‘‘ پر کھڑی تھی۔ دانش اپنے سمجھنے کے لیے ٹیمپرامنٹ کا ترجمہ ’’صبر‘‘ کیا کرتاتھا۔ وہ اب جان گیا تھا کہ ’’پرسنٹیج‘‘ حقیقت میں کیسا نظام تھا۔یہ ’’صبرکا پیمانہ‘‘ تھا۔یہ ایک نظام تھا جس میں فقط لوگوں کو ضرورت کے وقت ’’قابوپانا‘‘ سکھایا جاتاتھا۔یعنی جب کبھی ضرورت ہو وہ اپنے ہرقسم کے انسانی جذبات پر قابو پاسکیں۔ اسی نظام کی وجہ سے پورا معاشرہ متوازن تھا۔ دانش سڈرہ کمیونٹی سے بے پناہ متاثر ہوا تھا۔ اُسے داستان گوئی کا پیشہ بھی بہت اچھا لگا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ زندگی میں ہمیشہ داستان گو بن کر سیّارہ سیّارہ گھومے گا۔
**********************
غار کے دہانے پر ایک بوڑھا درخت تھا جس کی گھنی شاخوں سے پرندوں کے خالی گھونسلے لٹک رہے تھے۔نیچے زمین پر سفید کبوتروں کی ایک گھنی ڈار دانہ چُگنے میں مشغول تھی۔سقراط غار سے باہر نکلا تو کبوتروں کی ڈار زور دار پھڑپھڑاہٹ کے ساتھ ہوا میں اُٹھی۔سقراط کے چہرے پر بڑھاپے کے نشانات واضح تھے۔ وہ سِڈرہ کمیونٹی میں ہوتے ہوئے بھی بوڑھا تھا۔ یہ بات شارق اور ماریہ کی سمجھ میں نہ آئی۔ وہ دونوں آج سقراط سے ملنے آئے تھے۔ انہوں نے لوگوں سے سنا تھا کہ سقراط کے پاس ہرسوال کا جواب ہے۔
بوڑھا سقراط شارق اور ماریہ کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔
سقراط غار سے باہر آیا اور شارق اور ماریہ کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرکے ایک طرف کو چل دیا۔یہ ڈھلوانی راستہ تھا۔ وہ ایک پہاڑی علاقے میں تھے۔ شارق اور ماریہ بھی اس کے ساتھ ساتھ چٹانیں پھلانگنے لگے۔معاً ماریہ کی آواز گونجی،
’’سقراط سر! بڑے میاں! کیا یہ سچ ہے کہ انسانوں کو فصلوں کی طرح سے اُگایا گیا ہے؟ ‘‘
اب بوڑھا سقراط ایک بڑی سی سفید چٹان پرچڑھنے لگا۔ وہ نوجوانوں کی طرح تیز تیز ڈگ بھررہا تھا اور پھر کچھ ہی دیر میں سقراط چٹان کے اوپر بیٹھا تھا۔ چٹان اُوپر سے ہموار تھی۔ سقراط نے شارق او رماریہ کو ہاتھ کے اشارے سے اُوپر بلایا تو وہ دونوں بھی پتھروں کو پھلانگتے اُوپر مسطح چٹان پر جاپہنچے۔ اب وہ سقراط کے پہلو میں بیٹھے تھے۔
ماریہ نے دوبارہ سوال کیا،

’’ہمیں اس بات نے کافی پریشان کررکھاہے سر۔ کیا یہ واقعی سچ ہے ؟‘‘
بوڑھے سقراط نے ماریہ کو قدرے عجیب سی نظروں سے دیکھا اور پھر کسی قدر حیرت کے ساتھ سوال کیا،
’’تم اکیسویں صدی سے ہونا؟‘‘
ماریہ کے لیے یہ سوال غیر متوقع تھا۔ شارق کو بھی حیرت ہوئی۔ ماریہ کے منہ سے بے اختیار نکلا،
’’آپ کو کیسے پتہ؟‘‘
اب سقراط مسکرا یا۔ مسکرانے سے اس کی جھریاں اور بھی واضح ہوگئی تھیں۔ اس نے شارق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
’’یہ نوجوان بعد میں جگایا گیاہے اور تمہیں پہلے جگایا گیاہے۔ ہیں نا؟‘‘
شارق اور ماریہ دونوں حیرت زدہ ہوکر ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ وہ جب سے سیّارہ اُلیون پر آئے تھے انہیں سب اپنے جیسے انسان ہی ملے تھے۔یہاں موجود لوگ سب کے سب وہی تھے جنہیں نیا نیا جگایا جاتا تھا۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گھلتے ملتے اور ایک دوسرے سے ہی معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے تربیت حاصل کرتے تھے۔شارق اور ماریہ کئی دن سے اس سیّارے پر گھومتے پھر رہے تھے اور اب تک وہ سڈرہ کمیونٹی کے بارے میں بہت کچھ جان چکے تھے۔ ایسی ہی مختلف گفتگوؤں کے دوران انہیں سقراط کا پتہ چلا تھا۔وہ سقراط کو دیکھنا اور اس کے ساتھ بات کرنا چاہتے تھے۔ انسانی فصلوں کے سوال نے انہیں سڈرہ کمیونٹی کے بارے میں بہت الجھا دیا تھا۔معاًسقراط نے ماریہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا شروع کیا،
’’ہاں انسانوں کو فصلوں کی طرح اُگایا جاتاہے۔ زندگی سیّارہ در سیّارہ سفر کرتی ہے۔ زندگی کے کئی روپ، کئی شکلیں ہیں۔جب کسی بھی سیّارے کو آباد کیا جاتاہے تو اس پر زندگی کے بیج بالکل ویسے ہی بوئے جاتے ہیں جیسے کھیت میں بیج بوئے جاتے ہیں۔زندگی پیدا ہوتی ہے۔ پھر ارتقأ کا عمل شروع ہوتاہے اور زندگی کا پودا جوان ہوکر تناور درخت بن جاتا ہے۔ تب اس پر پھل لگتے ہیں۔ یہ پھل باشعور انسانوں کی شکل میں اُگتے ہیں۔ انسانوں کو شعور کے مرحلے سے گزارنے کے بعد ’’احساسِ قلبی‘‘ کے مرحلے سے گزرنا ہوتاہے۔ یہ پھل کے پکنے کا عمل ہے۔ کچھ پھل کچے ہی گرجاتے ہیں اور کچھ پک جاتے ہیں۔ یہ پکے ہوئے پھل وہ انسان ہیں جو زندگی کا مقصود ہے۔ یہ لوگ جس سیّارہ پر پیدا کیے جاتے ہیں وہاں سے کوچ کرجاتے ہیں۔ پیچھے جو سیّارہ بچ جاتاہے اگر اس میں ابھی زرخیزی باقی ہو تو دوبارہ فصل تیار کی جاتی ہے۔ اور اگر زرخیزی باقی نہ ہو تو اس سیّارے کو یا ختم کردیا جاتاہے اور یا اسے کچھ عرصہ کے لیے مانومینٹ بنادیا جاتاہے۔ جیسا کہ اب سیّارہ زمین مانومینٹ بنادیا گیا ہے۔ ہم زمین کی دوسری فصل کے لوگ ہیں‘‘
شارق اور ماریہ کو دوسری فصل کی بات بالکل سمجھ نہ آئی۔سقراط نے شارق اور ماریہ کے چہرے پر تذبذب دیکھا تو خود ہی بتانے لگا۔ لیکن کچھ بتانے سے پہلے اس نے ان دونوں سے سوال کیا،
’’تم لوگوں نے اپنے دور میں ڈائناسارس اور برانٹوسارس کے بارے میں پڑھا تھا نا؟‘‘
شارق اور ماریہ کو سوال تو عجیب سالگا لیکن انہوں نے ایک ساتھ سرہلاتے ہوئےجواب دیا،
’’ہاں‘‘
’’وہ تمام مخلوقات یعنی ڈائنو سارس وغیرہ پہلی فصل کے انسانوں کی پیدا کی ہوئی ٹرانس جینک مخلوقات تھیں۔ کیا تم یہ بات جانتے ہو؟‘‘
یہ بات ماریہ اور شارق کی توقع کے یکسر خلاف تھی۔ وہ دونوں ہکابکا رہ گئے۔ دونوں کے منہ ہونقوں کی طرح کھلے ہوئے تھے اور وہ کوئی سوال نہ کررہے تھے۔ بوڑھا سقراط کافی دیر تک انہیں اسی طرح دیکھتا رہا اور پھر اُس نے کہا،
’’تم دونوں بھی دوسری فصل کے انسان ہو اور میں بھی‘‘
اب معاملہ شارق کی ہمت سے باہر ہونے لگا تھا۔ اس نے کسی قدر بلند آواز کے ساتھ پوچھا،
’’یہ کیا بات ہوئی؟ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ ڈائنوسارس اور برانٹو سارس جیسی مخلوقات کو انسانوں نے پیدا کیا تھا؟ ان کے زمانے میں توانسان ابھی خود اپنے ارتقأ کے ابتدائی درجات میں تھے‘‘
’’ہاں میں بالکل یہی کہہ رہاہوں۔ ڈائنو سارس اور برانٹوسارس اور اُس وقت اُڑنے والے بڑے بڑے دیوہیکل پرندے اور زمین پر دندناتی ہوئی بہت بڑی بڑی مخلوقات، وہ سب کچھ ٹرانس جینک ریسرچ کا نتیجہ تھا۔زمین پر انسانوں کی دو فصلیں پَک کر تیار کی گئیں۔ پہلی فصل جب تیار ہوگئی تھی تو وہ لوگ بھی ہرطرح کی سائنسی ترقی کرکے بہت اعلیٰ پائے کےدماغ بن گئے تھے۔ انہوں نے بھی پہلے فزکس میں ترقی کی اور بعد میں بیالوجی میں۔ ہزاروں سال تک وہ بھاری مشینری پیدا کرتے رہے اور زمین سمیت کئی اور سیّاروں کو تسخیر کرلیا۔ پھر ان لوگوں نے فزکس کی بجائے بیالوجی کا راستہ اختیار کیا۔اب وہ بائیو میکنکس کے ماہر بن گئے۔ انہوں نے ڈی این اے کے نت نئے تجربا ت کیے اور نہایت عجیب و غریب مخلوقات پیدا کیں۔ ڈائنوسارس اور برانٹوسارس اُسی دور میں پیدا کیے گئے اور ………….‘‘
ابھی سقراط زندگی کا قصہ سنا رہا تھا کہ ماریہ نے اسے درمیان میں ٹوکتے ہوئے سوال کیا،
’’اگر یہ تھیوری سچ ہوتی تو اُن ترقی یافتہ دماغوں کے فاسلز بھی ملتے، جن کا آپ ذکر کررہے ہیں۔ہمارا دور تو کیا، آج تک ملنے والے تمام ترفاسلز صرف نینڈرتھل، کرومیگنان، ہومو ہیبی لس اور آسٹریلو پتھی کس کے ہی کیوں ہیں؟پہلی فصل کے ترقی یافتہ انسان کہاں گئے؟‘‘
سقراط ماریہ کی بات پر ہنس دیا۔ اس نے اسی طرح ہنستے ہوئے کہا،
’’وہ دوسرے سیّاروں پر چلے گئے۔ وہ ترقی کرگئے تھے اور اتنی ترقی کرگئے تھے کہ انہوں نے زمین کے علاوہ دیگر سیّارے دریافت کرلیے۔ وہ انسانوں کی پہلی فصل تھی۔سڈرہ کمیونٹی کے لیے سارا راستہ اُن لوگوں نے ہموار کیا تھا۔ زمین کے کھیت سے ابھی دوسری فصل لی جاسکتی تھی۔ اس لیے ان کے ابتدائی پارمشوں کو دوسرے سیّاروں پر منتقل کرنے کے بعد زمین کو دوسری فصل کے لیے تیار کیا جانے لگا۔ ہم دوسری فصل ہیں۔ ہمارے بعد زمین اپنے حصے کا کام کرچکی تھی، اس لیے اسے مانومینٹ بنادیا گیا‘‘
شارق بہت الجھ گیا تھا۔ ماریہ کی بھی یہی حالت تھی۔ سقراط کی باتیں احمقانہ تھیں۔ انہوں نے کبھی اس طرح نہ سوچا تھا۔ معاً شارق کو ایک خیال آیا اور اس نے سقراط سے سوال کیا،
’’تو کیا اب وہ لوگ موجود ہیں؟ مطلب پہلی فصل کے لوگ؟ کیا سڈرہ کمیونٹی میں ہیں وہ لوگ؟ آپ کو اِن سب باتوں کا کیسے پتہ چلا؟‘‘
شارق کے سوال پر ماریہ نے بھی تائیدی انداز میں سرہلایا۔ سقراط نے شارق کا سوال خاموشی سے سنا اور پھر کہنے لگا،
’’ہاں موجود ہیں۔ پہلی فصل کے بے شمار لوگ موجود ہیں۔سڈرہ کمیونٹی میں اُن کا آنا جانا ہے۔ سڈرہ کمیونٹی کے خلائی ادارے ’’پالما‘‘ کو آج سے کئی سوسال پہلے ہی اپنے جیسے انسانوں کی طرف سے سگنلز ملنا شروع ہوگئے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تمہیں ایسے لوگ ملیں گے جو پہلی فصل سے ہونگے۔ پہلی فصل ہو یا دوسری، جو کوئی بھی گوشت پوست کے اِس لباس میں موجود ہے وہ ایک ہی نوع کا فرد ہے۔یہ تھری ڈی کی دنیا ہے۔ اس میں ہونا، دوبارہ پیدا ہوجانا یا لاکھوں سال عمر حاصل کرلینا، یہ سب کوئی بڑا کمال نہیں۔میں سمجھتاہوں، جو کوئی بھی اِس تھری ڈی کی دنیا میں ہے، وہ قیدی ہے۔ وہ اِس جسم کا قیدی ہے۔ اِس جسم کی احتیاجات کا قیدی ہے۔ اُسے سچی آزادی دستیاب نہیں۔ سچی آزادی اِس تھری ڈی کے جسم سے آزادی ہے۔ اگر کوئی بلند مقام پر ہے تو وہ لوگ ہیں، جو ففتھ ڈائمینشن میں چلے گئے ہیں۔ یا اُس سے بھی آگے کی ڈائمینشنز میں چلے گئے ہیں۔ ہم لوگ تو آج بھی وہی ہیں جو اکیسویں صدی میں تھے۔ہمیں آج بھی چوٹ لگنے پر درد ہوتاہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہم نے بہت ترقی کرلی ہے اور ٹیکنالوجی کی طاقت سے اب خود کو کائنات کا مالک سمجھنے لگ گئے ہیں۔ لیکن آپ نے کبھی سوچا؟ و ہ لوگ جو آگے کی ڈائمینشنز میں چلے گئے ہیں، وہ ہمارے آس پاس ہونگے۔ وہ شاید ہمیں دیکھ رہے ہوں۔ شاید ہماری باتیں سن رہے ہوں۔ ممکن ہے وہ ایک پارٹیکل جتنے باریک ہوں۔ ممکن ہے وہ پورے ماحول میں سرایت کرکے یا حُلول کرکے سانس لیتے ہوں۔کون جانے اگلے طبق اور اگلی منزلیں کتنی ہیں؟ کون جانے زندگی کا یہ سلسلہ کہیں ختم بھی ہوتا ہے یا نہیں‘‘

—جاری ہے۔—

پہلی قسط اور ناول کا تعارف اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

دوسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

تیسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

چوتھی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں
پانچویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں
چھٹی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

ساتویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

آٹھویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

نویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: