پاکستانی فلم ساز اورتبصرہ نگاروں کے مابین کشیدگی: خرم سہیل

0
  • 123
    Shares

برصغیر پاک و ہند میں فلمی تاریخ 100 برس سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ قیامِ پاکستان سے اب تک، ہماری فلمی صنعت کا سفر بھی 70 کا ہندسہ عبور کر چکا ہے۔ اس دوران کئی نشیب و فراز آئے، اردو زبان کے علاوہ، مقامی زبانوں میں بھی فلمیں بنتی رہیں، اردو سینما نے کئی دہائیاں مقبولیت سمیٹنے کے بعدجب دم تھوڑا، تواس کی جگہ پنجابی سینما نے لی۔ یہ سینما بھی طویل عرصے تک قائم رہا اور اکیسویں صدی میں داخل ہونے کے بعد ایک نئی قسم کے سینما نے لے لی، جس کا تازہ منظر نامہ سامنے ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے کہاجارہا ہے، اردو سینما کی واپسی ہورہی ہے، مقامی اوربین الاقوامی رجحانات کی حامل فلمیں بنائی جارہی ہیں۔ایک طرف جہاں فلموں کو باکس آفس پر کامیابی مل رہی ہے، وہی عوام اور میڈیا کی طرف سے ان کو تنقید کا بھی سامنا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے، عوام تنقیدکااظہارباکس آفس پرکردیتے ہیں، یہی تنقید اور رویہ کسی بھی فلم کی کامیابی اورناکامی کی وجہ بنتا ہے۔ اس عوامی تنقید کو تو فلم ساز برداشت کرلیتے ہیں، مگرمیڈیا کی طرف سے کی جانے والی تنقید، بالخصوص فلمی تبصروں کو خوش آمدید نہیں کہا جاتا، فلم سازوں کے اس رویے کی بھی متعدد وجوہات ہیں۔

عہدِحاضر کے فلم ساز یہ بھول چکے ہیں کہ فلمی دنیا میں بھی تنقید کا ایک شعبہ ہوا کرتا تھا، جہاں فلمی پنڈت اورتجربے کار لوگ فلموں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا کرتے تھے، پھر یہ طے ہوتا تھا کہ کون سی فلم کتنی معیاری ہے، اسی بنیاد پر فلمیں بزنس کرتی تھیں اور ان کو اعزازات سے نوازا جاتا تھا، نگار ایوارڈز اس کی ایک روشن مثال ہے۔ ان ایوارڈز کی جیوری میں ملک کے نامور صحافی، شاعر، ادیب، فلم ساز شامل ہوتے تھے۔ مختلف اخبارات اوررسائل و جرائد میں فلموں پر تبصرے کیے جاتے تھے، جن میں فلم کی خوبیوں اورخامیوں، دونوں پر بات ہوتی تھی، مگر اب عجیب ماحول ہوگیا ہے، فلم ساز تنقید برداشت کرنے کوتیار ہی نہیں، ان کو لگتا ہے، جوکچھ انہوں نے بنایا ہے، بس وہ فن کی آخری منزل ہے، اب انہیں سیکھنے اورسمجھنے کی مزید ضرورت نہیں ہے۔

دوسری طرف پاکستانی میڈیا کی بھی صورتحال خاصی گنجلک ہے۔ کچھ صحافی ایسے ہیں، وہ دن رات صرف فلموں کے ریویوز کرنے میں جتے دکھائی دیتے ہیں، یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے، کیا وہ اتنی فلمیں دیکھ بھی پاتے ہوں گے، کئی فلموں کے توپریویو بھی لکھ مارتے ہیں اور فلم کی ریلیز کے بعد پھر اس کا تبصرہ بھی کرتے ہیں، اس فلم ساز یا کسی اداکار کو زیادہ نوازنا ہو تو فلم کی ریلیز سے قبل یا بعد میں انٹرویو بھی کر ڈالتے ہیں، جو صرف اس فلم کے گردگھوم رہا ہوتاہے۔

پاکستانی میڈیا میں تین میڈیم میں فلموں پر تبصرہ کیا جاتا ہے، جن میں اخبارات، ٹیلی وژن اور آن لائن ویب سائٹس شامل ہیں۔ ٹیلی وژن اور اخبارات میں شایع ہونے والے تبصرے زیادہ ترمثبت ہوتے ہیں، اس کی وجہ ایڈیٹر پالیسی کا ہونا ہے، پھر سنسر کرنے کی سہولت دستیاب ہے، ان کی بہ نسبت ویب سائٹس زیادہ آزاد ہیں، وہاں دل کھول کرتبصرے کیے جاتے ہیں، ان تبصرہ نگاروں کو بلاگرز کہا جاتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے،اخبارات میں کام کرنے والے صحافی اورٹیلی وژن کے رپورٹرز کے بعد،بلاگرز بھی اس تبصرہ نگاری کی دوڑمیں شامل ہوگئے ہیں، مگربلاگزر کو دیکھ کر لگتا ہے، وہ زیادہ جلدی میں ہیں، وہ بھی اپنے لکھے ہوئے کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔

ٹیلی وژن اور نیوز چینلز میں عمومی طور پر فلموں پرنرم اور مثبت گفتگو ہوتی ہے، سوائے چند ایک فلموں کے، جس طرح کچھ عرصہ پہلے عاشر عظیم کی فلم ’’مالک‘‘ پر پابندی لگی، تونیوز ٹاک شوز میں اس پر بہت بحث ہوئی، ویسے عام طور پر فلموں کے مثبت پہلوئوں کوموضوع گفتگو بنایا جاتا ہے۔ انگریزی اخبارات میں شایع ہونے والے تبصرے عمومی طور پر سنجیدہ ہوتے ہیں، اردو اخبارات کے تبصرہ نگار ابھی تک اتنے باشعور نہیں ہوئے کہ وہ غیر جانبدار ہوکر، یا اسٹار ڈم سے باہر آکر فلم کا جائزہ لے سکیں، یہی وجہ ہے، اردو اخبارات میں فلم کے موضوع کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں جاتا جبکہ آن لائن ویب سائٹس کے آنے سے، اردو زبان میں لکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، مگر اکثریت ایسے بلاگرز کی ہے، جن کا اپنا کوئی پس منظر، صحافت یا فلم کا نہیں، مگر وہ اندھا دھند تبصرے، کیے جا رہے ہیں۔

فلمی حلقوں کی اکثریت کے مطابق،بلاگرز کی شکل میں اب ایک گروہ تشکیل پاگیا ہے، جو شوبز میں زرد صحافت کر رہا ہے۔ اپنے تبصروں سے یہ فلموں کے بزنس پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں، ان میں کئی مقامی میڈیا کے کچھ کارکنان ہیں، جبکہ اس گروہ میں ایک بین الاقوامی ادارے کا مقامی رپورٹر بھی شامل ہے، جو ایک طرح سے اس گروہ کے سرغنہ کے فرائض انجام دے رہا ہے۔ ان دنوں کراچی سے تعلق رکھنے والے، اس گروہ کی شہرت بھی ہو رہی ہے، روزنامہ دنیا میں شایع ہونے والی خبر سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ یہ بھی کہاجاتاہے، نگار ایوارڈز کے دوبارہ انعقاد کے اعلان بعد، ان کے ملتوی ہوجانے کے پیچھے بھی انہی بلاگرز کا ہاتھ ہے۔

اس صورتحال میں سنجیدہ تبصرہ نگاربھی اپناکام کر رہے ہیں، جن کا تعلق نہ کسی گروہ سے ہے، نہ ہی وہ کسی مخصوص مقصد کے تحت سرگرم عمل ہیں۔ گزشتہ دنوں ساحر لودھی کی فلم’’راستہ‘‘ یلیز ہو کر ناکام ہوئی، تواس کا غصہ بھی صحافیوں اورفلم پرتبصرہ کرنے والوں پرنکالاگیا،سوشل میڈیا پر بھی کافی لے دے ہوئی، اسی طرح فلم ’’مالک‘‘ پر پابندی سے بھی ماحول میں کشیدگی پیدا ہوئی، جس کانشانہ حکومت اورسنسربورڈتھا۔ سیدنور کی تازہ فلم’’چین آئے نا‘‘ پر بھی منفی تبصرے دیکھنے کو ملے، بہت ساری انڈین فلموں کے متعلق بھی بہت کچھ دیکھنے کو ملتا ہے، مگر ساحر لودھی کی پریس کانفرنس، فلم پر تبصرہ کرنے والے صحافیوں کے خلاف ایک جارحانہ عمل تھا،جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے تھا، بہر حال یہ حقیقت ہے، اگر فلم میں دم ہے، تو تبصرہ نگار کی رائے،ا س کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

اسی طرح سوشل میڈیا پر فلم ’’یلغار‘‘ کے فلم ساز حسن وقاص رانا، ایک انگریزی اخبار کے تبصرہ نگار پر برہم ہوتے نظر آئے، یہی نہیں، بلکہ پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں بھی حسن وقاص رانا نے، ان کی فلم کے حوالے سے منفی تبصرہ کرنے والوں پر کڑی تنقید کی۔ اسی پروگرام میں شریک ڈراما نویس، شاعر اور فلم ’’ماہ میر‘‘ کے کہانی نویس ’’سرمدصہائی‘‘ نے کہا۔ ’’فلم پر اگر کوئی منفی تنقید کرتا ہے، تویہ اس کی ذاتی رائے ہے، جس پر ہمیں اثر انداز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ آزادی صحافت کی بات ہے، میری فلم پر بھی منفی تبصرے آئے، میں نے برا نہیں مانا۔ ‘‘ حال ہی میں ریلیزہونے والی ایک فلم ’’مہر النساء وی لب یو‘‘ کے فلم ساز اور ہدایت کار ’’یاسرنواز‘‘ بھی فلمی تبصرہ نگاروں، بالخصوص بلاگرز پر اپنا غصہ نکالتے دکھائی دیے۔

Yasir Nawaz calls out bloggers for negative reviews

اب یہ معمول کی بات ہے کہ مخالفت میں آنے والے تبصروں کو یہ فلم ساز، سوشل میڈیا پر اپنے آفیشل پیجز پر شیئر ہی نہیں کرتے، میرے رقم کیے ہوئے فلمی تبصروں کے ساتھ یہ رویہ ایک تجربے اور ثبوت کے طور پر موجود ہے، جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ فلمی صنعت دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے، فلم سازوں کو چاہیے، وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں، بے ہودگی اور بیوقوفانہ چیزوں کو فلموں کا حصہ بنانا چھوڑیں، تاکہ تنقید کا زور کم ہوسکے۔ ٹیلی وژن اور اخبارات میں تو پھر بھی سنسر کا آپشن ہوتا ہے، مگر ویب سائٹس کی اکثریت اس چیز کی پرواہ نہیں کرتی، اس لیے بعض اوقات بہت غیر پیشہ ورانہ فلمی تبصرے بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔

پاکستان میں فلمی صنعت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ ان فلموں کی حوصلہ افزائی کی جائے، لیکن کوئی سنجیدہ تبصرہ نگار تنقید کرتا ہے، تو فلم سازوں کو بھی چاہیے، ان خامیوں پر دھیان دیں۔ فلم پریمیئر کے دعوت نامے کی رشوت دینے کی بجائے، یا اپنے آفیشل پیج پر تنقیدی تبصروں کو غائب کرنے کی بجائے اپنی فلم سازی پر توجہ دیں تو حالات سدھر سکتے ہیں۔ اسی طرح صحافیوں بالخصوص مشکوک بلاگرز کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کی دال زیادہ دن تک گھلنے کی نہیں ہے، اس لیے وہ بھی انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے، غیرجانبدارانہ فلمی تبصرے کریں، نہ کہ اپنے خفیہ مقاصد حاصل کرنے کی تگ دو میں مصروف رہیں۔ پاکستانی فلمی صنعت کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کے لیے ہر شعبے سے، متعلقہ لوگوں کو اپنے اپنے حصے کا کام ایمانداری سے کرنا ہوگا، تب ہی یہ صنعت ترقی کرے گی، یہ فلمیں دنیا بھر میں پاکستان کا تعارف ہوتی ہیں، اس تعارف کو بہتر کرنے کے لیے سب کو اپنی اپنی کوششیں کرنا چاہیں۔ ملکی وقار پہلے اور دیگر چیزیں بعد میں آتی ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: