قانونی فیصلہ، سیاسی کشیدگی: عتیق بیگ

0

ایک عدالت میں اپنے کیس کی نئی پڑنے والی تاریخ جاننے کے لئے پیش ہوا تو معلوم پڑا کے 302 کے کیس کی سماعت شروع ہونے والی ھے ۔ سوچا کاروائی پر غور کرتے ہیں۔ تھوڑا قریب پہنچا تو وکلاء اور پولیس والوں کے پیچھے کھڑے کچھ لوگوں نے جج صاحب کو مخاطب کر کے اپنی فریادیں سنانا شروع کر دیں۔ سب ایک ہی مدعا بیان کرنے کی کوشش کر رھے تھے کہ جج صاحب دوران تفتیش پولیس والوں نے ہمارے کیس کا بیڑا غرق کر دیا ۔ ہماری ایک نہیں سنی، ہم اس تفتیش پر بالکل بھی مطمعن نہیں ۔ وغیرہ وغیرہ۔

بولنے والے بولتے رھے اور جج صاحب انتہائی سنجیدگی سے پولیس کی رپورٹ کو پڑھتے رہے ۔ پولیس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد جج صاحب سوالیہ انداز میں فریادیوں سے مخاطب ہوئے۔ آپ لوگ کہہ رھے ھیں کہ تفتیش ٹھیک نہیں ہوئی؟ سب بیک زبان بولے جی ھاں بالکل جج صاحب ایسا ہی ہے۔ تو جج صاحب نے کہا ٹھیک ہے گولی مارو پولیس کی اس تفتیش کو۔ یہ کہتے ہوئے جج صاحب نے کیس فائل کو ٹیبل پر دے مارا اور بولے کہ چلو اپنے وکیل صاحب سے کہو کہ وہ عدالت کو مطمئن کرے۔

یقینا ایسا ہی کچھ جے آئی ٹی کی تفتیش کے ساتھ بھی ہو سکتا تھا اگر اس ٹیم میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اراکین شامل نا ہوتے تو۔
جے آئی ٹی کی رپورٹ ن لیگ پر کچھ یوں برسی ہے جی بندر کلا کھیلتے ہوئے ہاتھ سے رسی چھوٹے پر جوتے برستے ہیں۔ بقول نامور شاعر افتخار عارف صاحب 

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رھا تھا خدا کے لہجے میں

ویسے بھی میاں صاحب کے خلاف فیصلہ دینے کے لئے جے آئی ٹی کی رپورٹ بالکل بھی ضروری نہیں۔ کیونکہ عوام سے خطاب ہو، پارلیمنٹ سے خطاب ہو، سپریم کورٹ میں موقف پیش کرنا ہو یا جے آئی ٹی کی سامنے ٹال مٹول ہو ہر جگہ میاں صاحب نے جھوٹ ہی بولا ہے اور اتنے سارے جھوٹ چیخ چیخ کر ہر پاکستانی پر ایک ہی سچ عیاں کر رھے ھیں وہ یہ کہ میاں صاحب کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن صادق و امین نہیں ہیں۔

فیصلہ آنے سے پہلے ہی پاکستان کی سیاسی پارٹیوں میں لوگوں کا ادلا بدلا شروع ہو چکا ھے۔ پیپلز پارٹی کے کافی لوگ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں اور تحریک انصاف کی ناز بلوچ صاحبہ نے پیپلز پارٹی کا رخ کیا ھے۔ تحریک انصاف کے اندر فوزیہ قصوری صاحبہ کو بھی مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ دوسری طرف فیصل آباد کی بھی ایک انتہائی متحرک کارکن کو مسلسل نظر انداز کیا جارھا ھے۔ سندھ اور کراچی میں مزید کچھ کارکنان تحریک انصاف چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں جا سکتے ہیں ۔ فیصلہ چاہے ن لیگ کے حق میں آئے چاہے مخالفت میں سب سے زیادہ ن لیگی لوگ ن لیگ چھوڑ کر جائیں گے۔ تحریک انصاف والوں نے تو باقاعدہ 9 ن لیگی ایم این ایز کے نام تک عوام میں مشہور کر دیے ہیں جو تحریک انصاف میں شمولیت کے لئے تحریک انصاف کی لیڈر شپ سے رابطے میں ہیں ۔ چوہدری نثار تو شاید پارٹی نہ چھوڑ سکے لیکن سردار ذوالفقار علی کھوسہ صاحب اور ان کے اتحادی ن لیگ چھوڑنے کا اصولی فیصلہ کسی بھی وقت منظر عام پر لا سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کھوسہ صاحب بھی پیپلز پارٹی ہی میں شمولیت اختیار کریں گے۔ مشرف، ق لیگ اور مزید کچھ لیگی دھڑے مسلم لیگ کے اتحاد کے نام سے جو نعرہ لگا رھے ھیں یہ کوشش بھی ن لیگ ہی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گی۔ تحریک انصاف کی سیاسی بصیرت کا ایک اور امتحان اس وقت شروع ہو گا جب کچھ ن لیگی لوگ ن لیگ چھوڑنے کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت چاہیں گے۔ اس وقت پتا چلے گا کہ نظریے کے تابوت میں آخری کیلوں کے لئے کون کون سے الیکٹیبلز کا انتخاب کیا جاتا ھے۔

سیاسی لوگوں کے ساتھ ساتھ کچھ نامور صحافی بھی اپنے لئے نئی سیاسی چھاؤں کے منتظر نظر آنے لگے ہیں۔

اس کیس میں جو بھی فیصلہ آئے گا اس سے ملک کے وزیراعظم صاحب ضرور متاثر ہوں گے۔

اور ہاں تپسوی مہاراج کی نئی بھوشے وانی کے مطابق اگر فیصلہ 22 جولائی تک نہ اسکا آیا تو پھر اگست کے آخر تک لٹک سکتا ھے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: