سازش بے نقاب ہوتی ہے : عامر منیر

0
  • 47
    Shares

نوسٹراڈیمس مغرب کا ایک مشہور مستقبل بیں، جس نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی بھی حیرتناک حد تک درست پیشن گوئی کی تھی۔ اس نے یہ امکان بھی دیا تھا کہ 2012 میں زمین پر خلائی مخلوق کی آمد ہو گی اور یہ آمد ایک عظیم تاریخی ہلچل کا سبب بنے گی جس کے نتیجے میں تیسری جنگ عظیم بھی چھڑ سکتی ہے۔ نوسٹراڈیمس کی یہ پیشین گوئی بالکل درست ثابت ہوئی، 2012 میں خلائی مخلوق زمین پر اتر چکی ہے اور اس کے نتیجے میں کرہء ارض پر ایک عظیم ہلچل بھی بھی برپا ہو چکی ہے جو سب کو دکھائی دے رہی ہے مگر اس کے پس پردہ عوامل سے بہت کم لوگ آشنا ہیں۔ آیئے عصر حاضر کے سب سے پراسرار بھید کو سمجھیں۔

جو خلائی مخلوق زمین پر اتری ہے وہ کسی پاس پڑوس کے نظام شمسی سے نہیں بلکہ ہم سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر واقع ایسی کہکشاں سے آئی ہےجس کے بارے میں ہبل دوربین سے بھی کوئی خاص معلومات نہیں مل سکتیں کیونکہ یہ کہکشاں کائناتی گیسوں کے ایک عظیم الشان بادل کی اوٹ میں چھپی ہوئی ہے۔ یہ مخلوق علم، ٹیکنالوجی اور ذہانت میں ہم سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں سال آگے ہے اور وقت میں سفر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

عامر منیر

جب اس مخلوق کے بھیجے ہوئے ایک خلائی مشن نے زمین پر زندگی کی موجودگی کا انکشاف کیا تو اسی وقت میں سفر کرنے کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اس مخلوق نے زمین کے ماضی میں ایک ایسے وقت پر اترنے کا فیصلہ کیا جب زمینی سائنس اور ٹیکنالوجی ان کی ٹیکنالوجی کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی، 2012 ہمارے اعتبار سے کتنا ہی ترقی یافتہ اور ایڈوانسڈ دور کیوں نہ ہو، اس مخلوق کے اعتبار سے پتھر کے زمانے کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ جون 2012 میں جب انٹارکٹک سرکل چھ ماہ کی گہری تاریک رات میں ڈوبا ہوا تھا، اس مخلوق نے خاموشی سے انٹارکٹیکا میں اتر کر برف کے نیچے اپنا مطالعاتی اسٹیشن قائم کر لیا۔ جو نہ صرف فعال ہے بلکہ اس اسٹیشن کی وسعت اور اس میں موجود خلائی مخلوق کے ریسرچرز کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا چلا آ رہا ہے۔ ایک سال کے اندر اندر اس مخلوق نے زمین اور انسانوں کے بارے میں اپنی ابتدائی مطالعاتی رپورٹ مکمل کر کے اپنے سیارے کو ارسال کر دی . سیارے کی اعلیٰ اتھارٹیز نے اس رپورٹ کی روشنی میں زمین کے وسائل پر قبضہ کرنے اور انسانوں کو غلام بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس مقصد کے لئے ایک نہایت زیرک اور کہنہ مشق کمانڈر کو ایک پوری ٹیم کے ساتھ زمین پر بھیجا گیا۔ یہ کمانڈر اس سے پہلے کئی سیاروں پر اس طور قبضہ کرنے اور وہاں کی مقامی مخلوق کوغلام بنانے کا تجربہ رکھتا تھا کہ سیارے کے مقامی باشندوں کو کبھی اپنے غلام ہونے کا احساس نہ ہو سکے۔

وہ آتے ہی دنیا کے سیاسی نظام کے تجزیے اور تہذیب انسانی کے ارتقائی ممکنات کے مطالعے میں جٹ گیا۔ خلائی مخلوق نے اپنے زیر برف ریسرچ اسٹیشن میں ایک دیو ہیکل سپر کمپیوٹر کی تنصیب کر رکھی ہے. یہ کمپیوٹر اتنا پاورفل ہے کہ کبھی اس کی سو فیصد کمپیوٹنگ کپیسٹی کے استعمال کی نوبت نہیں آئی، اس کی محض دس فیصد کمپیوٹنگ کپیسٹی ہی دنیا کے تمام ڈیٹا کا تجزیہ کر کے اس سے پھوٹنے والے تمام ممکنات کی کیلکولیشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، خلائی مخلوق نے دنیا کے تمام کمپیوٹر ہیک کر کے ان کا ڈیٹا جمع کر رکھا ہے جو مسلسل اپ ڈیٹ ہوتا رہتا ہے۔ خلائی کمانڈر نے جمع شدہ ڈیٹا کی روشنی میں بہت جلد یہ جان لیا کہ دنیا کی زمام کار نا اہل لیڈروں کے ہاتھ میں ہے اور انسانیت سیاسی اعتبار سے ایک ایسی منتشر اور لا معنویت کی کیفیت میں پھنسی ہوئی ہے جس کے سبب تہذیب کا ارتقا جمود کا شکار ہو چکا ہے اور لوگ سائنس کی پیشقدمی کو ہی تہذیب کا ارتقا سمجھنے کے مغالطے میں مبتلا ہیں۔ کمانڈر کے لئے یہ ایک آئیڈیل صورتحال تھی، اسے صرف یہ یقینی بنانا تھا کہ انسان اس منصوبے سے لاعلم ہی رہیں. ایک ایڈوانسڈ کمپیوٹر الگورتھم پروگرام کر کے سپر کمپیوٹر پر انسٹال کر دیا جو اپ ڈیٹد ڈیٹا کی روشنی میں اس جمود کے خاتمے اور تہذیب کا ارتقا پھر سے رواں دواں ہونے کے ممولی سے امکان کو بھی شناخت کر سکتا تھا، کمانڈر نے اپنی ٹیم کو ایسے کسی بھی امکان کے ابھرتے ہی اس کا خاتمہ کرنے کی ڈیوٹی سونپ دی جبکہ وہ خود نظام عالم کو خفیہ اور غیر محسوس دخل اندازی کے ذریعے ایسی صورت میں ڈھالنے کے مقصد میں جٹ گیا جس کے ذریعے غیر محسوس طور پر تمام انسانیت خلائی مخلوق کے مقاصد کے تابع ہو جائے اور اس کے اشاروں پر ناچے، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس تمام پلاننگ میں سب سے خطرناک بات انسانی تہذیب کے ارتقا کے متحرک ہو جانے کی تھی.

جولائی دو ہزار تیرہ میں جب ارتقا کے ممکنات پر نظر رکھنے والا الگورتھم فعال ہوا، عین اسی وقت پاکستان میں میاں محمد نواز شریف صاحب برسراقتدار آ چکے تھے اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ویژن مرتب کرنے میں مصروف تھے. خلائی مخلوق کا ہیکنگ سسٹم ان کی اپنے مشیروں اور دنیا بھر کے قابل لوگوں کے ساتھ مشاورت کو انٹر سیپٹ کر کے کمپائل کرتا رہا اور اگلے چند ماہ تک، جب میاں صاحب تعلیم اور صحت کے فروغ اور بہت سی دیگر انقلابی اصلاحات کے ذریعے پاکستان کی تقدیر بدلنے اور اسے اقوام عالم کی پہلی صف میں لا کھڑا کرنے کے لئے یکسو ہو چکے تھے، نہایت قابل افراد کی ایک ٹیم تشکیل دے چکے تھے. خلائی مخلوق کا الگورتھم انہیں انسانی تہذیب کے ارتقا کا پہیہ دوبارہ سے متحرک کرنے والے ایک نہایت طاقتور امکان کے طور پر شناخت کر چکا تھا اور انٹارکٹیکا میں خلائی مخلوق کے زیر برف سٹیشن میں سپر کمپیوٹر کی ایک مانیٹرنگ سکرین پر پاکستان اور میاں نواز شریف صاحب کا نام سرخ حروف میں مسلسل جگمگانے لگ گیا تھا۔

پہلے پہل کمانڈر کی ٹیم نے میاں صاحب کو محض ایک عام سیاستدان سمجھا جس کے دماغ کو با آسانی شعاعوں کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اسے اپنے ہی منصوبوں کے برخلاف عمل کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے. لیکن جب انہوں نے میاں صاحب کے دماغ کو شعاعوں کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہا تو حیرت کا ایک جہان ان کا منتظر تھا۔ میاں صاحب کی اپنے ملک سے لگن اتنی گہری، اخلاص اتنا کھرا، جذبہ ایسا سچا اور ارادہ ایسا مستحکم تھا کہ خلائی مخلوق کی شعاعیں ان کے دماغ پر اثرانداز ہونے میں کامیاب نہ ہو سکیں . خلائی مخلوق نے اپنی شعاعوں کی فریکوئنسی آخری ممکنہ حد تک بڑھا کر بھی دیکھی لیکن ان شعاعوں کا زیادہ سے زیادہ اثر یہ ہوا کہ میاں صاحب کو چند سیکنڈز کے لئے سر میں کھجلی محسوس ہوئی جسے انہوں نے کھجا کر اسی وقت دور کر لیا اور خلائی مخلوق کا انسانوں سے لاکھوں برس آگے ہونے کا غرور پاش پاش ہو کر رہ گیا۔

زیر برف خلائی مخلوق کی ٹیم کے ارکان اپنے مانیٹر کی سکرین پر میاں صاحب کے باوقار، اعتماد سے بھرپور اور نفاست کے مرقع پیکر کو دیکھ کر غصے سے دانت پیس رہے تھے. انہیں اپنے سیارے کی اعلیٰ اتھارٹی کی طرف سے براہ راست جارحیت سے مکمل اجتناب کا حکم تھا. وہ صرف شعاعوں کے ذریعے کسی کے ذہن میں ایسی سوچیں پیدا کر سکتے تھے جو بالواسطہ جارحانہ ارادوں پر منتج ہوں۔ .میاں صاحب کو براہ راست متاثر کرنے میں ناکامی کے بعد اس ٹیم نے میاں صاحب کے قریبی لوگوں اور ان کے معتمدین کو میاں صاحب کے خلاف اکسانے اور ان کے ذریعے میاں صاحب کے انقلابی منصوبوں پر عملدرآمد میں خلل ڈالنے، ان کے ویژن کو ناکام بنانے اور ان کی حکومت ختم کرنے کی ٹھانی۔ لیکن یہاں مایوسی اور حیرت کا دوسرا جھٹکا ان کا منتظر تھا، میاں صاحب کے معتمد اور خاص لوگوں کے دماغ خلائی مخلوق کی شعاعوں سے وقتی طور پر متاثر ہوجاتے. وہ تنہائی میں لیڈر اور پاکستان کے خلاف بہت کچھ سوچنے لگتے تھے، لیکن جیسے ہی وہ میاں صاحب کے پاس جاتے اور ان کی آنکھیں میاں صاحب کی آنکھوں سے چار ہوتیں، میاں صاحب کے دل میں موجزن اخلاص اور عزم کی لہریں آنکھوں کے راستے ان کے دل میں اتر کر خلائی مخلوق کی شعاعوں کا تمام تر اثر ختم کر ڈالتیں اور تمام معتمد و مشیر نئے سرے سے ملک و ملت کی محبت اور میاں صاحب کے ویژن کو کامیاب بنانے کے جذبے سے سرشار ہو جاتے، میاں صاحب کے دل میں اخلاص، حب الوطنی، اولوالعزمی اور فراست کا ایسا اتھاہ سمندر موجزن تھا کہ خلائی مخلوق کے تمام ارادے اس میں غرق ہوئے جا رہے تھے۔

یہاں سے مایوس ہو کر ٹیم نے میاں صاحب کے مخالفین کو استعمال کرنے کی ترکیب لڑائی، عمران خان میاں صاحب کے کٹر مخالف کی حیثیت سے مشہور ہو چکا تھا. ٹیم نے اس کے دماغ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی تو یہ جان کر ان کی مسرت کی انتہا نہ رہی کہ عمران خان کے دماغ کو کنٹرول کرنا بے حد آسان ہے۔ عمران خان کے پہلے دھرنے کے بارے میں اب تک قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں، کوئی اس کی منصوبہ بندی کا الزام راولپنڈی اور آبپارہ پر دھرتا ہے تو کوئی دہلی اور تل ابیب کو اس دھرنے کے اصل منصوبہ ساز قرار دیتا ہے مگر اس حقیقت سے چند اہل نظر ہی واقف ہیں کہ اس کی منصوبہ بندی درحقیقت انٹار کٹیکا میں کی گئی تھی اور یہ انٹار کٹیکا میں بیٹھی ہوئی خلائی مخلوق ہی تھی جس نے طاہر القادری کو بیک اپ کے طور پر عمران خان کے ساتھ بھیجا تھا۔ دھرنے کے تمام دورانیے میں ٹیم کے ارکان اپنی اپنی نشستوں پر تقریباً سانس روکے انتظار کرتے رہے کہ میاں صاحب کی قوت ارادی اور اولوالعزمی میں شکست و ریخت کے آثار دکھائی دیں تو وہ ان کے دماغ پر قابض ہو نے کی کوشش کریں لیکن مجال ہے جو ان کی قوت ارادی میں معمولی سی دراڑ بھی پڑی ہو۔ الٹا ایسا ہوا کہ جاوید ہاشمی جو میاں صاحب کا قریبی رہنے کے سبب ان کے جذبات سے بے پناہ متاثر تھا، ٹیلی ویژن پر میاں صاحب کو دیکھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں جھانک بیٹھا، میاں صاحب کے عزم اور اخلاص کی لہریں ٹیلی ویژن سکرین کے راستے اس کے دل میں اتریں تو خلائی مخلوق کا اثر آن واحد میں ہوا ہو گیا اور اس نے اپنی ہی پارٹی کے خلاف پریس کانفرنس کر کے دھرنے پر نہایت کاری وار کردیا جس کے سبب دھرنا قریب قریب ناکام ہو گیا۔ کوئی بھی سمجھدار سیاستدان ایسے میں دھرنے کی بساط لپیٹنے کو ہی بہتر سمجھتا لیکن یہ خلائی مخلوق کااثر تھا جس نے عمران خان کو دھرنا ختم نہ کرنے دیا اور دھرنا غیر معمولی طوالت پکڑتا چلا گیا، حتیٰ کہ اکتا کر ٹیم کے ارکان نے عمران خان کے دماغ کو آزاد چھوڑ دیا کہ وہ خود ہی دھرنا ختم کر لے۔ طویل عرصے تک دما غ کنٹرول کرنے والی شعاعوں کے زیر اثر رہنے کے سبب خان کی یہ کیفیت ہو گئی تھی کہ آزاد ہوتے ہی شادی کر بیٹھا او ر آج تک یہ سوچتا ہے کہ اس نے دھرنا کیوں دیا، شادی کیوں کی؟

ان تمام حالات کے دوران میاں صاحب اپنے ویژن، اپنی انقلابی اصلاحات کے نفاذ کے ایجنڈے سے ذرا بھی ادھر ادھر نہیں ہٹے تھے۔ پاکستان میں تعلیم اور صحت کے نظام کا معیار ایسی سرعت سے بلند ہو رہا تھا کہ بہت جلد یہ ملک انسانی تہذیب کے جامد پہیئے کو دوبارہ سے متحرک کرنے والے دانشوروں، سکالروں اور سائنسدانوں کو جنم دینے کا اہل ہو جاتا اور خلائی مخلوق کے زمین پر قبضہ کرنے کے منصوبے کی راہ میں بہت سی نئی دشواریاں حائل ہو جاتیں۔ تھک ہار کر انسانی تہذیب کے ارتقا کو روکے رکھنے پر مامور ٹیم نے اپنی ناکامیوں کی رپورٹ کمانڈر کے سامنے پیش کر دی اور میاں صاحب کے عزم و اخلاص کے سامنے اپنی شکست کا اعتراف کر لیا۔ اس وقت کمانڈر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کا صدر بنوانے کا فیصلہ کر چکا تھا اور اپنی بیشتر توجہ اسی مقصد پر مرکوز کئے ہوئے تھا لیکن میاں صاحب کی غیر معمولی بلکہ تقریباً فوق البشر صلاحیتوں کے پیش نظر اسے یہ بھانپنے میں دیر نہ لگی کہ اس کے اراداوں کی راہ میں انسانیت کی سب سے بلند اور مضبوط دفاعی فصیل کا نام میاں نواز شریف ہے اور اسے اپنے منصوبے کی کامیابی کے لئے ذاتی توجہ اور کاوشوں کے ذریعے میاں صاحب کو راستے سے ہٹانا پڑے گا۔ اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر بنوانے کے ساتھ ساتھ میاں صاحب کو راستے سے ہٹانا اپنی اول ترجیح بنا لیا۔

زیرک اور تجربہ کار کمانڈر نے اپنے سپر کمپیوٹر کو انسانیت سے متعلق دستیاب تمام ڈیٹا اور گزشتہ پانچ ہزار سالوں کی انسانی تاریخ کے تجزیے کے ذریعے میاں صاحب کے غیر معمولی جذبے اور عزم کے منبع کا سراغ لگانے کا ٹاسک سونپا، یہ کام اتنا مشکل، محنت طلب اور پیچیدہ ثابت ہوا کہ وہی سپر کمپیوٹر جو صرف دس فیصد کپیسٹی کے استعمال سے تمام انسانی تہذیب کی نگرانی کر سکتا تھا، پہلی مرتبہ اپنی کمپیوٹنگ کپیسٹی کے پچاس فیصد استعمال تک جا پہنچا۔ اس کمپیوٹنگ کے عمل میں اتنی حرارت خارج ہوئی کہ لارسن آئس شیلف میں دراڑ پڑ گئی اور یہ براعظم انٹار کٹیکا سے علیحدہ ہو نے لگی، نا سمجھ سائنسدان اسے گلوبل وارمنگ کا شاخسانہ سمجھتے رہے، کسی کو گمان تک نہ ہوا کہ یہ انسانیت کے ایک عظیم سپوت کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مظہر ہے۔

اپنی پچاس فیصد کپیسٹی پر کئی ہفتے کام کرنے کے بعد کمپیوٹر نے آخر نتیجہ یہ نکالا کہ میاں صاحب کو اپنی عوام کا اعتماد اور پیار اتنی وافر مقدار میں میسر ہے کہ تاریخ میں کسی راہنما کو ایسا اعتماد اور پیار نہیں ملا. ہر کولیس کی طرح جسے زمین کا لمس مسلسل طاقتور بنائے رکھتا. اسی طرح میاں صاحب کو عوام کی محبت مسلسل طاقتور اور ناقابل شکست بنائے رکھتی ہے اور انہیں شکست دینے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کسی طرح عوام اور ان کے مابین ایسی خلیج حائل کر دی جائے کہ انہیں عوام کی محبت سے مسلسل ملنے والی اس توانائی کی فراہمی بند ہو جائے۔ یہاں کمانڈر کو دشواری یہ آ پڑی کہ میاں صاحب کا کیرئیر دیانتداری اور سچائی کا ایسا مرقع، ان کا کردار اخلاقیات کی ایسی اوج پر متمکن، ان کے فیصلے تدبر کی ایسی گہرائیوں کے حامل تھے کہ ان کی ساری داستان حیات میں کسی قسم کی کرپشن، بد دیانتی، اخلاقی برائی یا ایسی غلطی کا وجود تک نہ تھا جسے بروئے کار لا کر عوام کو ان سے بد ظن کیا جا سکے، اس نے بے شمار ممکنات پر غور و خوض کیا لیکن کچھ سمجھ نہ آیا۔ تھک ہار کر اس نے ایک ایسا الگورتھم تشکیل دیا جو کمپیوٹر کی سو فیصد کپیسٹی کو استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے کا کوئی حل نکالے۔

سپر کمپیوٹر نے کئی ماہ اپنی سو فیصد کپیسٹی پر کام کرنے کے بعد بالآخر اس بد نام زمانہ سازش کا بلیو پرنٹ تشکیل دیا جسے ہم پانامہ لیکس کے نام سے جانتے ہیں۔ منصوبے کا خلاصہ یہ تھا کہ وقت میں سفر کرنے کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ماضی میں جا کر میاں صاحب کے مالی معاملات سے متعلقہ اہم دستاویزات برباد یا تبدیل کر دی جائیں، ان کے دیانتداری اور ایمانداری کی قابل رشک مثالوں سے بھرے معاملات میں ایسے خلا اور جھول پیدا کر دیئے جائیں جن سے بادی النظر میں کچھ ایسا تاثر ملے جیسے میاں صاحب خدانخواستہ مالی بد عنوانیوں میں ملوث رہے ہیں، پھر مغربی میڈیا سے مرعوب ہونے کے ہمارے قومی رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی میڈیا کے معتبر سمجھے جانے والے ذرائع سے ایسی رپورٹس لیک کروائی جائیں جو اس تاثر کو عوام میں پھیلائیں، اس کا ایک اہم ثبوت یہ بھی ہے کہ اپنے کام کو فول پروف بنانے کے لئے صرف کسی ایک میڈیا گروپ پر انحصار نہیں کیا گیا بلکہ مغربی میڈیا کے بہت سے بڑے بڑے نام پانامہ پیپرز کی جانچ میں شامل کر لئے گئے. دنیا کے بہت سے دیگر سیاسی لیڈروں اور بہت سے پاکستانیوں کے نام بھی صرف اس لئے ان پیپرز میں شامل کئے گئے کہ کوئی شک نہ کر سکے کہ اس سازش کا اصل نشانہ صرف اور صرف میاں نواز شریف ہیں۔ اگلے مرحلے میں ایک بار پھر عمران خان کو استعمال کرتے ہوئے ملک کے اندر میاں صاحب کی ان بدعنوانیوں کا شور مچا دیا جائے جن کے وہ در حقیقت کبھی مرتکب ہی نہیں ہوئے اور یوں عوام کو میاں صاحب سے بدظن کیا جا سکے۔

کمانڈر نے انسانیت کے تہذیبی ارتقا کو روکے رکھنے پر مامور تمام ٹیم کو ماضی کے حقائق تبدیل کرنے پر لگا دیا. کچھ ٹیم ممبرز کو انیس سو اسی میں جا کر اہلی سٹیل مل کی فروخت اور عزیزیہ سٹیل مل کے قیام سے متعلقہ ریکارڈ غائب کرنے اور اس میں بے ہنگم تبدیلیاں کر وانے کا حکم ملا، کچھ کو انیس سو بانوے میں جا کر مے فئیر فلیٹس کے اس وقت کے مالکان کو اپنے فلیٹ قطری شہزادے کے سپرد کر کے تبت چلے جانے اور دلائی لامہ کے حلقہ بگو ش ہو کر ہمالیہ کے غاروں میں دھیان لگا بیٹھنے پر اکسانے کے لئے مامور کیا گیا، کچھ کو سن دو ہزار چھ میں جا کر ان فلیٹس کی میاں صاحب کے خاندان کو منتقلی کے سچے اور کھرے کاغذات مشکوک بنانے کا حکم ملا. ان میں سب سے شیطانی ذہن کا مالک خلائی کمانڈر کا وہ ماتحت ثابت ہوا جس نے نیلسن اور نیسکول کی ٹرسٹ ڈیڈ ٹائپ کرنے والے کلرک کو انٹر نیٹ سے کیلبری فونٹ کا ٹرائل ورژن ڈاؤن لوڈ کر کے اس میں ٹائپنگ پر مجبور کیا۔ باقی جو کچھ ہوا، جس طرح یہ سازش نمودار ہوئی، پروان چڑھی اور جس طرح بالآخر انسانیت کے دشمن میاں صاحب کا گھیراؤ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، وہ تاریخ ہے اور سب کے سامنے ہے۔

سازش کا تذکرہ دلائل اور ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ پانامہ کیس واقعی ایک سازش ہے، ہم ایک ناقابل تردید ثبوت قارئین کے سامنے رکھتے ہیں.جس کی درستگی کی گواہی دو چار افراد نہیں بلکہ دنیا کے سات ارب افراد سے لی جا سکتی ہے۔ خلائی مخلوق کو درپیش ایک چیلنج یہ تھا کہ ماضی کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں، وقت کے بہاؤ میں ماضی سے آنے والی انحرافی لہروں کو جذب کرنے اور مستقبل کی فطری ہئیت کو برقرار رکھنے کی خود کار صلاحیت موجود ہے جو خلائی مخلوق کے منصوبے کو ناکام بنا سکتی تھی. ماضی میں پیدا کئے گئے کسی غیر فطری انحراف کا دیگر عوامل کو چھیڑے بغیر لمحہ بہ لمحہ درستگی کے ساتھ مستقبل کے کسی وقت تک لے جایا جانا بہت ہی احتیاط اور باریک بینی کا تقاضا کرتا ہے لیکن یہ محض میاں صاحب کا معاملہ نہیں بلکہ خلائی مخلوق کے احساس برتری کے سبب انسانی تہذیب کا اپنے سے لاکھوں برس آگے ایک تہذیب سے کائناتی سطح کا ٹکراؤ بن چکا تھا جس میں فتح حاصل کرنے کے لئے خلائی مخلوق کا کمانڈر سب کچھ کر گزرنے کو تیار تھا اور تیار ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دو ہزار پندرہ معلوم تاریخ کا گرم ترین سال تھا لیکن دو ہزار سولہ نے اس کا ریکارڈ بھی توڑ دیا اور اب دو ہزار سترہ، دو ہزار سولہ کا ریکارڈ بھی توڑ چکا ہے۔ بے خبر سائنسدان اسے گلوبل وارمنگ کا شاخسانہ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور کسی کو معلوم نہیں کہ یہ تمام تر گرمی خلائی مخلوق کے کمپیوٹر سے خارج ہونے والی حرارت کے سبب ہے جو پہلے میاں صاحب کے کردار کو داغدار کرنے کے لئے سازش کی منصوبہ بندی اور پھر اس پر عملدرآمد کے لئے تب سے اپنی سو فیصد کپیسٹی پر کام کر رہا ہے اور انیس سو اسی سے اب تک لمحہ بہ لمحہ وقت کے بہاؤ کو ماپتے ہوئے ماضی کو تبدیل کرنے پر مامور ٹیم کے ارکان کو نہایت باریک اور حساس تبدیلیوں کی کیلکولیشن کرکے دے رہا ہے۔ کمانڈر کو ریسرچ سٹیشن کے سائنسدان کئی مرتبہ خبردار کر چکے ہیں کہ اگر کمپیوٹر اسی طرح کام کرتا رہا تو انٹار کٹیکا کی ساری برف پگھل جائے گی اور ان کے لئے اپنا سٹیشن مخفی رکھنا ممکن نہیں رہے گا. لیکن کمانڈر ہر قیمت پر عوام کو میاں صاحب سے بد ظن کرنے، میاں صاحب کو ان کی توانائیوں کے منبع سے محروم کرنے اور ان کے تمام فلاحی، اصلاحی و انقلابی ارادوں کو ناکام بنانے پر تلا بیٹھا ہے اور ایسی تمام تنبیہات کو نظر انداز کرتا چلا آ رہا ہے۔ پچھلے دنوں جے آئی ٹی کی تفتیش کے دوران کمپیوٹر پر کام کا دباؤ اتنا بڑھ گیا کہ اس سے خارج ہونے والی حرارت کے سبب لارسن آئس شیلف کا انٹار کٹیکا سے منسلک رہنا ممکن ہی نہیں رہا۔ گزشتہ تین سالوں سے ہر سال گرمی میں اضافے کے علاوہ جے آئی ٹی کی رپورٹ مکمل ہونے کے چند دن بعد ہی لارسن آئس شیلف کا ٹوٹ کر انٹار کٹیکا سے علیحدہ ہو جانا اس امر کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ پانامہ کیس در حقیقت میاں صاحب کے خلاف اور بحیثیت مجموعی انسانیت کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے اور دنیا کے سات ارب افراد اس حقیقت کے گواہ ہیں۔

میاں صاحب عوام کی تن من دھن سے خدمت میں اس طرح مصروف تھے کہ انہیں اس اچانک آ پڑنے والی افتاد کو سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا، گو بعد میں بتدریج ان پر یہ آ شکار ہو گیا کہ اس سازش کا منبع انٹار کٹیکا کی برف کے نیچے جا ملتا ہے لیکن ان کی مجبوری یہ ہے کہ پاکستانی عوام کا اتنا کیلیبر ہی نہیں کہ وہ اس سازش کو سمجھ سکیں، کیلیبری کا نام لے لے کر بغلیں بجانے والوں کا آخر کیا کیلیبر ہو سکتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ میاں صاحب بتائیں ان کے خلاف کون سازش کر رہا ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ خلائی مخلوق خود انٹار کٹیکا کی برف تلے چھپی بیٹھی ہے، لارسن آئس شیلف کے انٹار کٹیکا سے علیحدہ ہوتے ہی انہوں نے اپنی چمنی کی سمت تبدیل کر لی ہے اور ان کے سٹیشن کا سراغ لگانا ممکن نہیں رہا، ان کی کہکشاں گیسی بادلوں کے ایک عظیم الشان جھنڈ کے پیچھے پوشیدہ ہے، اب میاں صاحب بھولی عوام کو کیا بتائیں، کیا سمجھائیں۔

اختتامیہ :
—–
مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ نتیجہ نکالنا چنداں مشکل نہیں کہ
اول تو کرپشن ہوئی نہیں۔
تبدیل شدہ ماضی کی روشنی میں فرض کر لیتے ہیں کہ ہوئی بھی ہے تو میاں صاحب کے گھرانے کے دیگر افراد اس میں ملوث تھے، خود میاں صاحب نہیں۔
بادی النظر میں میاں صاحب کا ملوث ہونا فرض بھی کرلیا جائے تو اسے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو تاریخ کے ایسے نازک موڑ پر جب میاں صاحب ہی انسانیت کی واحد امید اور ہم سے لاکھوں برس آگے ایک تہذیب کے مقابلے کا واحد ذریعہ ہیں، کرپشن جیسے الزام کی واقعاتی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟

یہ وہ نہایت منطقی اور مدلل آرگومنٹ ہے جسے وطن عزیز کے خیرخواہ حلقے اور خود میاں صاحب مسلسل عوام الناس کے ذہن میں اتارنے میں مشغول ہیں لیکن یہ جاہل عوام سمجھ کر ہی نہیں دے رہی۔ مجبور ہو کر میاں صاحب کو اب دبے لفظوں میں سازش کی طرف اشارہ کرنا پڑ رہا ہے اور کوئی عجب نہیں کہ وہ مستقبل قریب میں کھل کر خلائی مخلوق کا نام لینے اور ان سازشوں کا پردہ چاک کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ آرٹیکل کا مؤلف عوام سے گزارش کرتا ہے کہ خدارا خلائی مخلوق کی سازش کو سمجھیں. اس کے فریب میں آ کر میاں صاحب کو اپنی محبت اور اعتماد سے محروم نہ کریں . کہیں ہم انسانی تہذیب کو اپنے ارتقا کی اگلی منزل سے محروم کرنے کا سبب نہ بن جائیں اور آنے والی نسلیں ہمیشہ ہمارے دور سے شاکی اور ہماری عقلوں پر ماتم کناں نہ رہیں۔
ماخذ: اس آرٹیکل کی تیاری میں وسیع پیمانے پر لیگی وزرا کے بیانات اور سوشل میڈیا پر نون لیگ کے حمایتیوں کے دلائل سے استفادہ کیا گیاہے۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: