لو آج کی شب بھی سو چکے ہم —- ذوالقرنین سرور

0
  • 103
    Shares

شہر اقتدار سے دانہ پانی اٹھنے کے بعد ہم نے زندہ دلوں کے شہر کا رخ کیا۔ جس دوست کو بھی یہ خبر سنائی، اس نے قہقہہ لگا کر ایک ہی بات کی۔ “جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی”۔ ان دنوں دو باتوں پر ہماری زبان سے ہر وقت شکر ادا ہوتا تھا۔ ایک کہ یہ محاورہ مذکر نہیں۔ دوسرا اہلِ زبان اس میں مذکر کے لیے کچھ مناسب ترامیم کا ارادہ نہیں رکھتے۔ نئی ملازمت میں آتے ہی پتا چلا کہ شام کو آنا ہے۔ اور صبح سویرے منہ اندھیرے جانا ہے۔ چند دن گزارے تھے کہ منہ تو یوں بھی اندھیرے کا ہی حصہ بن گیا۔ لیکن بات اس منہ اندھیرے کی نہیں بلکہ بات ہے ہماری دکھتی رگ کی۔ یعنی کہ لیپ ٹاپ۔

یہاں پر ہمیں ایک بالکل نیا لیپ ٹاپ دیا گیا تھا۔لیکن بستہ پرانا تھا۔ یہ بڑی دلچسپ بات تھی۔ ہم دل پر لے گئے۔ کہا کہ بستہ بھی نیا دو۔ متعلقہ شعبے کا فرد متعلقہ شعبوں کے افراد کی طرح ہی ہنسنے لگا۔ ہم اس ہنسی سے خوب آشنا تھے۔ خیر یہ تو خود بہلا رہے تھے وگرنہ اصل بات یہ ہے کہ طبیعت بڑی مکدر ہوئی۔ ایک تو ہمیں اس عزت افزائی کی عادت نہ تھی۔ دوسرا اس کے کلیدی تختہ کی اکائیاں بہت نرم تھیں۔ اور ہماری سخت جاں انگلیاں ان کی نرمی کو کسی حسینہ کے لمس جیسا محسوس کرتی تھیں۔ اس کے دوبنیادی نقصانات تھے۔ ایک تو دوران کام ہمارا دھیان حسیناؤں میں الجھا رہتا۔ دوسرا ہم بلاوجہ اکائیاں دباتے رہتے۔ تاہم ہمارا لیپ ٹاپ مکمل طور پر مردانہ تھا۔ گلا پھاڑ کر چیخنا ہو تو حاضر۔ مگر جو سرگوشی کا کہو تو آنسو بہاتا تھا۔ متعلقہ شعبہ سے رابطہ پر معلوم ہوا کہ اس ماڈل میں نقص ہے۔ اور ہیڈ فون استعمال نہیں کرسکتے۔طمانیت کی ایک لہر پورے وجود میں دوڑ گئی۔ زندگی میں اگر ہم کو ایسا لیپ ٹاپ دے دیا جائے جس میں کوئی نقص نہ ہو تو شاید ہم کام ہی نہ کرپائیں۔ لیکن یہ بات سب کو بتانے کی تھوڑی تھی۔ سو ہم نے کلہاڑے پر پاؤں مارتے ہوئے کہا کہ میاں! کچھ اندازہ بھی ہے ہیڈ فون ہمارے کام کے لیے کتنا ضروری ہے۔ فون کس سے سنیں گے۔ کیا محلے والوں کو بتلائیں گاہک ہم سے جس زباں میں بات کرتا ہے۔ اس کے لیے تو شاعر مدتوں قبل شرح آرزو سے منع فرما گیا ہے۔ اب کیا کریں۔ پرانی کمپنی بہت یاد آئی۔ جہاں ہم چیزوں کے چلنے پر شکرادا کیا کرتے تھے۔ کہاں یہ کہ ہم چیزوں کے نہ چلنے پر نالاں ہیں۔ فلک کو بھی ہم سے کیا کیا دشمنیاں نکالنی تھیں۔
چند دن گزرے تھے کہ ایک نوجوان معصوم شکل ہمارے پاس آیا اور کہا کہ آپ کا لیپ ٹاپ بدلنا چاہتا ہوں۔ سو ڈیٹا کے بارے میں حکم کیجیے کہ کس طرح نئے والے میں منتقل فرماویں گے۔ اب اللہ جانتا ہے کہ معصوم شکل اس کی قدرتی تھی یا اس نے یہ ریاضت سے حاصل کی تھی۔ بہرحال ہم نے اس کی باتوں میں آکر لیپ ٹاپ اس کے حوالے کر دیا۔ جس کو وہ ایک اور نئے لیکن نسبتاً پرانے لیپ ٹاپ سے بدل لایا۔ اس لیپ ٹاپ کے ماتھے پر ابھرا گومڑ دیکھ کر دل کو یک گونہ تسلی ہوئی۔ سب سے پہلے ہیڈ فون لگایا۔ سرگوشیاں اچھی کرتا تھا۔ پنک فلائیڈ اورڈسٹی سپرنگ فیلڈ اسے زبانی یاد تھے۔ حق حق۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ میاں! کیا چیز لائے ہو۔ اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔
چند دن ہی گزرے تھے کہ اس نئے مگر پرانے لیپ ٹاپ نے اپنے رنگ ڈھنگ دکھانے شروع کیے۔ جب تک ہم اس سے نہ ملے تھے سمجھتے تھے کہ اٹھنے میں ہم سے زیادہ سست کوئی نہیں۔ کبھی پہلو بدلا، کبھی لیٹ رہے، آدھے بیٹھ گئے، دوبارہ لیٹ گئے۔ یوں اٹھنے کے بعد بستر سے نیچے پاؤں اتارتے اتارتے ہم کو بیس سے تیس منٹ لگتے ہیں۔ لیکن موصوف سے ملاقات پر اندازہ ہوا کہ ہم تو برق رفتار ہیں۔ہماری اڑان پر تو آہو بھی آہیں بھرتا ہوگا۔ پاور آف کرنے کا باقاعدہ برا مناتا تھا۔ شاید یہ بتانا چاہتا تھا کہ بھئی! ہم کوئی انسان تھوڑی ہیں جن کو آرام کی ضرورت ہو۔ ہم تو مشین ہیں۔ سو چلاؤ چلاؤ۔۔۔ یا پھر چلّاؤ۔ ہمارے حصے میں آخرالذکر ہی آیا۔
پاور آن کرنے پر تو موصوف کے نخرے کسی حسینہ سے کم نہ تھے۔ سیٹ اپ میں داخل ہونے والی سکرین جو ہم مدتوں سے بھول چکے تھے اسی نامعقول نے یاد کروائی۔ پھر جو بوٹ سکرین پر آتا تو دل کرتا کہ بوٹ اسے ہی دے ماریں۔ اس کے بعد یکدم سکرین غائب ہوجاتی۔سکرین پر تاریکی چھاجاتی۔ ہم بے چین ہو کر بار بار پہلو بدلنے لگتے۔ ہارڈ ڈسک کی جلتی بجھتی بتی ہمیں یقین دلاتی کہ پس پردہ کچھ کہانی چل رہی ہے۔ ایسے موقعوں پر ابھی ہم اتاؤلے ہو کر سوچ ہی رہے ہوتے کہ اب اس کو ایک بار پاور آف کر کے دوبارہ چلا لیں کہ یکدم جھماکے سے ایک نیلی سکرین آجاتی۔ نیلے رنگ سے ہماری محبت شاید اسی وجہ سے ہے۔ اس سکرین کو دیکھ کر ہم خدا کر شکر کرتے اور چائے بنانے کا رخ کرتے۔ چائے بنا کر واپس آتے آتے لاگ ان سکرین آچکی ہوتی تھی۔ اب ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کب آیا کرتی تھی۔ کیوں کہ چائے بنانے کا عمل بھی طویل ہی ہوتا ہے۔ بہرحال لاگ ان کر چکنے کے بعد ہم آرام سے چائے نوش فرماتے۔ کبھی کبھار آخری چسکی سے پہلے یا اکثر آخری چسکی کے ساتھ ہی ڈیسک ٹاپ کام کے لئے تیار ہوا کرتا تھا۔
مدتوں ہم اقبال کے اس بیان کو بغیر سمجھے پیش کرتے رہے کہ “ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔” لیکن اس مصرعہ میں غوطہ زن ہونے کا سبب یہ شمارندی آغوشیہ ہی بنا۔ جب موصوف ایک بار کام کرنے کے لئے تیار ہوجاتے تو اس کے بعد اطلاقیے (ایپلیکشنز) چلانے کا مشکل مرحلہ درپیش آتا۔ اس مثال کو سمجھنے کے لیے آپ کا شادی شدہ ہونا بےحد ضروری ہے۔فرض کیجیے کہ کسی دن یوں ہی بےوقت آپ نے اپنی بیگم سے چائے کی فرمائش داغ دی۔ اور اس نے کہا۔ لیجیے۔ ابھی بنائے دیتی ہوں۔ تو بھئی۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ جب تک وہ چائے تیار ہو کر آپ کے سامنے آتی ہے۔ حقیقت میں چائے کا وقت ہوچکا ہوتا ہے۔ ہمارے اس شمارندی آغوشیے نے بھی ایسا ہی مزاج پایا تھا۔ ای میل اطلاقیہ اگر آپ نے بعد میں کھولا ہے اور پہلے کوئی اور اطلاقیہ چلانے کی جرأت کی ہے۔ تو بھی یہ مشین اپنے تیار کردہ سکرپٹ کے مطابق پہلے ای میل کا اطلاقیہ ہی چلائے گی۔ آپ کا دوسرا اطلاقیہ انتظار کرے۔ ایسے موقعوں پر ہم یہ کہہ کر دل کو سمجھا لیتے ہیں کہ اصول بھی تو یہی ہے۔قدرت خدا کی دیکھیے کہ ایک بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اطلاقیہ چلاتے جب کام کا ماحول بنتا تو ایک بار پھر ہماری چائے کا وقت ہوجاتا۔
چند دن گزرے تھے کہ ہماری کام چور طبیعت بھی خود سے بیزار نظر آنے لگی۔ کہاں ہم اپنے تئیں خود کو پیر آلکسی سمجھتے کہاں ایک مشین کے سامنے ہماری کاہلی بےبس نظر آنے لگی۔ دنیا کے ساتھ ساتھ اس کی ایجادات سے بھی اعتبار اٹھتا نظر آنے لگا۔ اپنے افسران کے سامنے عرض گزاری۔ حضور! آپ کی مردم شناسی کا جواب نہیں۔ واللہ آج سے قبل کوئی ہمارے مزاج کو اس طرح نہ سمجھ پایا تھا۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ “اور سے اور ہوئے سستی کے عنواں جاناں”۔ ہماری بات کو سمجھیے۔ ہمیں ایک بالائے لب تبسم سے مت ٹرخائیے۔ للہ کچھ کیجیے وگرنہ آنے والے شب و روز ہمارے لیے اس موضوع میں تحقیق کے وہ در وا کر جائیں گے کہ کروٹ لینے کو بھی فرصت نصیب نہ ہوگی۔انہوں نے مسکرا کر ٹالنا چاہا، مگر ہم نہ ٹلے۔آخر انہوں نے متعلقہ شعبہ کے نام رقعہ لکھ دیا۔ اب ہم نئے لیپ ٹاپ کی آس لئے متعلقہ شعبے کے چکر لگاتے رہتے۔ رفتہ رفتہ صورتحال بہ الفاظ پطرس یہ ہوئی جاتی تھی کہ ہم لیپ ٹاپ کا پتا کرنے متعلقہ شعبہ تک جاتے اور وہاں موجود افسران ہمیں ایک شفیق مسکراہٹ کے ساتھ چلے جانے کا اشارہ کرتے۔کبھی ہم دروازے کے باہر سے ہی اشارہ کر کے پوچھتے اور نفی میں جواب پا کر چلے آتے۔صورتحال جب اس نہج پر پہنچی کہ کبھی دروازے کے باہر سے گزرتے نادانستہ نگاہ بھی اندر پڑ جاتی تو ایک سر نفی میں ہلتا نظر آتا، ہم نے پوچھنا چھوڑ دیا۔ آخر چند مہینوں بعد وہی معصوم صورت نوجوان وہی مخصوص مسکراہٹ سجائے ہاتھ میں ایک بڑی بھاری سی پتھر نما چیز اٹھائے ہماری میز پر آن پہنچا۔
ہم نے استفہامیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا۔
لیپ ٹاپ۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کچھ نہیں لکھیں گے اب ہم۔ اس موضوع پر دوبارہ قلم کشائی نہیں کریں گے۔ کبھی نہیں کریں گے۔کوئی کہے گا لکھو تو کہہ دیں گے قلم ٹوٹ گیا ہے۔ ہماری انگلیوں میں لکھنے کی قوت ہی نہیں رہی ہے۔ قدرت نے ہم کو لکھنے کی جس صلاحیت سے نوازا تھا وہ واپس لے لی ہے۔ ہاں سنا تم نے۔ کچھ نہیں لکھیں گے۔ کبھی بھی نہیں۔ وہ نہ سمجھنے والے انداز میں حیران نظروں سے ہم کو دیکھتا رہا۔ اور پھر لیپ ٹاپ میز پر رکھ زیرِ لب یہ کہتا ہوا واپس مڑ گیا۔ “ٹیسٹ کر لیجیے گا۔”

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: