درباری صلاح کار اور نثار

0

ایک دن جنرل ضیاالحق نے کیبنٹ میٹنگ بلائی اور اپنے تمام وزراء سے پوچھا کیا ملک میں نئے الیکشن ہونے چاہئیں ؟ وزیروں کی اکثریت نے انتخابات کی مخالفت کی اور تجویز دی کہ ملک میں صدارتی نظام رائج کر دیا جائے۔ ان وزیروں نے جنرل ضیاء کو یقین دلایا کہ وہ اب بھی ملک میں بہت زیادہ مقبول ہیں اور بینظیر جو وطن واپس آ چکی تھیں کو صدارتی انتخابات میں با آسانی شکست دے سکتے ہیں۔ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے ان وزیروں نے یہ بھی بتایا کہ لوگ ایک عورت کو ووٹ نہیں دیں گے۔ اس کیبنٹ میٹنگ میں چوہدری نثار علی خان بھی موجود تھے۔ انہوں نے یہ ساری باتیں سنیں اور اجازت چاہنے کے لئے اپنی پینسل ہوا میں بلند کی۔ جنرل ضیا نے اپنی کیبنٹ کے اس نو جوان منسٹر کو اپنی بات کہنے کی اجازت دی۔ چوہدری نثار نے اپنے ساتھی وزرا کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے جنرل ضیاء سے کہا، کہ جناب نہ تو آپ عوام میں مقبول ہیں اور نہ ہی سیاسی طور پر طاقتور بینظیر کو شکست دے سکتے ہیں۔ لوگ اب آپکو ہر گز پسند نہیں کرتے بلکہ آپکو اپنے مسائل کا زمہ دار سمجھتے ہیں۔ نہ تو خود آپکا ادارہ اور نہ ہی پاکستانی عوام آپکی اس دس سالہ حکمرانی سے اب خوش ہیں۔ آپ کے اس دس سالہ اقتدار نے ملک کو جمود کا شکار کر دیا ہے جو فوج اور لوگوں میں سخت فرسٹریشن کا سبب بن رہا ہے۔ مزید کہا کہ اگر ملک میں انتخابات کروائے گئے تو انکے یہ تمام وزراء الیکشن ہار جائیں گے۔
تاہم تادم مرگ ضیاء دور میں الیکشن نہ ہوسکے اور انکی موت کے بعد جنرل اسلم بیگ اور غلام اسحاق خان کی نگرانی میں انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا۔ اور یہ انتخابات بینظیر بھٹو اسٹیبلشمنٹ کی ناپسندہ ہونے کے باوجود جیت گئیں۔ اور جنرل ضیاء کے چھتری تلے پلنے والے تمام امیدوار یہ الیکشن ہار گئے۔
روف کلاسرا کو دیئے گئے اسی انٹرویو میں بقول چوہدری نثار انہوں نے جنرل ضیاء کو یہاں تک بھی کہہ دیا تھا کہ اگر آج اندرا گاندھی اپنی قبر سے نکل آئے اور آپ کے خلاف الیکشن لڑے تو پاکستان کے لوگ اسکو ووٹ دے دیں گے جنرل ضیاء کو نہیں۔ اور یہ مشورہ دیا کہ وہ ملک میں انتخابات کرائیں اور اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کریں۔ اور ملک میں ایک جمہوری حکومت کو چلنے دیں۔

پہلی بار 1985 میں جب چوہدری نثار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو ان ہی دنوں ضیاء اور جونیجو اختلافات کے نتیجے میں نواز شریف کا نام جونیجو کے متبادل کے حثیت سے سامنے آرہا تھا۔ اور چوہدری نثار کو جونیجو گروپ اور نواز شریف میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا اور نثار نے نواز کا کیا __!
اور پھر جب 29 مئ 1988 کو جنرل ضیاء نے جو نیجو حکومت کو بر طرف کر دیا تو ایک حیران کن امر یہ تھا کہ بہت سارے وزیر جنہیں جنرل ضیاء نے برطرف کیا اپنی وفاداریاں جنرل ضیاء کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے حلف لے کر انکی نگرانی میں قائم کابینہ میں بیٹھ چکے تھے۔ چوہدری نثار بھی اس کابینہ میں شامل تھے جسکا انہیں افسوس بھی رہا کہ انہوں نے نواز شریف کے ساتھ مل کر ایک منتخب وزیراعظم کے بجائے جنرل ضیاء کا ساتھ دیاتھا۔ اس نگران حکومت میں نواز شریف نے پنجاب کے نگران وزیر اعلی حلف بھی اٹھا لیا تھا۔
آج جنرل ضیاء کے اس جانشین کو اپنی ایمانداری کی عوض پانامہ پیپرز کی صورت میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کیسیز کے نتیجہ میں خاک میں مل چکی خاندانی عزت اور وقار کے ساتھ دہائیوں پر مشتمل داو پر لگتی “مخصوص” سیاست اور اقتدار کے ڈوبتے سورج کا سامنا ہے۔ جہاں یہ کیس ملکی تاریخ کی اپنی نوعیت کی پہلی اور فعال تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے وہیں عوام، اپوزیشن جماعتوں اور وکلاء سمیت ہر طرف سے میاں صاحب کے استفعی کا مطالبہ بھی شدت سے موجود ہے جس کا آغاز الیکشن 2013 میں دھاندلی کے الزام سے شروع ہوا تھا۔ اس سخت بحرانی صورت حال میں میاں صاحب کی پے در پے ہوتی مایوسی کے عالم میں بقول خود ان کے “غیر محفوظ” کابینہ میٹنگز اور صلاح مشورے جس میں انکے “مخلص” ساتھیوں اور وزرا کی طرف سے انہیں جنرل ضیاء کو انتخابات نہ کرانے کے مشورے کی طرح استعفی نہ دینے کے مشورے اور انکی عوام میں جنرل ضیاء کی طرح مقبولیت کی یقین دہانیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایسے میں ایک بار پھر چوہدری نثار کو جنرل ضیاء کے جانشین کو اسی طرح کا ایک مشورہ دینا کہ اداروں کے ساتھ تصادم سے گریز کا راستہ اپنائیں، کو میاں صاحب کیا اتنا ہی خاطر میں نہیں لا رہے ہیں جتنا انکے پیش رو جنرل ضیا لائے تھے؟ جس پر ضیاء نے کم ازکم ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تھا اور اس کیبنٹ میٹنگ کے برخاست کے بعد چوہدری نثار کو روک لیا تھا اور گورنر پنجاب اور چاروں وزراء اعلی کی موجودگی میں نہ ہونے والے انتخابات کو ڈسکس ضرور کیا تھا۔
چوہدری نثار کی نواز لیگ کو چھوڑنے کی کچی پکی خبریں گردش میں ہیں۔
اس امید کے ساتھ کہ چوہدری نثار کو کسی افسو س مکرر کا سامنا نہ کرنا پڑے، جیسا کہ ماضی میں جونیجو اور نواز میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑا تھا۔ تو کیا آج بھی چوہدری نثار کو ایک ایسی ہی صورت حال درپیش نہیں ہے ؟یہ بات مزید اہم اس لئے بھی ہو جاتی ہے کہ اس بار چوہدری نثار شائد اکیلے نہیں ہوں گے، کف افسوس ملنے والوں میں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: