فنِ نعت خوانی کے امام: سید منظور الکونین

1
  • 31
    Shares

مضبوط آواز، چوڑا سُر، سینے کا زور، ثقہ کلام کا انتخاب، اصول پسندی، باوقار انداز، شاگردوں کے لیے نرم خو، ہر طالب علم کو سکھانے پہ آمادہ۔ یہ تھے سید منظورالکونین شاہ اقدسؒ۔ شاہ صاحب نے نہ صرف نعت خوانی کی آبرو قائم رکھی بلکہ اس فن کو اپنے شاگردوں میں بھی بہ خوبی منتقل کیا اور اب تو انکے شاگردوں کے بھی شاگرد تیار ہو چکے ہیں۔ اس طرح تہذیب یافتہ نعت خوانی کی یہ روایت آگے بڑھ رہی ہے۔ شاہ صاحب پچھلے برس 19 جولائی 2016 کو انتقال فرما گئے تھے۔

Author: Kabir Ali

20 جولائی بروز بدھ واہ کینٹ میں انکے جنازے میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔ جو کیفیت اس مجمعے میں تھی اس سے پہلے کم ہی کسی جنازے پہ دیکھی۔  آخری دیدار کے وقت ان کی پڑھی ہوئی نعتیں ساؤنڈ سسٹم پہ چلائی جا رہی تھیں جس سے ہر آنکھ اشکبار تھی۔ لوگوں کی آنکھوں میں دکھ کے ساتھ ساتھ رشک اور فخر کا احساس تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہر آنکھ سے گرنے والا آنسو شاہ صاحب کی نعت پہ وجد کناں ہے۔ میں نے اپنے ساتھ جانے والے ٹیکسی ڈرائیور کو راستے میں بتا دیا تھا کہ ہم کس ہستی کے جنازے میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ ایک دفعہ دیدار کر لینے کے بعد جب اس کا دل نہیں بھرا تو اس نے ایک چکر مزید لگایا اور مجھے فخر سے بتایا کہ اس نے دو دفعہ شاہ جی کا دیدار حاصل کیا ہے۔

پاکستان بننے کے بعد محافل نعت کا سلسلہ شروع ہوا، جو آج تک جاری ہے۔ تاہم چھ دہائیاں قبل کی نعت خوانی اور آج کی نعت خوانی میں بہت کچھ فر ق آ گیا ہے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں نعت خوانی کے میدان میں جن لوگوں کا شہرہ تھا ان میں بابا محمد علی ملتانی، مستری محمد علی جالندھری، محمد علی نقشبندی، محمد علی ظہوری، نذیر حسین نظامی، سید منظور الکونین، عبدالستار نیازی اور محمد اعظم چشتی وغیرہ کے اسمائے گرامی سرِ فہرست ہیں۔ چونکہ نعت کا معاملہ انتہائی نازک ہے اس لیے نعت کے کلام کا انتخاب بہت احتیاط سے کیا جاتا۔ فارسی اور اردو کے ثقہ استاد شعراءاور پنجابی کے صوفی بزرگوں کا کلام خاص طور پہ منتخب کیا جاتا۔ نئے نعت گو شعراء بھی اسی پختہ انداز میں لکھتے۔ ان شعراء میں حافظ، جامی، بیدل، غالب، حالی، اقبال، مولانا ظفر علی خان، بابا فرید، خواجہ غلام فرید، میاں محمد بخش، خواجہ مہر علی شاہ، احمد ندیم قاسمی، حفیظ تائب، حافظ مظہرالدین مظہر، مظفر وارثی، محمد علی ظہوری وغیرہ کے نام خاص طور پہ قابلِ ذکر ہیں۔ عوام کا ذوق بھی بلند تھا اور وہ مشکل اشعار کی داد دیتے۔ کئی اشعار پہ پورے مجمعے کے آنسو بہہ نکلنا کوئی ناممکن بات نہ تھی۔

شاہ صاحب نے اسی ماحول میں آنکھ کھولی۔ ننھیال کے طرف سےنام خالد رکھا گیا۔ تاہم پانچ ماہ کی عمر میں ایک بزرگ سید نظام الدین راغب کے کہنے پہ منظور الکونین رکھا گیا۔ حروف ابجد کے حساب سے یہ 1944 بنتا ہے اور یہی ان کا پیدائش کا سن ہے پہلا ریڈیو پروگرام چھ سا ل کی عمر میں لیاقت باغ میں ہوا جو اس وقت کمپنی باغ کہلاتا تھا۔ ریڈیو پاکستان کی طرف سے ایک ٹینٹ لگا ہوا تھا۔ اس میں وہ اپنی والدہ کے ساتھ گئے اور ایک نعت پڑھی۔ پھر قتیل شفائی کی ایک غزل “پریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ” بھی پڑھی۔ خواجہ رشید اسسٹنٹ ریجنل ڈائریکٹر بھی وہیں آ گئے اور انہوں نے اپنے ڈرائیور خدا بخش کو کہا کہ اس بچے کا گھر دیکھ آئیں اور اگلے اتوار دوسرے بچوں کے ساتھ اسے بھی لے آئیں اس طرح آپ گہوارہ پروگرام ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں پہنچ گئے۔

شملہ کانفرس سے پہلے ایک اجلاس کلکتے میں ہوا جس کی صدارت خواجہ ناظم الدین نے کی۔ اس کے انتظامات میں انکے والد بھی حصہ لے رہےتھے جو کہ مسلم لیگ کے ایک سرگرم رکن تھے۔ اس میں ساڑھے تین سال کی عمر میں سٹیج پرفارمنس دی۔ مولانا ظفر علی خان کی لکھی ہوئی نعت کا ایک شعر ان کے والد نے انہیں یاد کروایا ہوا تھا۔

وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس۔ ۔ ۔

اور ایک آدھ شعر منقبت ِ حضرت علی ؑ  کا یاد کروایا ہوا تھا اور ایک ترانے کا شعر۔ ” اب بنے گا پاکستان ” توتلی زبان میں یہ شعر پڑھے گئے۔ لوگوں میں عجیب جوش پیدا ہوا اور نعرے لگنے لگے۔ ددھیال  کی طرف سے خواجہ گیسو دراز بندہ نواز گلبرگہ شریف کی اولاد تھے۔ ننھیال کی طرف سے بٹالہ شریف کے مرید رہے۔ حفیظ تائب کو عصر حاضر کے نعت گو شعرا کا امام اور مقبول بارگاہ نبوی سمجھتے تھے۔ سب سے پہلے بزم ادب اور ڈرائنگ کے استاد سے نعت سیکھی۔ سید ضمیر احمد ہمدانی خود بھی بہت خوش الحان تھے۔ اور بہت سی طرزیں یاد کروائیں۔ طبع زاد طرزیں ہی اختیار کیں اور فلمی طرزوں سے سخت گریز تھا۔ شروع میں مزاج میں ہم آہنگی ہونے کی وجہ سے اعظم چشتی کا انداز نقل کرتے رہے پھر فیاض شاہین نے ایک دفعہ اعظم چشی کی نعت پہ منظورالکونین کی اناؤنسمنٹ کر دی اور منظور الکونین کی نعت پہ اعظم چشتی کی۔ پوچھ گچھ ہونے پہ معاملہ تو حل ہوگیا تاہم شیخ حمید ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کے سمجھانے پہ اپنے انفرادی انداز پہ توجہ دی۔ اپنی طرز بنانے کی دھن سوار ہوئی تو تین سال بعد نیاز حسین شامی سے ملاقات ہو گئی جو ان دنوں لاہور سے پنڈی ریڈیو ٹرانسفر ہو چکے تھے۔ یاد رہے کہ یہ وہی شامی صاحب ہیں جو استاد سلامت علی، نزاکت علی شام چوراسی والوں کے بھی استاد تھے۔ انہوں نے نعت کی وجہ سے شاہ صاحب کو بہت محبت سے سکھایا۔ تاہم اسی کے ساتھ ایک دلچسپ واقعہ بھی جڑا ہوا ہے۔ شاہ صاحب نے شامی صاحب کو کہا کہ انہیں موسیقی کے تمام رموز تو نہیں سیکھنے مگر اتنا علم ضرور سیکھنا ہے کہ نعت کی طرز بنانا آ جائے۔ شامی صاحب نے طرح دینے کی کوشش کی تو شاہ صاحب نے انہیں کہا کہ وہ روزِ قیامت سرکارِ دو عالم ﷺ سے اس چیز کی شکایت کریں گے کہ یہ شخص موسیقی کا فن جانتا تھا مگر ایک نعت خوان کو اتنا بھی نہ سکھایا کہ وہ نعت کی طرز بنانا جان جائے۔ یہ بات سن کے شامی صاحب کا رنگ فق ہو گیا اور کافی دیر تک انکی حالت غیررہی۔ اس کے بعد انہوں نے شاہ صاحب کو سکھانا شروع کر دیا۔ موسیقی کے ان اسرار و رموز کو پھر شاہ صاحب نے نعت خوانی میں ایسا استعمال کیا کہ دنیا جانتی ہے۔

1986 تک شاہ صا حب کو روضہ رسول پہ حاضری نصیب نہ ہوئی تھی۔ اسی سال اسلام آباد میں حج کمپلیکس کا افتتا ح تھا اور ضیاءالحق نے کہا کہ نعت سید منظورالکونین سے پڑھوائی جائے اور چونکہ چار سو کے قریب چینی بھی پاکستان سے جائیں گے اس لیے نعت ایسی ہو کہ گویا یہیں حاضری ہو جائے۔  شاہ صاحب اسوقت تک بیسیوں کلام پڑھ چکے تھے مگر اس بات پہ خاصے گھبرائے ہوئےتھے کہ کون سا کلام پڑھا جائے ایک فنکشن میں اپنے بچپن کے دوست پیر نصیرالدین نصیر سے ملاقات ہو گئی۔ انہیں بتایا کہ کراچی سے منور بدایونی کی نعت کے کچھ اشعار لے کے آیا ہوں مگر اشعار کم ہیں اور کم ازکم چھ سات اشعار تو ہوں۔ آپ اس زمین پہ کچھ شعر کہہ دیں۔

اللہ نے یوں شان بڑھائی تیرے در کی

بخشی ہے ملائک کو گدائی تیرے در کی

تین دن کے بعد گولڑے شریف سے ریڈیو کا ایک ملازم نعت لے کے آیا اس کا مطلع پڑھ کے شاہ صاحب نہال ہو گئے۔ اور انکے آنسو نکل آئے۔

تھی جس کے مقدر میں گدائی تیرے در کی

قدر ت نے اسے راہ دکھائی تیرے در کی

 بعد میں چائے پہ صدر کے سیکرٹری نے شاہ صاحب کو اطلاع دی کہ صدر صاحب نے اپنے طائفے کے ساتھ آپ کو بھی حج پہ جانے کے لیے منتخب کیا ہے۔

شاہ صاحب کے نزدیک نعت خوانی کا حسن اچھے کلام، خوبصورت طرز اور جذبہ ء عشق سے معمور انداز پیشکش میں پنہاں ہے۔ ڈیزائنر ز کے کرتے، مخصوص طرز کے عمامے، تال کے انداز میں بیک گراؤنڈ ذکر وغیرہ نعت کا لازمی جزو نہیں۔  فلمی گانوں کی طرز استعمال کرنے کے بارے شاہ صاحب کا موقف یہ تھا کہ نعت کی طرز/دھن ایسی بنائی جائے جسے سن کے کسی گانے کی طرف دھیان نہ جائے۔ البتہ موسیقی کے عمومی اصولوں کا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ دھن تو ایک طرف، کلام کے انتخاب میں بھی کسی سمجھوتے کے قائل نہیں تھے۔  وہ اس بات پہ شکوہ کناں رہتے تھے کہ عوام تو عوام، نعت خوانوں کا ادبی ذوق بھی گھٹ گیا ہے۔ وہ برملا کہتے کہ جو کلام ان کے دور میں پڑھا جاتا تھا، آج کے اکثر نعت خواں اس کا ترجمہ و مفہوم بتانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ اسی طرح ایک محفل میں فرمانے لگے کہ یہ جو نئے نعت خوان نظر آ رہے ہیں ان میں سے اکثر موسیقی کی الف ب بھی نہیں جانتے۔ یہ سب مل کر میرے ایک شاگرد جتنی “آ” بھی نہیں لگا سکتے۔ اپنے شاگرد سید زبیب مسعود شاہ پہ بہت نازاں تھے اور کہا کرتے کہ جب خدا پوچھے گا کہ منظور! کیا لے کے آئے ہو تو میں کہہ دوں گا کہ زبیب کو لایا ہوں۔

مدحتِ سرکار ﷺکا تو ایک لمحہ بھی بہت قیمتی ہوتا ہے مگر شاہ صاحب نے تو ما شاءاللہ ساری زندگی اس فن کی خدمت، اور عشقِ مصطفیٰ ؐ کی آبیاری میں گزار دی۔ ہمیں یقین ہے کہ اب وہ نعت کا یہ ہدیہ خود سرکارِ دو عالم ﷺ کی خدمت میں پیش کریں گے۔ انشاءاللہ۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: